مولانا احمد بخاری پہلے گھر کی مخالفت کو سنبھالیں

ڈاکٹر وسیم راشد
الیکشن اور مسلمان، مسلمان اور الیکشن ، بی جے پی اور مسلمان، کانگریس اور مسلمان۔ الیکشن نزدیک آتے آتے بس یہی آوازیں چاروں طرف سے سنائی دینے لگتی ہیں، ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کو لبھانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف مسلمانوں کے نام کی ہاہا کار مچ جاتی ہے اور ایسے میں مسلم امیدوار تو اپنی جگہ، مسلم لیڈران بھی سیاست چمکانے میں لگ جاتے ہیں۔ لیڈران کو اچانک اردو اخبارات کے صحافی یاد آجاتے ہیں اور پھر ان صحافیوں کے ساتھ دو اور دو چار کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے دہلی میں راج ناتھ نے اپنے گھر پر اردو اخباروں کے صحافیوں سے بات چیت کی، پھر کانگریس نے مسلم صحافیوں کو ڈنر کر ایا اور پھر دہلی میں ڈاکٹر ہرش وردھن کو بھی اردو صحافی یاد آگئے، انھوں نے بھی اپنے گھر پر سب کو کھانے پر بلایا ۔ خود پیشانی پر تلک ،ہاتھ میں پیلا دھاگہ باندھے ہرش وردھن نے اعتراف کیا کہ وہ جس جگہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں یعنی چاندنی چوک سے، وہاں زیادہ تعداد اردو بولنے والوں کی ہے، اس لئے بی جے پی کے اس ڈاکٹر کو اردو اخبار اور صحافی یاد آ گئے ۔ یہ سب تماشہ چل ہی رہا تھا کہ احمد بخاری صاحب کو بھی اچانک سونیا گاندھی سے ملنا یاد آ گیا اور پھر وہی سب کچھہوا، مسلمانوں کے مسائل کا رونا رویا گیا ، ان کی پسماندگی ، ان کی کم مائیگی ، ان کی دلت سے بدتر حالت، سبھی پرامام صاحب کو بے حد ترس آیا اور انھوں نے مسلمانوں کے لئے کانگریس کو ووٹ دینے کی اپیل کرڈالی۔
میں خود دلّی کے دِل جامع مسجد کی رہنے والی ہوں۔ میری آنکھوں نے اس علاقہ میں نہ جانے کتنے انتخابات کے ہنگامے دیکھے ہیں۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے ، جب احمد بخاری صاحب کے والد ماجد عبد اللہ بخاری صاحب کی بھاری بھرکم آواز سے لوگ دہل جا یا کرتے تھے۔ مسجد کے منبر سے جب ان کی آواز بلند ہوتی تھی تو پورے علاقے پر سناٹا چھا جاتا تھا اور جامع مسجد کے بازار میںمٹیا محل تک لوگ جمع ہو کر عبد اللہ بخاری صاحب کا بیان سنتے تھے۔ متعدد بار اس علاقے میں کرفیو لگا، قوم کے نوجوان مارے گئے۔ پھر مسلمانوں کا اعتماد عبد اللہ بخاری صاحب پر کم ہونے لگا ، انہیں لگتا تھا کہ علاقے میں کرفیو کی وجہ امام صاحب کی تقریریں ہیں ، جو بے حد جذباتی ہوتی ہیں اور علاقے کے نوجوانوں کو اکساتی ہیں۔ ہماری گلی کبابیان میں ہر بار فساد ہونے پر کئی لاشیں آئیں اور ہماری آنکھوں کے سامنے ان نوجوانوں نے دم توڑ دیا۔
اس کے باوجود امام عبد اللہ بخاری صاحب کی بہت دھاک تھی۔ 1977میں جنتا پارٹی کی لہر تھی، مسلمانوں نے امام بخاری کے کہنے پر جنتا پارٹی کو ووٹ دیا۔ مسز اندرا گاندھی 1980میں بہت ہی مایوس تھیں، انھوں نے امام بخاری سے بات کی، امام صاحب نے اندرا گاندھی کے حق میں مسلمانوں کو ہموار کیا اور اس طرح مسز اندرا گاندھی جیت گئیں۔ ایسا نہیں کہ اس طرح ایک بار ہوا ہو۔ امام عبد اللہ بخاری جب تک حیات رہے، وہ مسلمانوں کے دلوں پر راج کرتے رہے۔ ایک طبقہ کے اختلاف کے باوجود مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا اور ان کے کہنے پر ووٹ دیتے رہے۔ امام احمد بخاری اپنی وہ دھاک، اپنی وہ پکڑ اور اپنا وہ اثر پیدا نہیں کر پائے۔ کبھی ملائم سنگھ کے ساتھ، کبھی مایاوتی کے ساتھ اور کبھی ممتا بنرجی کی حمایت نے ان کی بات کا اثر ختم کر دیا ۔ اور اب انھوں نے عام انتخابات کے لیے کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، اس کے ساتھ ہی مغربی بنگال میں ممتا بنر جی کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
احمد بخاری صاحب کی اپیل کی اپنے ہی گھر میں مخالفت شروع ہو گئی ہے، ان کے بھائی یحیٰ بخاری نے کانگریس کو سب سے زیادہ فرقہ پرستپارٹی قرار دے کر امام صاحب پر سخت تنقید کی ہے۔ کیسا المیہ ہے اس قوم کا کہ مسلمانوں کے ووٹ کی تقسیم کو بچانے کی فکر میں ہیں اور گھر کی تقسیم کی فکر نہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند میں چاچا بھتیجہ میں کشیدگی ہے اور احمد بخاری اور یحیٰ بخاری میں بھائی بھائی ہوتے ہوئے بھی فیصلوں میں ہم آہنگی نہیں ہے۔ایسے میں قوم کی کیا بھلائی کریں گے یہ لوگ اور کیا یہ مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم سے بچا پائیں گے؟ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ یحیٰ بخاری کہتے ہیں کہ وہ میرے بڑے بھائی ہیں، لیکن وہ اس طرح کی حرکت اکثر کرتے رہتے ہیں ، وہ کبھی ایس پی، کبھی ترنمول کانگریس اور کبھی بی ایس پی کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امام بخاری کے اس بیان سے جامع مسجد کا وقار کم ہوا ہے اور اگر یہی حال رہا تو جامع مسجد کی قیادت پر سے لوگوں کا بھروسہ بالکل ہی ختم ہو جائے گا۔
ایک بات تو یحیٰ بخاری کی سچ ہے کہ گزشتہ 30-35سالوں میں بے شمار فسادات کانگریس کے دور اقتدار میں ہی ہوئے ہیں۔ میرٹھ ،ملیانہ، بھاگلپور، سورت جیسے فرقہ وارانہ فسادات کانگریس کے دور میں ہی ہوئے ہیں۔ کانگریس نے جتنا مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے ، اتنا شاید ہی کسی پارٹی نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس نے نہ تو مسلمانوں کو ریزرویشن دیا اور دیا بھی تو مذاق کے طور پر اور نہ ہی مسلمانوں کو سیاسی حصے داری پوری طرح دی۔ پولس، فوج، ریلوے اور دیگر سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی تعدادبہت ہی کم ہے۔ حالانکہ اس میں ہماری اپنی بھی بہت کمیاں رہی ہیں۔ ہمارے لیڈران بس مودی کو کوستے رہے اور اس کے نام کی روٹی کھاتے رہے۔ ہمارے مذہبی لیڈران بس مودی کو گالیاں دینے میں لگے رہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہیں، ان سے بچا جائے ۔ بے شک مودی سے مسلمان شدید نفرت کرتے ہیں ،لیکن اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ آپ کی نبض کو ٹٹول کر آپ کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی و لیڈران، مودی کو گالیاں دے کر مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔دھیان رہے کہ مودی سے نفرت کرنے میں ہم اتنے آگے نہ نکل جائیں کہ ہمارا فائدہ اٹھا کر دوسری سیاسی پارٹیاں برسر اقتدار آ جائیں اور پھر سے ہم کو وہی کچھ دیکھنا پڑے۔
امام صاحب نے کہا کہ کبھی کبھی لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا بن جاتی ہے ۔ ہمارا امام صاحب سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے ، مگر امام صاحب کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ پہلے گھر کی مخالفت کا سدباب کریں، پھر قوم کی فکر کریں۔
ہمارے سیکولر ذہنیت رکھنے والے ہندو دوست افسوس کرتے ہیں ہماری قوم کے ایسے لیڈروں پر کہ دیکھو امام بخاری کی ان کے گھر میں ہی مخالفت ہو رہی ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ہنستے ہیں ۔
مسلمانوں کے لئے یہ یقینا لمحۂ فکریہ ہے، اللہ ہماری رہنمائی فرمائے ۔ آمین

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *