دو ہزار چودہ انتخابات میں لیفٹ پارٹیوں کی کارکردگی: تھرڈ فرنٹ حکومت کا امکان معدوم

اےیو آصف

قوی امکان ہے کہ 16 ویں لوک سبھا معلق ہو۔لہٰذا اہم سوال یہ ہے کہ یو پی اے اور این ڈی اے کے حکومت سازی کے اہل نہ ہونے کی صورت میں کیا کوئی تھرڈ فرنٹ وجود میں آکر حکومت بنا سکتا ہے؟ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ لیفٹ پارٹیوں کی حالت اچھی نہیں ہے اور وہ مغربی بنگال اور کیرل میں 16 سے زیادہ سیٹیں حاصل نہیں کر پائیں گی۔اس تجزیہ میں ان نکات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

p-3سولہویں ویں لوک سبھا کے انتخابات کے بعد نتائج کیا آئیں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کہ اس وقت ہر عام و خاص کے لئے دلچسپی کا باعث ہے اور انہی نتائج پر منحصر ہوگا مرکز میں آئندہ حکومت کا خدو خال۔ اس وقت ایک عام رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ اس بار کسی ایک سیاسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملنے جارہی ہے اور اس صورت میں 8ویں بار معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ وہ معلق پارلیمنٹ جس نے 1989 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد 7 بار سے ملک کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ عیاں رہے کہ 1989 میں ہندوستان میں پہلی مرتبہ کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہ ملنے کے سبب معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی تھی اور کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے باہر سے بی جے پی کی حمایت سے وی پی سنگھ کی سربراہی میں نیشنل فرنٹ کی مخلوط حکومت بن گئی تھی۔ پھر 1991 میں بھی یہی صورت حال رہی اور تب اقلیت میں رہنے کے باوجود کانگریس نے پی وی نرسمہا رائو کی سربراہی میں حکومت بنائی۔ 1996 میں بھی معلق پارلیمنٹ بنی اور پھر اٹل بہاری واجپئی کے ذریعے کسی سے حمایت لے کر حکومت نہ بنانے کے سبب دو برس کے لئے یونائٹیڈ فرنٹ کی حکومت قائم ہوئی۔ 1998 میں بھی معلق پارلیمنٹ کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔ تب واجپئی کی سربراہی میں این ڈی اے کے تحت مخلوط حکومت بنی مگر ایک برس بعد ضمنی انتخابات ہونے کی صورت میں بھی اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور واجپئی مخلوط حکومت چلاتے رہے۔ 2004 میں بھی معلق پارلیمنٹ ملک کے سر پر سوار رہا۔ تب ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں کانگریس نے دیگر پارٹیوں کی مدد سے یو پی اے کے تحت حکومت بنائی۔معلق پارلیمنٹ کا سلسلہ 2009 میں بھی بر قرار رہا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ مخلوط حکومت کو دوبارہ وزیر اعظم بن گئے۔
اگر یہ عام رجحان سچ ثابت ہوتا ہے اور 2014 کے انتخابات میں8 ویں بار معلق پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے تو فطری سوال یہ ہے کہ اس بار مخلوط حکومت کون بنائے گا—کانگریس قیادت والا یوپی اے یا بی جے پی اگوائی والا این ڈی اے یا لیفٹ پارٹیوں کے زیراثر کوئی تھرڈ فرنٹ؟ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یو پی اے اور این ڈی اے دونوں کو اپنی اپنی حکومت بنانے کے لئے دیگر پارٹیوں سے حمایت تو لینی ہی پڑے گی اور یہ تبھی ممکن ہے جب کسی تھرڈ فرنٹ کا وجود میں آنا ممکن نہ ہو۔ جہاں تک کسی تھرڈ فرنٹ کی بات ہے ، موجودہ صورت حال میں اس کا انحصار بڑی حد تک لیفٹ پارٹیوں کی 16 ویں لوک سبھا کے انتخابات میں کارکردگی پر ہے۔

اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت جی توڑ محنت کے باوجود لیفٹ پارٹیاں اس حالت میں نہیں آسکیں گی کہ وہ کسی تھرڈ فرنٹ کو وجود میں لانے میں کوئی مؤثر اور عملی رول ادا کرسکیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ صورت حال کسی تھرڈ فرنٹ کے امکان کو مسترد کردیتی ہے اور اس صورت میں 2014 کے انتخابات کے بعد متوقع تھرڈ فرنٹ کی پارٹیوں کے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ وہ یوپی اے یا این ڈی اے کا رخ کریں اور مرکز میں کسی مخلوط حکومت کو قائم کرنے میں مدد کریں۔

لہٰذا اس سلسلے میں مناسب ہوگا کہ سب سے پہلے 15 ویں لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کی پوزیشن کو دیکھا جائے۔ 15 ویں لوک سبھا میں مغربی بنگال سے کل 42 ارکان میں لیفٹ فرنٹ کے 16 افراد تھے جن میں سی پی ایم کے 9، سی پی آئی ، آل انڈیا فار ورڈ بلاک، ریوالوشنری سوشلسٹ پارٹی کے 2-2 اور سوشلٹ یونیٹی سینٹر آف انڈیا کے ایک تھے جبکہ کیرل سے کل 20 ارکان میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ ( ایل ڈی ایف) کے 5 افراد تھے جن میں سی پی ایم کے 4 اور کیرل کانگریس (ایم ) کے ایک شامل تھے۔
جہاں تک مغربی بنگال کی بات ہے، وہاں 2011 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں 1977 سے ریاستی حکومت پر قابض لیفٹ فرنٹ کے اکھڑنے کے بعد ریاست میں اس کی پوزیشن بہت کمزور ہوئی ہے۔ اس لئے 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اس کی تعداد 16 سے کم ہوکر آدھے درجن تک پہنچ سکتی ہے۔ ریاست کیرل میں تو گزشتہ بار اس کے محض 5 افراد منتخب ہوکر لوک سبھا پہنچے تھے جبکہ 2004 میں 14 ویں لوک سبھا میں اس کے افراد کی تعداد 13 تھی۔ویسے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ریاست کیرل اور مرکز میں برسراقتدار کانگریس سے عام ووٹرس متنفر ہوچلا ہے اور اس سے فائدہ ملنے کی امید لئے وہاں ایل ڈی ایف پُر امید ہے کہ وہ اپنی پوزیشن بہتر بنائے گی۔مگر ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ریاست میں کون بازی مارے گا— ایل ڈی ایف یا یو ڈی ایف؟
بہر حال اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ ایل ڈی ایف کیرل میں اپنی 5 سیٹوں میں تو اضافہ کرے گا اور شاید 10 سیٹوں تک پہنچ جائے گا۔اس صورت میں یہ سوال بھی کم اہم نہیں ہے کہ کیا مغربی بنگال میں آدھے درجن اور کیرل میں بہت سے بہت 10 سے لیفٹ پارٹیاں دیگر پارٹیوں کی مدد سے تھرڈ فرنٹ کو وجود میں لانے میں کامیاب ہو پائیںگی؟ کیونکہ دیگر ریاستوں آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور تریپورا سے تو امید نہیں کے برابر ہے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں لیفٹ فرنٹ کے امیدوار تمام 42 ، تریپورا میں 2 اور دیگر ریاستوں میں 25 کے علاوہ ایل ڈی ایف کے کیرل میں15 سمیت دیگر ریاستوں میں 88 سیٹوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت جی توڑ محنت کے باوجود لیفٹ پارٹیاں اس حالت میں نہیں آسکیں گی کہ وہ کسی تھرڈ فرنٹ کو وجود میں لانے میں کوئی مؤثر اور عملی رول ادا کرسکیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ صورت حال کسی تھرڈ فرنٹ کے امکان کو مسترد کردیتی ہے اور اس صورت میں 2014 کے انتخابات کے بعد متوقع تھرڈ فرنٹ کی پارٹیوں کے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ وہ یوپی اے یا این ڈی اے کا رخ کریں اور مرکز میں کسی مخلوط حکومت کو قائم کرنے میں مدد کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *