پارٹیوں میں اندرونی جمہوریت کی ضرورت ہے

میگھناد دیسائی

میں جب لیبر پارٹی میں شامل ہوا تھا، تو اس وقت مجھے سمجھایا گیا تھا کہ میں پارلیمنٹ میں کس طرح پہنچ سکتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ امیدواروں کی فہرست میں اپنا نام کس طرح شامل کرایا جاسکتا تھا۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہوتا تھا کہ آئندہ ہونے والے انتخاب میں آس پاس کے کس پارلیمانی حلقے میں کون سی سیٹ خالی ہے، جس سے کہ اس پارلیمانی حلقے کا امیدواربنا جا سکے۔اس کے لیے درخواست دینا ہوتی تھی اور اگر آپ کا نام ایسے خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوجاتا، تو پھر آپ کو دوسرے خوش نصیب لوگوں سے مقابلہ کرنا ہوتا تھا۔ امیدوار کا سلیکشن، پچاس یا اس سے بھی زیادہ نمائندے کرتے تھے، جو اس پارلیمانی حلقے کے الگ الگ حصوں سے آئے ہوئے ہوتے تھے۔ اگر اس مقابلے میں آپ جیت جاتے تھے، تو اس کے بعد آپ امیدوار بنتے تھے، لیکن اس جیت کے باوجود اگر اگلی بار آپ کو کھڑا ہونا ہوتا، تو پھر اسی عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔
یہ بات میں نے اس لیے بتائی کہ حال ہی میں راہل گاندھی نے کچھ سیٹوں کے لییپرائمری پروسیس کی بات کی تھی، جہاں پر کانگریس پارٹی اکثر ناکام ہو جایا کرتی تھی۔ ہندوستان میں پارٹی کے اندر جمہوریت جیسی چیز کا کوئی چلن نہیں رہا ہے۔ پارٹیوں میں فعال رکنیت کا کوئی نظم نہیں ہے، جس سے انتخابات کے دوران بھی ممبران آپس میں متواتر میٹنگ کرتے رہیں۔ پارٹی کی پالیسیوں پر ممبران گفتگو نہیں کرتے اور نہ ہی وہ پارٹی کی پالیسیوں پر فیصلے کرتے ہیں۔ سالانہ میٹنگوں میں کوئی بحث یا سیاسی مدعوں پر بہتر متبادل کے متعلق کوئی بات نہیں ہوتی۔ کسی معاملے پر پارٹی کے ممبران کے ذریعہ ووٹنگ کا کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ امیدواروں کا اعلان اعلیٰ قیادت کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ گاندھی نگر یا وارانسی کے بی جے پی کارکن اس بارے میںکچھ بھی نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے پارلیمانی حلقہ سے کسے امیدوار بنانا چاہتے ہیں۔ آخر ایسا کب ہواکہ جب امیٹھی میں کانگریس کے کارکنوں نے اپنے پارلیمانی امیدوار کی کارکردگی اور حاضری پر بات چیت کرنے کے لیے کوئی میٹنگ کی ہو۔ آخر اس پارلیمانی حلقہ کے پارٹی یونٹ کے ساتھ کتنی میٹنگوں میں راہل گاندھی شامل ہوئے ہیں؟
یقیناً یہ راہل گاندھی کی غلطی نہیں ہے کہ وہ اپنی ہی پارٹی کی تاریخ کو نہیں جانتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے لوگوں کی بڑی تعداد کی رکنیت لے کر کانگریس پارٹی بنائی تھی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں شامل ہونے کے لیے ضلعی سطح پر بھی نمائندے آتے تھے۔ کانگریس کا صدر اے آئی سی سی کے ذریعہ ہی چنا جاتا تھا۔ حالانکہ گاندھی جی کی بھی اس میں اپنی پسند شامل ہوتی تھی جیسا کہ سبھاش چندر بوس کے دور میں ہوا تھا، لیکن پارٹی کی یہ جمہوری نمائندوں والی ساخت انتخابات میں موثر نہیں ہوتی تھی۔ 1937میں جب پہلی بار انتخابا ت لڑے گئے، تب اس وقت سردار پٹیل پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین تھے اور امیدواروں کا سلیکشن پوری طرح سے سینٹرلائزڈ کر دیا گیا تھا، باقی جو تھوڑا بہت بچا ہوا تھا، اسے اندرا گاندھی نے ختم کر دیا تھا ۔
اب حالیہ دور میں آتے ہیں۔ اس وقت بھی ساری پارٹیاں اسی طرح برتاؤ کر رہی ہیں۔ کسے کون سی سیٹ ملے گی، یہ پارٹی کا انتخابی بورڈ طے کرتا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں کا سیٹوں کو لے کر وبال کرنا المیہ سے زیادہ ایک مزاق لگتا ہے۔ سب سے برا تو تب لگتا ہے، جب ایک بڑی پارٹی کے لیڈر اس طرح مخالفت کرتے ہیں جیسے ملائم سنگھ یادو اور لالو پرساد یادو کرتے ہیں۔ بدعنوان سبھی پارٹیوں میں ہیں، دوسری پارٹی چھوڑکے آئے ہوئے لوگ بھی ہیں۔ ایسے فلم اسٹار بھی ہیں، جن کو کوئی سیاسی تجربہ حاصل نہیں ہے یا پھر ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور فوج کے آفیسرز بھی ہیں۔
یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ یہ عمر دراز لیڈر کس پارٹی میں جائیں گے۔ پارٹیوں کے پاس کوئی فعال سیاسی ممبر شپ نہیں ہے، بس صرف عہدے کی چاہت رکھنے والوں کی بھرمار ہے۔ اس لیے آخری وقت کے ناٹکوں کے باوجود کوئی بھی ان سب معاملوں پرانگلی اٹھانے نہیں جا رہا ہے۔ ایسا ہی اگلی بار کے انتخابات میں بھی ہوگا۔
اس معاملے میں عام آدمی پارٹی تو حقیقت میں بہت دکھ دینے والی پارٹی ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ یہ پارٹی اقتدار کی لامرکزیت اور لوگوں کو طاقت دینے میں بھروسہ رکھتی ہے۔ دہلی کے ہر محلہ کا اپنا مینی فیسٹو تھا۔ اس کے لیے صلاح بھی لی گئی تھی، لیکن ایک قومی پارٹی بننے کی جلدبازی میںبنیادی اصولوں کو بھلادیا گیا۔ اس پارٹی نے وہی کیا ، جو دیگر پارـٹیاں امیدواروں کے سلیکشن میں کرتی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے پارلیمانی حلقوں کے یونٹ کے کارکنوں سے کوئی صلاح نہیں لی، امیدواروں کا سلیکشن پارٹی کے ممبران کی پسند کے مطابق نہیں ہوا۔’ فیس بک‘ پرایک اکاؤنٹ مشہور ہونا یا ٹیوٹر پر کوئی اکاؤنٹ مشہور ہونا سیٹ کی امیدواری کا حق نہیں دیتا۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ دہلی میں کارکن بہت ناخوش محسوس کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ایک بڑی جمہوری پارٹی بننے کے امکان بھی معدوم ہو رہے ہیں۔ یہ صرف اروند کجریوال کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے اور ’ون مین شو‘ بن کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ یہ انتخاب نئے ہندوستان کے لیے محض ایک انتخاب ہی ہے۔ ووٹر کا اس سسٹم سے اعتماد ختم ہوگیا ہے۔ ممکن ہے کہ رائے دہندگان انتخابات میں باہری لیڈر کی بجائے کسی مقامی چہرے کو زیادہ پسند کریں۔ شاید ہندوستان میں اب جمہوریت آئے، چلیے اس بات کی امید کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *