وارانسی: مودی کے جال میں کیجریوال

اجے کمار
p-9عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کجریوال آج کل خوب سرخیاں بٹور رہے ہیں۔ انّا ہزارے کے آندولن کی پیداوار عام آدمی پارٹی کے سپہ سالار اروند کجریوال عام انتخابات کی بساط پر کس خانہ پر کھڑے ہیں، اس کا پتہ پارلیمانی انتخاب کے نتائج آنے کے بعد ہی لگے گا، لیکن اس میں دورائے نہیں کہ عام آدمی پارٹی کے لیے اروند کجریوال کی اہمیت ٹھیک ایسی ہی ہے جیسی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے پی ایم اِن ویٹنگ نریندر مودی اور قومی صدر راجناتھ سنگھ کی، کانگریس کے لیے راہل گاندھی و محترمہ سونیا گاندھی کی، ایس پی کے لیے ملائم سنگھ یادو کی، بی ایس پی کے لیے محترمہ مایاوتی کی،راشٹریہ لوکدل کے لیے چودھری اجیت سنگھ کی اور دیگر پارٹیوں کے اعلیٰ رہنماؤںکی اہمیت اپنی اپنی پارٹیوں میں ہے۔یہ سبھی لیڈران اپنی اپنی پارٹیوں کو سپہ سالار کی طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس میں کوئیشک نہیں کہ انتخابی موسم میں سبھی پارٹیوں کے سپہ سالاروں کو ہر وقت یہی فکر ستاتی رہتی ہے کہ کسی طرح ان کی جیت یقینی ہوجائے ،تاکہ وہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کو جتانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا سکیں اور لوک سبھا میں ان کی پارٹی کی زیادہ سے زیادہ حصہ داری بڑھ سکے۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے یہ مناسب بھی لگتا ہے۔ اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے تمام پارٹیوں کے پالیسی سازرات دن میٹنگیں کرتے ہیں۔ پارٹی کے مفاد سے متعلق ایشوز کو دھار دی جاتی ہے اور مخالفین کے حملوں کوکُند کرنے کے لیے نئے نئے تیروں سے ترکش سجائے جاتے ہیں۔
اتر پردیش میں مختلف سیاسی تنظیموں کے آقاؤں نے تنظیم کے ساتھ خود کا بھی بھلا کرنے کے لیے ہی’ سیف سیٹ‘ تلاش کر کے پرچہ بھرا ہے۔ ریاست کی انتخابی جنگ میں پہلی بار کودے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے دعویدار نریندر مودی پارٹی کے لیے’ سیف سیٹ‘ سمجھی جانے والی وارانسی سے، بی جے پی کے قومی صدر راجناتھ سنگھ لکھنؤ سے، کانگریس کے وزارت عظمیٰ کے غیر اعلانیہ دعویدار راہل گاندھی اپنی روایتی سیٹ امیٹھی سے، کانگریس صدر سونیا گاندھی رائے بریلی سے، ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادومین پوری اور اعظم گڑھ سے، آر ایل ڈی کے صدر اجیت سنگھ باغپت سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ یہاں ان لیڈروں کی جیت تقریباً یقینی مانی جارہی ہے، لیکن اس سے الگ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور لیڈر اروند کجریوال ہوش کی بجائے جوش سے کام لیتے ہوئے بیدلی سے ہی سہی، وارانسی میں مودی کے خلاف کود پڑے ہیں یا یہ کہا جائے کہ کجریوال بی جے پی کے جال میں پھنس گئے ہیںتو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ مودی پی ایم بنیں گے یا نہیں، یہ تو مستقبل کیبطن میں پوشیدہ ہے، لیکن آج کی تاریخ میں مودی کے خلاف اروند کجریوال کا وارانسی میں فتح حاصل کرنا ٹھیک اسی طرح ہوگا جیسے کہ آج کل چاند پر گھر بسانے کی بات کی جارہی ہے۔ اس بات کا احساس اروند کجریوال کو پہلے ہی دن ہوگیا ہوگا۔ وارانسی میں ان کے اوپر انڈے پھینکے گئے، سیاہی پھینکی گئی، کالے جھنڈے دکھائے گئے، مخالفت میں نعرے لگے، کچھ لوگوں نے تو یہاں چٹکی بھی لی، ’جو بچ نہ پایا کھانسی سے، وہ کیا لڑے گا کاشی سے۔‘سوال یہ بھی ہے کہ جب وہ خود اپنے منہ سے کہہ رہے ہیں کہ میں یہاں جیتنے نہیں آیا ہوں، وزیر اعظم بننے کا میرا کوئی سپنا نہیں ہے، تو پھر کاشی کے عوام ان کو کیوں چنیں گے۔ اروند کجریوال نے سوال اٹھایا تھا کہ مودی دو جگہ سے انتخاب کیوں لڑ رہے ہیں؟ اس کا جواب تو سب جانتے ہیں، لیکن کجریوال کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہو رہا تھا کہ مودی کے خلاف انھوں نے بڑودرہ کی بجائے کاشی کو کیوں چنا؟ کجریوال کہتے ہیں کہ مودی نے گجرات کو تباہ کر دیا ہے، ان کے مطابق گجرات میں مودی کی جیت کی وجہ اپوزیشن کا نہ ہوناہے، ایسے میں کجریوال کو بڑودرہ سے لڑنا چاہیے تھا، تاکہ عام آدمی پارٹی کے روپ میں گجرات میں اپوزیشن مضبوط ہو سکے۔ یہاں تو مودی اور راہل کا راستہ بلاک کرنے کے لیے ایس پی اور بی ایس پی جیسی پارٹیاں موجود ہیں، جن کے خلاف اروند کچھ بولتے بھی نہیں ہیں۔
بہر حال وارانسی سے انتخاب لڑنے کا اروند کجریوال کا فیصلہ ان کی پارٹی کے لیے خود کشی ثابت ہو سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کجریوال خود انتخابی میدان میں کودنے کے بجائے اپنے امیدواروں کو لڑانے پر زیادہ دھیان دیتے۔ ایک ایک دن کی اہمیت کجریوال کو سمجھنی ہوگی۔ وہ عام آدمی پارٹی کے تمام امیدواروں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ کجریوال عام آدمی پارٹی کا چہرہ ہیں۔ انھیں اس بات کی کوشش کرنا چاہیے تھی کہ عام آدمی کے ہر امیدوار کے پارلیمانی حلقہ میں جا کر اس کی حوصلہ افزائی کریں، جو وہ ابھی تک نہیں کر پائے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح سے اروند کجریوال نے پہلے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ملازمت چھوڑی، اس کے بعد انّاہزارے کے آندولن سے کنارہ کیا، دہلی کے عوام کو دھوکہ دیا ، اسی طرح اپنے امیدواروں کو بھی منجھدار میں چھوڑ دیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اروند کو نہ تو ملک کی فکر ہے، نہ ہی عام آدمی پارٹی کی ہار جیت کے تعلق سے وہ سنجیدہ ہیں، بلکہ فکر ہے تو صرف اپنی قسمت چمکانے کی۔ ان کا برتاؤ، عام آدمی جیسا دکھائی دینے کی حسرت، وی آئی پی سیکورٹی نہ لینے کا دعویٰ سب کچھ کھوکھلے ہیں۔ دراصل کجریوال کے دو چہرے ہیں، ایک کیمرے کے سامنے والا، دوسرا کمرے والا۔کیمرے کے سامنے کجریوال عوام کے ہیرو دکھائی دیتے ہیں، تو کمرے میں وہ تاناشاہ ہو جاتے ہیں۔ پارٹی کے لیے جو معیار انھوں نے مقرر کیے تھے،وہ اسے ہی توڑ رہے ہیں۔ دہلی سرکار بنانے اور گرانے، لوک سبھا انتخاب کے لیے ٹکٹ ڈسٹری بیوشن میں منمانی کرنے سے کجریوال کی کافی رسوائی ہو چکی ہے۔ کئی امیدواروں نے تو ٹکٹ واپس کر دیے ہیں۔ منمانی کی وجہ سے ہی کجریوال کے پرانے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ کجریوال آج کی تاریخ میں معتبریت کے حساب سے کہیں نہیں ٹکتے ہیں۔ ہوا کا رخ بھانپ کر پینترا بدلنے والے اروند چاہتے ہیں کہ عوام وہی دیکھیں جو وہ دکھائیں۔ مدعوں اور بحث کے لیے ان کے پاس مودی، مکیش امبانی اور گجرات ہی بچے ہیں۔ مودی کو گھیرنے کے چکر میں ہی وہ کاشی تک پہنچ گئے، جبکہ مودی کو گھیرنے کے لیے انھیں پورے ملک میں دورہ کرنے کی ضرورت تھی۔ آج کی تاریخ میں مودی محض کوئی شخص نہیں رہ گئے ہیں، بلکہ وہ مشن بن گئے ہیں اور مودی مشن کو روکنے کے لیے اروند کو سبھی 504سیٹوں پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ اگر وہ کاشی میں مودی کو ہرا بھی دیں گے، تو بڑودرہ سے تو مودیجیت ہی جائیں گے۔
اروند کجریوال کی وارانسی میں دستک کو بی جے پی کے پالیسی ساز عام آدمی پارٹی کی ایک کمزور کڑی مانتے ہیں۔وارانسی کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ دہلی اور کاشی کی سیاست میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ یہاں گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں بی جے پی نے تنظیم کی بدولت ہی سیاسی دھار کو مضبوطی دی ہے۔اور جب خود نریندر مودی میدان میں ہوں، تو کارکنوں میں نئی توانائی کا پیدا ہونا فطری ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی کے یہاں پر ابھی قدم ہی پڑے ہیں۔ وارانسی کی سیاست کو قریب سے جاننے والے اتل سکسینہ بی جے پی و عام آدمی پارٹی کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاشی نگری میں بی جے پی ایک بڑے برگد کی طرح ہے، اس کے شہر و ضلع یونٹ 37 بڑے منڈلوں میںبٹے ہوئے ہیں۔یوا مورچہ، مہیلا مورچہ، شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائب، کسان مورچہ، اقلیتی اور مزدور مہا سنگھ مورچہ جیسی بڑی تنظیمیں، مجموعی طور پر ایک ہزار سے زیادہ عہدیداروں کی لمبی چوڑی فوج اور زمینی سطح کے کارکن ہیں۔ 41 ’سیل ‘ کے عہدیدار اپنا کام کر رہے ہیں۔ بنکروں، مزدوروں، تاجروں، ریوڑی والوںسبھی کو لبھایا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *