کمال کا کھیل ہے 2014 کا الیکشن

سنتوش بھارتیہ
Mastمان لینا چاہیے کہ نریندر مودی ملک کے اگلے وزیر اعظم بنیں گے۔ جس طرح ان کی ریلیوں میں بھیڑ جمع ہو رہی ہے اور جس طرح کا ان کا پرچار چل رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ سارا ملک ان کے ساتھ ہے، بس تھوڑی سی کسر سروے رپورٹس بتا رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکیلے 170 سے 180 سیٹیں اور حلیفوں کے ساتھ این ڈی اے کی کل سیٹیں 220 سے 230۔ کوئی بھی سروے 230 سے آگے نریندر مودی کے این ڈی اے کو نہیں لے جا پا رہا ہے۔ دراصل، یہ این ڈی اے بی جے پی کا نہیں ہے، یہ نریندر مودی کا این ڈی اے ہے اور این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد بڑھتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ جو پارٹیاں این ڈی اے کے ساتھ جڑی ہیں، ان میں شو سینا اور اکالی دَل کو چھوڑ دیں، تو ایک یا دو سیٹیں بھی شاید ہی انہیں مل پائیں۔
اگر مودی وزیر اعظم بنتے ہیں اور مودی وزیر اعظم نہیں بنتے ہیں، تو ملک کیا منظر دیکھے گا، اس پر بات کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں لڑ رہی ہے، نریندر مودی لڑ رہے ہیں۔ اس الیکشن کی ایک بڑی خاصیت ہے کہ ملک میں دو شخصیتیں سامنے دکھائی دے رہی ہیں۔ نریندر مودی نے بی جے پی کی ساکھ صفر کر دی ہے اور ملک کے لوگوں کو یہ بتا دیا ہے کہ اگر بی جے پی الیکشن لڑتی، تو اس کی سیٹیں 100 سے 125 تک ہوتیں۔ نریندر مودی الیکشن لڑ رہے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیٹیں 170 سے 180 تک جا سکتی ہیں۔ اب تک بی جے پی کے پاس سب سے زیادہ سیٹیں 182 رہی ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی سب کچھ کرنے کے بعد یہ یقین نہیں دلا پا رہے ہیں کہ اکیلی بھارتیہ جنتا پارٹی 182 کی تعداد پار کر پائے گی یا نہیں۔ ہم اگر اس بات پر یقین کریں کہ بی جے پی 200 سیٹیں لے آتی ہے اور اس کی حلیف پارٹیاں 30 یا 35 سیٹیں لے آتی ہیں، تو بھی اس کے کل ساتھیوں کی تعداد 235 یا 240 سے آگے نہیں ہوتی۔ بچی ہوئی 40 سیٹیں بی جے پی کے لیے حاصل کرنا بہت بڑی ٹیڑھی کھیر نہیں ہے، لیکن ٹیڑھی کھیر ضرور ہے، کیوں کہ وہاں پر نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے پر ابھی تھوڑا تذبذب پیدا ہو سکتا ہے۔
پہلا سچ، بھارتیہ جنتا پارٹی کی جگہ نریندر مودی نام کا شخص، جو اپنے آپ میں ایک بڑی پارٹی بن گیا ہے، الیکشن لڑ رہا ہے اور یہ سارا کام نریندر مودی کی پرچار مشینری نے کیا ہے۔ نریندر مودی کی پرچار مشینری ’اب کی بار بھاجپا سرکار‘ کا نعرہ نہیں دے رہی، بلکہ ’اب کی بار مودی سرکار ‘ ، اس کا نعرہ دے رہی ہے۔ اس کا مطلب، اگر بھارتیہ جنتا پارٹی میں سیٹوں کی کسی بھی کمی کو لے کر یہ بحث چلتی ہے کہ نریندر مودی کی جگہ کوئی دوسرا وزیر اعظم بن جائے، جو موجودہ این ڈی اے کے ساتھیوں کے علاوہ لازمی حلیفوں کی ضرورت کی شرط پر کسی دوسرے کا نام بھارتیہ جنتا پارٹی قبول نہیں کرے گی۔
سر سنگھ چالک، یعنی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بات بی جے پی کے سبھی لیڈرو ںکو بتا دی ہے کہ اگر اکثریت این ڈی اے کی نہیں آتی ہے، تو وہ اکثریت لانے کے لیے نریندر مودی کی جگہ کسی دوسرے کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار نہیں تسلیم کریں گے۔ انہوں نے یہ صاف کر دیا ہے کہ اُس حالت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کرے گی، لیکن نریندر مودی کو وہ بدلنے کے بارے میں نہیں سوچے گی۔ دراصل، اس کے پیچھے سنگھ، یعنی آر ایس ایس کا ایک پرانا تصور ہے، جس کے بارے میں ہم لگاتار لکھتے رہے ہیں۔ سنگھ کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو لال کرشن اڈوانی، یشونت سنہا، شتروگھن سنہا، مرلی منوہر جوشی جیسوں سے آزاد ہونا ہوگا اور ایک نئی بی جے پی کی تشکیل کرنی ہوگی۔ پہلے انہوں نے اس کے لیے بیس سالہ پروگرام بنایا تھا، جس میں ان کا ماننا تھا کہ اس الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی اگر ہار جاتی ہے، تو ان سارے لوگوں کو قیادت کی قطار سے باہر دھکیل دیا جا سکتا ہے۔ اب ان کی دوسری حکمت عملی ہے کہ نریندر مودی کو سامنے رکھ کر یہ باقی لوگوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی سے الگ کر سکتے ہیں اور نریندر مودی کی قیادت میں ایک نئی لیڈرشپ پیدا کی جا سکتی ہے، جو آر ایس ایس کے خالص اصولوں میں بھروسہ کرتی ہو۔ سنگھ کے اس فیصلہ کے پیچھے یہ سچائی چھپی ہوئی ہے کہ اگر نریندر مودی کی جگہ کسی دوسرے کو قابل قبول ہونے کے اصول پر الیکشن کے بعد سرکار بنانے کے لیے لایا گیا، تو پارٹی ٹوٹ جائے گی اور پارٹی کا بڑا طبقہ، منتخب ہوکر آنے والے ممبرانِ پارلیمنٹ کا بڑا طبقہ نریندر مودی کے ساتھ چلا جائے گا، کیو ںکہ ہندوستان کے الیکشن کی تاریخ میں پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی ایسے الیکشن لڑ رہی ہے، گویا اسے خدائی اشارہ مل گیا ہو کہ نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے۔
نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کی ایک بنیادی شرط ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اکیلے 215 سیٹوں کے آس پاس جیتے اور اس کی حلیف پارٹیاں کم از کم 30-35 سیٹیں جیتیں، تب بچے ہوئے آزاد امیدواروں کو یا چھوٹی پارٹی، جو 20، 15، 30 سیٹیں لاتی ہیں، ان کی حمایت کریں، تب بھی انہیں معمولی اکثریت ہی ملتی ہے۔ یہاں یہ دھیان دینا چاہیے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کبھی بھی یہ مہم نہیں چلائی یا نریندر مودی نے یہ مہم نہیں چلائی کہ انہیں دو تہائی سیٹیں ملیں گی۔ اس مہم کے نہ چلانے کے پیچھے مجھے ایک خود اعتمادی کی کمی دکھائی دیتی ہے، جو یہ کہتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو 272 سیٹیں حلیفوں کے ساتھ لانے میں بھی شک ہے۔ اسی لیے انہوں نے عام اکثریت کی عدد 272 کا نعرہ دیا ہے۔ اب 272 سے ایک زیادہ ہونے پر سرکار بنتی ہے، تو 272 سے 100 زیادہ میں بھی سرکار بنتی ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اس نعرے کا استعمال نہیں کر پائی۔ شاید اپنی اسی تنظیم کی کمزوری اور خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے وہ یہ دعویٰ کر سکتی کہ اسے دو تہائی اکثریت اس بار ملے گی ہی ملے گی۔ جب یہ دعویٰ نہیں ہے، تو کیسی مودی کی لہر ہے، یہ سوال دماغ میں گھومتا ہے۔ یہ سوال نتیش کمار کی طرح کا سوال نہیں ہے، نہ یہ سوال کجریوال کی طرح کا سوال ہے۔ یہ سوال ایک خالص ہندوستانی سیاست کی صورتِ حال کے اندر سے پیدا ہونے والا سوال ہے۔
نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے، تو ملک میں ترقی ہوگی۔ یہ ترقی اچھی ہی ہونی چاہیے۔ گجرات میں جن لوگوں کو ترقی نہیں چاہیے، ان لوگوں کو ترقی کے دائرے سے باہر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کی بات ملک کے سامنے نہ میڈیا لے کر آیا ہے اور نہ دیگر لوگ لے کر آئے ہیں۔ لیکن، میں اس کو اس طرح سے دیکھتا ہوں کہ ملک کی ترقی بھی گجرات کی ترقی کی طرح ہوگی۔ جب ہم نریندر مودی کے ساتھیوں سے ملتے ہیں، تو ان کا یہ کہنا ہے کہ نریندر مودی چھ ماہ کے اندر کچھ اس طرح کا اعلان کریں گے، جس سے ملک کا مسلم سماج، جو آج ان کے ساتھ نہیں جانا چاہتا یا ایک بڑا طبقہ، جو نریندر مودی کے تئیں متعصب ہے یا نفرت کرتا ہے، وہ سارے لوگ نریندر مودی کے قائل ہو جائیں گے اور انہیں ان کا ساتھ دینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے۔
نریندر مودی کے ساتھیوں کا یہ قول یا ان کا یہ اعتماد اس ملک کے مستقبل کے لیے اچھا اشارہ ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا، تو کیا ہوگا؟ ابھی تک نریندر مودی، ان کے ترجمان امت شاہ یا ارون جیٹلی یا روی شنکر پرساد، کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ وہ ہندوستان کے دبے کچلے پچھڑے لوگوں کے لیے، جن میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے، ان کے لیے کوئی خاص پروگرام بنائیں گے۔ وہ یہ مان کر چل رہے ہیں کہ وہ جو ملک کے غریبوں کے لیے پروگرام بنائیں گے، اسی پروگرام میں ان کا بھی حصہ ہوگا۔ اس کی مثال روی شنکر پرساد دیتے ہیں کہ گجرات کے گاؤوں میں بجلی آتی ہے، تو مسلمانوں کو بھی بجلی ملتی ہے اور جب پینے کے پانی کا سوال آتا ہے، تو نرمدا کے پانی کی وجہ سے پانی کی سطح جتنی اوپر اٹھی ہے، اس سے مسلمان بھی پانی پیتے ہیں۔ یہ بات سننے میں اچھی لگتی ہے، لیکن اگر اسے ایک دوسرے طریقے سے دیکھیںکہ ایک گھر میں صحت مند بچہ ہے اور سوئے تغذیہ کا شکار ہے، تو کیاد ونوں کو ایک ہی طرح کا کھانا دیں گے، ایک ہی طرح کے رہن سہن کا انتظام کریں گے یا کسی کو ٹی بی ہو گئی ہے، اس کی بیماری کو دور کرنے کے لیے کیا اس کی طرف خاص دھیان نہیں دیا جانا چاہیے؟ یہ سوال بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے اہم نہیں ہے۔
مودی کے وزیر اعظم نہ بننے کے پیچھے کچھ وجہیں ہیں اور یہ وجہیں اہم ہیں۔ پہلی وجہ پارٹی کا اندرونی اختلاف ہے۔ پارٹی کے لیڈر یہ مانتے ہیں کہ پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ بہت اچھے حکمت ساز ہیں اور ان میں اور نریندر مودی میں ایک سمجھوتہ ہو گیا ہے کہ اس بار وزیر اعظم راجناتھ سنگھ بنیں گے، نریندر مودی گجرات کو سنبھالیں گے اور اگلی بار نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے۔ راجناتھ سنگھ سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ یہ خالص افواہ ہو سکتی ہے، لیکن جس طرح کا اخلاق شری راجناتھ سنگھ کا ہے اور جس طرح سے وہ حالات پیدا کرتے ہیں، اس کے بارے میں بی جے پی دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ افواہ حقیقت میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن اندرونی اختلاف صرف راجناتھ سنگھ اور نریندر مودی کا نہیں، اندرونی اختلاف پارٹی کے ان سبھی لوگوں کا ہے، جو مشترکہ قیادت میں یقین رکھتے ہیں۔ ابھی تک بھارتیہ جنتا پارٹی میں 2009 تک اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی اور جوشی جی کی مشترکہ قیادت چلی تھی۔ دھیرے دھیرے ان تین لوگوں سے بڑھ کر تعداد 9 تک پہنچی، جس میں ارون جیٹلی شامل تھے، سشما سوراج شامل تھیں، جسونت سنگھ شامل تھے، وینکیا نائڈو، اننت کمار جیسے سارے لوگ شامل تھے۔ اس کے نیچے کی بھی ایک سیڑھی تیار ہوئی تھی، جسے ہم تیسرے درجے کی قیادت کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اب نریندر مودی کے آنے سے اوپر کی ساری سیڑھیاں بے معنی ہوگئی ہیں اور نریندر مودی اکیلے پہلی، دوسری، تیسری قطار کے لیڈر بنء گئے ہیں۔ دوسری قطار کا اگر بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی لیڈر ہے، تو وہ امت شاہ ہیں۔ امت شاہ نریندر مودی کے وزیر داخلہ بننے والے ہیں۔ اس لیے مجھے یہ لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں جو نسل قیادت کی قطار سے باہر جا رہی ہے، وہ نسل اپنا آخری داؤ آزمائے گی اور نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے میں روڑا پیدا کرے گی۔
دوسری چیز، اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس 200 یا 220 یا 230 حلیفوں کے ساتھ سیٹیں آتی ہیں، تو پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کا اگلا حلیف کہاں سے آئے گا؟ حالانکہ حلیف ملنے میں کوئی دقت نہیں، کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ اتر پردیش میں جہاں سماجوادی پارٹی رہے گی، وہاں بہوجن سماج پارٹی نہیں رہے گی۔ تمل ناڈو میں جہاں کروناندھی رہیں گے، وہاں جے للتا نہیں رہیں گی۔ آندھرا میں جہاں چندر بابو رہیں گے، وہاں جگن موہن نہیں رہیں گے۔ بنگال میں جہاں کمیونسٹ رہیں گے، وہاں ممتا نہیں رہیں گی۔ بہار میں جہاں لالو رہیں گے، وہیں نتیش نہیں رہیں گے۔ حالانکہ، جن کے میں نام لے رہا ہوں، ان میں کس کو کتنی سیٹیں ملیں گی، ابھی نہیں کہا جا سکتا، لیکن موجودہ صورتِ حال میں یہ باہم حریف دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں نریندر مودی کو حلیف ملنا مشکل نہیں نظر آتا۔ لیکن، ان سب میں اگر مسلم ووٹ کوئی فیکٹر ہے، تو ممتا بنرجی کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ نریندر مودی کی کیسے حمایت کریں گی یا نتیش کمار نریندر مودی کی کیسے حمایت کریں گے؟ اتر پردیش میں ملائم سنگھ نریندر مودی کی کیسے حمایت کریں گے؟ لیکن بچی ہوئی سیٹوں کو لے کر بھی نریندر مودی سرکار بنا سکتے ہیں اور ان سارے اندرونی اختلافات پر قابو پا سکتے ہیں، اس میں کوئی شک و شبہ مجھے دکھائی نہیں دیتا ہے۔

نریندر مودی کے حق میں 18 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔ وہ ہر جگہ مودی مودی چلّا رہے ہیں۔ مودی نے بھی اپنے چناؤ پرچار کی شروعات دہلی کے شری رام کالج آف کامرس سے کی اور ان کی اس تقریر سے نوجوانوں کا ان کی طرف جھکاؤ بڑھا۔ حالانکہ یہ جھکاؤ راہل گاندھی کی طرف ہونا چاہیے، لیکن راہل گاندھی اپنی تقریر میں چونکہ نوجوانوں کے من میں کوئی امید نہیں جگا پا رہے ہیں، امید تو نریندر مودی بھی نہیں جگا پا رہے ہیں، لیکن نریندر مودی نے ایک چیز اسٹیبلش کی ہے کہ وہ انتظامی سطح پر، نظام کو چلانے کی سطح پر جتنی گڑبڑیاں ہوئی ہیں، ان گڑبڑیوں کو وہ ٹھیک کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہندوستان کے گاؤں میں مودی مودی اور خاص کر 18 سے 24 سال کے لڑکے اس الیکشن کو بالکل ویسے ہی لے رہے ہیں، جیسے کالج یونین کا الیکشن ہوتا ہے۔ یہ نریندر مودی کے لیے ایک بڑی امید ہے۔ حالانکہ سرکار بنانے کی حالت میں شاید نریندر مودی جی کی منظوری سے راجناتھ سنگھ نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی قصوروار پارٹی چھوڑ کر آتا ہے، اسے بی جے پی میں شامل کر لو۔ کانگریس سے آئے ہوئے، آر جے ڈی سے آئے ہوئے لوگوں کو انہوں نے رکھا بھی اور کچھ لوگوں کو رکھا بھی اور نکالا بھی۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ بی جے پی اپنی انتخابی مہم کو لے کر اس کے نتیجہ کو بہت یقینی نہیں سمجھتی، ورنہ وہ ایسے کسی بھی شخص کو اپنی پارٹی میں نہیں لیتی، جو ان کی پارٹی کا نہیں ہے یا کم از کم اس پارٹی کا ہے، جو اُن کی نظریاتی طور پر یا سیاسی طور پر بڑی دشمن رہی ہے اور ان میں کم از کم دو پارٹیوں کے نام تو لیے ہی جا سکتے ہیں، پہلی کانگریس کا، دوسری آر جے ڈی کا۔
نریندر مودی کے سامنے چنوتیاں ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ان کے لیے چنوتی ہے۔ سنگھ شاید ابھی چنوتی نہیں ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی سے باہر جو حلیف پارٹیاں الیکشن لڑ رہی ہیں، وہ بھی ان کے لیے کہیں نہ کہیں چنوتی ثابت ہوں گی۔ انہیں جس طرح سے اپنے مستقبل کے ساتھیوں سے رابطہ کرنا چاہیے، اس کی کوشش ضرور نریندر مودی نے شروع کردی ہوگی۔ لیکن جس ایک چیز نے اور شبہات پیدا کیے ہیں کہ اس بار الیکشن لڑنے کے لیے بی جے پی نے جتنے اداکاروں کو کھڑا کیا ہے، اتنے اداکار پہلے کبھی الیکشن میں کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ شاید اس کے پیچھے ایک وجہ اچھے امیدواروں کا نہ ہونا ہوسکتی ہے، لیکن دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس ملک کے لوگ اتنے بیوقوف ہیں کہ وہ کسی کو بھی ووٹ دے سکتے ہیں، جو ان کے یہاں کبھی آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ اس نے کام کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اس میں سمجھداری ہو یا سمجھداری نہ ہو۔ لوگ نہیں دیکھیں گے اور چونکہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یا کانگریس کا امیدوار ہے، اس لیے اس کو ووٹ دے دیں گے۔ یہ سمجھ نریندر مودی اور کانگریس دونوں میں ہے، لیکن اس سمجھ نے ہندوستان کے لوگوں کی اس ذہنیت کو ضرور اجاگر کیا ہے، جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو الیکشن کے وقت آسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ اب یہاں ملک کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ واقعی میں بیوقوف بن رہے ہیں یا بننا چاہتے ہیں۔ اگر بننا چاہتے ہیں، تو ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا اور اگر نہیں بننا چاہتے ہیں، تو یہ الیکشن ہندوستانی ووٹروں کے دماغ کا ایک سخت امتحان بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ نریندر مودی کے حق میں سب سے بڑی بات کانگریس پارٹی کا ڈھل مل رویہ ہے۔ کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کا سامنے کرنے کی تنظیمی طور پر کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ کانگریس پارٹی کے دو سرکردہ لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نریندر مودی یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندرونی اختلافات کو نہ سمجھ پائے اور نہ ہی اس کا فائدہ اٹھا پائے۔ ملک میں اچھی اسکیمیں کیسے بدعنوانی کو بڑھانے میں معاون ہوتی ہیں، اس کی کانگریس پارٹی نے سب سے اچھی مثال ملک کے سامنے رکھی ہے۔
نریندر مودی اور راہل گاندھی کے درمیان موازنہ کرنے میں لوگ نریندر مودی کو پسند کر رہے ہیں۔ اعلیٰ طبقہ تو یہ کہہ رہا ہے، جن میں بینکوں کے سینئر افسران، اقتصادی دنیا کے بڑے لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس ملک میں ایک ہٹلر جیسا شخص چاہیے، جو اس ملک کی اقتصادیات کو درست کر سکے اور ان کا اقتصادیات کو درست کرنے کا مطلب اس ملک میں بازار پر مبنی اقتصادیات کا پیر پھیلانا ہے، تاکہ اس کی مخالفت میں کوئی آواز نہ اٹھ سکے، جس کے لیے وہ نریندر مودی کو پوری طرح مناسب آدمی سمجھتے ہیں۔ اس لیے اعلیٰ متوسط طبقہ اور اعلیٰ طبقہ میں نریندر مودی کا نام ملک میں مستقبل کے کامیاب ایڈمنسٹریٹر کے روپ میں لیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کو یہ بچہ مانتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ملک تباہ ہو جائے گا، اگر راہل گاندھی ملک کے وزیر اعظم کے عہدہ پر آتے ہیں۔
میں نے روی شنکر پرساد سے پوچھا کہ آخر بی جے پی کب اکیلے سرکار بنانے کی بات کرے گی یا وہ حلیف پارٹیوں کی شرطوں پر ہی سرکار بنانے کا منصوبہ بناتی رہے گی؟ اس کا جواب روی شنکر پرساد نے گھوما پھرا کر دیا۔ میں نے یہ بھی پوچھا کہ کیوں ان دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نہیں، مودی سرکار کی بات ہو رہی ہے؟ کیا مودی بھارتیہ جنتا پارٹی سے بڑے ہو گئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں روی شنکر چپ رہے۔ میرا تیسرا سوال تھا کہ آج کے مسائل کیا اوپن نیو لبرل بازار پر مبنی نظام کی دین ہیں؟ موجودہ اقتصادیات کی وجہ سے بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی اور فرقہ واریت بڑھی ہے یا اس کی جڑ میں خراب سیاسی طریق کار رہا ہے۔ اس سوال کے اوپر بھی صاف جواب دینے سے روی شنکر بچ گئے۔ اقتصادیات کے سوال سے الگ میں نے ارون جیٹلی سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے اور انہیں کتنے ٹکٹ آپ کی پارٹی نے دیے ہیں؟ ارون جیٹلی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ مسلمانوں کو جیتنے لائق یا پارلیمنٹ میں بھیجنے لائق انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں مانتی، یہ اس الیکشن کے ٹکٹ کی تقسیم نے بتا دیا ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی بھی انہیں جیتنے کے لائق نہیں مانتی یا ان سے جو وعدے کرتی ہے، ان وعدوں کو پورا نہ کر پانے کی صورت میں معافی بھی نہیں مانگتی۔ یہ بھی اس الیکشن نے بتا دیا ہے۔ اس الیکشن میں سب سے بڑا اگر کوئی لوزر ہونے والا ہے، تو وہ اس ملک کا مسلمان ہے، جسے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ الیکشن میں کیا کرے۔ اور اسی لیے مسلمانوں کا ایک طبقہ نریندر مودی کی طرف بھی اپنی حمایت دینے کا من بنا رہا ہے اور باقی آپس میں مقامی سطح پر بھٹکتے دکھائی دے رہے ہیں۔
کانگریس کی کمزوری اور نریندر مودی کی جارحانہ انتخابی مہم کانگریس کے لیے مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ نریندر مودی کا پرچار اتنا زیادہ ہوا ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نرسمہا راؤ کا پرچار بھی کچھ اسی طریقے کا تھا، جب وہ 1996 کا الیکشن لڑ رہے تھے۔ اسی طرح اٹل بہاری واجپئی کی 2004 کی انتخابی مہم، جس میں اڈوانی کو پرائم منسٹر اِن ویٹنگ بتایا گیا تھا، وہ بھی کچھ اسی طرح کی انتخابی مہم تھی۔ کبھی کبھی ہوتا یہ ہے کہ جس طرح کا پرچار ہوتا ہے، ویسا بھروسہ خود پارٹی کرنے لگتی ہے اور پارٹی اسی کے اوپر اپنی شکست کی عبارت لکھنے لگتی ہے۔ کہانی ہم سب نے سنی ہے کچھوا اور خرگوش کی۔ یہ کچھوا اور خرگوش بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر بھی ہو سکتا ہے اور یہ کچھوا اور خرگوش ہندوستانی سیاست میں بھی ہو سکتا ہے کہ دوڑتا ہوا خرگوش، یعنی نریندر مودی سو جائیں اور کچھوا، راجناتھ سنگھ بازی مار لے جائیں یا سیاست میں خرگوش نریندر مودی سو جائیں اور کچھوا کانگریس اپنے حلیفوں کے ساتھ دھیرے دھیرے اکثریت کے نزدیک پہنچ جائے۔ ہندوستانی سیاست میں کمال کا کھیل ہے 2014 کا الیکشن، جس میں الیکشن کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ ممتا بنرجی، جے للتا، نوین پٹنائک یا نتیش کمار، ملائم سنگھ، مایاوتی جیسے لوگ الیکشن کے بعد کی سیاست میں ٹرمپ کا رول نبھائیں گے یا جوکر کے روپ میں اپنا جلوہ دکھائیں گے، لیکن پرچار میں تو نریندر مودی بادشاہ کے رول میں نظر آتے ہیں۔ اِکّے کے روپ میں اگر کوئی انہیں مات دے سکتا ہے، تو وہ اس ملک کے عوام ہیں اور اگر عوام بھی انہیں بادشاہ مان لیں، تو اِکّے کا رول تاش کے کھیل میں پوری طرح ختم ہو جاتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *