کیرالہ میں مسلم فیکٹر بہت اہم

اے یو آصف
p-3bریاست کیرالہ ہندوستان کی ایسی ریاست ہے جس کے رکن پارلیمنٹ کے پی دھن پالن کو 15 ویں لوک سبھا میں صد فیصد حاضری دینے کا فخر حاصل ہے۔ یوں تو کیرل کی لوک سبھا میں فی الوقت 20 سیٹیں ہیں جن میں کانگریس کی 13 ، سی پی ایم کی 4، انڈین یونین مسلم لیگ کی 2 ،اور کیرل کانگریس (ایم)کی ایک ہیں۔مگر یہ کیفیت بدلتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو سب سے زیادہ سیٹیں ملیں تو اس سے قبل 2004 میں اسے کوئی بھی سیٹ نہیں ملی تھی اور تب سی پی ایم کے ایک درجن نمائندے لوک سبھا پہنچے تھے۔اس وقت سی پی آئی کو 3 اور مسلم لیگ ، انڈین فیڈرل ٓڈیموکریٹک پارٹی، کیرالہ کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) کو بھی ایک ایک سیٹ ملی تھیں۔ اس سے بھی پہلے 1999 کے انتخابات میں کانگریس اور سی پی ایم دونوں کو 8-8 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس طرح عام طور پر اس ریاست میں ان دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان ہی اصل مقابلہ ہوتا ہے اور سیاسی صورتحال بدلتی رہتی ہے۔
پارلیمانی سطح پر مقابلہ کی یہ کیفیت ریاستی سطح پر اسمبلی انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی وہاں کانگریس تو کبھی سی پی ایم کی قیادت میں مخلوط حکومت بنتی ہے۔ ان دنوں بھی ریاست میں کانگریس قیادت والی مخلوط حکومت ہے اور وہاں اس کا مسلم لیگ سے اتحاد ہے جس کے اسمبلی میں ابھی 20 ارکان موجود ہیں۔ ریاستی سطح پر کانگریس کا مسلم لیگ سے اتحاد محض ریاستی حکومت ہی میں نہیں بلکہ 2004 اور 2009 میں مرکز میں کانگریس کی قیادت میں بنی مخلوط حکومت میں بھی رہا۔ تبھی مسلم لیگ کے ای احمد مرکز میں پہلے وزیر مملکت برائے امور خارجہ تو بعد میں وزیر مملکت برائے ریل رہے۔ 15ویں لوک سبھا میں کانگریس کے اہم ارکان اے کے انٹونی، کے سی وینو گوپال، ششی تھرور، سی پی ایم کے پی کروناکرن، ایم جی راجیش، پی کے بیجو اور اے سمپتھ اور مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر سے تو سبھی لوگ واقف ہیں۔ ماضی میں بھی یہاں کے وزیر دفاع وی کے کرشنا مینن اور کے کروناکرن کے علاوہ مسلم لیگ لیڈران ابراہیم سلیمان سیٹھ اور غلام محمود بنات والا نے پارلیمنٹ کی زینت بڑھائی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ 16 ویں لوک سبھا کے انتخابات میں کانگریس اور سی پی ایم کی لڑائی کیا رنگ لاتی ہے؟اس بار کون آگے نکلتا ہے؟اور ریاست کی 25فیصد مسلم آبادی میں خود ان کی اپنی پارٹیاں کیا گل کھلاتی ہیں؟
ہر بار کی طرح اس بار بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سی پی ایم جو کہ 2009 میں صرف 4 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر پائی تھی، اس بار اپنی کارکردگی کچھ بہتر کرے گی اور دوسری جانب کانگریس اور اس کی اتحادی مسلم لیگ کو گزشتہ بار کے مقابلے مایوسی ہاتھ لگے گی۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ ریاست کیرل میں مسلم صورتحال کیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ اس ریاست میں مسلم ووٹ کے رجحان میں ہمیشہ تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ مسلم لیگ نے جو کہ آزادی کے بعد اپنی تنظیم نو کے وقت سے مسلمانوں پر خاصہ اثر رکھتی تھی، نئی صدی کی پہلی دہائی میں زبردست جھٹکا کھایا ہے اور وہ مسلم ووٹ کے تعلق سے اب سہمی ہوئی ہے۔اسے 2004 کے انتخابات میںمنجیری اور 2006 میں کُٹّی پورم ، من کڈا میں بڑی مایوسی ہاتھ لگی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں حلقوں میں زبردست شکست کے بعد اس پارٹی نے مسلم ووٹ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرنا ہی بند کردیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ 2009 کے پارلیمانی اور 2011 کے اسمبلی انتخابات میں اس نے بہت محنت کی اور اپنے کیڈروں کو اس کام پر دن رات منظم انداز میں لگایا۔

ان تمام تفصیلات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس بار مسلم ووٹ مختلف سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہوگا اور کوئی بھی پارٹی یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اسے فلاں فلاں پارلیمانی حلقہ میں مسلم ووٹ پورے طور پر مل رہا ہے۔ دراصل 25 فیصد مسلم ووٹ بینک اس ریاست میں بہت اہم ہے۔ اسی پر منحصر کرتاہے کہ اس بار وہاں 20 پارلیمانی سیٹوں میں کانگریس یا سی پی ایم میں کون زیادہ سیٹیں لائے گا اور مسلم پارٹیوںمیں مسلم لیگ کے علاوہ دیگر کو بھی کتنی سیٹیں ملیں گی؟

اس بار ملا پورم میں اس نے ای احمد اور’چھوٹا مکہ‘ کہلانے والے پونّانی میں ای ٹی محمد بشیر کو بہت سوچ سمجھ کر ٹکٹ دیے ہیں۔ ان دونوں حلقوں میں 10 اپریل کو انتخابات ہورہے ہیں۔ اس بار جس تندہی اور عزم سے ان دونوں حلقوں میں یہ پارٹی محنت کررہی ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس بار یہ مسلم ووٹرس کو یونہی نہیں لے رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی ہند کی پیش رفت پر چند برسوں قبل بنی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے ملا پورم میں ای احمد کے خلاف اپنا ایک مضبوط امیدوار کھڑا کیا ہے۔ ویسے پونانی میں اس کا کوئی امیدوار کھڑا نہیں ہے۔ عیاں رہے کہ سی پی ایم کو منجیری میں 2004 میں اور منکا ڈا ، پت تیرور، پیسرین تھلمنا اور کٹی پورم میں 2006 میں زبردست کامیابی ملی تھی۔ یہ سب گھنی مسلم آبادی والے علاقے ہیں۔ سی پی ایم اپنی اس حیثیت کو اس بار کتنا بر قرار رکھ پائے گی، یہ تو آنے والا وقت ہی بتاپائے گا۔
مسلم لیگ کے صدر رہے اور بابری مسجد ایشو پر اختلاف کے بعد اس پارٹی کو چھوڑ کر ابراہیم سلیمان سیٹھ نے نئی پارٹی انڈین نیشنل لیگ بنائی تھی۔ یہ ابتدا سے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ساتھ تھی مگر حال میں اپوزیشن اتحاد میں کوئی برتھ نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہوکر اس نے اس سے رشتہ توڑ لیا ہے۔فی الوقت اس کے قومی صدر پروفیسر محمد سلیمان کانپوری ہیں۔
دیگر پارٹیوں میں ویلفیئر پارٹی کے علاوہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی ) ہے۔ یہ ہے تو نئی سیاسی پارٹی مگر یہ مسلمانوں میں اپنا گہرا اثر رکھنے لگی ہے۔ یہ مسلم لیگ کی یو ڈی ایف نواز اور انڈین نیشنل لیگ کی ایل ڈی ایف نواز پالیسی سے ہٹ کررائٹ -لیفٹ دونوں کی مخالفت میں آواز بلند کررہی ہے اور ایک مضبوط متبادل پیش کرنے کا دعویٰ بھی پیش کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے آگے بڑھنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ کا ووٹ بینک یہاں کمزور ہوگا۔
اب رہی بات سنی (بریلوی) گروپوں کی تو وہاں کا نتھا پورم اے پی ابوبکر مسلیار کی قیادت والے سنی گروپ نے 2004 کے پارلیمانی انتخابات میں منجیری میں مسلم لیگ کی شکست میں اہم رول ادا کیا تھا مگر اس بار وہ ایسا نہیں کرر ہی ہے اور اس کے اس طرز عمل سے مسلم لیگ خوش بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ای کے سنی گروپ جو کہ چیلاری سمستھا گروپ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کانتھا پورم گروپ کے مسلم لیگ سے دوستی کے سبب مسلم لیگ سے ناخوش ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں سنیوں کا ایک اور گروپ ہے جس کے لیڈر نجیب مولوی ہیں۔اسے انتخابی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جہاں تک سلفی یا مجاہد گروپوں کا معاملہ ہے، ان میں سے تمام مسلم لیگ سے ربط میں ہیں مگر عوامی سطح پر ووٹ کے تعلق سے موافقت یا مخالفت کا کوئی اعلان نہیں کرتے ہیں۔ ریاست میں مسلم ایجوکیشن سوسائٹی (ایم ای ایس) اور مسلم سروس سوسائٹی( ایم ایس ایس) نامی تعلیمی و فلاحی تنظیمیں بہت مقبول و فعال ہیں مگر وہ سیاسی طور پر کوئی اثر نہیں رکھتی ہیں۔ لہٰذا مسلم ووٹ پر وہ کوئی اثر ڈال بھی نہیں پائیں گی۔
ان تمام تفصیلات سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس بار مسلم ووٹ مختلف سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہوگا اور کوئی بھی پارٹی یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اسے فلاں فلاں پارلیمانی حلقہ میں مسلم ووٹ پورے طور پر مل رہا ہے۔ دراصل 25 فیصد مسلم ووٹ بینک اس ریاست میں بہت اہم ہے۔ اسی پر منحصر کرتاہے کہ اس بار وہاں 20 پارلیمانی سیٹوں میں کانگریس یا سی پی ایم میں کون زیادہ سیٹیں لائے گا اور مسلم پارٹیوںمیں مسلم لیگ کے علاوہ دیگر کو بھی کتنی سیٹیں ملیں گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *