مرکز میں اس بار کون این ڈی اے یا تھرڈ فرنٹ؟

اے یو آصف

 

یہ بات تو اب کہی ہی جا سکتی ہے کہ 16 ویں لوک سبھا معلق ہوگی اور ایک بار پھر مرکز میں 1991 سے شروع ہوا مخلوط حکومت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مگر کانگریس قیادت والا یو پی اے مرکز میں حکومت نہیں بنا پائے گا اور اس صورت میں نریندر مودی یا ایل کے اڈوانی یا راجناتھ سنگھ کی سرپرستی میں این ڈی اے حکومت بنے یا ممتا بنرجی یا نتیش کمار یا اروِند کجریوال کی قیادت میں باہر سے کانگریس کی حمایت سے تھرڈ فرنٹ حکومت، ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی مسلمان کے فیصلہ کن ووٹ کا رول بہت ہی اہم ہوگا۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ 2014 پارلیمانی انتخابات میں سابقہ انتخابات کے بالمقابل رول کتنا اور کس طرح اہم ہے …

p-3ہندوستان میں مسلمان اقلیتی کمیونٹی ہونے کے باوجود کل 1.2 بلین آبادی کا 13.4 فیصد ہیں، جب کہ یہ جموں و کشمیر میں اکثریت میں ہیں اور آسام، مغربی بنگال اور کیرل میں وہاں کی آبادی کے ایک چوتھائی ہیں۔ لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں کا پانچواں حصہ، یعنی 18 فیصد اتر پردیش میں ہیں۔ ان دنوں مختلف مرحلوں میں 543 پارلیمانی حلقوں میں منعقد ہو رہے انتخابات میں 35 حلقوں میں یہ آبادی کے 30 فیصد، 38 حلقوں میں 21 سے 30 فیصد، 145 حلقوں میں 11 سے 20 فیصد اور 325 حلقوں میں 10 فیصد سے کچھ کم ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان حلقوں میں جہاں مسلمان کل آبادی کے 20 فیصد سے زیادہ ہیں، وہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن ہے، جب کہ 10 فیصد سے زائد مسلم آبادی والے حلقوں میں مسلم ووٹ اس لیے تو فیصلہ کن فیکٹر ہیں کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ 150 پارلیمانی حلقوں میں مسلمان نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، مگر یہ اثر تبھی اپنا رنگ دکھا سکتا ہے، جب ان میں سے ہر ایک حلقہ میں مسلمان کے ووٹ اجتماعی فیصلہ کے تحت دیے جائیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے، لیکن ہمیشہ نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طور پر 1967 کے انتخابات سے قبل تک مسلم ووٹ کھل کر کانگریس کی جھولی میں جاتا تھا۔ بعد ازاں رجحان بدلا اور مختلف ریاستوں میں لیفٹ پارٹیاں، ایس ایس پی اور بی ایس پی جیسی سوشلسٹ پارٹیاں، بھارتیہ کرانتی دَل، جنتا پارٹی، جنتا دَل، لوک دَل، ایس پی، ٹی ڈی پی، این سی پی، آر جے ڈی، جنتا دل (یو)، بی جے پی و دیگر علاقائی پارٹیاں بھی ان کے ووٹ کی حقدار ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام پارٹیوں میں ایسے غیر مسلم لیڈران بھی ابھرے، جو کہ مسلمانوں میں مقبول عام گردانے گئے۔ ان لیڈروں میں بہار کے سوشلسٹ پارٹی و کرانتی دَل کے مہا مایا پرساد سہنا، اتر پردیش کے چودھری چرن سنگھ، ہیم وَتی نندن بہوگنا، ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی قابل ذکر ہیں۔ اب آئیے، الیکشن کمیشن، این ای ایس و دیگر ذرائع کے اعداد و شمار کی مدد سے ذرا جائزہ لیں کہ مجموعی طور پر مسلم ووٹ مختلف پارلیمانی انتخابات میں کیا رول ادا کرتا رہا۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلم ووٹروں کی بدلی ہوئی نفسیات و ذہنی کیفیت کا تو ذکر سیاسی مبصرین کرتے ہیں۔ لہٰذا 1996 سے 2009 تک ہوئے پانچ پارلیمانی انتخابات کے چند حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو بار سے پولنگ کا مسلم ووٹ فیصد پارلیمانی انتخابات میں آل انڈیا سطح سے مجموعی طور پر کم رہا ہے۔ 1996 میں کل 58 فیصد پولنگ کے بالمقابل 56 فیصد، 1998 میں کل 62 فیصد پولنگ کے بالمقابل 65 فیصد، 1999 میں کل 60 فیصد کی بہ نسبت 67 فیصد، 2004 میں کل 58 فیصد کے بالمقابل 46 فیصد اور 2009 میں کل 58 فیصد کے بالمقابل 55 فیصد مسلمانوں نے ووٹ دیے۔ یہ یقینا تشویش کی بات ہے کہ گزشتہ دونوں پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کا پولنگ فیصد کم رہا۔ اس لیے یہ سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ اس بار 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کے ذریعے پولنگ کم ہوتی ہے یا زیادہ؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ مسلمانوں کی پولنگ میں کمی کی وجہ آخر کیا ہے؟ کیا ان کا موجودہ تمام سیاسی پارٹیوں پر سے اعتماد اٹھتا یا کم ہوتا جا رہا ہے؟ کیا اس حالت میں ’نوٹا‘، یعنی سیاسی پارٹیوں میں سے کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کے بٹن کو مسلمان دبائیں گے؟ عیاں رہے کہ اس انتخاب میں ’نوٹا‘ کی گنجائش پہلی مرتبہ رکھی گئی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار پارلیمانی انتخابات میں مسلم نقطہ نگاہ سے کئی چونکانے والے نتائج سامنے آئیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے عمومی ووٹرس کے ساتھ 13.4 فیصد مسلم کمیونٹی میں کافی جوش و خروش دکھائی پڑ رہا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ گزشتہ 2009 کے مقابلے اس بار مجموعی اور مسلم ووٹ فیصد بڑھے گا۔ اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر پچھلی بار 58 فیصد ملک کا اوسط ووٹ اور 55 فیصد مسلم ووٹ ٹرن آؤٹ رہا، تو اس بار یہ دونوں 60 فیصد سے یقینا اوپر جائے گا اور اس طرح یہ اضافہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنا خاص جادو دکھائے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ موجودہ صورت حال میں گزشتہ بار کے مقابلے کانگریس کے 38 فیصد مسلم ووٹ میں یقینا کمی آئے گی اور یہی کمی سماجوادی پارٹی کے گزشتہ بار کے 10 فیصد مسلم ووٹ میں بھی ہوگی۔

 

لہٰذا، اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ بھی جمہوری طریقے سے سیاسی پارٹیوں کو مسترد کرنا ہوگا۔ پہلے سیاسی پارٹیوں سے عدم اطمینان کی صورت میں ووٹر کے لیے صرف آزاد امیدوار کا ہی متبادل موجود رہتا تھا۔ آزاد امیدوار کے متبادل کا یہ بھی فائدہ ہوتا تھا کہ انتخابات لڑنے کی خواہش رکھنے والے کا کسی پارٹی پر منحصر ہونا کوئی ضروری نہیں ہوتا تھا۔ ابھی آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہونے کا رجحان تو ختم نہیں ہوا ہے، مگر کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی تعداد میں تیزی سے کمی آتی جا رہی ہے۔ یہ معلومات بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ 2009 کے گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں آبادی کے تناسب سے لوک سبھا کی 543 سیٹوں میں مسلم پولنگ کیا رہی؟ 45 فیصد سے زائد مسلم آبادی والی 15 سیٹوں پر 65 فیصد مسلمانوں نے ووٹ ڈالے، جب کہ 30 سے 35 فیصد مسلم آبادی والے 24 پارلیمانی حلقوں میں 67.6 فیصد، 15 سے 30 فیصد مسلم آبادی والے 86 حلقوں میں 56.9 فیصد اور 15 فیصد مسلم آبادی والے 418 حلقوں میں 57.8 فیصد مسلمانوں کی پولنگ رہی۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر یہ اعداد و شمار اور بھی زیادہ دلچسپ ہوجاتے ہیں کہ 1996 سے لے کر 2009 تک مسلمانوں کے کتنے کتنے ووٹ فیصد کن کن پارٹیوں کو ملے؟ کل ہند سطح پر مسلمانوں نے 1996 میں کانگریس کو 32 فیصد، بی جے پی کو 2 فیصد، لیفٹ فرنٹ کو 13 فیصد اور سماجوادی پارٹی کو 25 فیصد ووٹ دیے، جب کہ 1998 کی پولنگ میں مسلمانوں کی کانگریس کو 32 فیصد، بی جے پی کو 5 فیصد، لیفٹ فرنٹ کو 8 فیصد اور سماجوادی پارٹی کو 19 فیصد، 1999 میں کانگریس کو 40 فیصد، بی جے پی کو 6 فیصد، لیفٹ فرنٹ کو 10 فیصد اور سماجوادی پارٹی کو 11 فیصد، 2004 میں کانگریس کو 36 فیصد، بی جے پی کو 7 فیصد، لیفٹ فرنٹ کو 9 فیصد اور سماجوادی پارٹی کو 15 فیصد اور 2009 میں کانگریس کو 38 فیصد، بی جے پی کو 4 فیصد، لیفٹ فرنٹ کو 12 فیصد اور سماجوادی پارٹی کو 10 فیصد حصہ داری ملی۔ پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کے تعلق سے یہ تمام حقائق تو 1996 سے لے کر 2009 تک کے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقائق اس بار 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بدلیں گے بھی؟ اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ سیاسی پارٹیوں کا اس بار انتخابات میں مسلمانوں کے تعلق سے مجموعی طور پر رویہ کیا ہے؟ اور کیا اس بار مسلمان ماضی سے ہٹ کر کوئی اور فیصلہ کرے گا؟ ویسے مجموعی طور پر پورے ملک کی سیاسی صورت حال میں 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے وقت ایک ہی تبدیلی محسوس ہوتی ہے اور وہ تبدیلی ہے سیاسی افق پر اروِند کجریوال کی سیاسی تنظیم عام آدمی پارٹی کا ابھرنا۔ یہ احساس ہونے لگا ہے کہ 2013 میں دہلی میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مسلم تنظیموں سے ہٹ کر عام مسلم سوچ میں عام آدمی پارٹی کے تئیں جھکاؤ ہوا ہے۔ گرچہ 400 سے زائد سیٹوں پر عام آدمی پارٹی نے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں، مگر جہاں جہاں یہ اپنا پاؤں کچھ جما پائی ہے، وہاں وہاں اس کے اس جھکاؤ کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے امکانات ہیں۔ ان حالات میں عام آدمی پارٹی مسلم ووٹ کو کسی حد تک کچھ حلقوں میں حاصل کر سکتی ہے، مگر کیا یہ اس کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی سیٹوں کو حاصل کرنے میں بھی یہی کارکردگی دکھا پائے گی، اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے پائے گا۔ ویسے کجریوال کے دورۂ گجرات اور بنارس میں مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کے فیصلے اور وہاں قومی ایکتا دَل کے مقامی لیڈر اور 2009 میں بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر ملی منوہر جوشی سے محض 18 ہزار ووٹوں سے شکست کھانے والے مختار انصاری کے ذریعے مسلم اور سیکولر کہلانے والے ووٹ کو تقسیم سے بچانے کے لیے انتخاب لڑنے کے فیصلے کو واپس لینے سے مسلمانوں میں کجریوال کے تئیں رجحان مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ 2014 انتخابات میں مختلف اہم ریاستوں میں مسلم نقطہ نظر سے صورت حال بڑی اہم ہے۔ 40 پارلیمانی سیٹ والے بہار میں 9 سیٹوں پر مسلم ووٹروں کا اثر ہے۔ 5 سیٹوں پر جنتا دَل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) نے مسلم امیدوار اتارے ہیں، جب کہ راشٹریہ جنتا دَل (آر جے ڈی) نے 6، عام آدمی پارٹی نے 3 اور کانگریس، این سی پی، ایل جے پی اور سی پی ایم نے ایک ایک مسلمانوں کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اتر پردیش، جہاں کی آبادی کا پانچواں حصہ مسلمان ہے، میں 22 سیٹوں پر 20 فیصد سے زیادہ اور 33 حلقوں میں 10 سے 19 فیصد تک مسلم ووٹرس ہیں۔ ان میں 19 سیٹوں پر بی ایس پی نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں اورعام آدمی پارٹی نے 17، ایس پی نے 13، بی ایس پی نے 19 اور کانگریس نے 11 مسلمان میدان میں اتارے ہیں، جب کہ 2009 میں ایس پی نے 12، بی ایس پی نے 14 اور کانگریس نے 9 مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے اور ان میں سے ایس پی کا کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوا تھا، جب کہ بی ایس پی کے 4 اور کانگریس کے 3 مسلم امیدوار انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے۔ آسام میں کل 14 سیٹوں پر 35 فیصد مسلم ووٹرس موجود ہیں۔ یہاں پہلے مسلم اکثریتی علاقے کانگریس کے گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ صدرِ جمہوریہ ہند فخر الدین علی احمد کا یہیں سے تعلق تھا۔ لیکن اے یو ڈی ایف کے ابھرنے کے بعد صورتِ حال میں تبدیلی آئی اور 2009 میں ان کے قائد مولانا بدرالدین اجمل قاسمی بھاری اکثریت سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ علاوہ ازیں ان کے 18 افراد آسام کی ریاستی اسمبلی میں بھی پہنچ گئے۔ اس بار اے آئی یو ڈی ایف کے 2 کے علاوہ کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ایک ایک مسلم امیدواروں نے انتخابات لڑے ہیں۔ راجستھان میں 13 فیصد مسلم ووٹرس ہیں۔ یہاں 8 سے 9 سیٹوں پر مسلم ووٹرس کے رول فیصلہ کن ہیں، جب کہ کل 25 سیٹوں میں سے 9 پر مسلم ووٹرس انتخابی نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہاں کانگریس کے ایک مسلم امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں 10.6 فیصد مسلمان ووٹرس ہیں، جن کے 9 حلقوں میں رول فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ کل 48 سیٹوں میں کانگریس نے ایک، ایس پی نے 8 اور عام آدمی پارٹی نے 7 مسلمانوں کو ٹکٹ دیے ہیں، جب کہ این سی پی، بی جے پی اور شیو سینا کی جانب سے کوئی مسلمان انتخاب نہیں لڑ رہا ہے۔ ایم وائی جی گروپ کے 1297 مسلم ووٹرس کے درمیان کیے گئے ایک سروے کے مطابق، مسلمانوں میں کانگریس کی ساکھ کمزور ہوئی ہے۔ لہٰذا صرف 11 فیصد افراد کانگریس، 26 فیصد بی جے پی اور نصف عام آدمی پارٹی کے حق میں ہیں۔ 25.2 فیصد مسلم آبادی والے مغربی بنگال کی 42 سیٹوں میں سے 10 سیٹوں پر مسلم ووٹرس فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ لیفٹ فرنٹ نے 11 سیٹوں پر، کانگریس نے 7، ترنمول کانگریس نے 6 اور بی جے پی نے 2 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ ریاست کیرل میں 25 فیصد مسلم آبادی ہے۔ یہاں 6 سیٹوں پر مسلم رول فیصلہ کن ہے۔ ریاست میں کانگریس، کانگریس ایم اور انڈین یونین مسلم لیگ نے دو – دو مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار پارلیمانی انتخابات میں مسلم نقطہ نگاہ سے کئی چونکانے والے نتائج سامنے آئیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے عمومی ووٹرس کے ساتھ 13.4 فیصد مسلم کمیونٹی میں کافی جوش و خروش دکھائی پڑ رہا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ گزشتہ 2009 کے مقابلے اس بار مجموعی اور مسلم ووٹ فیصد بڑھے گا۔ اس طرح یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر پچھلی بار 58 فیصد ملک کا اوسط ووٹ اور 55 فیصد مسلم ووٹ ٹرن آؤٹ رہا، تو اس بار یہ دونوں 60 فیصد سے یقینا اوپر جائے گا اور اس طرح یہ اضافہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنا خاص جادو دکھائے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ موجودہ صورت حال میں گزشتہ بار کے مقابلے کانگریس کے 38 فیصد مسلم ووٹ میں یقینا کمی آئے گی اور یہی کمی سماجوادی پارٹی کے گزشتہ بار کے 10 فیصد مسلم ووٹ میں بھی ہوگی۔ کانگریس کے ووٹ فیصد میں کمی کی وجہ اس کی ناکردگی اور سماجوادی پارٹی میں کمی کی وجہ مظفر نگر – شاملی فسادات اور ان سے متعلق ایشوز ہیں۔ لیفٹ فرنٹ کے 12 فیصد مسلم ووٹ بینک میں اضافہ کی توقع ہے، جب کہ بی ایس پی اور ترنمول کانگریس کو بھی مسلمانوں سے اچھی امید ہے۔ اس بار عام آدمی پارٹی بھی نئی پارٹی کے طور پر مسلمانوں کا قابل ذکر ووٹ حاصل کرے گی۔ ویسے دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کے مسلم ووٹ فیصد پر اس بار کیا اثر پڑتا ہے؟ بی جے پی کو مسلم ووٹ 2009 میں 4 فیصد ملا تھا، جب کہ اٹل بہاری واجپئی کے دور میں 1999 میں مسلم ووٹ 6 فیصد اور 2004 میں 7 فیصد تھا۔اگر چونکانے والے اس قسم کے نتائج آتے ہیں، تو اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی ہوگی۔ مودی – بی جے پی کے لوک سبھا میں 272 کا کرشمائی نمبر حاصل نہ کر پانے پر جو بھی متبادل سامنے آئے گا، اس میں کانگریس کا رول باہر سے 1996 جیسا ہوگا اور یہ مرکزی نہیں، بلکہ ثانوی پوزیشن میں آ جائے گی۔ یہ بات بھی صاف ہے کہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی پارٹی کا نمائندہ ہی اس صورت میں وزارتِ عظمی کا دعویدار ہوگا۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *