تلنگانہ کی تشکیل کے فیصلے کے بعد متحدہ آندھرا میں آخری پارلیمانی انتخابات

اے یو آصف

آندھرا پردیش کو تقسیم کرکے پارلیمنٹ اور صدر کی منظوری سے آئندہ 2 جون، 2014 کو دو نئی ریاستیں – تلنگانہ اور سیماندھرا وجود میں آ جائیں گی۔ لہٰذا، 16ویں لوک سبھا کے لیے یہاں کل 42 سیٹوں پر جو انتخابات ہو رہے ہیں، وہ متحدہ ریاست میں آخری ہیں۔ گرچہ سپریم کورٹ میں 23 اپریل کو صدر فیڈرل پارٹی آف انڈیا کی جانب سے پٹیشن کو قبول کر لیا گیا ہے، جس میں ریاستی اسمبلی کی نامنظوری کو نظر انداز کرکے ریاست کی تقسیم کرکے نئی ریاستوں کو بنانے کے تعلق سے پارلیمنٹ کے اختیارات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ آئیے، اس رپورٹ میں 30 اپریل کو تلنگانہ اور 7 مئی کو سیماندھرا میں ہو رہے اہم پارلیمانی حلقوں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ نئی ریاست تلنگانہ میں مسلم صورتِ حال میں کیا کوئی تبدیلی واقعی ہو پائے گی؟

p-4آندھرا پردیش تاریخی و جغرافیائی اعتبار سے ہندوستان کی بہت ہی اہم ریاست ہے۔ غیر منقسم آندھرا پردیش کی اسمبلی میں کل 294 ارکان کے علاوہ 42 پارلیمانی سیٹیں ہیں۔ یہاں مسلم آبادی کے لحاظ سے مسلم فیکٹر بھی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الوقت ریاستی اسمبلی میں گیارہ ارکان ہیں، جن میں 6 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے ہیں، جب کہ پندرہویں لوک سبھا میں صرف ایک رکن تھا اور یہ تعداد قابل ذکر مسلم آبادی کے باوجود ایک سے زیادہ کبھی نہیں بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی اسمبلی میں 1962 سے ہنوز دو درجن بار سے زائد بار اس کے افراد ایم ایل اے رہے ہیں نیز ایک بار اس کے صدر سلطان صلاح الدین اویسی نے پروٹیم اسپیکر کا رول ادا کیا ہے اور 1984 سے لگاتار اب تک یکے بعد دیگرے اس قدیم مسلم سیاسی پارٹی کے صرف دو افراد صلاح الدین اویسی اور ان کے صاحبزادے اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں نمائندگی کی ہے اور وہاں مختلف ایشوز کو اٹھا کر فعال ارکان کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔ 2004 میں مرکز میں قائم ہوئی یو پی اے کی مخلوط حکومت کو اس پارٹی نے حمایت دی تھی، مگر بعد میں اسے واپس بھی لے لیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اس ریاست میں انتخابات دو مرحلے میں ہونے ہیں۔ پہلے 30 اپریل کو 17 پارلیمانی حلقوں – عادل آباد، پیڈپالے، کریم نگر، نظام آباد، ظہیر آباد، میڈک، ملکج گری، سکندر آباد، حیدرآباد، چیلویلا، محبوب نگر، ناگر، کورنول، نال گونڈا، بھونگیر، ورنگ، محبوب آباد اور خمام میں اور پھر 7 مئی کو 25 حلقوں – اروکو، سریکا کولم، ویزیا نگرم، وشاکھا پٹنم، اناکا پلی، کاکیناڈا، املا پورم، راجہ مندری، نرسا پورم، ایلورو، مچیلی پٹنم، وجے واڑا، گنٹور، نراسراؤپیٹ، بپٹلا، اونگولے، نندیال، کرنول، اننت پور، ہندوپور، کڈپا، نیلور، تیروپتی، راجم پیٹ اور چیتوڑ میں ووٹرس ووٹ ڈالیں گے۔ گرچہ پارلیمنٹ سے تلنگانہ کی نئی ریاست کی زبردست مخالفت کے باوجود منظوری لے لی گئی ہے، سولہویں لوک سبھا کے لیے انتخابات اس متحدہ ریاست میں پہلے کی طرح ہو رہے ہیں۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ متحدہ آندھرا پردیش ریاست کی کل 42 سیٹوں کے لیے یہ پارلیمانی انتخابات آخری بار ہو رہے ہیں۔ اس لیے بھی یہ انتخابات اس غیر منقسم آندھرا پردیش کے لیے اہم وغیر معمولی ہیں۔
مسلم نقطہ نگاہ سے ان انتخابات میں 39 فیصد والے بودھن (ضلع نظام آباد) اور 20 فیصد والے محبوب نگر میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی نظریں خاص طور پر مرکوز ہیں۔ اس ریاست کے لیے یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ مجموعی طور پر قابل ذکر مسلم آبادی اور ان دو پارلیمانی حلقوں میں 39 اور 20 فیصد مسلم آبادی کے باوجود 1984 سے اس بڑی ریاست میں صرف ایک مسلم رکن پارلیمنٹ رہا ہے۔ یہاں مسلمانوں کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ اچھی خاصی آبادی کے باوجود ان کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں عمومی طور پر اور سیاسی شعبہ میں خصوصی طور پر امتیاز برتا جاتا ہے۔ 1948 میں نظام حیدرآباد کے خاتمہ کے بعد یہاں کے مسلمانوں کے معاشرتی، سیاسی و اقتصادی حالات میں زبردست بدتری آئی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلم نمائندگی 40 فیصد سے نیچے گر کر 5 فیصد پر آگئی ہے اور ان کی زمینیں ریڈی اور ویلامہ برادریوں کے قبضے میں چلی گئی ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین تلنگانہ تحریک کی مخالف ہے۔ اس کا موقف ہے کہ اس سے یہاں کے مسلمانوں کا کچھ بھلا نہیں ہونے والا ہے، کیوں کہ یہ تحریک اصلاً اراضی، پانی اور زراعتی ایشوز سے متعلق ہے۔ صدر مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ جس طرح دن ہو یا رات، نابیناؤں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، ٹھیک اسی طرح تلنگانہ ریاست کے قیام سے یہاں کی کثیر مسلم آبادی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے اور وہ سنگھ پریوار بشمول بی جے پی کے نشانے پر زیادہ آ جائیں گے۔ اس کی مثال محبوب نگر پارلیمانی حلقہ سے دی جا سکتی ہے، جہاں بی جے پی نے دلتوں کو اپنی جانب کھینچا ہے۔ تبھی تو وہاں اس بار بی جے پی دلت مورچہ قائم ہو کر کافی فعال ہے اور اس کے نمائندے وہاں انتخابی میدان میں بھی ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ ریاست کے قیادم کے اعلان کے بعد ہندو – مسلم پولرائزیشن بڑھا ہے۔ یہی خیال حال میں حیدرآباد میں واقع پیپلز پلس (People’s Pulse) نامی ایک ادارہ کے تحت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی میں سنٹر فار پولیٹکل اسٹڈیز کے اجے گوداورتی کے ذریعے کیے گئے سروے کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ سروے کہتا ہے کہ یہ رجحان ریاست میں قابل ذکر مسلم آبادی کے سبب ہے، کیوں کہ یہاں کی غیر مسلم آبادی کو خوف ہے کہ اس سے مسلمانوں کی جانب سے معاشرتی و اقتصادی فائدے اور سیاسی نمائندگی کا مطالبہ اور زیادہ زور پکڑے گا اور پھر نئی تلنگانہ ریاست میں غیر مسلم آبادی کی حالت خراب ہو جائے گی، جب کہ یہ مفروضہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ عیاں رہے کہ تلنگانہ میں مسلم آبادی 12.5 فیصد ہے۔
30 اپریل کو آندھرا پردیش کے جن 17 پارلیمانی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے، وہ سب کے سب نئی تلنگانہ ریاست کے ہیں۔ یہ نئی ریاست انتخابات کے بعد 2 جون، 2014 کو باضابطہ وجود میں آ جائے گی۔ یہاں اسی روز پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ 119 ارکان اسمبلی کو بھی منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس پارٹی کی جو کچھ بھی امید ہے، وہ تلنگانہ سے ہی ہے، لیکن 17 سیٹوں پر تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) کا دعویٰ سب سے بڑا ہے۔ تاہم، بی جے پی – ٹی ڈی پی اتحاد بھی یہاں انتخابی میدان میں ہے، لیکن اس کے لیے امید کی کرن بہت زیادہ نہیں دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس 7 مئی کو سیماندھرا کی 25 پارلیمانی اور 175 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ پڑیں گے۔ سیماندھرا میں ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے درمیان زبردست مقابلے نے کانگریس پارٹی کو حاشیہ پر ڈال دیا ہے۔ سیماندھرا ہی میں ایک پارلیمانی حلقہ کاکیناڈا ہے، جہاں 1923 میں مولانا محمد علی جوہر کی صدارت میں انڈین نیشنل کانگریس کا تاریخی اجلاس ہوا تھا اور انہوں نے اس میں اپنا تاریخی خطبہ دیا تھا۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ حیدرآباد میں ملکج گری حلقہ میں اہم شخصیات کے درمیان زبردست مقابلہ ہے۔ اس بار پارلیمانی ملکج گری حلقہ میں مرکزی وزیر، ریٹائرڈ ڈی جی پی، ماہر تعلیم اور رکن اسمبلی بھی میدان میں ہیں۔ اس پارلیمانی حلقہ کو یہ بھی فخر حاصل ہے کہ یہ ملک کے سب سے بڑے حلقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں 30 لاکھ ووٹرس ہیں۔ علاوہ ازیں سیماندھرا کے ووٹرس اس حلقہ میں فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ اگرچہ یہ حلقہ حیدرآباد اور اس کے اطراف میں ہے، اس حلقہ کو تلنگانہ میں آندھرا انکلیو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ امیدوار کے طور پر مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ سروے ستیہ نرائن ہیں، جو کہ 2009 کے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کو اس بار لوک مکتا پارٹی کے سربراہ جے پرکاش نرائن کے علاوہ ٹی ڈی پی- بی جے پی اتحاد کے امیدوار مالا ریڈی اور وائی ایس آر کے امیدوار سابق ڈی جی پی دنیش ریڈی سے مقابلہ ہے۔ یہاں ٹی آر ایس نے موجودہ رکن اسمبلی مناپلی ہنومنتھ راؤ کو امیدوار بنایا ہے۔ علاوہ ازیں ایم ایل سی ناگیشور بھی میدان میں ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے پوتے سدھا کرن کو یہاں سے ٹکٹ دیا ہے۔ علاوہ ازیں جے سمیک کھدرا پارٹی جے ایس پی کے امیدوار اور سابق وزیر اعلیٰ این کرن کمار ریڈی بھی مقابلے میں ہیں۔
اسی دوران صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے اس بات کا اعادہ کرکے کہ ریاست تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے بعد جیسے ہی ٹی آر ایس کی حکومت بنے گی، وہ اپنے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو ریاست تمل ناڈو کی طرز پر 12 فیصد ریزرویشن فراہم کریں گے، فضا کو گرما دیا ہے۔ ان کا صاف طور پر کہنا ہے کہ اس کے لیے انہیں نہ ہی کسی کمیٹی کو تشکیل دینے کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی کوئی قانونی رکاوٹیں درپیش ہوں گی، بلکہ وہ سچر رپورٹ کی بنیاد پر 12 فیصد ریزرویشن فراہم کرائیں گے۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کیے ہیں، ان میں عوامی جان و مال کا تحفظ کرنے والے پولس ملازمین کو ہفتہ واری تعطیل، پولس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام، انہیں مکانات کی فراہمی، گریجنوں کو 12 فیصد ریزرویشن جیسے وعدے شامل ہیں۔ ٹی آر ایس کا یہ بھی وعدہ ہے کہ اقتدار میں آتے ہی عادل آباد کے باسرا کو تروملا تیروپتی دیوستھانم کے خطوط پر عقیدت مندوں کے مرکز کی حیثیت سے ترقی دی جائے گی۔ اس کا یہ بھی وعدہ ہے کہ چھوٹے آبپاشی پروجیکٹس کی تعمیر کی جائے گی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس ریاست تلنگانہ میں برسر اقتدار ہونے اور 17 پارلیمانی سیٹوں میں سے زیادہ تر پر کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہاں ہونے والے اسمبلی و پارلیمانی دونوں انتخابات کیا نتائج سامنے لاتے ہیں اور مجموعی طور پر 1948 میں ہوئے حیدرآباد پولس ایکشن کے بعد ترقی کی دوڑ میں پیچھے پڑ گئے 12.5 فیصد مسلمانوں کو تلنگانہ میں تمام شعبوں میں کتنا امپاورمنٹ مل پاتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *