فلطسینی عوام پر نئی نئی شکل میں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری

وسیم احمد
p-11فلسطین کی سرزمین کو اس معنی میں بڑی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔ بیت المقدس عیسائی ، یہودی اور مسلمانوں تینوں ہی کے لئے انتہائی مقدس اور اہمیت کا حامل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں یہودی اور مسلمانوں میں تنازع چلتا رہتا ہے۔ اسرائیل چونکہ یہودیوں کا ایک طاقتور ملک ہے جبکہ ان کے مقابلے میں فلسطین کے مسلمان کمزور اور نہتھے ہیں ۔اسی لئے اسرائیلی یہودی طاقت کا استعمال کرکے جب چاہتے ہیں مسلمانوں کو بیت المقدس میں داخلے پر پابندی لگا دیتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں یہودیوں کے ایک تہوار ’’ عید الفصح‘‘ جو کہ 15 اپریل سے 7 دنوں تک چلتا ہے کو منانے کے لئے اسرائیل پولیس نے مسجد اقصیٰ میں 50سال سے کم عمر کے مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان ان کے تہوار کے موقع پر تشدد کرسکتے ہیں۔کتنی عجیب و غریب دلیل ہے کہ اب تک جس قوم پر ظلم ہوتا رہا ، اسے ہی اپنی عبادت گاہ میں جانے سے روکا جارہا ہے ۔یہی نہیں، فلسطینی مسلمانوں کو مسجد الخلیل میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔
اسرائیلی انتظامیہ کے اس فیصلے سے نہ صرف فلسطین کے عوام پریشا ن ہیں بلکہ کئی ملکوں میں اس بربریت کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے۔خاص طور پر ہندوستان جہاں کے عوام کا فلسطینی عوام کے ساتھ جذباتی لگائو ہے، اسرائیل کے اس عمل سے پریشان ہیں جس کا اظہار نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقد کانفرنس میں کیا گیا ۔اس کانفرنس میں فلسطینی سفیر سمیت متعدد علماء کرام اور دانشوروں نے حصہ لیا اور اجتماعی طور پر جو تجاویز پیش کی وہ اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ ہندوستان کے عوام میں فلسطینی عوام کے تئیں ہمدردی اور خیر سگالی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے۔چنانچہ کانفرنس میں جو تجاویز پیش کی گئیں ان میں خاص طور پر اس نقطے پر زور دیا گیاکہ عربی و مسلم حکمرانوں کو فلسطین کے حوالے سے ایک رائے ہوجانا چاہئے۔ غزہ کی ناکہ بندی ختم کروانے کی کوشش کرنی چاہئے اور مصر پر دبائو بنانا چاہئے کہ ’’رفح‘‘ باڈر کھول دے۔ فلسطین مسجد اقصیٰ کے دفاع کے تئیں ماضی کے متحدہ اسلامی عربی مشترکہ منصوبے پر دوبارہ عمل شروع کردینا چاہئے۔ عربی حکومتوں کو فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی مکمل امداد و کا اعلان کردینا چاہئے۔ سفارتی تجارتی تعلقات صہیونیوں سے منقطع کرلینے چاہئیں۔ مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لئے مزاحمتی ذمہ داری انجام دینے والی حماس کو مستحکم کرنا چاہئے۔حماس کو دہشت گرد قرار دینے والے عرب ملکوں سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ اس فیصلے کو واپس لیں اور ان کی حمایت کریں۔ ہندوستان کے مدارس اور مسلم اسکولوں و کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آثار مقدسات کے ماہرین کے خطبات و لکچرس کا نظم کیا جائے تاکہ مسجد اقصی اور قضیہ فلسطین کے تئیں بیداری قائم ہو۔ حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ فلسطینیوں کے حقوق کے تئیں کاندھیائی پالیسی پر گامزن رہے اور اسرائیل سے بڑھتے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔
ہندوستان اور فلسطین کا رشتہ بہت پرانا اور ہمدردی پر مبنی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فلسطینی عوام پر کچھ گزرتا ہے تو اس کا درد ہندوستانی عوام محسوس کرتے ہیں اور سرکاری سطح پر بھی اس درد کو دور کرنے کے لئے کوشش شروع کردی جاتی ہے۔1947 میں جب ہندوستان کی خارجہ پالیسی طے کی جارہی تھی تو اس وقت ہی یہ طے ہو گیا تھا کہ ہندوستان فلسطین کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ چنانچہ 1948 میں جب فلسطین کی تقسیم پر ووٹنگ ہورہی تھی تو اس وقت ہندوستان نے اقوام متحدہ میں تقسیم کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ہندوستان پہلا ملک ہے جس نے 1988 میں ریاستِ فلسطین کو آرگنائز کرنے میں کھل کر ساتھ دیا تھا اور 1996 میں غازہ میں اپنی نمائندہ آفس کھولا جو 2003 میں رام اللہ منتقل ہوئی۔غرض یہ کچھ باتیں تھیں جن کو مثال کے طور پر پیش کی گئی ہیں ورنہ آزاد ہندوستان نے ہمیشہ فلسطین کاز کی حمایت کی ہے۔ یہاں تک کہ نئی دہلی میں اسرائیلی سفارت خانہ کھل جانے اور اسرائیل سے اسلحہ خریدنے کے بڑے معاہدے ہونے کے باوجود ہندوستان کی فلسطین کے تئیں خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
دونوں ملکوں کے یہ رشتے نہ صر ف سیاسی سطح کے ہیں بلکہ دونوںکے درمیان یہ رشتے جذباتی حد تک پائے جاتے ہیں اور اسی جذبے کی وجہ سے کانگریس پارٹی کے سابق صدر اور جنگ آزادی کے ہیرو مولانا محمد علی جوہر جب زندگی کی آخری سانس لے رہے تھے(4 جنوری 1931) تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ غلام ہندوستان میں وہ دفن ہونا نہیں چاہیںگے۔ یہی وجہ تھی کہ مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی کی ہدایت پر مسجد عمر مین گیٹ کے داہنی طرف انہیں دفن کیا گیا۔دونوں ملکوں کے جذباتی لگائو کا ہی نتیجہ ہے کہ جب بھی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ ہوتا ہے یا فلسطینی مسلمانوں پر مظالم ہوتے ہیں توہندوستان میں جا بجا اجلاس و مظاہرے شروع ہوجاتے ہیں ۔
یوں تو فلسطین کے بارے میں بات کی جائے تو فلسطینی عوام درجنوں مسائل اور ان گنت مصائب کا سامنا کر رہے ہیں جن میں غزہ کا اسرائیلی محاصرہ، فلسطین میں فلسطینی سر زمینوں پر یہودی بستیوں کا قیام، فلسطینیوں کے کھیتوں پر اسرائیلی قبضہ، فلسطین کی سمندری حدود پر صیہونیوں کا غاصبانہ تسلط سمیت فلسطینیوں پر صیہونی غاصب افواج کے حملے، جنگیں اوردرجنوں مسائل موجود ہیں لیکن ان تمام مصائب اور مسائل میں سب سے اہم مسئلہ قبلہ اول پر یہودیوں کے قبضے کا ہے جسے اسرائیل نے گذشتہ 13برسوں میں مزید تیز کر دیا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ القدس کوصیہونیوں سے در پیش خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
آج سے 13 برس قبل صیہونی ریاست کے وزیر اعظم ایریل شیرون اعلانیہ طور پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے جس کے بعد فلسطینیوں نے قبلہ اول کے تقدس کی پامالی کے خلاف اسرائیل کے خلاف دوسری ’تحریک انتفاضہ‘ کاآغاز کر دیا تھا، اس دن کے بعد سے آج تک متعدد مرتبہ صیہونی شدت پسند مسجد اقصیٰ میں نہ صرف داخل ہوتے رہے ہیں بلکہ اپنی خاص عبادات جسے تلمودی عبادت کہا جاتا ہے بھی انجام دیتے رہے۔ اس تہوار کے موقع پر وہ رقص و سرور کی محفلیں سجاتے ہیں اور یہ سب بیت المقدس کے اندر ہوتا ہے ۔ مزید زیادتی یہ ہورہی ہے کہ بسا اوقات فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے بھی روک دیا جاتا ہے جوکہ نہ صرف ریاست کے قوانین کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے بھی دیکھا جائے تو کسی شخص کو اس کی اپنی عباد گاہ میں داخلے سے نہیں روکا جا سکتا ہے۔
دراصل گزشتہ برس اسرائیلی کی پارلیمنٹ جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے نے ایک قانون منظور کرتے ہوئے کہا تھا کہ صیہونیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہو کر اپنی عبادات کریں اور مسلمانوں کو اس دوران مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی ہو گی۔آخر کار وہی ہوا ، صیہونیوں کے منظور کردہ قانون کے مطابق تمام صیہونیوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کی نہ صرف بے حرمتی کی بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل دکھانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بھی دھجیاں اڑا کر ثابت کر دیا کہ اسرائیل ایک غیر قانونی ریاست ہے جو دنیا کے کسی قانون کو نہیں مانتی ہے۔
اسرائیل کے اس ظالمانہ رویے کے خلاف ہندوستان میں کانفرنسیں منعقد ہورہی ہیں اور احتجاج ہورہے ہیں مگر اسلامی دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔یہ سچ ہے کہ امریکہ جائز و ناجائز ہر معاملے میں اسرائیل کا دفاع کرتا ہے مگر ہم یہ بھی تو دیکھیں کہ امریکہ کے اس جانبدارانہ رویے کے باوجود پورا عالم عرب امریکہ کے تئیں انتہائی نرم گوشہ رکھتا ہے ۔یہی نہیں کچھ عرب ملکوں نے تو حماس جو کہ فلسطین کی آزادی کے لئے دل و جان کی بازی لگائے ہوئی ہے۔ اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے میں عرب ملکوں نے اسرائیل اور امریکہ کا ساتھ دیا ہے جس کی وجہ سے طویل لڑائی لڑنے کے باجوود فلسطینیوں کو اسرائیلی پنجے سے آزادی نصیب نہیں ہورہی ہے۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس فلسطین میں بیت المقدس کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تحریک حماس کی بنیاد 1987 میں شیخ احمد یاسین نے ڈالی تھی جن کو اسرائیل نے ایک ڈرون میزائل حملے میں شہید کر دیا تھا۔ شیخ احمد یاسین کے بعد تنظیم کی ذمہ داری ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی نے سنبھالی اور اسرائیل نے ان کو بھی شہید کر دیا جس کے بعد تنظیم کے سیاسی شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے خالد مشعل نے ذمہ داری سنبھالی اور وہ تا ہنوز اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ اسماعیل ہنیہ فلسطینی پٹی غزہ میں فلسطین کے وزیراعظم ہیں اور ان کا تعلق بھی حماس سے ہے۔اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے 2006 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی اور فلسطین میں حکومت سازی کی تھی۔لیکن اس موقع پر بھی عالمی سامراجی قوتوں اور صیہونی ریاست اسرائیل نے حماس کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ظلم تو یہ تھا کہ حماس کے اثاثے منجمند کرنے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور امریکہ سمیت دیگر مغربی قوتوں نے حماس کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سامراجی طاقتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کچھ عرب ملکوں نے بھی حماس کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کرلیا ہے۔
عربوں کے باہمی اختلاف اور فلسطین کے تئیں دوہری پالیسی نے فلسطین کاز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔عربوں کے باہمی اختلاف پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے عرب چوٹی کانفرنس میں اعتراف بھی کیا تھا اور قطر کے موقف کو واضح کیا تھا کہ وہ کھل کر فلسطین کے ساتھ ہے۔اس کانفرنس کا موضوع تھا ’’ بہتر مستقبل کے لئے اتحاد و یکجہتی‘‘۔ انہوں نے اس کانفرنس میں عرب قوم کی مشکلات و مسائل ، چیلنجوں اور متعدد میدانوں میں رکاوٹوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ ان مسائل میں سب سے اہم مسئلہ فلسطین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب اسرائیل کشمکش سب سے بڑا چیلنج ہے جس کا سامنا عرب قوم کو ہے کیونکہ مسئلہ فلسطین ہمارے مستقبل اور ہمارے وجود کا مسئلہ ہے اور خطہ میں اس کے منصفانہ حل و سمجھوتے کے بغیر امن و امان کا قائم ہونا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ قطر نے بیت المقدس فنڈ کے قیام کے لئے 250 ملیڈالر امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے اور عرب ملک بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ عرب ملکوں کا باہمی اختلاف فلسطین مسئلے کو طاقت پہنچانے میں رکاوٹ بن رہا ہے اور اسی کا فائدہ اسرائیل اٹھا رہا ہے۔اگر عالم عرب ایک ساتھ ہوکر فلسطین کے ساتھ ہوجائیں تو اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق تسلیم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں کیونکہ اگر عالم عرب آگے بڑھا تو ہندوستان کے عوام بھی ان کے ساتھ ہوںگے اور اگر ہندوستان جیسا ملک کسی کے ساتھ ہو تو اس کا پلڑا بھاری ہونا یقینی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *