آئی پی ایل فکسنگ کا معاملہ : کرکٹ کے ڈی این اے سے کھلواڑ

نوین چوہان
p-12ہندوستانی کرکٹ اپنے سب سے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ وہ ایک ایسے دوراہے پر آ کر کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایک راستہ بے پناہ دولت اور عیش و عشرت کی طرف لے جاتا ہے ، وہیں دوسرا کرکٹ کے وجود اور اس کی جینٹل مین گیمس والی شبیہ کی طرف، لیکن بی سی سی آئی کے اعلیٰ افسران کو کھیل اور کھلاڑیوں کی فکر نہیں ہے۔ بی سی سی آئی صدر این سری نواسن سمیت بی سی سی آئی کا کوئی بھی ممبر یہ نہیں چالتا کہ کرکٹ صحیح راستے پر چلے اور پھل پھولے۔قابل مبارکباد ہے کہ سپریم کورٹ جس نے بہار کرکٹ ایسو سی ایشن کے سکریٹری آدتیہ ورما کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جج کی صدارت والی تین ارکان والی کمیٹی کو سونپی، جس نے اپنی رپورٹ میں این سری نواسن سمیت 13دیگر لوگوں کے خلاف سنگین الزامات عائد ہوئے، جس میں قومی ٹیم کے لئے کھیل چکے 6کھلاڑیوں کے نام بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی صدر این سری نواسن کو عہدہ چھوڑنے کو کہا، سپریم کورٹ کے مطابق سری نواسن کے عہدے پر رہتے ہوئے آئی پی ایل کی تفتیش کر پانا ممکن نہیں ہے۔ انہیں کورٹ نے وقت بھی دیا اور کہا کہ آپ عہدہ چھوڑ دیں نہیں تو ہمیں ہی کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود سری نواسن نے عہدہ نہیں چھوڑا اور کورٹ نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے آئی پی ایل سے جڑے کاموں کی ذمہ داری سابق کپتان سنیل گاوسکر کے ہاتھوں میں دی۔
اس کے بعد کورٹ نے بی سی سی آئی کو آگے کی تفتیش کے لئے تین رکنی تفتیشی کمیٹی کی تشکیل کرنے کو کہا۔ بی سی سی آئی نے اس کمیٹی میں ہندوستانی ٹیم کے سابق کپتان اور کمنٹیٹر روی شاستری، کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جے این پٹیل اور سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر آر کے راگھون کو شامل کرنے کا فیصلہ لیا، جس پر سوال اٹھے کہ کمیٹی میں جن لوگوں کو شامل کیا گیا ہے ، ان میں سے ایک پر بورڈ کے سابق صدر ششانک منوہر نے شاستری کے نام پر اعتراض درج کرایا تھا، لیکن بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی میں انہیں حمایت نہیں ملی۔ روی شاستری فی الحال بی سی سی آئی کے ملازم ہیں تو وہ اپنے ہی افسران کی کیا تفتیش کریں گے؟
بہار کرکٹ ایسو سی ایشن کے سکریٹری آدتیہ ورما نے تفتیش سی بی آئی یا این آئی اے جیسی ایجنسی کو سونپنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حالانکہ ورما نے یہ واضح کیا کہ وہ اس معاملہ کی اب تک تفتیش کرنے والی جسٹس مدگل کمیٹی کے کام سے مطمئن ہیں۔انھوں نے کسی مرکزی تفتیشی ایجنسی سے تفتیش کرانے کا مطالبہ اس لئے کیا کیونکہ خود جسٹس مدگل نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ چنئی پولس نے تفتیش میں متوقع تعاون نہیں کیا۔ ورما نے الزام لگایا کہ پولس نے ایسا بی سی سی آئی کے رسوخدار لوگوں کو بچانے کے لئے کیا۔ اگر سی بی آئی یا این آئی اے کے ہاتھ میں تفتیش کے جانے سے تفتیش کے دائرے میں آنے سے بچ رہے لوگوں کو راستہ نہیں ملے گا۔
ورما کی بات بھی اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ چنئی سی بی سی آئی ڈی کی تفتیش میں دھونی اور رینا جیسے کھلاڑیوں کا نام آیا تھا، لیکن سی بی سی آئی ڈی کی رپورٹ مدگل کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ تفتیش کرنے والے آئی پی ایل افسر وی سمپت کمار کو آگے کی تفتیش کرنے کی اجازت دینے کے بجائے ان کا تبادلہ کوچی ریلوے میں کر دیا گیا اور مدگل کمیٹی کی تفتیش آنے کے بعد ایک نیوز چینل میں کھلے عام نام لینے کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا ۔ یہ تمام باتیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ این سری نواسن اپنے داماد گروناتھ میپن کو بچانے کے لئے پرزور کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے رسوخ اور پیسے کے دم پر تفتیش میں رخنہ اندازی کرنا چاہتے ہیں۔ چنئی سپر کنگس ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور مالک سری نواسن دونوں نے مدگل کمیٹی کو دئے گئے اپنے بیان میں میپن کو محض ایک کھیل مداح بتایا تھا، جبکہ تفتیشی کمیٹی نے اپنی تفتیش میں یہ پایا کہ میپن سیدھے طور پر چنئی کنگس کا مینجمنٹ سنبھال رہے تھے ، دونوں کا جھوٹ پکڑا گیا۔ میڈیا میں خبر دکھا ئی گئی، لیکن دھونی نے اس معاملہ میں اپنا منھ بند رکھا اور کوئی ردعمل نہیں دیا۔ انھوں نے اپنا نام اچھالے جانے پر زی نیوز کے خلاف 100کروڑ روپے کے ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔ یہ کوشش میڈیا گروپوں کو ان کے خلاف کچھ نہ دکھانے کے لئے دبائو بنانے کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اپنا کام جاری رکھا اور آخر مدگل پینل کو ہی آگے کی تفتیش کے لئے منظوری دی گئی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بی سی سی آئی کے اندر ہلچل کیوں مچی ہوئی ہے؟ آئی پی ایل کا انعقاد یو اے ای میں کیوں کیا گیا؟ خاص کر تب جب 2001میں ہندوستان نے شارجہ میں ہینسی کرونی میچ فکسنگ معاملہ کے بعد ہندوستانی ٹیم کے کھیلنے پر تین سال کی روک لگا دی گئی تھی۔ اس کے بعد ہندوستانی ٹیم کبھی شارجہ میں کھیلنے نہیں گئی۔ آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کے بعد ایسا کیا ہوا کہ بی سی آئی کو یو اے ای کی پناہ میں جانا پڑا،لیکن آئی پی ایل فکسنگ کی تفتیش کے دوران ممبئی پولس نے ایس سری سنت اور دیگر کھلاڑیوں پر ’’مکوکا‘‘ اس لئے لگایا کیونکہ اسپاٹ فکسنگ کے تار انڈرورلڈ سے جڑ رہے تھے۔ آئی پی ایل 7کا انعقاد متحدہ عرب امیرات میں کیوں گیا ، یہ بے حد سنگین سوال ہے۔ کیا ہندوستانی کرکٹ کے اوپر انڈر ورلڈ کا قبضہ ہو گیا ہے؟ اس لئے ہر کوئی انڈرورلڈ کے اشارے پر کام کر رہا ہے؟ فکسنگ کے جال میں پھنسی بڑی مچھلیوں کو بچانے کی ہر کوئی کوشش کر رہا ہے۔
چاہے کچھ بھی ہو لیکن ہندوستانی کرکٹ کی شبیہ داغدار ہوئی ہے۔بی سی سی آئی کسی بھی حال میں حق اطلاعات قانون کے دائرے میں نہیں آنا چاہتا ہے۔ بی سی سی آئی کے اندر کیا چل رہا ہے ، لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں، لیکن اس طرح کی گئی ہر کوشش کو سوچ سمجھ کر ناکام کر دیا گیا ۔ سابق مرکزی وزیر اجے کاکن نے کھیل بل لا کر سبھی کھیل محکموں کو حق اطلاعات کے دائرے میں لانے کی بہت کوشش کی، لیکن آخر انہیں ہی اپنے وزیر کھیل کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *