سپریم کورٹ کےنرغے میںسری نواسن کا سامراج

سلمان علی
p-12گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے بی سی سی آئی کے صدر این سرینواسن پر سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ صاف شفاف تحقیقی کی تکمیل کے لئے سری نواسن پہلے اپنے صدارتی عہدے سے مستعفی ہوں تاکہ تفتیشی غیر جانبدارانہ اور ایماندارانہ طریقہ سے مکمل کی جا سکے۔دراصل اس تبصرے سے کئی اشارے ملتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ اگر سری نواسن تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوت پائے جاتے ہیں تو ان کے داماد، چنئی سپر کنگ ٹیم اور ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی تک اس کے نرغے میں ہوں گے اور دنیائے کھیل میں کرکٹ کی شبیہ داغدار ہوگی۔
بعد ازاںاپنے تبصرے میں سپریم کورٹ نے یہ بھی تجویز دی کہ جب تک اسپاٹ فکسنگ معاملے کی تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی تب تک آئی پی ایل سے گروناتھ میپن اور آئی پی ایل کی دو ٹیمیں یعنی انڈیا سیمنٹ کی چنئی سپر کنگ اور راج کندرا کی مالکانہ حق والی راجستھان روئلس آئی پی ایل سے باہر رہیں، لیکن اگلے دن بی سی سی آئی صدر این سری نواسن نے اپنے عہدہ سے کنارہ کرنے کی حامی بھر لی اور سنیل گواسکر کو عارضی صدر مقرر کیا گیا۔ساتھ ہی آئی پی ایل میں دونوں ٹیموں کے بدستور کھیلنے پر اتفاق ظاہر کیا گیا۔
کرکٹ ایسو سی ایشن آف بہار کے سکریٹری اور پٹیشن دائر کرنے والے آدتیہ ورما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسپاٹ فکسنگ سے متعلق کیس کی سماعت آئندہ 16اپریل کو ہوگی۔ جہاں تک سوال آئی پی ایل کے سی ای او سندر رمن کا سوال ہے تو ، ان پر فیصلہ لینے کا حق اب گواسکر کے پاس ہے۔خاص بات یہ ہے کہ رمن سیمنٹ انڈیا لمیٹڈ سے جڑے ہیں اور سری نواسن اس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔لہٰذا، سپریم کورٹ نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ سیمنٹ انڈیا سے وابستہ تمام افسران کو بی سی سی آئی سے باہر کیا جائے۔
گزشتہ آئی پی ایل سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کے انکشاف کے بعد دنیا میں کرکٹ کی جو رسوائی ہوئی، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ سیزن میں گروناتھ میپن جو کہ چنئی سپر کنگس سے جڑے ہیں اور این سرینواسن کے داماد بھی ہیں،ا سپاٹ فکسنگ کے دائرے میں تھے، لیکن چونکہ میپن سرینواسن کے داماد ہیں، اس لئے ان پر زیادہ شکنجہ نہیں کسا گیا۔ یاد رہے کہ اسپاٹ فکسنگ معاملے میں سری نواسن کے داماد میپن اہم ملزم ہیں، اور سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل کردہ مدگل کمیٹی نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں میپن پر عائد تمام الزامات کو صحیح بتایا تھا۔ آئی پی ایل 6کے دوران اسپاٹ فکسنگ کا یہ سنسنی خیز معاملہ اس وقت پیش آیا تھا، جب راجستھان رائلس کے تین کھلاڑیوں ایس سری سنت، اجیت چنڈیلا اور انکت چوہان کو دہلی پولس نے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ اس کے فوراً بعد دہلی پولس نے میپن اور وندو دارا سنگھ کو فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد دونوں کوضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
قابل غور ہے کہ دنیا ئے کرکٹ میںا گر کسی کرکٹ بورڈ کا دبدبہ ہے تو وہ صرف بی سی سی آئی ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ امیر ترین کرکٹ بورڈوں میں سے ہے او رکہا جاتا ہے کہ اگر کرکٹ کی دنیا کی قیمت ایک روپے ہے تو اس میں 80پیسہ بی سی سی آئی کا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ 16اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کیا رخ اختیار کرتا ہے اور فکسنگ کے نرغے میں کون کون آتا ہے۔اگر گروناتھ میپن اور این سری نواسن پر عائد الزامات صحیح ثابت ہو جاتے ہیں، تو ظاہر ہے کہ شاید آئی پی ایل کا اگلا سیزن نہ ہو پائے اور اس پر ہمیشہ کے لئے تالا لگ جائے ۔چونکہ چنئی سپر کنگس کے کپتان مہندر سنگھ دھونی ہیں تو ظاہر ہے ، وہ اس کی آنچ سے نہیں بچ پائیں گے۔
چنئی سپر کنگس انڈیا سیمنٹ لمیٹڈ کے مالکانہ حق والی ٹیم ہے جبکہ راجستھان رائلس کے کئی افسر اور کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ کے معاملہ میں پھنسے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *