اب ایک نئے ہندوستان کی بات ہونی چاہئے

کمل مرارکا
عام انتخابات کے نتائج آچکے ہیں۔ تقریباً پورا ملک ایک طرف چلا گیا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہندوستان، ٹھیک 1971 اور 1977 کی طرح۔ 1984 کے بعد پہلی مرتبہ کسی پارٹی نے اکیلے اکثریت کی سرکار بنائی۔ لیکن 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہمدردی کی لہر تھی، جس کی وجہ سے کانگریس جیت گئی۔ دوسری طرف 1971 میں اندرا گاندھی کے ’’غریبی ہٹائو‘‘ نعرے کی وجہ سے کانگریس کو پوری اکثریت ملی تھی اور پھر 1977 میں ایمرجنسی کے خلاف عوام کا غصہ ووٹ بن کر سامنے آیا تھا۔ 2014 کے انتخاب میں لوگوں کا غصہ گھوٹالے کے خلاف ووٹ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ وہ گھوٹالے جو سی اے جی رپورٹوں سے باہر آئے۔ وہ گھوٹالے جو ہزاروں کروڑ روپے کے نہیں، بلکہ لاکھوں، ہزاروں، کروڑوں کے تھے۔ زندگی کے کئی یومیہ مسائل کے تحت، بے روزگاری کے تحت، افراط زر وغیرہ مسائل سے پریشان عوام کے لیے یہ سب برداشت کرنا مشکل تھا۔ یہ عوام دیکھ رہے تھے کہ اس کا دور اقتدار نہ صرف بد عنوانی میں ملوث ہے، بلکہ سرکاری خزانے لُٹ رہے ہیں۔ یہی غصہ ووٹ کی شکل میں باہر آیا اور اپوزیشن پارٹی، بی جے پی نے اپناکارڈ بہترین ڈھنگ سے کھیلتے ہوئے یہ ووٹ حاصل کر لیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ کیسے 2014 کے منشور میں دفعہ 370 یا رام مندر جیسے ایشوز کہیں کونے میں رکھ دیے گئے تھے۔ بی جے پی کا بنیادی ایجنڈا کانگریس پارٹی کی طرح ہی تھا۔ بنیادی طور سے ترقی، بے روزگاری، سماج کے غریب طبقے کی دیکھ بھال وغیرہ کی باتیں۔ دراصل، جب بی جے پی نے اپنا منشور جاری کیا، تب کانگریس پارٹی نے اسے اپنے منشور کی کاپی کہا تھا اور یہ صحیح بات تھی۔
لیکن کانگریس پارٹی کو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کیسے اسی کے منشور کی کاپی کرکے بی جے پی نے خود کا چہرہ ایک متحد کرنے والی پارٹی کا بنا لیا، بجائے ایک تقسیم کرنے والی پارٹی یا ایک پولرائز کرنے والی طاقت کے۔ انتخابی تجزیہ کار کے ذیعے یہ کہنا کہ یہ انتخاب پولرائزڈ تھا، ٹھیک ہے۔ لیکن سچ یہ بھی ہے کہ شری نریندر مودی نے بہت ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے ہندو اتحاد کی بات، مندر کی بات سے پرہیز کیا۔ خود کو ترقی، بنیادی سہولتوں، روزگار جیسے ایشوز سے جوڑے رکھا۔ یہ وہی سارے ایشوز ہیں، جن کے سہارے کانگریس آزادی کے بعد سے سرکار میں رہی۔ 1977 میں بھارتیہ جن سنگھ نے خود کو جنتا پارٹی میں ملا دیا تھا۔ جے پرکاش نارائن نے جن سنگھ کے لوگوں کو مین اسٹریم میں آنے میں مدد کی تھی۔ اس سے پہلے وہ مہاتما گاندھی کے قتل کے الزاموں میں پھنسے ہوئے تھے۔ 1980 کی دہائی میں انہوں نے غلطی کی اورجنتا پارٹی سے باہر آگئے اور پھر بی جے پی تشکیل دی۔ اس میں بھی غلطی انہوں نے یہ کی کہ اس پارٹی کے ساتھ بھگوا رنگ، ہندو روایت کا رنگ، ایک مخالف تنظیم رجحان کا رنگ دے دیا۔ 1998 میں انہیں 6 سالوں کے لیے اقتدار میں آنے کا موقع ملا، لیکن وہ اٹل بہاری واجپئی کی شخصیت کا کمال تھا اور پھر وہ اتحاد کا دور تھا۔ اب 2014 میں وہ کیسے اکیلے اقتدار میں آگئے؟ دراصل، آج جو اقتدار میں آیا ہے، وہ ایک نئی کانگریس ہی ہے۔
آج کی بی جے پی کانگریس پارٹی کا ایک ملا جلا کلچر ہے۔ مستقبل میں کیا ہوگا، پتہ نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ نریندر مودی حقیقت میں ووٹروں کے ذریعہ دیے گئے مینڈیٹ کو سنبھال پائیں گے یا نہیں۔ ووٹروں نے جس طرح سے انہیں مینڈیٹ دیا ہے، مثلاً یو پی میں 80 میں سے 71 سیٹیں، مایا وتی کی پارٹی کو کچھ بھی نہیں ملا۔ اس کا مطلب ہے کہ دلتوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔ اگر بی جے پی حقیقت میں اپنے نظریے میں ان باتوں کا خیال نہیں رکھتی ہے، تو وہ نئی کانگریس میں تبدیل ہو جائے گی۔ کانگریس حقیقت میں ایک بہت بری صورت حال میں خود کو ڈال چکی ہے۔ اپنے خود کے نظریوں کو چھوڑنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔ کانگریس کو آج ایک لیڈر کی ضرورت ہے۔ حالانکہ ابھی بھی کانگریس کے لیے سب کچھ لٹا نہیں ہے۔ کانگریس ایک بڑی پارٹی ہے۔ ماضی میں ملک کے سبھی حصوں میں اس کی موجودگی رہی ہے۔ لیکن اسے نئی کوشش اور نئے طریقے سے بی جے پی کے خلاف کافی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس جو ابھی بہترین خواہش کرسکتی ہے، وہ یہ کہ بی جے پی پھر سے مندر وغیرہ جیسے ایشوز پر دھیان دینا شروع کر دے۔ یہ ایسے ایشو ہیں، جو اَب عوام کا دھیان نہیں کھینچتی۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو کانگریس کے لیے ایک موقع ہوگا۔ لیکن اگر نریندر مودی سچ مچ کھلے دماغ کے ہیں، تو پھر ایسا نہیں ہوگا اور یہ بی جے پی کے لیے اچھی بات ہوگی۔
ہمارے جیسے لوگوں کے لیے تسلی کی بات یہ ہے کہ چاہے کوئی بھی پارٹی ہو، لیکن ہندوستانی سیاست کی روایت کو بنائے رکھا جانا چاہیے۔ ایک آزاد تجزیہ کار کی شکل میں ہمارا اعتراض سنگھ پریوار کے تقسیم مذاہب کو لے کر ہے۔ بابری مسجد توڑنے سے لے کر مسلمانوں کے قتل عام تک پہنچانے والی باتوں کو لے کر اعتراض ہے۔ حالانکہ یہ سب اب 20 برس پیچھے کی بات ہو چکی ہے۔ ہندوستان اب نوجوانوں کا ملک ہے، جہاں اب یہ سب نہیں چلے گا۔ 1984 کے سکھ فساد، 1992 کے بابری مسجد سانحہ یا 2002 کے گجرات فساد کو لوگ کسیے بھولیں گے، میں نہیں جانتا۔ لیکن 2014 میں ایک نئے ہندوستان کی بات اب ہونی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ہندو -مسلم کی بات مت کرو۔ اب آپ اپنی شرطوں پرچین اور پاکستان کے ساتھ اچھے رشتے ہونے اور امریکہ کے ساتھ مساوی سطح پرآکر کام کرنے جیسی باتیں کرتے ہیں، تو یہ سب ٹھیک ہے۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہماری نوکر شاہی جگہ پر آجائے، خارجہ پالیسی ٹھیک ہو جائے، نئی قیادت نوکر شاہی کی حوصلہ افزائی کرے، کیونکہ کانگریس کے دس سال کے دورِ اقتدار میں نوکر شاہی بے جان ہوچکی تھی۔ اگلے دو سال نئی سرکار کی نمائش کے لیے کافی اہم ہوں گے اور تب تک ہم ایک نئے مستقبل کی امید ہی کرسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *