الیکشن سے پہلے ہی راہل گاندھی ہار گئے

ڈاکٹر منیش کمار

2014 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج 16 مئی کو آنے والے ہیں، لیکن ملک کا سیاسی ماحول دیوار پر لکھی عبارت کی طرح یہ اشارہ کر رہا ہے کہ یو پی اے سرکار کی ہار یقینی ہے۔ کانگریس پارٹی ایک تاریخی شکست کی جانب گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے امیدوار الیکشن کے بیچ میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اس شکست کی وجہ یو پی اے سرکار کے دوران بدعنوانی، مہنگائی اور تاریخی گھوٹالے ہیں۔ ترقی کے مدعے پر کانگریس پارٹی کی باتوں پر لوگوں کو اب بھروسہ نہیں رہا۔ راہل گاندھی خود کو ایک لیڈر کے روپ میں ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی سب سے بڑی چوک یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کا بھروسہ نہیں جیت سکے۔ راہل گاندھی کا نریندر مودی کو سیدھے چنوتی نہ دینا کانگریس کی سب سے بڑی بھول ہے۔ نریندر مودی کو واک اووَر دے کر کانگریس نے بی جے پی مخالفین کو مایوس کیا، ساتھ ہی اس وجہ سے مسلمانوں کا ووٹ تقسیم ہو گیا۔ راہل گاندھی نے مودی کا سامنا نہ کرکے خود کو ایک ہارا ہوا کھلاڑی ثابت کیا ہے۔

p-5کانگریس پارٹی کا پرچار ایک شرمناک حالت میں ہے۔ راہل گاندھی لوگوں کی نظر میں الیکشن سے پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ ان کی تقریروں سے لوگوں میں کوئی اعتماد نہیں جگتا ہے۔ وہ ایک ہی طرح کی بات ہر ریلی میں کہتے ہیں، اس لیے جب ان کی تقریر ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے، تو لوگ چینل بدل لیتے ہیں۔ اگر نریندر مودی کی ریلی ساتھ میں ہوتی ہے، تو ٹی وی چینل والے ہی راہل کی آواز بند کر دیتے ہیں۔ راہل کی ساکھ ایک لیڈر کی نہیں بن سکی۔ راہل گاندھی کسانوں کا دل نہیں جیت سکے۔ ملک کے مزدور اور دلت بھی انہیں اپنا لیڈر نہیں مانتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی وہ اپنا مقام نہیں بنا پائے ہیں اور ملک کے نوجوانوں کے درمیان وہ ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کی ریلی میں اب لوگ نہیں آتے ہیں۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ جب وہ بولنے کے لیے اٹھے، تو لوگ ریلیاں چھوڑ کر جانے لگے۔ راہل گاندھی نہ تو عام عوام کو جیت سکے اور نہ ہی کانگریس پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کا حوصلہ بڑھا سکے۔ کانگریس کے کئی لیڈر تو الیکشن سے پہلے ہی کانگریس کی تاریخی ہار کی پیش گوئی کرنے لگے ہیں۔ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کی مقبولیت مدھم کیسے ہوگئی۔ الیکشن سے پہلے ہی پارٹی کے لیڈر اور کارکن حیران و پریشان ہو چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے الیکشن سے پہلے ہی ہار مان لی ہے یا یوں کہیں کہ کانگریس نے نریندر مودی کو واک اووَر دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس پارٹی سے آخر چوک کہاں ہوئی، وہ اس حالت میں پہنچی کیسے؟
گزشتہ 10-12 سالوں سے کانگریس پارٹی راہل گاندھی کو ایک نوجوان لیڈر کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش میں لگی رہی۔ ہر دو سال پر راہل گاندھی کے سرگرم سیاست میں آنے کی مانگ اٹھتی رہی۔ راہل گاندھی کا پرچار ہوتا رہا۔ راہل گاندھی کے سرگرم سیاست میں آنے کا معاملہ ایسا ہوا، جیسے پہلے آپ، پہلے آپ کے چکر میں ٹرین چھوٹ جاتی ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کی آنکھیں تب کھلیں، جب ٹرین چھوٹ چکی تھی۔ آخرکار، پچھلے سال جے پور کے پروگرام میں انہیں کانگریس پارٹی کا نائب صدر مقرر کیا گیا، لیکن یہاں بھی انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اقتدار زہر ہے۔ اب پتہ نہیں راہل کی وہ تقریر کس نے لکھی تھی۔ سیاسی پارٹی کے لیے اقتدار زہر ہے، تو انہیں سوشل آرگنائزیشن بنانا چاہیے۔ اگر اقتدار زہر ہے، تو الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ راہل گاندھی کا اپنی امیج میک اووَر اور کیمپین تذبذب کا شکار رہا۔ اس تذبذب کی دوسری مثال راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار نہیں بنانا ہے۔ کانگریس پارٹی یہ سمجھ نہیں سکی کہ ملک کے عوام منموہن سنگھ جیسے وزیر اعظم سے اوب چکے ہیں۔ انہیں ایک سرگرم اور فیصلہ کن وزیر اعظم چاہیے۔ پچھلے دس سالوں میں راہل گاندھی یہ ثابت نہیں کر سکے ہیں کہ وہ ایک فیصلہ کن شخصیت کے مالک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی نظروں میں وہ وزیر اعظم بننے کی دعویداری میں نریندر مودی سے کافی پیچھے چھوٹ گئے۔ اتنے پیچھے کہ کوئی انتخابی مہم اسے درست نہیں کر سکتی۔
ویسے کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم بھی عجیب ہے۔ کسی بھی پوسٹر اور ویڈیو میں کانگریس پارٹی نے لوگوں سے یہ اپیل تک نہیں کی ہے کہ کانگریس کو ووٹ دیں یا ہاتھ کے نشان پر بٹن دبائیں۔ کانگریس کی انتخابی مہم پوری طرح سے غیر سیاسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس کے وہ عقل مند لوگ کون ہیں، جنہوں نے ایسے پرچار کا خاکہ تیار کیا ہے۔ پہلے جب سونیا گاندھی کے ہاتھ میں کمان تھی، تو ہر اسکیم پر چرچا ہوتی تھی۔ تقریر میں کیا ہوگا، نعرے میں کیا ہونا چاہیے، ویڈیو کیسا بنانا ہے، ریلیوں کا انعقاد کیسے ہوگا، امیدواروں کو کیسے چنا جائے گا، سماجی تنظیموں کو کیسے استعمال کرنا ہے، میڈیا کو کیسے مینج کرنا ہے، ان سب باتوں پر چرچا ہوتی تھی اور پھر حکمت عملی تیار کی جاتی تھی۔ سونیا گاندھی کے آس پاس سیاسی لوگ تھے، جو ٹی وی پر نظر نہیں آتے تھے۔ وہ زمینی سطح پر فیصلے کو لاگو کرنے میں ماہر تھے۔ اس لیے ہر حکمت عملی کامیاب ہوتی تھی۔ راہل گاندھی کے پارٹی کے مرکز میں آتے ہی کانگریس کے کئی تجربہ کار لیڈر فیصلہ کن رول سے دور چلے گئے۔ راہل گاندھی اپنے کچھ خاص لوگوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں، جن کی وجہ سے بہار، اتر پردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور دہلی کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کا خاتمہ ہو گیا۔ راہل کے خاص صلاح کاروں میں کنشک سنگھ، موہن سنگھ، موہن پرکاش، مدھوسودن مستری، کے جے راؤ اور سنجے جھا جیسے لوگ ہیں۔ ان میں سے کسی نے زمینی سطح کی سیاست نہیں کی۔ یہ مفکر ہیں، ٹی وی پر بحث کرتے ہیں اور زمینی سطح پر پارٹی کے پروگرام نہیں کرا سکتے۔ ان لوگوں کی نہ تو سیاسی سوچ ہے اور نہ ان کے پاس سیاسی تجربہ ہے۔
ایسے ہی صلاح کاروں نے الیکشن کے دوران تشہیر اور پروپیگنڈے کے طوفانی حملے کا منصوبہ بنایا۔ راہل گاندھی کا منصوبہ بتایا گیا، راہل گاندھی نے ہاں کر دی۔ پتہ چلا کہ یہ طوفانی حملہ کانگریس تنظیم کے لوگ نہیں کریں گے، بلکہ اس کے لیے غیر ملکی ایجنسیوں کو چنا گیا۔ پرچار کا کام امریکی کمپنی برسن – مارشیلر اور جاپانی کمپنی دینتسو کو دیا گیا۔ اس کام کے لیے کانگریس پارٹی نے 700 کروڑ روپے دیے، تاکہ ہورڈنگس، پوسٹرس، ریڈیو، اخباروں اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے پرچار ہو سکے۔ ان کا کام منموہن سرکار کی حصولیابیوں کا پرچار اور راہل گاندھی کا امیج میک اووَر کرنا تھا، تاکہ لوگ کانگریس کو بی جے پی سے بہتر مانیں اور ووٹ دیں۔ الیکشن کمیشن کے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ لاگو ہونے سے پہلے ہی ملک بھر میں پرچار کا کام شروع ہوگیا۔ ایک کانگریس لیڈر نے بتایا کہ ان ایجنسیوں کا پہلا منصوبہ منموہن سرکار کے خلاف منفی پرچار کو بے اثر کرنا تھا اور اس کے بعد راہل کا مثبت پرچار کرکے ان کی شبیہ کو بہتر کرنا تھا۔ پہلے منصوبہ کے تحت ان ایجنسیوں نے منریگا، فوڈ سیکورٹی، ڈائرکٹ کیش ٹرانسفر، یو آئی ڈی اور آر ٹی آئی جیسے کئی مدعوں کا پرچار کیا، لیکن اس پرچار کو دیکھ کر لوگوں کا ری ایکشن اُلٹا ہو گیا۔ منریگا بدعنوانی کی وجہ سے سب سے بدعنوان اسکیم بن کر رہ گئی ہے، کسی کو کیش ملا نہیں، یو آئی ڈی کو لے کر بھی تذبذب کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔ اپوزیشن نے صرف اتنا کہہ کر کہ کانگریس پارٹی ان کاموں کا بھی کریڈٹ لینا چاہ رہی ہے، جو ابھی ہوئے ہی نہیں ہیں، پرچار کی ہوا نکال دی۔ انھیں کمپنیوں کے ذریعے انگریزی چینل ٹائمس ناؤ کے ارنب گوسوامی کے ساتھ انٹرویو رکھا گیا۔ اس ایک انٹرویو نے راہل گاندھی کو جو نقصان پہنچایا، اس کی تلافی 700 کروڑ روپے لینے والی یہ ایجنسیاں ابھی تک نہیں کر سکی ہیں۔ اس کے بعد ان کمپنیوں کے ذریعے راہل کے امیج میک اوور کا سارا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ مودی کے سامنے راہل ایک نوآموز ہی بنے رہے۔ کانگریس پارٹی نے راہل کی مارکیٹنگ کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ ناکام ہو گئے۔ راہل گاندھی کا یہ کہنا کہ بی جے پی مارکیٹنگ کرنے میں ایکسپرٹ ہے، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جو 700 کروڑ روپے انہوں نے دو غیر ملکی کمپنیوں کو دیے، وہ بیکار ثابت ہوئے۔ راہل گاندھی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اگر پارٹی کے ہی تجربہ کار لیڈروں کو 700 کروڑ روپے دے کر پرچار کی ذمہ داری سونپی گئی ہوتی، تو آج ان کی بھی مودی کے ٹکر کی مارکیٹنگ ہو گئی ہوتی۔ آج وہ مودی کو چنوتی دیتے نظر آتے۔ لیکن، سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کیا بات ہے کہ راہل گاندھی ساری مارکیٹنگ اور پرچار کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔
یو پی اے کے دس سالوں کو آزاد ہندوستان کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے روپ میں یاد کیا جائے گا۔ منموہن سرکار نے خود کو ایک جھوٹی، بدعنوان، عوام مخالف اور آزاد ہندوستان کی سب سے بدنام سرکار کے روپ میں قائم کیا۔ اس نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں جھوٹ بولنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ ملک کے عوام یہ مانتے ہیں کہ یو پی اے سرکار آزاد ہندوستان کی اب تک کی سب سے بدعنوان سرکار ہے۔ منموہن سنگھ کے دورِ حکومت میں تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری دیکھی گئی۔ کسانوں نے سب سے زیادہ خودکشی کی۔ یو پی اے سرکار کے دوران ایک ایک کرکے کئی جمہوری اداروں کی معتبریت ہی ختم کر دی گئی۔ میڈیا میں پچھلے تین سالوں سے یو پی اے سرکار صرف گھوٹالوں اور ناکارے پن کی وجہ سے موضوعِ بحث رہی۔ منموہن سنگھ ایک کمزور وزیر اعظم ثابت ہوئے اور ان کی سرکار فیصلہ نہ لینے والی سرکار کے نام سے مشہور ہو گئی۔ پہلی بار کابینی وزراء کو جیل جانا پڑا۔ پہلی بار کسی گھوٹالے میں شک کی سوئی وزیر اعظم پر پڑی۔ یہ سب کم تھا، تو باقی کام مہنگائی اور بے روزگاری نے کر دیا۔ لوگ ناراض تھے۔ دو سال پہلے سے ہی کانگریس پارٹی کو یہ اندازہ تھا کہ 2014 آسان نہیں ہونے والا ہے۔ انا ہزارے اور بابا رام دیو کی تحریک میں جس طرح سے لوگوں نے حصہ داری کی، وہ کانگریس کے خلاف عوام کے غصے کا نتیجہ تھا۔ کانگریس پارٹی کے لیڈر سب دیکھ رہے تھے، سرکار دیکھ رہی تھی، سب کے سامنے ایک سب سے بڑی چنوتی تھی، راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی چنوتی۔ کانگریس گاندھی پریوار کی پارٹی ہے۔ یہ سب کو معلوم تھا کہ 2014 کا الیکشن راہل گاندھی کی قیادت میں لڑا جائے گا۔ اس کے لیے یو پی اے سرکار اور کانگریس کے وزیروں نے کیا کوئی تیاری کر رکھی تھی؟
دو سال پہلے سرکار کے ایک سینئر افسر سے بات چیت کے دوران کئی جانکاریاں ملیں۔ پتہ چلا کہ کانگریس پارٹی کا 2014 کا الیکشن جیتنے کا فارمولہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار کا بنیادی مقصد آدھار کارڈ بنوانا ہے۔ اس کے بعد ڈائرکٹ کیش ٹرانسفر اسکیم لاگو کی جائے گی۔ کانگریس پارٹی کے لیڈروں کا یہ ماننا تھا کہ اگر لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں سیدھے پیسہ جانے لگے گا، تو ساری ناراضگی ختم ہو جائے گی۔ سرکار الیکشن جیتنے کے لیے فوڈ سیکورٹی بل لے کر آئے گی، جس کے تحت ملک کی کثیر آبادی کو مفت میں کھانے کا سامان مہیا کرایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آدھار کارڈ بننے اور ان اسکیموں کو لاگو کرنے کے بعد ملک کے عوام کی فلاح سے متعلق سبھی پروگراموں کو ڈائرکٹ کیش ٹرانسفر سے جوڑا جائے گا۔ ساری سبسڈی ختم کر دی جائے گی اور اس کے بدلے وہ پیسہ سیدھے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میڈیا چیختا چلاتا رہ جائے گا، ایکسپرٹ بولتے رہ جائیں گے کہ یہ ملک کے اقتصادی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہوگا، لیکن کانگریس پارٹی الیکشن جیت جائے گی۔ حالانکہ، یہ اسکیمیں تو فل پروف تھیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سرکار ان اسکیموں پر عمل کرتی اور انہیں لاگو کر دیتی، تو کانگریس کی حالت آج کچھ اور ہوتی۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا۔ جو وزیر ان اسکیموں کو لاگو کرنے کے لیے ذمہ دار تھے، وہ آج الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے یہ سوال پوچھنا لازمی ہے کہ کیا یو پی اے سرکار کے ان وزیروں نے کسی سازش کے تحت ان اسکیموں کو لاگو نہیں کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یو پی اے سرکار کے وزیر پچھلے دو تین سالوں سے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو سبز باغ دکھاتے رہے، یہ بھروسہ دلاتے رہے کہ کانگریس ان پالیسیوں کی وجہ سے آسانی سے الیکشن جیت جائے گا؟ اور جب موقع آیا، تو میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ منموہن سنگھ نے ان اسکیموں کو بیچ میں ہی لٹکا دیا، کیوں کہ انہیں معلوم ہو گیا کہ وزیر اعظم کے طور پر یہ ان کی آخری باری ہے۔ اس کے علاوہ، کیا کانگریس پارٹی میں ایک ایسا گروہ تیار ہو چکا ہے، جو راہل گاندھی کو وزیر اعظم نہیں بننے دینا چاہتا ہے؟
سرکار کی ناکامی اور اس کے خلاف لوگوں کی ناراضگی تھی۔ ایسے میں راہل گاندھی کے لیے جو حکمت عملی چاہیے تھی، وہ غیر ملکی کمپنیاں نہیں بنا سکیں۔ وہیں دوسری طرف راہل گاندھی سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے تنظیم کو مضبوط کرنا ہے … تنظیم کو مضبوط کرنا ہے، کی رٹ ہی لگاتے رہ گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ تو تنظیم کو مضبوط کر سکے اور نہ ہی الیکشن جیت سکے۔ راہل گاندھی اور ان کی ٹیم کی دیکھ ریکھ میں جن جن ریاستوں میں الیکشن ہوئے، وہاں کانگریس کو شرمناک ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ بہار اور اتر پردیش کی ہار نے راہل کی قائدانہ صلاحیت پر سوال کھڑا کر دیا، لیکن حال میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور دہلی میں ملی زبردست شکست نے یہ ثابت کر دیا کہ راہل گاندھی میں قائدانہ صلاحیت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ یہ مانتا ہے کہ راہل گاندھی ایک ناکام آدمی ہیں، جو اپنے پریوار کے سائے میں سیاست کے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ راہل گاندھی 43 سال کے ہو چکے ہیں۔ نوجوان بھی نہیں رہے، لیکن راہل گاندھی کے پاس اپنی قابلیت اور وژن کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لوگوں کو بتانے کے لیے راہل کے پاس ان کی کامیابی کی کوئی کہانی نہیں ہے۔ اتنے سالوں تک لوک سبھا میں رہنے کے باوجود ان کی ایک بھی تقریر ایسی نہیں ہے، جسے لوگ یاد کر سکیں۔ ہاں، کبھی کبھی جب ان کی زبان پھسلتی ہے، تو وہ ویڈیو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کافی پاپولر ہو جاتا ہے۔ ویسے کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور راہل گاندھی نے نریندر مودی کی ازدواجی زندگی پر سیاست کرکے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ کانگریس الیکشن سے پہلے ہی ہار چکی ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *