اعظم گڑ ھ ملائم کے لئے کتنا مضبوط گڑھ ؟

اجے کمار
p-8bسماجوادی پارٹی کا ہمیشہ مضبوط گڑھ مانا جانے والا اعظم گڑھ اس بار ملائم سنگھ کے لئے پیچیدہ ثابت ہورہا ہے۔سماج وادی پارٹی کا سماجی مساوات کا نعرہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ 20 فیصد یادو اور 25 فیصد مسلمانوں کے سہارے جیت کا خواب سجائے ملائم کے سامنے بی جے پی کے موجودہ ممبر پارلیمنٹ رما کانٹ یادو، علماء کونسل کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی کے پالے میں کھڑے 30 فیصد دلت اور 25 فیصد پچھڑے اور غیر یادو ووٹرس چیلنج بن کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی میں ڈر اتنا زیادہ ہے کہ ملائم سنگھ کی جیت کے لئے اکھلیش نے خود مورچہ سنبھال رکھا ہے۔
اعظم گڑھ میں سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے سامنے کچھ ویسی ہی مشکلیں آ رہی ہیں، جیسی مشکلوں سے وارانسی میں نریندر مودی کو دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ بھلے ہی ملائم حامی کہہ رہے ہوں کہ نیتا جی(ملائم سنگھ) یہاں کے لئے باہری امیدوار نہیں ہیں۔ لیکن مقامی لوگ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ملائم اعظم گڑھ کے بھی ہو سکتے ہیں۔ اعظم گڑھ اور مین پوری سے لوک سبھا الیکشن میں اتر رہے ملائم کے سامنے سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ کیا اگر وہ دونوں جگہ سے انتخاب جیتیں گے تو کیا اپنی پرانی مین پوری سیٹ چھوڑ کر یہاں کے ہوکر رہ جائیں گے؟یہی سوال مودی سے وارانسی اورودودرا کو لے کر پوچھا جاتا ہے۔
تمام ایشوز پر اعظم گڑھ میں غیر مطمئن دکھ رہے پارٹی کے پالیسی سازوں کے سامنے ایک مسئلہ سماج وادی پارٹی کا ایم وائی (مسلم -یادو) فارمولا یہاں نہ چل پانا بھی ہے، یہ فارمولا یہاں کسوٹی پر ہے۔ اعظم گڑھ کی سیٹ اس وقت بی جے پی کے پاس ہے اور اس کے ایم پی رما کانت یادو ہیں۔ رما کانت کی مقامی یادو برادری میں اچھی پکڑ ہے۔ رما کانت کی پہچان سماجی بالادستی کے لئے یادو -ٹھاکر لڑائی میں برادری کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہنے والے بھروسے مند لیڈر کی ہے۔ رما کانت اپنی جیت پکی کرنے کے لئے گھوم گھوم کر کہہ رہے ہیں کہ ملائم اعظم گڑھ کے عوام کا بھلا کرنے نہیں آئے ہیں۔ان کا مقصد صرف پروانچل میں بی جے پی اور نریندر مودی کو روکنا ہے۔انتخاب کے بعد وہ اعظم گڑھ کو بھول جائیں گے۔ اس سیاسی بساط کا اندازہ سماج وادی کے لیڈروں کا اعتماد بھانپ کر لگایا جاسکتا ہے۔سماج وادی پارٹی کے لیڈر یہاں یادوئوں سے زیادہ دھیان مسلمانوں کو منانے میں دے رہے ہیں۔
ایک طرف بی جے پی کے یادو امیدوار رما کانت سماج وادی پارٹی کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیںتو دوسری طرف علماء کونسل سماج وادی پارٹی کو اس کے دو برسوں کے دور اقتدار میں مظفر نگر سمیت تمام فسادات کو لے کر گھیر رہی ہے۔ علماء کونسل کا وجود 2008 میں ہوا تھا۔ اسکے پیچھے جو وجہ بتائی گئی تھی،وہ یہی ہے کہ اعظم گڑھ کو دہشت گردوں کا اڈہ بتائے جانے اور بٹلہ ہائوس واقعہ کے بعد مسلمانوں کا اعتماد کانگریس اور سماج وادی پارٹی سے اٹھ گیا تھا۔ 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں کونسل لکھنؤ ، کانپور، اعظم گڑھ ، جون پور، مچھلی شہر، لال گنج اور امبیڈکر نگر سے لوک سبھا انتخاب لڑی تھی۔تب بھی کونسل کی ناراضگی کانگریس اور سماج وادی سے تھی۔ آج بھی صورت حال یہی ہے۔علماء کونسل کے صدر عامر رشادی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اتر پردیش کا مسلمان ایک بار نریندر مودی کو معاف کر سکتا ہے، لیکن ملائم سنگھ کو نہیں،مسلمانوں کے حق میں مودی سے برے ہیں ملائم۔ وہ اپنی بات پر مہر لگانے کے لئے سپریم کورٹ کا وہ حکم بھی جوڑ دیتے ہیں، جس میں مظفر نگر فسادات کے لئے اکھلیش سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 2012 کے اسمبلی انتخاب میں ملائم سنگھ نے کئی وعدے کیے تھے، جس میں دہشت گرد کے فرضی معاملوں میں ضلعوں میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی ، سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشر کمیشن کی سفارشیں ریاست میں لاگو کرانے، سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کو 18 فیصد ریزرویشن دلانے جیسے وعدے اہم تھے۔ اسی لئے ریاست کے مسلمانوں نے اپنے ووٹ سماج وادی کی جھولی میںڈال دیے تھے۔ تلخی کا عالم یہ ہے کہ ناراض عامر رشادی اعظم گڑھ سے ملائم کے خلاف خود میدان میں اترنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ علماء کونسل کی جتنی ناراضگی سماج وادی پارٹی سے ہے، اتنی ہی کانگریس سے بھی۔ وہ دونوں پر مسلمانوں کا نقصان کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ 2009 میں جب ملائم سنگھ نے بابری مسجد انہدامی کارروائی کے ہیرو کلیان سنگھ سے ہاتھ ملایا تھا، تب بھی کئی مسلم مذہبی پیشوائوں نے سماج وادی پارٹی کو کوستے ہوئے اس سے کنارہ کر لیا تھا۔ سماج وادی پارٹی کا مسلم چہرہ مانے جانے والے اعظم خاں بھی اسی وجہ سے اس سے دور ہو گئے تھے۔ لیکن یہ دوستی زیادہ دنوں تک نہیں چل پائی۔ کلیان سے دور ہونے کے بعد ملائم سنگھ نے اپنے اس کردار پر مسلمانوں سے معافی تک مانگی تھی ۔لیکن کہتے ہیں کہ ایک بار گڑھ پڑ جائے تو پھر پڑ ہی جاتی ہے۔علماء کونسل نے تب بھی کلیان-ملائم کی دوستی پر زبردست ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
علماء کونسل ہی نہیں ، دیگر کئی مسلم تنظیموں کے رہنما بھی سماج وادی پارٹی سرکار اور پارٹی سپریمو کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں۔ اصل میں ووٹوں کی چاہت میں سماج وادی لیڈر وں نے مسلمانوں سے ایسے ایسے وعدے کر لئے تھے، جنہیں پورا کرنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس میں کئی وعدے تو قانوناً پورے نہیں کیے جا سکتے لیکن جب سیاست ملک اور ریاست کی بجائے قوموں کو خوش کرنے میں جٹ جاتی ہے تو اس طرح کا بکھیڑا کھڑاہونا فطری ہے۔ ہمارے لیڈروں کو یہ بات جس دن سمجھ میں آ جائے گی، اس دن وہ ایسے لوگوں سے چھٹکارا پا جائیں گے جو ووٹوں کا سودہ کرتے ہیں اور اپنی ذات برادرے کے ٹھیکہ دار بنیگھومتے ہیں۔ مسلمانوں کو خوش کرنے کے چکر میں سماجوادی پارٹی اپنے کئی سنگی ساتھیوں سے دور چلی گئی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری 2012 کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ تھے، لیکن اب وہ ملائم کے دشمن نمبر ایک ہیں ۔اتحاد ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خاںپچھلے اسمبلی انتخابات کے وقت سماج وادی پارٹی کے لئے ووٹ ڈلوا رہے تھے۔ خوش ہوکر سماج وادی سرکار نے انہیں لال بتی سے نوازا ، پھر بھی توقیر سماج وادی پارٹی سے دور ہو گئے۔ پہلے انہوں نے عام آدمی پارٹی کا ساتھ پکڑا ، اب وہ بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ ہیں۔
بہر حال بھلے ہی ایک طرف بی جے پی کے دبنگ امیدوار اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ رما کانت یادو سماج وادی سپریمو کے لئے مشکل کھڑی کر رہے ہیں اور دوسری طرف علماء کونسل کے لیڈر تال ٹھونک رہے ہوں،لیکن شہر کے باشندے عتیق احمد کہتے ہیں کہ ملائم کا قد بہت بڑا ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کی قابلیت والا لیڈر آج کی تاریخ میں یہاں نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ بات علماء کونسل کے خلل ڈالنے کی چلتی ہے، تو عتیق کہتے ہیں کہ 2009 میں بھی علماء کونسل میدان میں تھی،لیکن اسے ووٹ ملے صرف 60 ہزار کے قریب۔ ہاں وہ یہ ضرو ر زور دیتے ہیں کہ علما کونسل اگر میدان میں کودتی ہے تو اس کا فائدہ فرقہ پرست طاقتوں کو مل سکتا ہے۔جب انتخاب جیتنے کے بعد ملائم کے یہاں سے چلے جانے کی بات چھڑتی ہے تو سماج وادی پارٹی کے لیڈر صفائی دیتے ہیں کہ ایک تو ایسا ہوگا نہیں اور اگر ایسے حالات پیدا بھی ہوتے ہیںتو تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ ملائم اپنے چھوٹے بیٹے پرتیک کو یہاں کی ذمہ داری سونپ کر عوام کی جھولی مرادوں سے بھر دیں گے۔ فی الحال بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کی جنگ میں یہاں بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس پچھڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *