بنگلہ دیش میں ایمر جنسی جیسا ماحول

وسیم احمد

ابھی حال میں ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال سے ایک وفد بنگلہ دیش کی صورت حال کا جائزہ لینے ڈھاکہ گیا تھا۔ یہ وہاں ہندو اقلیت کے نمائندوں کے علاوہ مختلف سیاسی و سماجی لیڈروں کے ساتھ ساتھ عام آدمی سے بھی ملا۔اس وفد کا تأثر ہے کہ وہاں ان دنوں ایمرجینسی جیسی صورت حال پائی جاتی ہے اور جمہوری قدروں کو پامال کرکے رکھا گیا ہے۔اس وفد نے ’’ چوتھی دنیا‘‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ ہندوستان سے اس کٹھن گھڑی میں مثبت و تعمیر ی کردار کی توقع رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ جمہوری قدروں کو دبانے میں نہیں بلکہ انہیں بحال رکھنے میں اپنا مؤثر رول ادا کرے گا۔اس دو رکنی وفد میں ملی اتحاد پریشد و مسلم مجلس مشاورت مغربی بنگال کے صدر عبدالعزیز اور بنگالی صحافی و مصنف سکرتی رنجن بسواش شامل تھے۔

p-11ایک محاورہ بہت مشہور ہے کہ مصیبت کے وقت میں پڑوسی ہی کام آتا ہے ۔اس محاورے کی اہمیت ہر سطح پر ہے،چاہے انفرادی ہو ، اجتماعی ہو یا قومی ہو۔یہ اور بات ہے کہ قومی سطح پر ہم اس محاورے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہیں۔ تقریباً تمام ہی پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں۔پڑوس کے ملکوں میں سے کسی ملک کے ساتھ سرکاری طور پر اچھے تعلقات ہیں تو وہاں کے عوام ہم سے ناراض ہیں اور کہیں عوامی و سرکاری دونوں ہی سطحوں پر ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ ایسے ہی ملکوں میں ایک ملک بنگلہ دیش بھی ہے۔یہ ہمارا ایک ایسا پڑوسی ملک ہے جس کے 4092 اسکوائرکلو میٹر میں ہماری سرحدیں تین طرف سے ملی ہوئی ہیں۔سرحد کے اتنے بڑے دائرے میں ہم ایک ساتھ ہونے کے باوجود 54 ایسی انٹرنیشنل ندیاں جو ہندوستان سے بنگلہ دیش کی طرف بہہ کر جاتی ہیں ،ان پر ہمارا ختلاف چل رہا ہے۔ہم اس مسئلے کو حل نہیں کر پارہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری اقتصادی پالیسی بھی متاثر ہورہی ہے۔ ہمارے بیچ کل 5 بلین ڈالر کا کاروبار ہورہا ہے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کارو بار انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ پوری دنیا میں پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ 1990 کے بعد بنگلہ دیش کو اکسپورٹ کرنے میں صرف 9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ امپورٹ کا اوسط صرف 3 فیصد بڑھا ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو سفارتی رشتے ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود تجارتی سطح پر ہمارا رشتہ مضبوط نہیں ہواہے ۔ خاص طور پر حالیہ دنوں بنگلہ دیش کے عوام میں ہندوستان کے تئیں جو بد گمانی پیدا ہوئی ہے ،یہ بد گمانی ہمیں کئی طرح سے نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب سے حسینہ واجد نے اپوزیشن اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے عام انتخاب کو بائیکاٹ کرنے کے باوجود الیکشن کرایا اور نام نہاد جیت کا جشن منایا ،اس جیت کی پوری دنیا میں مذمت ہورہی ہے۔کیونکہ اس الیکشن کا واضح مطلب ہے جمہوریت کا خون۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اپنے ماضی کی روایتوں کے بر خلاف ہندوستان جمہوری تقاضوں کو نظر انداز کرکے حسینہ واجد کے ساتھ کھڑا ہے۔ رواں سال کے ماہِ جنوری میں بنگلہ دیش کے اندر ہوئے عام انتخابات کا سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے صرف 6 فیصد لوگوں نے ہی ووٹنگ کی تھی اور اس 6 فیصد میں سے صرف5 فیصد ووٹ حسینہ واجد کو ملے تھے۔مگر وہ اسی پانچ فیصد کو بنیاد بنا کر حکومت پر قابض ہوگئیں اور سیاسی پارٹیوں کی گرفتاری شروع کردیں۔جو بھی بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں جیسے جماعت اسلامی بنگلہ دیش، بی این پی اور اس کی ہمنوا پارٹیاں،ان کے لیڈروں کو گرفتار کرکے کرکے جیلوں میں قید کردیا گیا۔
اس وقت بنگلہ دیش کے50 ہزار سے زیادہ رہنما جیلوں میں بند ہیں ،جو باہر ہیں ان کو دیکھتے ہی گرفتار کر لیا جاتاہے۔جو ضمانت پر ہیں، ان کی نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جارہی ہے۔جماعت کے لٹریچر پر پابندی ہے۔یہاں تک کہ مولانا مودودیؒ کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کے پڑھنے پر بھی پابندی ہے۔جماعت کے سب سے بڑے لیڈر پروفیسر غلام اعظم اس وقت اسپتال میں ہیں اور ان پر پولیس پہرا دے رہی ہے۔جماعت اسلامی کے دفاتر بند پڑے ہیں۔اپوزیشن اجلاس کرنے سے گھبراتے ہیں۔ پورے بنگلہ دیش میں ایمرجیسنی کا ماحول بناہوا ہے۔
اگرچہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے مگر حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہر ایک کو اس بات پر آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے اور یوروپ کے کئی ممالک اس انتخاب کے خلاف آواز اٹھا بھی رہے ہیںمگر یہاں پر ہمیں جو بات کہنی ہے وہ یہ کہ ادھر کچھ برسوں میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں عجیب غریب تبدیلی آئی ہے۔ بنگلہ دیش حکومت کی ہر سفید سیاہ میں تائید کردی جاتی ہے ، اس پالیسی کی وجہ سے بنگلہ دیش کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ بھی ہورہا ہے ان تمام کے پیچھے ہندوستانی سیاست کام کررہی ہے۔
ابھی حال ہی میں ہندوستان سے کچھ تنظیموں کے رہنما جن میں کل ہند مجلس مشاورت مغربی بنگال اور ملی اتحاد پریشد کے سربراہ و بزرگ صحافی عبد العزیز کے علاوہ بنگلہ زبان کی کئی کتابوں کے مصنف اور صحافی سکرتی رنجن بسواس 6 روزہ بنگلہ دیش کے دورہ پر گئے اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں کے علاوہ عام آدمی سے بھی ملاقات کی۔ عام آدمی نے جو تاثر دیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ بنگلہ دیش کے عام آدمی سوچتے ہیں کہ حسینہ سرکار کو شہہ دینے میں حکومت ہند حصہ دار ہے۔ وہاں کے عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان کو چاہئے کہ حسینہ سرکار کی بند آنکھوں سے حمایت کرنے کے بجائے عوام سے رابطہ کرکے ان کے جذبوں کو سمجھنا چاہئے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی مخصوص پارٹی سے تعلق رکھنا اور اس پارٹی کی پالیسی کو فروغ دینے کے لئے ہر صحیح غلط میں ساتھ دینا جمہوری ملک کی شان کے خلاف ہے۔
ظاہر ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام میں یہ تاثر بلا وجہ پیدا نہیں ہوا ہے۔ کہیں نہ کہیں ہندوستان کی خارجہ پالیسی عوام کے جذبوں سے ہٹ کر سرکاری مشینری کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کررہی ہے،جس کی شکایت بنگلہ دیش کے عوام کررہے ہیں۔البتہ ہندوستان میں عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت بنگلہ دیش میں ہوئے یکطرفہ عام انتخاب کے بارے میں کیا رائے قائم کرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ البتہ عوام کو توقع ہے کہ نئی حکومت بنگلہ دیش کے غیر قانونی عام انتخابات کو مسترد قرار دے گی جیسا کہ یوروپ کے کئی ممالک نے اس طرح کے الیکشن کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔غالباً یہ خوف حسینہ سرکار کو بھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ابھی سے ہی سفارتی سطح پر یہ کوشش شروع کردی گئی ہے کہ ہندوستان میں بننے والی نئی سرکار کی پالیسی میں تبدیلی نہ ہو۔چنانچہ رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں بنگلہ دیش کے خارجہ سکریٹری شہید الحق ایک ہفتہ کے دورہ پر ہندوستان آئے۔جبکہ انہیں معلوم ہے کہ اس وقت یہاں کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہے اور کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوسکتا ۔اس کے باجوود ان کا ایک ہفتہ تک ہندوستان میں رکنا اور متعدد سیاسی شخصیتوں سے ملاقات کرنا اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ وہ نئی حکومت میں حسینہ واجد حکومت کے لئے راستے تلاش کررہے ہیں۔
بہر کیف بنگلہ دیش میں باضابطہ طور پر ایمر جینسی کااعلان تو نہیں کیا گیا ہے مگر ایمرجینسی نما ماحول بنا ہوا ہے۔عوام کا سہما سہما رہنا، جماعت اسلامی کا جمہوری حق دبانا ، اپوزیشن کا اپنا منہ بند رکھنا،جو بولے اسے جیلوں میں ڈال دینا۔ یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت دے رہی ہیں کہ بنگلہ دیش کی سیاست انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *