انتخابی دور میں کتابوں کی سیاست

ڈالٹر قمر تبریز

سولہویں پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ اپنے شباب پر ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا انتخاب ہے، جس میں ملک کی دو بڑی پارٹیاں اتنی شدت سے باہم دست و گریباں نظر آ رہی ہیں۔ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کوجہاں عوام کو پچھلے دس سالوں کا حساب دینے میں پسینے چھوٹ رہے ہیں، وہیں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے گجرات کے جس ترقیاتی ماڈل کو لے کر اپنی انتخابی مہم کی شروعات کی تھی، وہ اب بڑی تیزی سے فرقہ واریت اور سطحیت کی جانب مائل نظر آ رہی ہے۔ کوبرا پوسٹ کے ’آپریشن جنم بھومی‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے میڈیا صلاح کار رہ چکے، سنجے بارو اور پھر وزارتِ کوئلہ میں سکریٹری کے عہدہ پر فائز رہ چکے آئی اے ایس افسر، پی سی پارکھ کی کتابوں نے سیاسی ماحول کو پوری طرح گرما دیا ہے۔ پارکھ کی کتاب کے منظر عام پر آنے کے دو ہفتے کے اندر ہی سی بی آئی نے کوئلہ گھوٹالے کی جانچ کے سلسلے میں ان سے سوال پوچھنے کے لیے انہیں اپنے دفتر میں طلب کر لیا ہے۔ ہندوستانی ووٹر پریشان ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ہندوستان کا مستقبل کیا ہونے والا ہے۔ کیا ملک اسی قسم کے جھگڑوں میں مبتلا رہے گا یا ملک کی تعمیر و ترقی کی بھی باتیں یہ سیاسی پارٹیاں کریں گی؟ آئیے، دیکھتے ہیں کہ آخر یہ کتابی سیاست ہے کیا ……

Mastاس انتخابی دورمیں جہاں میڈیا پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ مودی کی حمایت میں متحد نظر آر ہا ہے، وہیں دوسری طرف اب یو پی اے سرکار کے رکن رہے بعض اعلیٰ پایے کے افسران بھی کتابوں کی شکل میں بہت سے چونکانے والے انکشافات کر رہے ہیں۔ اس کی شروعات سب سے پہلے کوبرا پوسٹ کی طرف سے ’آپریشن جنم بھومی‘ نامی سی ڈی عوام کے سامنے پیش کرکے کی گئی تھی۔ اس میں کوبرا پوسٹ نے اپنے مختلف اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ایک منظم سازش کی تھی۔ اس نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی، جسے اس منظم سازش کا پردہ فاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسے اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے۔ جب کہ کوبرا پوسٹ نے اپنے اسٹنگ آپریشنز کے ذریعے ان تمام لوگوں کے نام اجاگر کیے، جو کہ بقول اس کے اس منظم سازش کا حصہ تھے اور جو کیمرے پر یہ بولتے ہوئے نظر آر ہے ہیں کہ کیسے ’لکشمن سینا‘ جیسی تنظیم بناکر انہیں باقاعدہ مسجد کو منہدم کرنے کی ٹریننگ دی گئی اور ناکام ہونے کی صورت میں ڈائنامائٹ اور پٹرول بم جیسی چیزوں کا استعمال کرنے کی بھی پلاننگ کی گئی تھی۔ اس سی ڈی کے منظر عام پر آنے کے بعد بی جے پی کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ یہ کانگریس کی سازش تھی اور اس سی ڈی کے ذریعے وہ بی جے پی کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ سی ڈی میں بتایا گیا ہے کہ کیسے وشو ہندو پریشد کے صدر اشوک سنگھل سمیت بی جے پی کے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ، ونے کٹیار اور آر ایس ایس کے آنجہانی سدرشن اور موجودہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے اس پوری سازش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور کیسے شو سینا سپریمو آنجہانی بال ٹھاکرے کے ساتھ ان سازش کرنے والوں نے لگاتار میٹنگیں کرکے بابری مسجد کو منہدم کرنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کی تھی۔ کوبرا پوسٹ کے ایڈیٹر انیرودھ بہل سے جب نامہ نگاروں نے اس سی ڈی کی ٹائمنگ پر سوال کیے، تو انہوں نے سیدھا سا جواب دیا کہ یہ ہر صحافی کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس عوام کو بتانے کے لیے کوئی سچی اسٹوری موجود ہے، تو وہ صرف اس لیے اس سچائی کو پیش کرنے سے نہ ہچکچائے کہ ملک میں انتخابات چل رہے ہیں، انتخابات تو آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن صحافی کا کام سچائی کو سامنے لانا ہے اور اسی لیے جب ’بابری مسجد‘ کے انہدام کی سازش سے متعلق ان کی اسٹوری پوری ہوگئی، تو انہوں نے الیکشن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے عوام کے سامنے لانا ضروری سمجھا۔ بابری مسجد کے انہدام پر کوبرا پوسٹ کے ذریعے یہ کوئی پہلا انکشاف نہیں تھا، بلکہ 1996 میں، یعنی اس افسوس ناک سانحہ کے چار سال بعد بھی 1992 میں، جس وقت مسجد شہید کی گئی، وزارتِ داخلہ میں یونین ہوم سکریٹری کے عہدہ پر فائز رہ چکے، آئی اے ایس افسر مادھو گاڈ بولے نے ’اَن فنِشڈ اِننگز‘ کے عنوان سے اپنی کتاب شائع کی تھی۔ بابری مسجد کو شہید کیے جانے کے بعد گاڈ بولے نے مارچ 1993 میں اپنے ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے 18 ماہ قبل ہی استعفیٰ دے دیا تھا اور پھر چار سال بعد اس پورے واقعے کے پیچھے کی سازش کا اپنی کتاب میں پردہ فاش کیا تھا۔

جس وقت ممتا بنرجی نے وزارتِ کوئلہ سنبھالی تھی، اس وقت کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) کے کارگزار چیئر مین کم منیجنگ ڈائرکٹر (سی ایم ڈی) ششی کمار تھے۔ ممتا نے عہدہ سنبھالتے ہی ششی کمار پر دباؤ ڈالا کہ وہ ترنمول کانگریس کے 50 کارکنوں کو بطور ٹرینی کمپنی میں ملازمت دیں۔ اس کے لیے سرکاری طور پر نہ تو کوئی اشتہار دیا گیا، نہ کوئی امتحان اور انٹرویو ہوا، بلکہ سیدھے سیدھے ان 50 ٹی ایم سی کارکنوں کی لسٹ ششی کمار کو ممتا کی طرف سے تھما دی گئی اور ان سب کو کول انڈیا لمیٹڈ میں بطور سیکورٹی گارڈ کے تعینات کر لیا گیا۔ حد تو یہ تھی کہ ترنمول کانگریس کے یہ کارکن ملازمت ملنے کے بعد بھی اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دیتے تھے، بلکہ صرف رجسٹر پر حاضری لگانے کے لیے دفتر میں پہنچتے تھے، اس کے بعد اپنی پارٹی کے کاموں میں مصروف ہو جاتے تھے۔

کوبرا پوسٹ کے اس انکشاف کے بعد کتابی سیاست کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے میڈیا صلاح کار رہے سنجے بارو کی کتاب ’دی ایکسی ڈینٹل پرائم منسٹر‘ منظر عام پر آئی، جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اپنے بیٹے راہل گاندھی کو آگے بڑھانے کے لیے منموہن سنگھ کو حاشیے پر ڈال دیا اور وزیر اعظم کو اپنے اچھے کاموں کا کبھی کریڈٹ لینے کا موقع ہی نہیں دیا۔ سنجے بارو نے اپنی کتاب میں سب سے پہلے وزیر اعظم کے دفتر، یعنی پی ایم او کے پرنسپل سکریٹری ٹی کے اے نائر اور جوائنٹ سکریٹری پلک چٹرجی کی نااہلیت اور صلاحیت و تجربہ کی کمی کا ذکر کیا ہے۔ بارو نے لکھا ہے کہ پرنسپل سکریٹری کے عہدہ کے نائر منموہن سنگھ کی پہلی پسند نہیں تھے، بلکہ وہ اندرکمار گجرال کے زمانے میں پرنسپل سکریٹری رہ چکے این این ووہرا کو اپنا پرنسپل سکریٹری بنانا چاہتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ این این ووہرا بھی منموہن سنگھ کی طرح ہی مغربی پاکستان (جو اب پاکستان میں ہے) سے تعلق رکھتے تھے اور دونوں نے ہی وہاں کی پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ لیکن دوسری طرف سونیا گاندھی تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر (جس کا نام بتانے سے سنجے بارو نے پرہیز کیا ہے) کو پرنسپل سکریٹری بنانا چاہتی تھیں، کیوں کہ وہ راجیو گاندھی کے ساتھ کام کر چکے تھے اور ایک ایماندار افسر تصور کیے جاتے تھے۔ لیکن انہوں نے سونیا گاندھی کی اس دعوت کو ٹھکرا دیا۔ دوسری طرف این این ووہرا نے بھی اس عہدہ کو قبول کرنے سے جب منع کردیا، تو مجبوراً منموہن سنگھ کو ٹی کے اے نائر کو اپنا پرنسپل سکریٹری بنانا پڑا، حالانکہ نائر کے پاس، بقول سنجے بارو، مرکزی وزارتِ داخلہ، مالیات یا وزارتِ دفاع میں بطور سکریٹری کام کرنے کا پہلے سے کوئی تجربہ نہیں تھا اور انہوں نے صرف گجرال کے پی ایم او میں چند دنوں کے لیے بطور سکریٹری اور اس سے پہلے پنجاب کے چیف سکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا۔ نائر کو اپنا پرنسپل سکریٹری بنانے کی وجہ منموہن سنگھ کی فیملی کے ہی ایک فرد کے ذریعے سفارش کرنا تھا۔اس کے بعد پلک چٹرجی کو پی ایم او کا جوائنٹ سکریٹری اس لیے بنایا گیا، کیوں کہ پہلے راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ بقول سنجے بارو، آئی اے ایس افسر پلک چٹرجی پر راجیو گاندھی کی نظر اس وقت پڑی تھی، جب وہ امیٹھی میں بطور ڈسٹرکٹ آفیسر کام کر رہے تھے، لیکن ان کے اندر بہت زیادہ صلاحیت نہیں تھی۔ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد پلک چٹرجی نے کچھ دنوں تک راجیو گاندھی فاؤنڈیشن میں کام کیا تھا اور ان کی پہچان ایک اچھے اور ایماندار افسر کے طور پر نہیں، بلکہ گاندھی فیملی کے قریبی ہونے کی وجہ سے تھی۔ سونیا گاندھی نے بعد میں پلک چٹرجی کو اپنے پرسنل اسٹاف میں اس وقت شامل کرلیا تھا، جب وہ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے دوران لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کی لیڈر ہوا کرتی تھیں۔سونیا گاندھی کی انھیں کرم فرمائیوں کی وجہ سے پلک چٹرجی کو منموہن سرکار میں جوائنٹ سکریٹری کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ لیکن یہیں پر، سنجے بارو سب سے چونکانے والی بات یہ کہتے ہیں کہ یہ پلک چٹرجی ہی تھے، جو ہر دن شام کو سونیا گاندھی کے پاس جاکر انہیں پی ایم او میں دن بھر ہونے والے کاموں کی تفصیل بتاتے تھے اور سونیا گاندھی سے یہ آرڈر لیتے تھے کہ کس فائل کو پاس کرنا ہے اور کس کو نہیں۔ سنجے بارو نے پی ایم او کے ان دونوں ہی اعلیٰ ترین افسروں میں صحیح وقت پر بولڈ فیصلہ لینے کی صلاحیت نہ ہونے کا الزام لگایا ہے، جو کہ یو پی اے سرکار کی ایک بڑی کمزوری تھی۔
دوسرا بڑا الزام سنجے بارو نے اپنی کتاب میں منموہن سنگھ پر یہ لگایا ہے کہ پروٹوکال کے حساب سے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہر روز دونوں انٹیلی جنس ایجنسیوں (آئی بی اور رائ) کے سربراہوں سے ملاقات کرکے اندرونی اور بیرونی سیکورٹی سے متعلق جانکاریاں حاصل کرنی چاہئیں، لیکن ایسا نہ کرنے والے وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں۔ اس کے برعکس قومی سلامتی کے صلاح کار ایم کے نارائنن ان دونوں ایجنسیوں کے سربراہوں سے ملاقات کرکے ان سے جانکاریاں حاصل کرتے تھے، یہ بات ان دونوں سربراہان کو ناگوار گزرتی تھی۔ ایم کے نارائنن دو سابق وزرائے اعظم راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کے دورِ حکومت میں انٹیلی جنس بیورو (آئی) کے ڈائرکٹر رہ چکے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب بھی کسی وزیر، سرکاری اہل کار، صحافیوں یا اس قسم کے دیگر با اثر افراد سے ملتے تھے، تو انہیں خوفزدہ کرنے کے لیے اکثر یہی جملہ بولتے تھے کہ ’میرے پاس آپ کے بارے میں ایک فائل موجود ہے‘۔ یہ جملہ ان لوگوں پر کتنا بھاری گزرتا ہوگا، اس کا اندازہ ہم بخوبی لگا سکتے ہیں۔
تیسرا الزام سنجے بارو نے منموہن سنگھ پر یہ لگایا ہے کہ وہ بذاتِ خود تو ایماندار تھے اور بدعنوانی سے پاک تھے، لیکن وہ اپنے دوسرے وزراء یا افسروں کو بدعنوانی کرنے سے نہیں روکتے تھے۔ بالفاظِ دیگر، وہ اپنے ساتھیوں کی بدعنوانی کو روکنا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے تھے، بلکہ چاہتے تھے کہ کانگریس پارٹی کی قیادت ان بدعنوان وزراء یا افسروں کے خلاف کارروائی کرے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ منموہن سنگھ کی سرکار میں ملک کے اب تک کے سب سے زیادہ گھوٹالے ہوئے، جس کا پردہ فاش یو پی اے -2 میں ہونا شروع ہوا اور آج حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سولہویں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے۔
چوتھی بڑی کمزوری منموہن سنگھ کی سنجے بارو نے یہ بتائی ہے کہ وہ اپنے کسی بھی بڑے کام کا کریڈٹ اپنے نام نہیں کرنا چاہتے تھے، بلکہ سونیا گاندھی سمیت کانگریس کے دوسرے بڑے لیڈر سارا کریڈٹ راہل گاندھی کو دے کر انہیں قومی منظرنامے میں لانا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں سنجے بارو نے ایک دلچسپ مثال پیش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’دیہی روزگار گارنٹی اسکیم‘ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس لیے لے کر آئے تھے، کیوں کہ 1980 کی دہائی میں جب وہ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین تھے، تو اس وقت انہوں نے مہاراشٹر امپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (ایم ای جی ایس) کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اور اس سے کافی متاثر ہوئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے مہاتما گاندھی نیشنل رورَل امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو پارلیمنٹ سے پاس کراکے پورے ملک میں نافذ کیا۔ سنجے بارو کہتے ہیں کہ اس کا سارا کریڈٹ منموہن سنگھ کو ملنا چاہیے…

لیکن احمد پٹیل جیسے سونیا گاندھی کے وفادار نے کیسے اس میں بے ایمانی کرکے اس کا کریڈٹ گاندھی فیملی کو دے دیا۔ پورا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنجے بارو کہتے ہیں کہ 26 ستمبر، 2007 کو راہل گاندھی (کانگریس پارٹی کا جنرل سکریٹری بننے کے کچھ ہی دنوں بعد) منموہن سنگھ کو ان کے یومِ پیدائش پر مبارکباد دینے کے لیے پارٹی کے تمام جنرل سکریٹریوں کے ساتھ وزیر اعظم کے گھر پر پہنچے۔ کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ لوگ پالیسی سے متعلق امور پر بات چیت کرنے لگے، تبھی سونیا گاندھی کے سیاسی صلاح کار احمد پٹیل اپنی سیٹ سے اٹھے اور سنجے بارو کو انہوں نے کاغذ پر لکھا ہوا ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے لیے آج یہاں سے یہی پریس ریلیز جانی چاہیے۔ اس بیان میں لکھا ہوا تھا کہ راہل گاندھی نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ نریگا (جس کا نام بعد میں منریگا پڑا)، کو ملک کے نہایت پس ماندہ 200 اضلاع سے بڑھا کر 500 دیہی اضلاع تک پھیلا دیں۔ بقول سنجے بارو، انہوں نے احمد پٹیل کے سامنے احتجاج درج کراتے ہوئے کہا کہ پی ایم او کا یہ طریقہ ہرگز نہیں ہے کہ وزیر اعظم سے ملنے آئے کسی شخص کی طرف سے کوئی بیان جاری کیا جائے، بلکہ اگر ایسا کرنا ہی ہے، تو وہ خود ہی پریس کے لیے ایک بیان ڈرافٹ کرکے جاری کریں گے اور چونکہ یہ بیان اچھا ہے، اس لیے اسے کانگریس پارٹی کے دفتر سے میڈیا کے لیے جاری ہونا چاہیے۔ سنجے بارو یہ بھی بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم ایک ماہ قبل ہی یومِ آزادی کی اپنی تقریر میں ملک کے عوام سے اس بات کا وعدہ کر چکے تھے کہ نریگا کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا، اس کے باوجود کانگریس پارٹی کی طرف سے اس کا کریڈٹ زبردستی راہل گاندھی کو دینے کی کوشش کی گئی۔ بعد میں خود منموہن سنگھ نے سنجے بارو کو ڈانٹ لگائی کہ وہ اس کا کریڈٹ اپنے نام نہیں کرنا چاہتے۔
اب بات کرتے ہیں دوسری کتاب کی۔ گزشتہ 14 اپریل کو ملک کے اب تک کے سب سے بڑے کوئلہ گھوٹالے کے سلسلے میں وزارتِ کوئلہ میں سکریٹری کے عہدہ پر فائز رہے آئی اے ایس آفیسر، پی سی پارکھ کی کتاب ’کروسیڈر آر کانسپی ریٹر‘ منظر عام پر آئی، جس میں یہ درد بیان کیا گیا کہ کیسے سیاسی لیڈر ملک کے ایماندار افسروں کا استحصال کرتے آئے ہیں اور اس طرح ملک کو بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پارکھ کی کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے اور اس کے دوسرے حصے میں کوئلہ گھوٹالے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ پی سی پارکھ نے وزارتِ کوئلہ کے سکریٹری کا عہدہ 2004 میں مارچ کے دوسرے ہفتہ میں سنبھالا تھا۔ اس وقت ملک میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار تھی، جس کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی تھے۔ اس وقت وزارتِ کوئلہ مغربی بنگال کی موجودہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سنبھال رہی تھیں۔ ممتا بنرجی کی سادہ طرزِ زندگی سے پارکھ بہت متاثر تھے اور سکریٹری بننے کے بعد جب وہ پہلی بار جب ان سے ملنے کے لیے کولکاتا پہنچے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ممتا بنرجی مرکزی وزیر ہوتے ہوئے بھی لووَر مڈل کلاس کی ایک بستی میں بنے ہوئے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں۔ لیکن بعد کے دنوں میں پارکھ کو پتہ چلا کہ ممتا کی یہ سادگی بھری زندگی صرف دکھاوا ہے، بطور وزیر بدعنوانی میں وہ بھی گلے تک ڈوبی ہوئی ہیں۔ ثبوت کے طور پر پی سی پارکھ نے اپنی کتاب میں دو مثالیں پیش کی ہیں۔ پہلی، جس وقت ممتا بنرجی نے وزارتِ کوئلہ سنبھالی تھی، اس وقت کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) کے کارگزار چیئر مین کم منیجنگ ڈائرکٹر (سی ایم ڈی) ششی کمار تھے۔ ممتا نے عہدہ سنبھالتے ہی ششی کمار پر دباؤ ڈالا کہ وہ ترنمول کانگریس کے 50 کارکنوں کو بطور ٹرینی کمپنی میں ملازمت دیں۔ اس کے لیے سرکاری طور پر نہ تو کوئی اشتہار دیا گیا، نہ کوئی امتحان اور انٹرویو ہوا، بلکہ سیدھے سیدھے ان 50 ٹی ایم سی کارکنوں کی لسٹ ششی کمار کو ممتا کی طرف سے تھما دی گئی اور ان سب کو کول انڈیا لمیٹڈ میں بطور سیکورٹی گارڈ کے تعینات کر لیا گیا۔ حد تو یہ تھی کہ ترنمول کانگریس کے یہ کارکن ملازمت ملنے کے بعد بھی اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دیتے تھے، بلکہ صرف رجسٹر پر حاضری لگانے کے لیے دفتر میں پہنچتے تھے، اس کے بعد اپنی پارٹی کے کاموں میں مصروف ہو جاتے تھے۔ پارکھ بتاتے ہیں کہ کول انڈیا میں اس وقت پہلے سے ہی حد سے زیادہ ملازم موجود تھے، جس کی وجہ سے سرکار نے نئی تقرریوں پر پابندی لگا رکھی تھی اور بہت سے ملازمین کو وی آر ایس (رضاکارانہ طور پر رِٹائرمنٹ) دے دیا تھا۔ اس کے باوجود، جب ٹی ایم سی کے کارکنوں کو بھرتی کرنے کی بات آئی، تو اس پابندی میں چھوٹ دے دی گئی۔
دوسرا بڑا گھوٹالہ ممتا بنرجی نے یہ کیا کہ انہوں نے سی آئی ایل کے سی ایم ڈی ششی کمار پر دباؤ ڈالا کہ وہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے ادا کریں، تاکہ کولکاتا میں ایک سپر اسپیشلٹی اسپتال کی تعمیر کی جا سکے۔ پی سی پارکھ کہتے ہیں کہ اس اسپتال کو بنانے کا کوئی جواز اس لیے نہیں تھا، کیوں کہ کول انڈیا ایک مائننگ کمپنی ہے اور اس کا کام اسپتال بنوانا نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ کولکاتا میں کول انڈیا کے ملازمین کی تعداد 0.25 فیصد سے بھی کم تھی، جب کہ جھارکھنڈ میں ان کی تعداد 50 فیصد سے زیادہ رہتی تھی، لہٰذا اگر اسپتال بنانا بھی تھا، تو اسے جھارکھنڈ میں بنایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ کولکاتا میں۔ لیکن ممتا کی ضد کے سامنے کسی کی نہیں چلی، یہ الگ بات ہے کہ چند ہی دنوں میں ملک میں اگلا لوک سبھا الیکشن ہوا، جس میں این ڈی اے کی ہار ہوئی اور اس طرح ممتا بنرجی کے ہاتھ سے وزارتِ کوئلہ بھی چھن گئی، جس کی وجہ سے یہ اسپتال نہیں بن سکا۔
پی سی پارکھ نے اپنی کتاب میں این ڈی اے دورِ حکومت میں وزارتِ کوئلہ میں وزیر مملکت کے عہدہ پر فائز رہ چکے بی جے پی کے پرہلاد سنگھ کی کارستانیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جس طرح ممتا بنرجی اپنا زیادہ تر وقت دہلی میں نہیں، بلکہ کولکاتا میں گزارتی تھیں، اسی طرح پرہلاد سنگھ بھی اپنا زیادہ تر وقت ناگپور میں گزارتے تھے۔ لہٰذا، اگر کسی فائل پر ان کے دستخط کی ضرورت ہوتی تھی، تو وہ فائل ان کا پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) ناگپور لے کر جاتا تھا۔ پارکھ کہتے ہیں کہ سرکاری ضابطوں کے مطابق، پی اے کو فائل لے جانے کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ نہیں دیا جاتا، بلکہ وہ ٹرین سے سفر کرتا ہے، لیکن پرہلاد سنگھ کے معاملے میں یہ بات الٹی تھی۔ ان کا پی اے ہر ہفتہ ہوائی سفر کے لیے ٹی اے بل ان کے پاس جمع کر دیتا تھا۔ شروع میں پی سی پارکھ نے دو بلوں پر تو دستخط کر دیے، لیکن تیسرا بل جب سامنے آیا، تو انہوں نے اسے روک دیا اور پی اے سے کہا کہ وہ ان ضروری فائلوں کی فہرست ان کے سامنے پیش کرے، جنہیں لے کر وہ پرہلاد سنگھ کے پاس ناگپور جانا چاہتا ہے۔ اس کے جواب میں پرہلاد سنگھ نے فائلوں پر برجستہ یہ عبارت لکھی کہ ’’اس قسم کا سوال کرنا سکریٹری کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے اور سکریٹری کو پی اے کے لیے ہوائی سفر کا انتظام کرنا ہی پڑے گا‘‘۔پی سی پارکھ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ پرہلاد سنگھ اکثر کوئلہ کمپنیوں کے کاروباری فیصلوں میں دخل اندازی کیا کرتے تھے اور ان کمپنیوں کے سی ایم ڈی پر دباؤ بناتے رہتے تھے۔
اس کے بعد پی سی پارکھ نے اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ ان تمام واقعات کو بیان کیا ہے، جو وزیراعظم کے وزیر کوئلہ رہتے ہوئے پیش آئے اور جس کی وجہ سے ملک کا اب تک کا سب سے بڑا کوئلہ گھوٹالہ رونما ہوا۔ پارکھ کہتے ہیں کہ یو پی اے حکومت کی تشکیل کے بعد بطور کوئلہ سکریٹری انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو پالیسی سے متعلق تین مشورے دیے: پہلا، کوئلہ سیکٹر کو کمرشیل مائننگ کے لیے کھول دیا جائے؛ دوسرا، کوئلہ بلاکوں کی تقسیم مقابلہ جاتی نیلامی کے ذریعے ہو اور تیسرا، ای – آکشن کے ذریعے کوئلہ کی مارکیٹنگ۔ پارکھ کہتے ہیں کہ منموہن سنگھ کو ان کے یہ تینوں ہی مشورے پسند آئے، لیکن وہ اس وقت یو پی اے سرکار کی حلیف لیفٹ پارٹیوں اور ٹریڈ یونینوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ تمام فیصلے لینے سے ہچکچا رہے تھے۔پی سی پارکھ یہاں پر افسوس جتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیفٹ پارٹیوں کی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم نے امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کی اور رٹیل میں ایف ڈی آئی کو منظوری بھی دی، لیکن کوئلہ سیکٹر میں در آئی بدعنوانی کو ختم کرنے اور اتنے قیمتی قدرتی وسیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی ترقی کی راہ کو ہموار کرنے سے گھبرا رہے تھے۔
دوسری وجہ پارکھ نے یہ بتائی ہے کہ خود وزیر اعظم کی کابینہ میں شامل دوسرے لیڈر اُن کی بات نہیں مانتے تھے اور وزیر اعظم کے ذریعے لیے گئے فیصلہ کی مخالفت شروع کر دیتے تھے۔ مثال کے طور پر پارکھ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 20 اگست، 2004 کو کوئلہ بلاکوں کی کھلی نیلامی کو منظوری دے دی، لیکن اسی وقت ان کے دفتر، یعنی پی ایم او سے انہیں مکتوب ملنے شروع ہو گئے کہ ایسا کرنے سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد بہت سے دوسرے ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے بھی پی سی پارکھ کو بہت سے ایسے مکتوب موصول ہوئے، جس میں کھلی نیلامی (اوپن بڈنگ) کی مخالفت کی گئی تھی۔ ان میں سے ایک نام نوین جندل کا بھی تھا، جو کول مائننگ میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی دکھا رہے تھے۔وزیر اعظم اور ان کے وزراء کے درمیان تال میل کی اسی کمی اور لیڈروں کی بدعنوانی کا ہی نتیجہ تھا کہ پی سی پارکھ کے ذریعے پی ایم او میں بھیجی گئی کسی بھی فائل کو وقت پر کلیئر نہیں کیا گیا اور ملک کے مفاد میں ان کی طرف سے دیے گئے تمام مشوروں کو درکنار کر دیا گیا۔ یہی نہیں، پی سی پارکھ وزارتِ کوئلہ میں ہونے والی بدعنوانیوں سے جب وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ لگاتار آگاہ کرنے لگے، تو خود دھنباد سے کانگریس کے ایم پی چندر شیکھر دوبے، جو کوئلہ اور کانوں کی پارلیمانی صلاح کار کمیٹی کے رکن بھی تھے، اپنے ذاتی مفادات کو بگڑتے ہوئے دیکھ وزیر اعظم سے پی سی پارکھ کو ہٹانے تک کی سفارش کرنے لگے۔ اخیر میں ان سب کا نتیجہ ہمارے سامنے کوئلہ گھوٹالے کی شکل میں آیا، جس کی سماعت سپریم کورٹ میں اب بھی چل رہی ہے اور فیصلہ کیا آئے گا، اس کا علم کسی کو نہیں ہے۔ البتہ، یہ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک کے جن ایماندار افسروں نے سرکار کو صحیح مشورے دیے، آج انہیں ہی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے اور سی بی آئی کے ذریعے انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسی لیے، جس وقت پی سی پارکھ کی کتاب کا اجرا میڈیا سے کھچاکھچ بھرے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہو رہا تھا، وہاں پر موجود ملک کے تقریباً سبھی سابق اور موجودہ ایماندار افسران پی سی پارکھ کی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے کہ انہوں نے سچائی پر مبنی اس کتاب کو لکھ کر بڑے حوصلے کا کام کیا ہے۔ یہی نہیں، اس وقت تقریب کے صدر کے طور پر موجود سپریم کورٹ کے سابق جج، جسٹس جی ایس سنگھوی نے میڈیا کو یہ صلاح دی کہ وہ اس پیغام کو پورے ملک میں پھیلائیں کہ ملک کے اصلی مالک یہاں کے عوام ہیں، جسے ہمارے آئین نے ‘We the People’ کہا ہے۔ جسٹس سنگھوی نے کہا کہ چاہے پارلیمنٹ میں عوام کی طرف سے چن کر بھیجے گئے نمائندے ہوں، عاملہ (ایگزیکٹو، یعنی ایڈمنسٹریٹو افسران) یا پھر عدلیہ، یہ تینوں ہی ’عوام کے نوکر‘ ہیں، لیکن بدقسمتی سے آزادی کے 65 سال گزر جانے کے بعد یہ تینوں ہی خود کو ’مالک‘ سمجھ بیٹھے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ملک بدعنوانی میں سب سے آگے کھڑا ہے اور ترقی کی تمام راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *