ایک سے زیادہ سیٹوں پر امیدواری، ٹیکس دہندگان کی جیب پر بھاری

 نوین چوہان 

p-5بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر دامودر بھائی مودی 16ویں لوک سبھا کے لیے ہو رہے عام انتخابات میں دو لوک سبھا حلقوں بڑودہ اور وارانسی سے انتخابی میدان میں اترے ہیں، جس کی وجہ سے بڑودہ سے زیادہ لوگوں کی نظر وارانسی کی سیٹ پر ہے۔ وہ اس الیکشن میں دو سیٹوں سے لڑنے والے واحد شخص نہیں ہیں، بلکہ اس سے پہلے اتر پردیش بی جے پی کو چنوتی دے رہی بر سر اقتدار سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو بھی دو لوک سبھا حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی روایتی سیٹ مین پوری کے علاوہ مسلم اکثریتی ضلع اعظم گڑھ سے بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مودی اور ملائم پہلے اور آخری شخص نہیں ہیں، جو دو سیٹوں سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ دونوں کا اپنا اپنا سیاسی عقل و شعور ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے سے مودی کے اتر پردیش کی کسی سیٹ سے لوک سبھا انتخاب لڑنے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں۔ ایسا کرنے سے سب سے زیادہ سیٹوں والے اتر پردیش کے کارکنان میں جوش آ جائے گا، جو کہ پارٹی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے پارٹی کے تھنک ٹینک نے مودی کو اتر پردیش کے انتخاب میں کھڑا کرنے کا فیصلہ لیا۔ وہیں ملائم سنگھ ریاست کے مسلم ووٹروں کو رجھانے اور ان کے ووٹوں کو اپنی پارٹی کے حق میں کرنے کے لیے اعظم گڑھ سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ کس کی حکمت عملی کامیاب ہوئی، یہ تو 16 مئی کو رائے شماری کے بعد ہی معلوم ہوگا، لیکن ایک بات تو پوری طرح صاف ہے کہ اپنے سیاسی کریئر کو کسی بھی طرح کی غیر یقینی صورتِ حال سے بچانے کے لیے پارٹی کے مکھیا اس حکمت عملی کو سیفٹی والو کی طرح استعمال کر تے رہے ہیں، جو آخر کار ملک کے عوام کی جیب پر بھاری پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عام انتخابات کومنعقد کرنے میں تقریباً3500 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ اس حساب سے ایک سیٹ پر الیکشن کا کل خرچ تقریباً 64 کروڑ روپے آئے گا۔ لیڈروں کی سہولیت کا خمیازہ ٹیکس دہندگان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
دو یا اس سے زیادہ سیٹوں سے الیکشن لڑنے کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ جانے مانے لوگوں کی بات اگر کی جائے، تو بی جے پی کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جن سنگھ کے ایک نوجوان کارکن کی شکل میں سال 1957 میں دوسری لوک سبھا کے انتخابات میں اتر پردیش کے تین لوک سبھا حلقوں، بلرام پور، متھرا اور لکھنؤ سے انتخابی میدان میں اترے تھے۔ انہیں بلرام پور سے جیت حاصل ہوئی تھی۔ لکھنؤ میں وہ دوسری پوزیشن پر رہے تھے، جب کہ متھرا میں ان کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ اٹل بہاری واجپئی کا ایک سے زیادہ سیٹوں سے لوک سبھا الیکشن لڑنے کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا، انھوں نے 1991 میں مدھیہ پردیش کی ودیشا سیٹ اور لکھنؤ سے الیکشن لڑا اور دونوں ہی سیٹوں پر انہیں جیت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد 1996 میں بھی انھوں نے لکھنؤ اور گاندھی نگر سے لوک سبھا الیکشن لڑا اور دونوں سیٹوں سے جیتے۔
ملک میں سب سے زیادہ وقت تک اقتدار کرنے والی کانگریس میں بھی یہ روایت رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے بھی 1980 میں آندھرا پردیش کے میندک اور اتر پردیش کی رائے بریلی سیٹ سے لوک سبھا انتخاب لڑا تھا۔ جنتا پارٹی کی سرکار کے حاشیہ پر پہنچنے کے بعد اندرا گاندھی کو شبہ تھا کہ کہیں انہیں 1977 کے انتخابات کی طرح منھ کی نہ کھانی پڑے۔ 1977 کے انتخابات میں وہ الہ آباد سے انتخابی میدان میں اتری تھیں۔ انتخابات میں انہیں فاتح قرار دیا گیا تھا، لیکن راج نارائن نے ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں اندرا گاندھی کے الیکشن کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے راج نارائن کے حق میں فیصلہ دیا اور اندرا گاندھی کے انتخابی پرچہ کو خارج کر دیا۔ اسی وجہ سے اندرا گاندھی نے 1980 کا الیکشن دو جگہوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ وہ دونوں جگہوں سے فاتح ہوئیں اور اقتدار پر دوبارہ قابض بھی ہوئیں۔ موجودہ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی دو بار دو سیٹوں سے لوک سبھا اکا انتخاب لڑ چکی ہیں۔ 1999 میں انھوں نے اتر پردیش کے امیٹھی اور کرناٹک کی بیلاری سیٹ سے الیکشن لڑا تھا۔ انھوں نے دونوں ہی جگہ پر جیت حاصل کی تھی، جس کے بعد انھوں نے بیلاری کی سیٹ خالی کر دی تھی۔ 2004 میں یہ کہانی پھر سے دوہرائی گئی، سونیا، گاندھی خاندان کی روایتی سیٹوں امیٹھی اور رائے بریلی سے انتخابی میدان میں اتریں۔ انہیں دونوں جگہ جیت حاصل ہوئی۔ انھوں نے امیٹھی کی سیٹ خالی کر دی۔ اس کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں راہل گاندھی نے پہلی بار لوک سبھا کا الیکشن لڑا اور پہلی بار ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بھی دو سیٹوں سے انتخاب لڑ چکے ہیں۔ ملائم سنگھ 1999 کے انتخابات میں سنبھل اور قنوج کی سیٹوں پر انتخابی میدان میں اترے تھے اور دونوں ہی سیٹوں پر انہیں جیت حاصل ہوئی تھی۔ ان کے ذریعہ قنوج کی سیٹ خالی کرنے کے بعد اکھلیش یادو نے وہاں سے انتخاب لڑا اور جیت حاصل کر کے اکھلیش پہلی بار لوک سبھا میں پہنچے تھے۔ اکھلیش 2009 کے عام انتخابات میں قنوج او رفیروز آباد سیٹ پر جیت حاصل کر چکے تھے۔ انھوں نے فیروز آباد کی سیٹ خالی کر دی تھی۔
کیا کہتا ہے قانون ؟
پیپلز ری پریزنٹیشن ایکٹ -1951 کی دفعہ 33(7) کے مطابق، کوئی شخص دو سیٹوں سے الیکشن لڑ سکتا ہے۔ اگر وہ دونوں سیٹوں سے الیکشن جیت جاتا ہے، تو اسے اسی ایکٹ کی دفعہ 70 کے مطابق، 10 دن کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک سیٹ خالی کرنی ہوتی ہے۔ 1996 میں قانون میں ترمیم ہونے کے بعد ہی دو سیٹوں پر لڑنے کا قانون پاس ہوا۔ اس سے پہلے تو ایک شخص کتنی بھی سیٹوں سے الیکشن لڑ سکتا تھا۔
کیا کہتے ہیں ماہرین قانون؟
ماہر آئین سبھاش کشیپ کے مطابق ملک کے سیاستداں سیدھی طرح اس قانون کے توسط سے انتخابی ضابطٔ عمل کا بیجا استعمال کررہے ہیں۔ اس قانون سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس قانون کا استعمال امیدوار ایم پی بننے کی راہ میں آ رہی دشواریوںکو کم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک بیما پالیسی کی طرح ہے، جس کا پریمیم ملک کے عوام کو دینا پڑتا ہے۔
الیکشن کمیشن کا رخ
2004میں الیکشن کمیشن نے دو جگہ سے الیکشن لڑنے والے قانون کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں مرکزی الیکشن کمیشن نے وزارت برائے قانون و انصاف کی کور کمیٹی آن الیکٹورل رِفارمس کے لیے الیکشن کمیشن سے مشورے طلب کیے تھے ، جس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے دو جگہ سے الیکشن لڑنے کے ضابطہ کی مخالفت کی تھی اور اس ضابطہ کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ لیکن سیاسی وزارت کی کور کمیٹی نے اس تجویز اور سفارش کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیاسی جماعتیں نہیں چاہتیں کہ ہندوستان میں اس قسم کی انتخابی اصلاحات ہوں۔
اگر کوئی امیدوار دو جگہ سے الیکشن جیتتا ہے تو اسے خالی کی گئی سیٹ پر ضمنی انتخابات کروانے کے لیے ضروری خرچ حکومت کے کھاتے میں جمع کرا دینا چاہیے۔ لوک سبھا کے لیے یہ رقم 10 لاکھ اور اسمبلی کے لیے 5 لاکھ ہوگی۔ الیکشن کمشنر کے مشورے پراس وقت ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی گئی اور بعد میں کہا گیا کہ اس مدعے پر پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں بن پایا۔
بیجو جنتا دل کے ایم پی وجینت جے پانڈا کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو کتنی بھی سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہیے اور جیتے گئے امیدوار کے ذریعہ سیٹ خالی کرنے پر دوسرے نمبر پر رہے امیدوار کو فاتح قرار دینا چاہیے۔ اس سے خرچ میں کمی آئے گی اور سرکاری مشینری کے ذریعہ ضمنی انتخاب منعقد کرنے میں کی جانے والی مشقت بھی کم ہو جائے گی۔
کل ملا کر الیکشن رِفارمس کو کوئی بھی پارٹی توجہ نہیں دے رہی ہے، نہ ہی اسے سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ دو جگہ سے الیکشن لڑنا اب آسان نہیں رہ گیا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں پارٹی کا ایک ممبر ایک جگہ سے انتخاب کا خرچ برداشت نہیں کر پاتا ہے، تو اس کے دو جگہ سے الیکشن لڑنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔ اس لوپ ہول کا فائدہ پارٹی کے سربراہ اور سینئر لیڈر یا جانے مانے لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔ وہی لوگ پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کا چہرہ ہوتے ہیں۔ خاص کر علاقائی پارٹیوں کے سربراہان کے ارد گرد ہی سیاست نظر آتی ہے، جو اس کی قیادت کرتے ہیں۔ کچھ پارٹیوں کا وجود ان کی پارٹی کے سربراہان پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے وہ عوام کے مفادات کو طاق پر رکھ کر ایسے قدم اٹھاتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *