بہار: مودی ایک طرف باقی سب ایک ساتھ

اشرف استھانوی

بہار میں انتخابی عمل جیسے جیسے آگے بڑھتا جا رہا ہے، مختلف سیاسی پارٹیوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے یہ انتخاب سیکولر بنام غیر سیکولر یا یو پی اے بنام این ڈی اے نظر آرہا تھا، تو اب یہ انتخاب ’مودی بنام باقی تمام‘ ہوتا نظر آرہا ہے۔ سیکولر ووٹر جس قدر سیکولر پارٹیوں کے حق میں متحد ہو رہے ہیں، غیر سیکولر ووٹر اسی قدر بی جے پی کے حق میں متحد ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس صورت حال سے کچھ سیٹوں پر سیکولر پارٹیوں کو، تو کچھ دیگر سیٹوں پر بی جے پی کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

p-10انتخابی عمل کے آغاز میں اس بار حالات بدلے ہوئے تھے۔ بی جے پی، جے ڈی یو کے ساتھ 17 سال کی رفاقت ختم ہونے کے بعد پہلی بار تنہا انتخابی میدان میں اتر رہی تھی۔ شروع میں ایسا محسوس ہو ا کہ وہ اتحاد توڑنے کے لیے جنتا دل یو کو ذمہ دار قرار دے کر عوام کی مدد حاصل کر لے گی اور بس اتنا ہی سے اس کا کام چل جائے گا۔ لیکن بعد میں اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس سے کام نہیں چلے گا، تو اس نے بودھ گیا اور پٹنہ بم دھماکوں کا معاملہ شد و مد کے ساتھ اٹھاتے ہوئے نتیش حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی اور یہ ثابت کرنے میں مصروف ہو گئی کہ بی جے پی کے اقتدار سے ہٹتے ہی بہار میں سارا نظام درہم برہم ہو گیا ہے او ربہار ایک بار پھر جنگل راج کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ظاہر ہے کہ ان دونوں کوششوں کو حکمراں جنتا دل یو کی طرف سے ناکام بنانے کی بھر پو رکوشش ہوئی اور بی جے پی نے نتیش حکومت کے خلاف گرم ہوا سے بھرا جو غبارہ اچھالا تھا ، اس کی ہوا جلد ہی نتیش نے نکال دی۔ تب بی جے پی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ ٹھوس بنیاد کی تلاش میں جٹی ۔ لیکن اسے کوئی ٹھوس بنیاد نظر نہیں آئی۔ لے دے کر اس کے پاس ایک ’نمو نمو‘ کا جاپ تھا ، چنانچہ اس نے یہ جاپ شروع کر دیا۔ اور سارے ایشوز کو درکنار کرتے ہوئے صرف مودی کو ہی ایشو بنا لیا اور قومی و ریاستی سطح کے تمام مسائل کا حل نریندر مودی کو بتاتے ہوئے ’ہر ہر مودی او رگھر گھر مودی‘ کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ پہلے تو بہار کے عوام نے اس مقابلہ کو یوپی اے بنام این ڈی اے مانا، لیکن جس طرح یو پی اے میں بکھرائو ہوا اور مودی کے 2002 کے سیاہ کارناموں کو بنیاد بناتے ہوئے این ڈی اے سے الگ ہونے والے ایل جے پی سپریمو رام ولاس پاسوان نے دوبارہ نہ صرف این ڈی اے کا دامن تھاما، بلکہ مودی بھکتی میں پڑ کر خود بھی ’نمو نمو‘ کا جاپ شروع کر دیا اور کانگریس کا جنتا دل یو کے ساتھ اتحاد ہوتے ہوتے رک گیا۔ اس سے حالات یکسر بدل گئے اور مقابلہ یو پی اے بنام این ڈی اے نہ رہ کر سیکولر بنام غیر سیکولر بن گا۔ مودی اور بی جے پی کے خلاف کھڑے سارے لوگ سیکولر قرار پائے اور مودی کا ساتھ دینے والے غیر سیکولر شمار کیے جانے لگے۔
ادھر سیکولر طاقتوں میں سیکو لر ووٹوں کو ہتھیانے کے لیے جو آپا دھاپی مچی وہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں تھی۔ بہار میں کانگریس جب سے اقتدار سے محروم ہو ئی ہے ، بتدریج اس کی حالت خستہ ہی ہوتی جا رہی ہے۔ اپنی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اس نے کبھی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ یو پی اے ۔2 میں تو بہار بالکل ہی نظر انداز رہا۔ کانگریس نے مرکزی کابینہ میں بہار کو نمائندگی تک نہیں دی۔ ریاست کے لیے خصوصی درجہ ایک ایسا معاملہ تھا جس پر وہ بہار کے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتی تھی مگر اس معاملے میں بھی سیاست آگے ہو گئی اور کانگریس پیچھے رہ گئی۔ کانگریس فی الحال آر جے ڈی کے سہارے اپنی کھوئی ہوئی زمین تلاش کرنے میں جٹی ہے۔ این سی پی کا بہار میں کوئی قابل ذکر آدھار نہیں ہے۔ لے دے کر ایک کٹیہار کی سیٹ ہے جس پر ایک بار پھر این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری او رمرکزی وزیر مملکت طارق انور چنائو لڑ رہے ہیں۔اس طرح دیکھا جائے تو بہار میں یو پی اے لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل پر انحصار کر رہی ہے اور خود راشٹریہ جنتا دل کا المیہ یہ ہے کہ چارہ گھوٹالہ میں سزا سنائے جانے کے بعد پارٹی کے سپریمو لالو پرساد نہ صرف پارلیمنٹ کی رکنیت بلکہ چنائو لڑنے کے حق سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ پھر بھی آر جے ڈی کے لیے راحت کی بات یہ ہے کہ لالو لوک سبھا انتخاب سے ٹھیک پہلے ضمانت پر جیل سے رہا ہو چکے ہیں اور اب وہ خود پارٹی کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ وہ خود الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں مگر اپنے سپاہیوں کو حوصلہ دلا کر انہیں مضبوطی سے میدان میں ٹکے رہنے پر آمادہ کئے ہوئے ہیں۔
لالو نے جیل سے نکلتے ہی نریندر مودی پر حملہ شروع کر دیا۔ اور خود کو سیکولر ازم کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مودی اور بی جے پی کا مقابلہ بہار میں صرف وہی کر سکتے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جس طرح انہوں نے ماضی میں لال کرشن اڈوانی کا رتھ روکا تھا، اسی طرح وہ مودی کے بے لگام گھوڑے کو بھی روکیں گے اور بہار میں فرقہ پرست طاقتوں کو قدم نہیں جمانے دیں گے۔ نتیش کمار کو انہوں نے اس بنیاد پر ’نقلی سیکولر‘ بتایا کہ وہ 17 سال تک بی جے پی کے ساتھ رہے اور اسے سیاسی طور پر مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
لالو کو یہ غلط فہمی رہی کہ سیکولر ووٹر صرف انہیں ہی سیکولر مانتے ہیں ۔ اس لیے بی جے پی مخالف ووٹ تو صرف انہیں ہی ملیں گے۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس تھی۔ سیکولر ووٹر نتیش کمار او ران کی پارٹی جنتا دل یو کو بھی سیکولر مان کر چل رہے ہیں اور جس طریقے سے انہوں نے بی جے پی کو کنارے لگا کر اپنی حکومت کو دائو پر لگایا اس کے لیے سیکولر عوام خصوصاً مسلمان خود کو ان کا احسان مند مان رہے ہیں اور ان کی قربانی کا صلہ انہیں لوک سبھا انتخاب میں دینے کے لیے تیار ہیں۔
اس بات کا اندازہ ہو تے ہی نتیش کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ بی جے پی کو کنارے لگا کر اور مودی کو تنقید او رطنز کا نشانہ بنا کر انہوں نے سارے معرکے سر کر لیے ہیں اور اسی سے ان کا کام چل جائے گا اور بی جے پی کے ساتھ 17 سالہ رفاقت کا داغ بھی راتوں رات دُھل جائے گا۔ لیکن یہ سوچ حقیقت سے پَرے ثابت ہو رہی ہے۔ سیکولر ووٹرس کے دل میں اب بھی یہ بات کھٹک رہی ہے کہ نتیش نے ہی بی جے پی کو اس حد تک آگے پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں اس بات کا بھی خیال ہے کہ مودی کی مخالفت وہ فرقہ پرستی یا ان کے مسلم مخالف رویہ کے سبب کر رہے ہیں اور اس لیے بھی کر رہے ہیں، کیوں کہ ان کی حکومت کا موازنہ گجرات کی حکومت سے کیا جا رہا ہے اور اس لیے بھی کیوں کہ کہیں نہ کہیں ان کے دل میں بھی وزیر اعظم بننے کی تمنا انگڑائی لے رہی ہے۔ اس پر نتیش سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے بایا ںمحاذ کے چکر میںپڑ کر غیر بی جے پی اور غیر کانگریس کا نعرہ بلند کر دیا او رتیسرے مورچہ کی آئندہ حکومت کی وکالت شروع کردی۔ اس کے پیچھے ایک مصلحت یہ بھی رہی کہ اگر تیسرا مورچہ مضبوط ہو کر ابھرا اور وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ سامنے آیا تو شاید ان کے نام لاٹری نکل آئے ۔ مگر غیر بی جے پی اور کانگریس کے نعرے نے انہیں دوہرا نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ بی جے پی حامی لوگ تو ان سے دور ہوئے ہی کانگریس یا یوپی اے نواز لوگ بھی ان سے کھٹک گئے کہ یہ تو حکومت سازی کے مرحلے میں کانگریس یا یو پی اے کا ساتھ نہیں دیں گے تو پھر ان کی حمایت کیوں کی جائے؟ یہ تو تیسرے مورچہ کی بات کر رہے ہیں جس کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ کیوں کہ خود بایاں محاذ کا برا حال ہے۔ اسے مغربی بنگال میں بھی زمین تنگ ہوتی نظر آرہی ہے۔ اور موجودہ حالات میں بی جے پی کو روکنا اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔
ان حالات میں بہار کے سیکولر ووٹرس کو فطری طور پر یو پی اے ہی ایک مضبوط متبادل نظر آیا۔ ان کی یہ سونچ کسی حد تک صحیح بھی تھی کہ بی جے پی کو قومی سطح پر کانگریس یا یو پی اے ہی روک سکتی ہے۔ چنانچہ ان کا جھکائو راشٹریہ جنتا دل- کانگریس اتحاد کی طرف بھی ہوا۔ یہ صورت حال راشٹریہ جنتا دل اور اس کی حلیف کانگریس دونوں کے لیے بظاہر راحت اور اطمینان بخش تھی مگر اس کا دوسرا پہلو پریشان کن بھی ہے۔ کیوں کہ جیسے ہی سیکولر ووٹرس یا بی جے پی اور مودی مخالفین کا جھکائو آر جے ڈی – کانگریس اتحاد کی طرف ہوا ، مودی اور بی جے پی حامی ووٹروں کا پولرائزیشن بی جے پی یا این ڈی اے کے حق میں ہونے لگا۔
اس کا خدشہ مسلم دانشوروں نے اسی وقت ظاہر کر دیا تھا جب شاہی جامع مسجد دہلی کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ معاملہ مودی حامی بنام مودی مخالفین ہو گیا ہے۔ اب بات کسی پارٹی یا اتحاد کی نہیں بلکہ ایک فرد پر آکر ٹک گئی ہے او رموجودہ لوک سبھا انتخاب مودی بنام باقی تمام ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ بہار میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ کس کی کشتی طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ساحل پر پہنچے گی اور کس کی کشتی ساحل کے قریب پہنچ کر ڈوب جائے گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *