مسلم ووٹوں کی تقسیم کے درمیان سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور

ڈاکٹر قمر تبریز

سولہویں لوک سبھا کے لیے ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ملک کا مسلمان ذہن بنا چکا ہے کہ وہ یا تو عام آدمی پارٹی کو ووٹ ڈالے گا یا پھر کانگریس کو۔ علاقائی سطح پر مسلمانوں کے ووٹ بی ایس پی، ایس پی، ٹی ایم سی، آئی یو ایم ایل، یو ڈی ایف، ایم آئی ایم، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا اور ایس ڈی پی آئی وغیرہ کو بھی ملنے کی امید ہے۔ لیکن مجموعی طور پر مسلمانوں کا ووٹ بری طرح تقسیم ہونے کی وجہ سے اس کا فائدہ بی جے پی کو ہوتا نظر آ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند نام نہاد مسلم رہنما مسلمانوں سے کسی مخصوص پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کرکے خود تو تنقید کا نشانہ بن ہی رہے ہیں، ساتھ ساتھ پوری مسلم قوم کی جگ ہنسائی بھی کرا رہے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں کو نہ تو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی کسی بھی سیاسی پارٹی کے پاس اپنا ووٹ دینے کے بدلے مجموعی طور پر مسمانوں کی طرف سے کوئی ایک مشترکہ ایجنڈا ہی پیش کیا ہے۔ چونکہ سب سے زیادہ بات اس الیکشن میں مسلمانو ںکی ہو رہی ہے، اس لیے آئیے دیکھتے ہیں کہ خود مسلم سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کی دیگر پارٹیوں نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کے لیے کیا وعدے کیے ہیں ……

Mastملک میں سولہویں لوک سبھا کے لیے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر پارٹی نے اپنی طرف سے انتخابات جیتنے کے لیے پوری توانائی جھونک دی ہے۔ میڈیا کے توسط سے ووٹروں کی رائے پر اثر ڈالنے اور اشتہار بازی میں بھلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی دیگر سیاسی پارٹیوں سے آگے دکھائی دے رہی ہو، لیکن کانگریس نے بھی اپنی طرف سے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔ ان سب کے درمیان اِس دفعہ پہلی بار عام آدمی پارٹی بھی قومی سطح پر اپنے نشانات چھوڑنا چاہتی ہے۔ اس پارٹی کو اس بات کا کریڈٹ تو ملنا ہی چاہیے کہ نئی پارٹی ہونے اور پہلی بار لوک سبھا الیکشن لڑنے کے ناتے اس نے لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں میں سے 400 سے زیادہ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ماضی میں ایسی کوئی پارٹی نہیں رہی، جس نے پہلی بار کے ہی الیکشن میں اتنی بڑی تعداد میں اپنے امیدوار کھڑے کیے ہوں۔ اس کے علاوہ اِس بار کے الیکشن میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ مسلم ووٹوں کو لے کر ہونے والی سیاست کو ’فرقہ پرستی بنام سیکولر ازم‘ کا نعرہ دیا گیا ہے۔ سیاست کے اس کھیل میں پہلی ٹیم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی ہے، تو اس کے مقابلے میں دوسری ٹیم ان تمام سیاسی پارٹیوں کی ہے، جو خود کو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی رہی ہیں۔ بی جے پی کا پلڑا اس لیے بھاری دکھائی دے رہا ہے، کیوں کہ مسلم ووٹوں کو بری طرح تقسیم کرنے کی اس کی سوچی سمجھی اور ٹھوس حکمت عملی پوری طرح کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مسلمانوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ بی جے پی کو ہرانے کے لیے کسے ووٹ دیںاور کسے ووٹ نہ دیں۔ ایسے میں خود مسلمانوں کے درمیان موجود تمام نام نہاد مسلم رہنما آخری وقت میں ملک کے مسلمانوں سے مختلف سیاسی پارٹیوں کو اپنا ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں، لیکن ان سب میں اتحاد کی زبردست کمی ہے۔ ایک طرف جہاں دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام، سید احمد بخاری مسلمانوں سے پورے ملک میں کانگریس کو اور مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف خود سید احمد بخاری کے بھائی یحییٰ بخاری لکھنؤ کے معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے کانگریس کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ یہاں پر قارئین کی معلومات کے لیے یہ بتانا ضروری ہو جاتا ہے کہ دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے دائیں طرف دس قدم کی دوری پر ’سروودیے بال وِدیالیہ نمبر ایک‘ کے نام سے ایک سرکاری اسکول ہے، جو کبھی اردو میڈیم اسکول ہوا کرتا تھا، لیکن اب اسے ہندی میڈیم اسکول میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دہلی میں گزشتہ 15 برسوں سے شیلا دکشت کی قیادت میں کانگریس پارٹی کی حکومت تھی، لیکن شاہی امام سید احمد بخاری یا کسی اور متعلقہ ذمہ دار نے کبھی بھی کانگریس حکومت یا سونیا گاندھی سے جاکر اس بات کی شکایت نہیں کی کہ ان کے گھر کے دروازے کے قریب ہی جو اردو میڈیم سرکاری اسکول ہے، اسے ختم کرکے اسے ہندی میڈیم اسکول میں تبدیل کرنے کی سازش کیوں چل رہی ہے اور اس طرح مسلم بچوں سے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے آئینی حق کو ان سے کیوں چھینا جا رہا ہے؟ اسی طرح لکھنؤ کے ندوۃ العلماء کے شیخ الحدیث اور اتحاد فرنٹ (ایکتا منچ) کے قائد مولانا سلمان حسنی ندوی نے بھی مغربی بنگال میں ممتا کی ترنمول کانگریس اور بہار میں نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، جب کہ دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کے سینئر لیڈر ستیش مشرا گزشتہ دنوں ندوۃ العلماء کے مہتم مولانا رابع حسنی ندوی سے ملاقات کرکے اور ان سے دعائیں حاصل کرکے کافی خوش نظر آ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کی مہاراشٹر یونٹ نے وہاں پر شرد پوار کی پارٹی این سی پی اور کانگریس پارٹی کے ساتھ ساتھ بعض پارلیمانی حلقوں میں عام آدمی پارٹی اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمود بھی بی ایس پی کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ظفر محمود نے بی ایس پی کو اپنی حمایت اس شرط کے ساتھ دی ہے کہ اقتدار میں آنے پر بی ایس پی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کو یقینی بنائے گی اور مسلم اکثریت والے ان تمام پارلیمانی حلقوں کو آزاد کرائے گی، جنہیں ڈی لمی ٹیشن قانون کے تحت ریزروڈ سیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، جس کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان ہیں، نے ملک بھر میں مسلمانوں سے عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو ووٹ دینے کے ساتھ ساتھ کیرالہ، آسام اور آندھرا پردیش میں وہاں کی مسلم پارٹیوں کو اور پھر یو پی میں بہوجن سماج پارٹی، مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس، بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی اور سی پی آئی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ عجیب و غریب صورت حال تو یہ بھی ہے کہ دہلی میں جماعت اسلامی ہند نے عام آدمی پارٹی اور مسلم مجلس مشاورت، جس میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے، نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی دونوں کو ہی ووٹ دینے کو کہا ہے۔ اس ضمن میں جب صدرِ مشاورت سے پریس کانفرنس میں ’چوتھی دنیا‘ کی جانب سے سوال کیا گیا، تو وہ کوئی واضح بات نہ کہہ سکے، جب کہ اس وقت جماعت کے دو اہم ذمہ داران – نائب امیر محمد جعفر اور سکریٹری محمد سلیم انجینئر موجود تھے۔ اسی طرح ان کے پاس اس بات کا بھی جواب نہیں تھا کہ کیرل کے ملاپورم میں صدر آئی یو ایم ایل، ای احمد کے خلاف ویلفیئر پارٹی، جس کے وہ خود نائب صدر ہیں، کی بھی کیا وہ مخالفت کریں گے اور سیکولر ؍ مسلم ووٹ کو تقسیم کرائیں گے؟ سوال یہ ہے کہ جہاں جہاں ان علاقائی پارٹیوں نے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں، وہاں وہاں کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کا ووٹ کیسے کوئی اثر ڈال پائے گا، جب یہ ووٹ پہلے ہی تقسیم ہو جائے گا۔ ان مسلم تنظیموں کے علاوہ مسلمانوں کے بڑے تعلیمی اداروں سے وابستہ مسلم دانشوروں نے بھی ملک کے مسلمانوں سے فرقہ پرست مودی اور ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف ووٹ کرنے اور سیکولر ذہنیت کے حامل ایسے ہر ایک سیکولر امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، جو بی جے پی امیدوار کو ہرانے کی حالت میں ہو۔ مثال کے طور پر نئی دہلی میں واقع مرکزی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ٹیچروں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، دوسری طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن اور دہلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج سے وابستہ اساتذہ نے بھی بی جے پی کے خلاف سیکولر امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ اب آئیے، دیکھتے ہیں کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کے بارے میں کیا وعدہ کیے گئے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور کے صفحہ نمبر 26-27 پر اقلیتوں سے متعلق 7 نکات کا ذکر کیا ہے، جن میں نئی بات کوئی نہیں ہے، بلکہ پرانی باتوں کو ہی دوہرایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اقلیتوں کے لیے اسکالرشپ اسکیم، ترجیحی شعبوں میں بینک کی طرف سے قرض کی فراہمی، وقف املاک کی دیکھ ریکھ کے لیے بہتر انتظامیہ، انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل کی ڈرافٹنگ، تعلیمی اداروں میں اقلیتوں کے لیے ریزرویشن، مولانا آزاد ایجوکیشن فنڈ اور ہنرمندی کے فروغ کی اسکیم اور سچر کمیٹی سفارشات کا نفاذ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اقلیتوں کی فلاح سے متعلق اسکیموں کو فروغ دینے میں کانگریس پارٹی دیگر پارٹیوں کے مقابلے سب سے آگے رہی ہے اور اسی کے دورِ حکومت میں (یعنی یو پی اے کے پہلے دور میں) ملک میں پہلی بار اقلیتی امور کی دیکھ بھال کے لیے الگ سے ایک نئی وزارت کی تشکیل کی گئی۔ ان سب کے درمیان اچھی بات یہ ہے کہ کانگریس پارٹی کو اپنی اُس کوتاہی کا احساس ہے، جو اس نے اقلیتوں کی متعدد فلاحی اسکیموں کو نافذ کرنے میں کی ہے، اس لیے اس نے آئندہ برسر اقتدار ہونے پر ان کوتاہیوں کو دور کرنے کا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بھروسہ دلایا ہے۔ ملک کی دوسری سب سے بڑی پارٹی، بی جے پی، جو اِس بار حکومت بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے، نے بھی کافی دیر سے جاری کیے گئے اپنے انتخابی منشور میں کانگریس کی طرح ہی مسلمانوں کے تعلق سے صفحہ نمبر 27 پر سات باتیں کہی ہیں۔ پہلی، بغیر کسی بھید بھاؤ یا تفریق کے نوجوانوں اور خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ دوسری، اقلیتی تعلیمی اداروں کو مضبوط اور جدید بنایا جائے گا اور نیشنل مدرسہ ماڈرنائزیشن پروگرام شروع کیا جائے گا۔ تیسری، چونکہ مسلمان خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لہٰذا ان کی زندگی کے معیار کو اوپر اٹھانے کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبہ میں انہیں سہولیات فراہم کرائی جائیں گی۔ چوتھی، ان کے روایتی ہنر اور صنعتی صلاحیت، جو کہ ہماری چھوٹی صنعتوں کی ریڑھ ہے، کو بہتر بازار مہیا کراکے مضبوط بنایا جائے گا۔ پانچویں، مذہبی رہنماؤں سے بات چیت کرکے وقف بورڈ کو اور مضبوط کیا جائے گا اور تاریخی مقامات کا تحفظ اور صحیح ڈھنگ سے ان کی نگرانی کی جائے گی۔چھٹی، پرامن اور محفوظ ماحول تیار کیا جائے گا، جہاں پر ان کا کسی قسم سے استحصال نہ ہوتا ہو۔ ساتویں، مذہبی رہنماؤں کی دیکھ ریکھ میں بین عقائد مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، تاکہ آپسی اعتماد و بھائی چارے کا ماحول بنا رہے۔ان سب کے درمیان سب سے زیادہ زور اقلیتوں کو ترقی کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے پر ہے، جس کی سفارش سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بھی کی گئی ہے اور یو پی اے حکومت اس سلسلے میں یکساں مواقع کمیشن (Equal Opportunity Commission) قائم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ لیکن، مسلمانوں کے لیے بی جے پی کی طرف سے کیے گئے ان وعدوں پر عام مسلمانوں کو یقین اس لیے نہیں ہو رہا ہے، کیوں کہ اسی مینی فیسٹو میں رام مندر کی تعمیر، یکساں سول کوڈ کا نفاذ اور دفعہ 370 کو ہٹانے کی بات بھی کہی گئی ہے، جس کی ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مذمت ہو رہی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کے بعد اِس بار کے لوک سبھا الیکشن میں پہلی بار ملک کی تیسری سب سے بڑی پارٹی بننے کے لیے جدوجہد کر رہی عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ 66 سالوں کے درمیان اس ملک میں ہونے والے انتخابات میں مسلمان بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے کانگریس کو اس لیے ووٹ دیتے رہے ہیں، کیو ںکہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا اور کانگریس نے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو پس ماندگی کے غار میں ڈھکیلے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سینکڑوں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، اسکولوں اور مدرسوں کی حالت خستہ ہوئی، بے بنیاد الزامات لگا کر مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیا گیا، وقف بورڈ میں بدعنوانی زوروں پر رہی، انہیں ریزرویشن کے فریب میں الجھایا گیا اور ناکارہ مائناریٹی کمیشن کا انہیں لالی پاپ دیا گیا۔ یہی نہیں، عام آدمی پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے مرکز میں لگاتار کانگریس کی قیادت میں بننے والی سرکاروں کے باوجود مسلم لگاتار خوف کے ماحول میں زندگی گزارتے رہے۔ ایسے میں عام آدمی پارٹی کا وعدہ ہے کہ وہ اگر اقتدار میں آئی، تو ملک سے فرقہ وارانہ تناؤ اور فسادات کا مکمل خاتمہ کرے گی اور مسلمانوں کو برابر کے حقوق دینے کے ساتھ ساتھ انہیں پورا تحفظ بھی فراہم کرے گی۔ اس تمہید کے بعد عام آدمی پارٹی کے مینی فیسٹو کے صفحہ نمبر 21 میں پانچ نکات کے تحت مسلمانوں کے مسائل کو حل کرانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پہلا، پولس کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے اور جھوٹے الزامات میں انہیں پھنسانے کا سلسلہ بند کرایا جائے گا۔ یہی نہیں، قصوروار پولس اہل کاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں سزا بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانونی اصلاحات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایسے معاملوں کا نمٹارہ عدالت کے ذریعے چھ ماہ کے اندر ہو جائے۔ دوسرا، غریبی کی وجہ سے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اپنے بچوں کو اچھے پرائیویٹ اسکولوں میں نہیں بھیج پاتا ہے، اس لیے سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے گا اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ کے وقت مسلم بچوں کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں برتا جائے۔ تیسرا، دلت مسلمانوں کو ریزرویشن اس لیے نہیں مل پا رہا ہے، کیوں کہ ریزرویشن سے متعلق پالیسیاں مذہب پر مبنی ہیں۔ عام آدمی پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریزرویشن صحیح معنوں میں پچھڑے لوگوں کو ہی ملنا چاہیے، جس میں مذہب کی کوئی قید نہیں ہونی چاہیے۔ چوتھا، تعلیمی سہولیات کی کمی اور روزگار کے وافر مواقع موجود نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان چھوٹے موٹے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں، یہ ایسا شعبہ ہے، جو پوری طرح سے منظم نہیں ہے۔ لہٰذا، اگر عام آدمی پارٹی اس غیر منظم شعبہ سے جڑے افراد بشمول مسلمانوں کو اقتصادی تحفظ فراہم کرائے گی۔ پانچواں، وقف املاک کو نوکرشاہوں کے کنٹرول اور انتظامیہ سے آزاد کراکر اسے مسلم قوم کے فائدے کی طرف موڑا جائے گا۔ یہ وعدے تو دیکھنے میں اچھے لگ رہے ہیں اور عام آدمی پارٹی پر اس وقت تنقید کرنے کا کوئی جواز یوں بھی نہیں ہے کہ وہ پہلی بار سیاست میں قدم رکھ رہی ہے۔ اس کے وعدے اور کاموں کا صحیح تجزیہ تو تبھی کیا جا سکتا ہے، جب وہ اقتدار میں آ جائے یا پھر اس کے امیدوار الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچیں۔ سماجوادی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پچھڑے لوگوں کو خاص موقع دیے جانے کے اصول پر یقین کرتی ہے۔ ویسے، یہ الگ بات ہے کہ اس نے اپنے ان وعدوں کو کبھی بھی پورا نہیں کیا ہے۔ جھوٹے وعدے کرنے میں ماہر سماجوادی پارٹی نے ایک بار پھر اپنے انتخابی منشور کے صفحہ نمبر 15-16 میں کہا ہے کہ ’’سماجوادی پارٹی کی سرکار مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے نوکریوں میں ریزرویشن دینے کی حمایت کرتی ہے اور اقتدار میں آنے پر وہ اس کے لیے آئین میں ضروری ترمیم کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہماری سرکار مسلمانوں کی گھنی آبادی والے ضلعوں میں اردو میڈیم اسکول کھولنے، پولس اور پی اے سی بھرتی میں 15 فیصد مسلمانوں کو نوکری دینے، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے فری کوچنگ کا انتظام کرنے اور دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں جیلوں میں بند بے قصور مسلمانوں کو رہا کرانے کا کام کرے گی۔‘‘ اس نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ ’’سماجوادی پارٹی سچر کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کرانے، نہایت پچھڑے اور دلت مسلمانوں کو درج فہرست ذات (ایس سی) میں شامل کرنے اور کسانوں کی قرض معافی کی طرز پر بنکروں کا ہتھ کرگھا اور پاورلوم کا بجلی کا بقایا بل معاف کرانے کا کام کرے گی۔‘‘ سماجوادی پارٹی یہ سارے وعدے مسلمانوں سے پہلے بھی کرتی رہی ہے، لیکن آج تک اس نے ان وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے۔ ایسے میں بھلا یہ کیسے یقین کر لیا جائے کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کو لے کر ایماندار ہے؟ مسلمانوں کی نئی سیاسی پارٹی کا پہلا مینی فیسٹو مسلمانوں کی ایک اپنی سیاسی پارٹی، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے بھی پہلی بار لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ اس کا ذکر کرنا ضروری اس لیے ہو جاتا ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح اس نے بھی اپنے مینی فیسٹو میں سرکار بنانے کی صورت میں داخلی اور خارجہ پالیسیاں کیا ہونی چاہئیں، ان سب کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ دینی تنظیم، جماعت اسلامی ہند کی پیش رفت سے 18 اپریل، 2011 کو بنائی جانے والی ویلفیئر پارٹی مسلمانوں کی ایک چھوٹی سیاسی پارٹی ہے، جو قدروں پر مبنی ویلفیئر اسٹیٹ (فلاحی مملکت) قائم کرنے کی بات کرتی ہے۔ اس نے لوک سبھا الیکشن کے لیے پہلی بار ملک کے مختلف مقامات سے اپنے کل 31 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ پارٹی نے 42 لوک سبھا سیٹوں والی ریاست آندھرا پردیش سے 5، بیس پارلیمانی سیٹوں والے کیرالہ سے پانچ، 48 سیٹوں والے مہاراشٹر سے دس، 42 سیٹوں والے مغربی بنگال سے 8 اور 80 پارلیمانی سیٹوں والی ریاست اتر پردیش سے صرف 3 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ کل 543 سیٹوں والی لوک سبھا کے لیے ہونے والے اس الیکشن میں 31 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو اتارنا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور نہ ہی ویلفیئر پارٹی کا ان میں سے کوئی امیدوار جیت درج کرنے کی پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔ لیکن ان سب کے برعکس، پارٹی نے گزشتہ 22 مارچ کو جاری کیے گئے اپنے پہلے ہی مینی فیسٹو میں چند اہم اور نئی باتیں ضرور کہی ہیں۔ سینکڑوں سیاسی پارٹیوں والے اس ملک میں ایک نئی پارٹی تشکیل دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ویلفیئر پارٹی کہتی ہے کہ ملک کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں آزادی کی چھ دہائی گزر جانے کے باوجود عوام کی آرزوؤں کو پورا کرنے میں تو ناکام رہیں ہی، انہوں نے شمولیتی جمہوریت (Inclusive Democracy)، تخلیقی سیکولر ازم (Creative Secularism) اور انسانیت پر مبنی ترقی (Humane Development) پر بھی ٹھیک ڈھنگ سے عمل نہیں کیا۔ ہم لوگ اب تک یو پی اے دورِ حکومت کے دوران شمولیتی ترقی (Inclusive Developmen) کی بات تو سنتے آئے ہیں، لیکن ویلفیئر پارٹی نے پہلی بار تین نئی اصطلاحات ایجاد کی ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں ہم نمائندگی عطا کرنے والی جمہوریت (Representative Democracy) اورشرکت کرنے والی جمہوریت (Participative Democracy) کی بات تو سنتے آئے ہیں، لیکن شمولیتی جمہوریت (Inclusive Democracy) کی اصطلاح ہمارے لیے نئی ہے۔ ویلفیئر پارٹی کا ماننا ہے کہ آزادی کی چھ دہائیوں بعد بھی ملک میں اقلیتوں، آدیواسیوں، دلتوں اور خواتین وغیرہ کو جمہوریت میں برابر کی حصہ داری نہیں ملی ہے۔ اس کا یہ ماننا ہے کہ ملک کے ان محروم طبقوں کو اس وقت تک با اختیار نہیں بنایا جا سکتا، جب تک انہیں سیاسی طور پر طاقتور نہ بنایا جائے۔ اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے مقصد سے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا وجود میں آئی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے، تو شمولیتی ترقی کی اصطلاح بھلے ہی پہلی بار استعمال کی گئی ہو، لیکن اس کا مقصد پہلے سے رائج دونوں اصطلاحات سے بھی پورا ہوتا ہے۔ دوسری اصطلاح ویلفیئر پارٹی نے تخلیقی (Creative) سیکولر ازم کے استعمال کی کی ہے، جس سے اس کی مراد کمیونل فاشزم کی مخالفت کرنا اور تمام مذاہب کے تئیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور غیر جانبدارانہ نظریہ کو فروغ دینا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے پارٹی کہتی ہے کہ حقیقی معنوں میں سیکولر بننے کے لیے اپنی مذہبی شناخت اور مذہبی عقائد کو چھوڑنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بھی انسان سیکولر بنا رہ سکتا ہے۔ لہٰذا، پارٹی نے اپنے مینی فیسٹو میں وعدہ کیا ہے کہ اگر اس کے امیدوار جیت کر پارلیمنٹ پہنچتے ہیں، تو ویلفیئر پارٹی کمیونل فاشزم، نصابی کتابوں کے بھگوا کرن اور بیوروکریسی کی فرقہ واریت کی مخالفت کرے گی اور ان تمام لوگوں کے خلاف قدم اٹھائے گی، جو مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے فرقہ وارانہ تشدد مخالف بل کو پارلیمنٹ سے پاس کراکے نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ تیسری اصطلاح اس نے انسانیت پر مبنی ترقی (Humane Development) کی استعمال کی ہے۔ اس کے تحت اس نے اقتصادیات، تعلیم، صحت، زراعت وغیرہ کے شعبوں میں سب کو ساتھ لے کر چلنے اور خاص کر ملک کے دبے کچلے افراد کو ان کا آئینی حق دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے انتخابی منشور کا زیادہ تر حصہ اسی اصطلاح پر مبنی ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ اقتصادی ترقی کا فائدہ سب سے پہلے ان لوگوں تک پہنچنا چاہیے، جو سب سے زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں اور جو اَب تک اس سے پوری طرح محروم رہے ہیں۔ اسی کے تحت، پارٹی نے سماج کے سب سے زیادہ امیر لوگوں پر ’سپر ٹیکس‘ لگانے کی بات پہلی بار کہی ہے اور کہا ہے کہ کارپوریٹ گھرانوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سرکار کی طرف سے کوئی بھی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ اقتصادیات کے زمرے میں ہی پارٹی نے یوروپی، ایشیائی اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرز پر ہندوستان میں بھی غیر سودی بینک شروع کرنے کی بات کہی ہے۔ساتھ ہی ویلفیئر پارٹی کوئلے اور خام لوہے کی کانوں کے پرائیویٹائزیشن کی مخالفت کرتی ہے۔ اپنی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی کہتی ہے کہ ملک میں ہر بچہ کے لیے بارہویں کلاس تک مفت، لازمی اور معیاری تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہیے اور تعلیم پر جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) کا 8 فیصد حصہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح پارٹی نے سچر کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہر طالب علم کو اخلاقی اور انسانی قدروں پر مبنی تعلیم دینے اور سماجی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے والے نصاب کو شروع کرنے کی بات کہی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسٹوڈنٹ یونین کا الیکشن ہمیشہ ہوتے رہنا چاہیے، جس سے ملک میں اچھے لیڈر پیدا ہو سکیں۔ روزگار کے معاملے میں پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک جیسے کام کی اجرت بھی ایک جیسی ہی ہونی چاہیے۔ اسی طرح زمین کے مسئلہ پر ویلفیئر پارٹی نے پہلی بار ملک میں ایک ’لینڈ بینک‘ تیار کرنے کی بات کہی ہے۔ یہ ایک نیا تصور ہے، جس کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ویلفیئر پارٹی نے کہا ہے کہ پہلے زمانے میں، جب راجا مہاراجاؤں کا دور تھا، اس وقت مذہبی رہنماؤں (پروہتوں) کو تحفے میں کئی ایکڑ زمین دے دی جاتی تھی، جنہیں ’بھودان‘ کہا جاتا ہے۔ ملک میں فی الوقت بھودان کی 25 لاکھ ایکڑ زمینیں ہیں، جن پر سرکاری عملے یا دیگر زمین مافیاؤں نے غیر قانونی قبضے کر رکھے ہیں۔ یہی حال ’پنچامی‘ زمینوں کا بھی ہے، جو انگریزی دورِ حکومت میں سب سے پچھڑے طبقہ، یعنی دلتوں میں تقسیم کی گئی تھی اور جن پر اب دوسرے لوگوں نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ اس وقت ملک میں 12 لاکھ ایکڑ پنچامی زمینیں ہیں۔ لہٰذا، ویلفیئر پارٹی کا کہنا ہے کہ ان ساری زمینوں کو غیر قانونی قبضے سے چھڑا کر انہیں ’لینڈ بینک‘ کے طور پر جمع کیا جانا چاہیے اور پھر سرکار کے ذریعے ضرورت مند افراد کی طرف سے درخواستیں منگاکر، ان زمینوں کو ان کے درمیان تقسیم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ویلفیئر پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ جن زمینوں کو سرکار نے یا غیر سرکاری اداروں یا افراد نے بطور رہن (لیز) اپنی تحویل میں لے رکھا ہے، ان کی مدت پوری ہونے کے بعد، اسے دوبارہ لیز پر نہیں دیا جانا چاہیے۔ وقف املاک کے معاملے میں بھی پارٹی کی سوچ کچھ ایسی ہی ہے۔ صحت سے متعلق پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے ویلفیئر پارٹی کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کا 6 فیصد حصہ صحت پر خرچ ہونا چاہیے، جن دواؤں پر بیرونی ممالک میں پابندی عائد ہے، انہیں ملک میں بیچنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے، بیرونی ممالک کے ذریعے بنائی گئی نئی دواؤں کا تجربہ ہندوستانی مریضوں پر نہیں ہونا چاہیے اور مناسب تعداد میں ملک بھر میں نئے میڈیکل کالجز کھولے جانے چاہئیں۔ زراعت کے شعبہ میں ویلفیئر پارٹی نے آرگینک کھیتی کو بڑھاوا دینے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ ملک میں ریلوے بورڈ کی طرز پر ہی ایک ایگریکلچرل بورڈ بھی قائم ہونا چاہیے، جو کاشت کاری سے متعلق امور کی دیکھ بھال کر سکے۔ ساتھ ہی پارٹی نے ملک میں ہر روز 46 کسانوں کی خودکشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے کی بات کہی ہے۔پینے کے پانی کو جو لوگ برباد کرتے ہیں، انہیں سخت سزا دینے اور ملک کی ندیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک ’نیشنل ریور پالیسی ‘ تیار کرنے پر پارٹی نے زور دیا ہے، جس کے تحت شمال مشرقی ہندوستان کے ان باشندوں کے مسائل کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو ہر سال سیلاب آنے کی وجہ سے بھاری تباہی کے شکار اور نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ویلفیئر پارٹی کے منشور میں دیگر باتیں تقریباً ویسی ہیں، جن کا ذکر دوسری سیاسی پارٹیوں کے منشور میں بھی شامل ہے، جیسے پولس رِفارم، رائٹ ٹو رِجیکٹ اور رائٹ ٹو ریکال جیسے انتخابی اصلاحات، انتخابات میں کالے دھن کے استعمال پر روک، گرام سبھا اور محلہ سبھا، آر ٹی آئی اور لوک پال کو مضبوط کرنے کی بات، ایس سی ؍ ایس ٹی، اقلیتوں اور خواتین کو با اختیار بنانے کی باتیں وغیرہ۔اس کے علاوہ ویلفیئر پارٹی ملک کی پہلی ایسی سیاسی پارٹی ہے، جس نے اپنے انتخابی منشور میں ملک بھر میں شراب پر مکمل پابندی لگانے کی بات کہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *