پارلیمانی انتخابات 2014اور سیاسی لیڈروں کے گھٹیا ریمارکس

وسیم احمد
آزاد ی کے بعد جب پہلی مرتبہ 1952 میں عام انتخا بات ہورہے تھے تو اس وقت الیکشن کمشنر سو کمار سین کے پاس ایک بھی ایسی شکایت درج نہیں ہوئی تھی جس میں کسی لیڈر پر غیر شائستہ اور غیر مہذب بیان دینے کی شکایت کی گئی ہو۔دراصل اس وقت کے لیڈران ایشوز اور منصوبوں پر باتیں کرتے تھے اور اور سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک لے جانے سے گریز کرتے تھے ۔اس کے برعکس آج ہمارے ملک کا سیاسی اور اخلاقی معیار اتنا پست ہو چکا ہے کہ ہر لیڈر ایشو اور منصوبوں پر بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم یہاں کچھ لیڈروں کے بیانات کودرج کررہے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 66 برسوں میں سیاست میں کس قدر گندگی ،پستی اور اخلاقی گراوٹ آچکی ہے :

اعظم خاں: ابھی حال میں غازی آباد اترپردیش میں ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے اعظم خان نے فوج کے اندر فرقہ وارانہ ذہنیت پیدا کرنے والا ایک بیان دے کر مخالفین میں بے چینی پیدا کردی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 1999 کی کارگل جنگ کی فتح مسلم جوانوں کی وجہ سے ہوئی تھی ۔دراصل اس حلقے سے سابق فوجی چیف جنرل وی کے سنگھ بی جے پی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں ،ان کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے انہوں نے اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ بیان دیا،جس کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت درج کی گئی ہے۔
امیت شاہ:مظفر نگر جہاں حال ہی میں ہندوستان کا بد ترین فرقہ وارانہ فساد ہوا ہے ،کے قریب بجنور میں امیت شاہ کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’’ ہندو برادری اپنے وقار کی بحالی کے لئے مودی کو اقتدار میں لائیں اور مُلّا ملائم کو لکھنؤ سے باہر کریں‘‘۔ضابطۂ اخلاق کے دوران اس طرح کی اشتعال انگیزی خاص طور پر جہاں فرقہ وارانہ فساد ہوا ہو یقینا غیر اخلاقی عمل ہے ،چنانچہ الیکشن کمیشن نے ان پر الیکشن پرچار پر پابندی عائد کردی ہے۔یہی پابندی اعظم خاں پر بھی لگائی گئی ہے۔
بینی پرساد ورما :گزرے دنوں مرکزی وزیر بینی پرساد ورما نے بلرام پور میں بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے عہدیدار نریندر مودی کو آر ایس ایس کا بڑا غنڈہ کہہ دیا اور پارٹی صدر راجناتھ سنگھ کو ان کا غلام ۔ ظاہر ہے اس طرح کی باتیں کسی لیڈر سے غیر متوقع ہیں مگر آج کے لیڈر کھل کر اس طرح کے الفاظ استعمال کررہے ہیں۔
سبرامنین سوامی: سبرا منین سوامی بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر ہیں۔انہوں نے آئی بی این لائیو میں پرینکا گاندھی پر کھل کر وار کیا اور کہا کہ’’ الکحل کے نشے میں انہیں ہوش ہی نہیں رہتا ہے جبکہ گاندھی خاندان میں کوئی اور اتنا الکحل استعمال نہیں کرتا‘‘۔ پرینکا گاندھی کے خلاف یہ ریمارکس قطعی غیر مہذب ہے ۔ اس ریمارک کے خلاف مرکزی وزیر کپل سبل نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کی۔
اوما بھارتی:للت پور کے ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کی لیڈر اوما بھارتی نے یہ بیان دے دیا کہ اگر بی جے پی کی حکومت قائم ہوگئی تو یو پی میں سماج وادی پارٹی کی سرکار 6 ماہ میں گرا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سماج وادی پارٹی کے کئی ارکان ان کے رابطے میں ہیں اور مرکز میں بی جے پی سرکار بنتے ہی وہ سب پارٹی سے الگ ہوجائیں گے اورسرکار اقلیت میں آجائے گی۔
کمار وشواش :درگاپور ، بدر بلاک میں الیکشن مہم کے دوران عام آدمی پارٹی کے لیڈر نے کانگریس لیڈر کو سیدھے طور پر بے ایمان اور لٹیرا کہہ دیا۔ انہوں نے مذکورہ حلقے میں نعرہ لگایا ’’ جھاڑو لگائو بے ایمان بھگائو‘‘۔ اس غیر مہذب نعرے پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کارکنان باہم متصادم ہوگئے اور اس کی شکایت الیکشن کمیشن میں کی گئی۔کانگریس کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی یہاں جو درگت ہونے والی ہے اس کو دیکھ کر بوکھلائے ہوئے ہیں اور غیر مہذب بیان دے رہے ہیں۔
سی پی ایم لیڈر سوزان چکرورتیجادو پور،کولکتا لوک سبھا حلقے سے سی پی ایم لیڈر سوزان چکرورتی کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے اور غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ انہوں نے اپوزیشن کے کارکنوں کو اجلاس میں شرکت کرنے پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹی کے کارکنوں میں کہا سنی ہوئی اور پھر معاملہ دھکا مکی تک جاپہنچا۔
شرد پوار : انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گجرات کے لوگ مہاراشٹر میںریلیف کا کام برسوں سے کرتے چلے آرہے ہیں مگر گزشتہ دنوں گجرات سرکار کی طرف سے ان لوگوں کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی تنگ ذہنی کے شکار ہوگئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی کو ملک کی تاریخ کا کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔
عمران مسعود : عمران مسعود سہارن پور سے کانگریس کے ٹکٹ پر لڑ رہے ہیں۔انہوں نے 6-7 ماہ قبل اپنے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ’’ میں مودی کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا‘‘ ۔یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا تھا جب الیکشن مہم نہیں چل رہی تھی مگر جیسے ہی وہ کانگریس کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے تو بی جے پی نے اس بیان کو لے کر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ نتیجتاً انہیں گرفتار کیا گیا اور پھر ضمانت ملی۔
نریندر مودی : مہاراشٹر کے امراوتی بیلٹ میں ایک اجلاس کے دوران نریندر مودی نے وزیر خوراک شرد پوار کے بارے میں کہا کہ ’’ وہ کرکٹ پر گھنٹوں باتیں کرسکتے ہیں مگر وہ ملک میں کسانوں کو تحفظ دینے کے قابل نہیں ہیں‘‘۔ایک مرکزی وزیر کے تئیں اس طرح کا تأثر پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گیا تھا۔
وسندھرا راجے سندھیا:راجستھان کے کرولی میں ایک میٹنگ کے دوران ریاست کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا نے ایک ایسا بیان دیا ہے جو ان کی شایان شان نہیں ہے۔انہوں نے اس میٹنگ میں کہا کہ ’’ چنائو ہوجانے دو، دیکھیں گے کس کے ٹکڑے ہوں گے‘‘۔
دگ وجے سنگھ :سیاست میں مہذب زبان استعمال کی جاتی ہے مگر ایک موقع پر کانگریس کے ترجمان دگ وجے سنگھ نے کجریوال کو آئٹم گرل راکھی ساونت سے تشبیہ دے دی، جس پر خفا ہوکر راکھی ساونت نے دگ وجے سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی دی تھی۔
مدھو سدن مستری :ودودرا، گجرات کے لوک سبھا حلقے سے کانگریسی امیدوار مدھو سدن مستری نے بی جے پی کی سینئر لیڈر سشما سیوراج کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ ’’ سب سے پہلے وہ میڈیکل جانچ کرائیں اور پھر مجھے بتائیں کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے‘‘۔ اس طرح کا گھٹیا ریمارکس کسی خاتون لیڈر کے بارے میں زیب نہیں دیتا ہے ،مگر ہمارے لیڈر مخالفیں کے خلاف کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔
اودھو ٹھاکرے : شیو سینا کے اودے و ٹھاکرے نے بھی ایک موقع پر کجریوال کو کانگریس کے لئے’ آئٹم گرل‘ کہہ دیا تھاجس پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *