جموں و کشمیر انتخابات کے بیچ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتیں

محمد ہارون ریشی
p-8چودہ اپریل کی شام، جب لوگ طویل انتظار کے بعد ایک خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے اورہر سو زندگی کا سفر جوش و خروش کے ساتھ جاری تھا، سرینگر کے مضافاتی علاقے احمد نگر میں اچانک گولیوں کی گھن گرج شروع ہوگئی۔ طویل عرصے کے بعد شہر میں گولیوں کی آوازوں نے پہلے لوگوں کو ششدر کردیا اور اس کے بعد ہی بھاگم بھاگ شروع ہوگئی۔ چندگھنٹوں میں تفصیلات سامنے آگئی تھیں، جن کے مطابق فورسز نے ایک اطلاع ملنے پر احمد نگر کی بستی میں ایک مکان کو محاصرے میں لے لیاتھا اور مکان میں موجود جنگجوئوں نے اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ فورسز کی اضافی کمک منگائی گئی، جس نے گرد نواح کے ایک وسیع علاقے کو محصور کردیا۔ طرفین کے درمیان جھڑپ 20 گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر فورسز نے اعلان کیا کہ مکان کے اندر موجود لشکر طیبہ کے دو جنگجو مار گرائے گئے ہیں۔ فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں دو مکان تباہ ہوگئے۔ ایسا نہیں کہ یہ واقعہ کشمیریوں کے لیے کوئی غیر معمولی واقعہ ہے۔ گزشتہ 25 سال کے پر تشدد دور میں یہاں ایسے ہزاروں واقعات رونما ہوئے ہیں، لیکن متذکرہ واقع اس لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد شہر کے کسی علاقے میں اس طرح کی کوئی جھڑپ ہوئی ہے۔ احمد نگر سرینگر کے مرکزی علاقے، یعنی لال چوک سے محض 12 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر سرینگر میں جنگجو موجود ہیں۔ یقینا اس واقعہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کی نیندیں اڑادی ہوں گی، کیونکہ جنگجوئوں نے ایک ایسے وقت میں شہر میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے، جب پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔ سرینگر کے حلقہ انتخاب میں لوگ 30 اپریل کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے والے ہیں۔ حالانکہ ریاست میں انتخابات کے لیے سیکورٹی کے سخت ترین انتطامات کیے گئے ہیں۔ پولنگ عمل کے دوران کسی امکانی تشدد کو روکنے کے لیے سرحدی حفاظتی فورس، سینٹرل ریزرو پولس فورس اور سینٹرل انڈسٹرئیل سیکورٹی فورس کی 600 اضافی کمپنیاں ریاست میں تعینات کردی گئی ہیں۔ پر امن انتخابات کے انعقاد کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں نے امسال فروری میںایک مفصل سروے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ کو تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی۔ یہ رپورٹ ریاست کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مرتب کی گئی۔ رپورٹ تمام اضلاع کے سینئر پولیس افسران کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے تناظر میں مرتب کی گئی تھی۔ اس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے ریاست میں انتخابات کے دوران بھاری سیکورٹی تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ ریاستی پولس کے سربراہ اشوک پرشاد نے حال ہی میں ایک مقامی خبر رساں ایجنسی ’کشمیر نیوز سروس‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ انتخابات کا پر امن انعقاد ’’ایک بہت بڑا چیلنج ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے بیشتر پولنگ سٹیشن سیکورٹی لحاظ سے حساس قرار دیے جاچکے ہیں۔
احمد نگر واقعہ کے صرف ایک دن قبل، یعنی 13 اپریل کو جنگجوئوں نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر یاور مسعودی پر حملہ کیا۔ اس حملے میں اُن کے دو محافظین مارے گئے۔ دو دن بعد، یعنی 16 اپریل کو پلوامہ میں ہی جنگجوئوں نے ایک سابق میڈیکل آفیسر غلام قادر صوفی کو گولی مار کر بری طرح زخمی کردیا۔ 17 اپریل کو جنگجوئوں نے جنوبی کشمیر کے ہی ایک علاقے اونتی پورہ میں نیشنل کانفرنس سے وابستہ ایک سرپنچ محمد امین پنڈت کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں گزشتہ دنوں جنگجو تنظیم حزب المجاہدین سے منسوب پوسٹر لگے ہوئے دیکھے گئے، جن میں عوام کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ انتخابی سرگرمیوں سے دور رہیں۔
ملی ٹنسی کی کارروائیاں صرف وادی میں ہی نہیں، بلکہ جموں کے مختلف علاقوں میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ 28 مارچ کو جموں کے کھٹوعہ علاقے میں ایک خوفناک کارروائی میں ملی ٹینٹوں نے ایک سیکورٹی اہلکار سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ ان ہلاکتوں میں ملوث تین جنگجو اس کے بعد فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ تشدد کی حالیہ پے درپے وارداتیں اس بات کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ ریاست میں ملی ٹنسی ایک بار پھر سر ابھار رہی ہے۔
کیا یہ وارداتیں پارلیمانی انتخابات سے جڑی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ریاست کے انسپکٹر جنرل آف پولس مسٹر جی اے میر نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ ’’یہ صرف انتخابات کی وجہ سے نہیں ہورہا ہے۔ تشدد کی وارداتیں تویہاں کافی عرصے سے جاری ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں 27 ملی ٹنٹ مارے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا ہے کہ ملی ٹنسی مکمل طور ختم ہوگئی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں ملی ٹنٹس دبائو میں ہیں۔ ہمارا انفارمیشن نیٹ ورک بہت اثر دار ہے اور ہم اطلاع ملتے ہی ملی ٹینٹوں کو دبوچ لیتے ہیں۔ اس طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ملی ٹنسی کو قابو میں کرلیا ہے۔‘‘
مبصرین کی بڑی اکثریت بھی اس بات پر متفق ہے کہ ضروری نہیں کہ تشدد کی تازہ کارروائیاں انتخابات کی وجہ سے رونما ہورہی ہوں۔ تجزیہ نگار طارق علی میر کہتے ہیں کہ ’’یہ کہنا غلط ہوگا کہ ملی ٹنسی پھر شروع ہورہی ہے، کیونکہ ملی ٹنسی یہاں کبھی بند ہوئی ہی نہیں تھی۔ ملی ٹینٹوں کی کارروائیوں میں کمی یا اضافہ تو پچھلے 25 سال سے مسلسل ہوتا رہا ہے۔ اس طویل دور میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا، جب ہم یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوتے کہ یہاں ملی ٹنسی ختم ہوگئی ہے۔‘‘ طارق کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاست میں ملی ٹنسی کی وارداتیں بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ’’ہمیں دُنیا بھر کے دفاعی مبصرین کے اس خدشے کو یکسر مسترد یا نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ امسال افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد کچھ افغان لڑاکو جموں و کشمیرکا رخ کرسکتے ہیں، کیونکہ ماضی میں ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ غیر ملکی جنگجویہاں سرگرم رہے ہیں۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل گرمیت سنگھ نے بھی گزشتہ ماہ اپنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے اثرات جموں و کشمیر پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2014 میں افغانستان سے نیٹو افواج کے نکلتے ہی، وہاں فارغ ہونے والے جنگجوئوں کو ریاست میں دھکیلا جاسکتا ہے۔ شاید ان خدشات کو تحریک طالبان پاکستان کے لیڈر ولی الرحمان کی اُس دھمکی سے تقویت ملی ہے، جس میں انہوں نے جنگجوئوں کو کشمیر بھیجنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا تھا۔ یہ دھمکی رحمان نے گزشتہ سال اپنے ایک ایک ویڈیو پیغام میں دی تھی، جسے واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک نے ترجمہ کرنے کے بعد جاری کیا تھا۔
تو کیا ریاست ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں آنے والی ہے؟ اس سوال کے جواب میں سرکردہ علیحدگی پسند لیڈر نعیم احمد خان نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ ’’میرے خیال سے دائمی امن کے قیام کے لیے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ جوں جوں سیاسی حل کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں باورآور ثابت ہونے لگیں گی، ملی ٹنسی کا وجود خود بخود ختم ہوتا جائے گا۔ یہ تصور کرنا کہ مسلئے کولٹکائے رکھنے کے باوجود ملی ٹنسی ختم ہوجائے گی، خود فریبی ہوگی۔‘‘ نعیم احمد خان ان دنوں سید علی شاہ گیلانی، محمد یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ جیسے علیحدگی پسند لیڈران کے ہمراہ وادی کے مختلف علاقوں میں انتخابی بائیکاٹ کی مہم چلا رہے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ نے الیکشن بائیکاٹ کی مہم کو روکنے کے لیے ایک سو سے زائد مزاحمتی کارکنوں کو حراست میں لے رکھا ہے، جبکہ علیحدگی پسند لیڈران کو آئے دن ان کے گھروں میں نظر بند کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز یا فوج ریاست میں ملی ٹنسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی انہیں اس ضمن میں کامیابی ملنے کی کوئی امید نہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار مقبول ساحل کہتے ہیں کہ ’’ملی ٹنسی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ ملی ٹنسی کا تعلق اسلحے سے زیادہ افرادی قوت سے ہے اور افرادی قوت ایک مخصوص سوچ اور آئیڈیالوجی کے نتیجے میں آسانی سے میسر ہے۔ آپ چند سو یا چند ہزار ملی ٹینٹوں کو مار گرا سکتے ہیں، لیکن ایک مخصوص نظریے کو ختم کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے۔‘‘ ساحل نے مزید کہا کہ ’’دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ملی ٹنسی شروع ہوئی ہے، آسانی سے ختم نہیں ہوپائی ہے۔ اس ضمن میں ویت نام سے لے کر افغانستان اور چیچنیا تک درجنوں مثالوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ یہاں ملی ٹنسی کی کارروائیوں کو مکمل طور پر بند کرنا سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ممکن ہوگا۔ کشمیر میں ملی ٹنسی کی شروعات کے پس پردہ کچھ عوامل ہیں، تاریخی حقائق ہیں، ایک آئیڈیالوجی ہے۔ اس لیے ملی ٹنسی کی اصل وجہ کو ختم کیے بغیر، یعنی مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر یہ توقع رکھنا کہ ملی ٹنسی ختم ہوگی، ناممکنات میں ہے۔ اگر طاقت کے بل پر ملی ٹنسی کو ختم کرنا ممکن ہوتا، تو یہ کام یہاں تعینات لاکھوں کی تعداد میں فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے کب کا کر دیا ہوتا۔ آج جو کچھ بھی ہورہا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 25 سال میں ملی ٹینٹوں کے ساتھ نبرد آزما رہنے کے باوجود فوج اور فورسز ملی ٹنسی کا مکمل خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔‘‘
بہر حال، یہ ایک حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر ریاست میں صورتحال کسی بھی لحاظ سے پر امن قرار نہیں دی جاسکتی، بلکہ ملی ٹنسی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے ایک بار پھر یہ خدشات سر ابھار رہے ہیں کہ کہیں حالات پھر سے وہیں پر نہ پہنچ جائیں، جہاں یہ چند سال پہلے تھے۔ تاہم اس ضمن میں کوئی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی ہے۔ حالات کون سا رخ اختیار کرتے ہیں، یہ جاننے کے لیے آنے والے وقت کا انتظار کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *