مودی کی تاج پوشی اور مسلمان

ڈاکٹر وسیم راشد
الیکشن کے ہنگامے ختم ہوئے اور اس ملک کے عوام نے ملک کی باگ ڈور مودی کو سونپ دی۔ نتیجہ آنے کے بعد وہی ہوا، جو ہمیشہ ہوتا ہے۔ جو پہلے مودی مخالف تھے، وہ مودی کے گُن گانے لگے۔ ظاہر ہے، چڑھتے سورج کی دنیا پوجا کرتی ہے۔ اب اگر اللہ نے مودی کو آج وہ عزت و توقیر عطا کی ہے، توپھر اللہ دے بندہ لے۔ مودی کی کامیابی کیوں ہے؟ کیا ہے؟ کس لیے ہے؟ اس کا تجزیہ تو ماہرین کرتے رہیں گے، مگر مجھے پھر وہی بات کہنی ہے کہ یہ مودی لہر نہیں تھی، یہ کانگریس مخالف لہر تھی۔ دس سال سے حکومت کرنے والی پارٹی نے ملک کو بے روزگاری، مہنگائی، فرقہ پرستی، بدعنوانی، جیسے مسائل میں دھکیل دیا۔ جیسے جیسے گھوٹالے بڑھتے گئے، ،ملک کے عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے گئے۔ ادھر کانگریس کے لیڈران عوام کی پریشانیوں، ان کی ضروریات، ان کے مسائل سے منہ موڑتے گئے۔
دہلی کی ہی بات کریں، تو ساتوں لوک سبھا سیٹوں پر کانگریس کا قبضہ تھا اور اب جیسے کایا ہی پلٹ گئی۔ اب ساتوں سیٹیں بی جے پی کے پاس چلی گئیں۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ کپل سبّل چاندنی چوک سے بے حدمضبوط امیدوار مانے جارہے تھے اور یہ کہا جا رہا تھا کہ ان کی پکڑ وہاں خاص کر مسلمانوں میں بہت مضبوط ہے، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ چاندنی چوک حلقہ سے ہرش وردھن جی کو 4لاکھ 37ہزار 938کے قریب ووٹ پڑے اور دوسرے نمبر پر آشوتوش رہے اور تیسرے نمبر پر کپل سبل ایک لاکھ 36ہزار 320ووٹ ہی لے پائے یعنی چاندنی چوک کے مسلمانوں نے بھی ہرش وردھن کوہی ووٹ دیا اور کانگریس کی جو بی جے پی سے ڈرانے والی حکمت عملی تھی، وہ ناکام ہوگئی۔ چاندنی چوک حلقہ میں بلی ماران، جامع مسجد، مٹیا محل، صدر بازار، شکور بستی، وزیر آباد خالص مسلم آبادی والے حلقے ہیں۔ یہاں ہرش وردھن جی کو ووٹ اس لیے نہیں ملے کہ مودی لہر تھی، بلکہ اس لیے ملے کہ دہلی کے مسلمان عام آدمی پارٹی کے جھانسے میں نہیں آئے۔ آشوتوش کو ضرور مسلمانوں نے ووٹ کیا، لیکن وہ بھی صرف ان کی اپنی شخصیت کا جادو تھا۔
یہی حال ایسٹ دہلی کا ہوا، جہاں سندیپ دیکشت تیسرے نمبر پر رہے اور شمال مشرقی دہلی سے بھی جے پرکاش اگروال جیسا سینئر لیڈر ہار جائے، یہ بھی بہت ہی شرمناک ہے۔ ان کے مقابلے میں جیتا بھی کون ہے بھوجپوری ایکٹر اور سنگر منوج تیواری جو کہ اپنے فن کے ماہر بھی ہیں اور مشہور بھی،مگر دہلی میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ نہیںہے۔ وہ بی جے پی کے کمزور امیدوار مانے جارہے تھے، لیکن ایک لاکھ 40ہزار ووٹوں کے مارجن سے انھوں نے فتح حاصل کی اور جے پرکاش اگروال تیسرے نمبر پر ہی سمٹ کر رہ گئے۔ 2009کے انتخابات میں 2،2لاکھ ووٹوں سے جیت درج کرانے والے مہارتھی اس طرح شکست سے دوچار ہوں گے، یہ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔ مغربی دہلی سے پرویش ورما، شمالی مغربی دہلی سے اُدت راج، جنوبی دہلی سے رمیش بدھوڑی، مشرقی دہلی سے مہیش گری، یہ چاروں نام دہلی والوںکے لیے نئے تو نہیں تھے، مگر بہت زیادہ مشہور و معروف بھی نہیں تھے۔ ان میں میناکشی لیکھی، ہرش وردھن اور تھوڑے سے مشہور منوج تیواری ہی تھے۔ مگر دہلی والوں نے کانگریس سے ایک دم ہی نفرت کا اظہار کیا اور زیادہ تر کانگریسی امیدواروں کی پوزیشن عام آدمی پارٹی سے بھی کم رہی۔ سب سے زیادہ شرمناک ہار کپل سبل، جے پرکاش اگروال، کرشنا تیرتھ اور سندیپ دیکشت کی ہے۔
ہمیں یاد ہے اپنے اداریے میں ہم نے لکھا تھا کہ ’آپ کے ایم ایل اے نے آپ کے لیے کیا کیا؟‘ اور اس میں ہم نے پوری دہلی کے ایم ایل اے کی کارکردگی بھی بتائی تھی۔ اس کے بعد ہم نے دہلی کے ساتوں ایم پی کے بارے میں بھی لکھا تھا، جنھوں نے دہلی کو ایک گٹر بنا کر چھوڑ دیا۔ کانگریس کی جب اسمبلی الیکشن میں شرمناک ہار ہوئی تھی، تبھی اسے سبق لینا چاہیے تھا، لیکن شاید مسلمانوں نے جن اپنے ایم ایل ایز کو چن کر اسمبلی میں بھیج دیا تھا، کانگریس کو یہ امید تھی کہ وہ سیکولر والا ووٹ کارڈ کھیل جائیں گے۔ کانگریس کی پوری کوشش رہی کہ دہلی کے مسلمانوں کو بی جے پی کے خلاف کر کے ووٹ لیا جائے۔ خدا جانے اسے مودی لہر کہیں گے یا پھر مسلمانوں کا پہلے کانگریس سے اعتماد ختم ہونا اور پھر عام آدمی پارٹی کا دہلی کے عوام کو ٹھگ کر دھوکہ دینا ، یہ سب عوامل ہیں یا پھر دس سال میں کانگریس سے نوجوانوں کے بیزاری۔
ایک ٹی وی چینل پر بحث چل رہی تھی ۔ کانگریس کی شرمناک ہار کی وجہ کانگریس کے ہی ترجمان نے یہ بتائی کہ نوجوان دس سالوں سے ایک ہی پارٹی کو دیکھتے دیکھتے اوب گئے تھے، اسی لیے یہ تبدیلی انھیں زیادہ پُر کشش لگی۔ اس بار نوجوانوں کا ووٹ بھی زیادہ تھا، اس لیے نوجوانوں نے جم کو ووٹ دیا۔ کانگریسی ترجمان کی اس بات میں بھی تھوڑی بہت حقیقت تو نظر آئی، لیکن کانگریس میں راہل بھی یووا چہرہ تھے اور راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں نوجوانوں کو کشش نظر نہیں آئی، تو یہ بھی کانگریس کے لیے تشویش کا سبب ہے، کیونکہ دس سالوں میں راہل گاندھی کا رول پارٹی میں اب نکل کر آیا ہے۔پرینکا گاندھی کو اگر شروع سے ہی پارٹی الیکشن کی ذمہ داری سونپ دی جاتی، تو بھی شاید کچھ بہتر کانگریس کی حالت ہوتی۔ کانگریس نے سیکولر کارڈ تو خوب کھیلا، لیکن جانے یہ کیسا المیہ ہے کہ سیکولر کا مطلب صرف مسلمان سمجھ لیا جاتا ہے۔ مگر اس کارڈ نے بالکل اثر نہیں دکھایا۔ میری دہلی کے کچھ اسکول کالجوں کے مسلم طلباء سے ملاقات ہوئی تھی، تو وہ مودی کی تقریروں سے بے حد متاثر تھے۔ شاید یہ اس بات کا بھی اثر تھا کہ مودی نے کہا تھا کہ و ہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی آج کی نوجوان نسل بابری مسجد، میرٹھ ملیانہ فساد، ان سب کو بھول کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس لییعام آدمی پارٹی بھی ان کے خوابوں کی پارٹی بن کر ابھری تھی، کجریوال ان کے ہیرو تھے، جو ان کو ایک نئے بہتر مستقبل کا خواب دکھا رہے تھے، جو بدعنوان سے پاک بھارت کا تصور پیش کر رہے تھے، لیکن دہلی سے استعفیٰ دے کر پارلیمنٹری الیکشن میں لگ جانا، اس بات کی علامت تھا کہ یہ سب انھوں نے لالچ میں کیا۔ انھوں نے سوچا کہ جس طرح دہلی میں ان کی لہر جھاڑو کی شکل میں چلی، وہ پورے ملک میں چلے گی، مگر ہوا اس کے بر عکس۔
دہلی سے شاید اگر کجریوال نے استعفیٰ نہ دیا ہوتا اور جم کر برسوں تک عوام کی خدمت کرتے اور پھر لوک سبھا الیکشن کا رخ کرتے تو بہتر ہوتا۔ اس ضمن میں انّا ہزارے کا مشورہ بھی مجھے یادآرہا ہے، جو انھوں نے کجریوال کو دیا تھا کہ اسمبلی الیکشن نہ لڑ کر لوک سبھا کی ہی تیاری کی جائے، کیونکہ نظام کی تبدیلی لوک سبھا سے ہوسکتی ہے اور پالیسیاں بھی لوک سبھا بناتی ہے۔ مگریہ کجریوال کی ضد تھی کہ وہ پہلے دہلی الیکشن لڑیں گے، دہلی اسمبلی میں وہ جیت گئے، تو ملک جیتنا آسان ہوگا۔ مگر بد قسمتی دیکھیے کہ وہ دہلی الیکشن جیت کر بھی سب کچھ ہار گئے۔ گزشتہ دس سالوں میں مسلمانوں کے اپنے لیڈروں نے بھی ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کانگریس میں مسلم لیڈر شپ نے سونیا گاندھی اور راہل کو گمراہ کیاکہ کچھ بھی ہوجائے، مسلمان مودی کو ووٹ نہیں دے گا، اس لیے بس مودی سے ڈراکر رکھو،مسلم ووٹ خود بخود آپ کو مل جائے گا۔ پارلیمنٹ کا آخری سیشن ختم ہوتے ہوتے انسداد فرقہ وارانہ فساد بل پاس نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں دیا گیا۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈران نے کانگریس کو خوش فہمی میں مبتلا رکھا۔ رحمان خان الیکشن سے کچھ مہینے قبل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن بنا کر مسلمانوں کو خوش کرتے نظر آئے۔ کپل سبل اردو کونسل کی اردو ویب سائٹ لانچ کر کے یہ سمجھے کہ انھوں نے مسلمانو ں کا دل اور ووٹ دونوں جیت لیے، مگر مسلمان کو شاید اب آسانی سے ٹھگا نہیں جاسکتا۔ مظفر نگر فساد ملائم سنگھ کو بھی لے ڈوبا۔ اب یہ وقت ہے سبھی پارٹیوں کے لیے اپنا محاسبہ کرنے کا اور اپنا تجزیہ کرنے کا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *