آخر دائوں پر تو عورت ہی لگی نا؟

ڈاکٹر وسیم راشد
دو اہم خبروں پر بات کرنے کی آج خواہش ہے۔ یہ میرے سامنے ایک چینل ہے ، جس پر عاصم وقار، ونود اگنی ہوتری، یحیٰ بخاری ، مہیش شرما نام کے چند اہم سماجی کارکن ملائم سنگھ یادو کے اس بیان پر بحث کر رہے ہیں، جو انھوں نے عصمت دری کے تعلق سے دیا ہے۔ اس پینل میں یحیٰ بخاری تو کافی دنوں سے خبروں میں ہیں، جب سے انھوں نے اپنے بڑے بھائی شاہی امام احمد بخاری کی مخالفت کانگریس کی حمایت کے خلاف کی ہے۔ ظاہر ہے ملائم سنگھ یادو کا یہ بیان کہ لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے تو کیا اس کی سزا پھانسی ہے، ایک نہایت ہی شرمناک بیان ہے۔ یہی نہیں ملائم سنگھ یادو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میری حکومت آئے گی تو ایسے قانون کو بدل دے گی۔
ملائم سنگھ یادو کے اس بیان سے چاروں طرف سے پھٹکار پڑ رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی سیاست کا بازار بھی گرم ہو گیا ہے۔ ملائم سنگھ یادو ویسے بھی مظفر نگر فساد کے بعد اپنا اور اپنی پارٹی کا وقار کھو چکے ہیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں گھر کرنے والے ملائم سنگھ نے مظفر نگر کے فساد میں مسلمانوں کے زخموں پر نہ تو کوئی مرہم لگایا نہ ہی ان کو معاوضہ ملا اور نہ ان کی بازآبادکاری کا کام ہوا۔ یوں مسلمان تو ان سے بے پناہ ناراض ہیں ہی مگر اب ان کے اس بے ہودہ بیان سے پورا ملک ہی شرمندہ ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے جس طرح آسانی سے کہہ دیا کہ لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے تو ان کو شاید 2012کی وہ معصوم پیرا میڈیکل کی طالبہ یاد نہیں رہی جس کی زانیوں نے اتنی بے رحمی سے عصمت دری کی کہ شیطان کو بھی شرم آ جائے۔ جس طرح6لڑکوں نے اس کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کیا اور جس طرح لوہے کی راڈ اس بدنصیب کے اندر ڈال کر بری طرح گود ڈالا ۔ وہ اس قدر دردناک ، شرمناک، اذیت ناک اور ہیبت ناک ہے کہ جس کہ تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جنسی عمل کسی بھی عمر کی لڑکیوں سے کیا جائے اور کتنی ہی راضی و رضا سے کیا جائے وہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ بجا کہ زبردستی کر کے 6لوگوں کا بربربیت کا مظاہرہ کرنا اور اس لڑکی کا مر جانا یہ سب ملائم سنگھ کو یاد دلانا چاہئے تھا۔ ملائم سنگھ یادو نے ایک طرح سے ان 5زانیوں کا بھی جن میں سے ایک خودکشی کر کے مر چکا ہے حوصلہ بڑھا دیا یہ کہہ کر کہ لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے۔ ملائم سنگھ سے بے حد ادب سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ لڑکوں سے جوانی کے جوش میں بے شک غلطی ہو جاتی ہے مگر اس غلطی میں اور درندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے اور اس پر اگر ان کا پھانسی کی سزا نہیں دی جائے گی تو ہمارے ملک میں بہو بیٹیاں کبھی بھی سلامت نہیں رہ پائیں گی۔ ہر زانی کا حوصلہ بڑھے گا جس طرح نربھیا کیس میں نابالغ کو جوینائل کورٹ نے صرف 3سال کی سزا سنائی وہ بھی سدھار گرہ میں رکھ کر۔ یعنی جو سب سے زیادہ ظالم اور درندہ تھا وہی سب سے پہلے بچ گیا۔ باقی 4کو پھانسی پر بھی ابھی کوئی پوری طرح فیصلہ نہیں آیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ چونکہ بے حد الگ قسم کا ، بے حد خطرناک اور دردناک کیس تھا ۔ اس میں فوراً پھانسی کی سزا ہونی چاہئے تھی۔ ایسے درندوں کو تو انڈیا گیٹ پر سر عام پھانسی دے دینی چاہئے تھی تاکہ آئندہ ملک میں ایسے واقعات نہ ہوتے۔ مگر اس کے بعد لگاتار عصمت دری کے واقعات ہوتے رہے اور 5ماہ کی بچی سے 50سال تک کی عورت اور یہاں تک کہ 70سال تک کی عورت کی عصمت دری کی گئی۔ یہ ہوا فیصلہ میں دیر ہونے سے۔
ممبئی کی عدالت نے شکتی مل عصمت دری کے معاملہ میں جن تین مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے، یہ بھی بے حد دردناک کیس تھا۔ قابل مبارکباد ہے ممبئی کی عدالت۔ جس نے تینوں مجرموں کو لڑکی کے زندہ رہتے ہوئے دفعہ 376ای کے تحت پھانسی کی سزا دی۔
حالانکہ پھانسی کی مخالفت کرنے والوں کی بات ایک حد تک صحیح ہے کہ اگر متاثرہ زندہ ہے تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اور لڑکوں کے گھر والے بدلے کی نیت سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ایک اور جواز بھی اہم ہے کہ اگر مجرموں کو پھانسی ہونے لگے گی تو وہ لڑکی کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیں گے تاکہ ثبوت ہی نہیں رہے مگر میں دوسری بات کہتی ہوں کہ اگر سزا سخت ہوگی تو اس کے خوف سے کوئی بھی ریپ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ ایک بار صرف ایک بار ہمیں پہل کرنا ہوگی تاکہ ہماری اس پہل سے بدلائو آئے۔
ملائم سنگھ کے اس بیان سے یقینا نوجوانوں کو شہہ ملے گی اور اس طرح پھانسی کی سزا کی اہمیت کم ہوگی۔
دوسری بات جو میں اپنے اس اداریہ کے ذریعہ کرنا چاہتی تھی وہ ہے مودی کے اس حلف نامہ کی جس میں مودی نے الیکشن کمیشن کے سامنے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی شریک حیات کا نام جشودہ بین ہے۔ اس حلف نامہ کے سامنے آتے ہی سیاسی پارٹیوں اور سیاست کرنے والے دھڑوں میں ہلچل مچ گئی اور پھر وہی خواتین کمیشن اور خواتین سیل کی بیان بازیاں اور اخباروں کے مدیران کے اداریئے۔
اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ مودی اور ان کی شریک حیات کا یہ بالکل ہی نجی معاملہ ہے۔ مودی نے ان کو کیوں46سال تک نہیں اپنایا اور خود جشودہ بین نے مودی کے ساتھ رہنا پسند نہیں کیا اس کو کوئی نہ بتا سکتا ہے اور نہ پوچھ سکتا ہے۔ یہ صرف ان دونوں کا ہی مسئلہ ہے اور ان دونوں کو ہی اس کی حقیقت کا علم ہو سکتا ہے۔ مگر مجھے یاد ہے کہ انڈین ایکسپریس میں فروری 2014میں ایک انٹرویو شائع ہوا تھا ،جو مودی کی پتنی جشودہ بین کا تھا ۔ اس میں جشودہ بین نے اپنے اور مودی کے رشتے کا اعتراف کیا تھا۔63سالہ جشودہ بین نے اپنے اس انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ 17سال کی تھیں جب ان کی شادی ہوئی تھی اور اس وقت ان کی تعلیم مکمل نہیں ہوئی تھی اور مودی ان سے تعلیم مکمل کرنے پر زور دیتے تھے۔ اس کے بعد 3سال وہ ایک ساتھ رہے، جس میں صرف 3ماہ ہی ان کا مودی کے ساتھ رشتہ رہا۔ جشودہ بین نے اپنے اس انٹریو میں یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ مودی کے بارے میں مستقل پڑھتی رہتی ہیں، وہ مودی کی ہر بات ، ہر خبر ، ہر عمل سے باخبر رہتی ہیں، لیکن ان 46سالوں میں انھوں نے نہ مودی نے کبھی ملنا تو دور فون تک پر بات نہیں کی۔ وہ اپنے بھائیوں کے گھر رہتی ہیں اور اپنی زندگی سے خوش ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے انٹرویو میں انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جب وہ اپنی سسرال گئیں تو مودی کو یہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے کہا کہ آپ کو اپنی پڑھائی جاری رکھنی چاہئے۔ اس کے علاوہ جب جشودہ بین سے دوسری شادی کی بات پوچھی گئی تو انھوں نے بتایا کہ ایک بار کا ہی تجربہ ایسا تھا کہ پھر میرا دل نہیں چاہا۔
جشودہ بین کی ماں کاا ن کی پیدائش سے 2سال پہلے اور باپ کا جب وہ 10ویں کلاس پاس کر چکی تھیں، تب انتقال ہوا۔ ظاہر ہے ایسی لڑکی کا جب17سال کی عمر میں بیاہ ہوا ہوگا تو وہ کتنی معصوم اور انجان رہی ہوگی۔
مودی کا نام تو پھر بھی ایک لڑکی کی جاسوسی میں آ گیا مگر جشودہ بین کا بے داغ شفاف کردار ایک بار پھر ہندوستان کی اس روایت کی پاسدارلڑکی کو سلام کرتا ہے جو ایک بار شادی کر کے کسی کی ہو جاتی ہے اور پھر ساری زندگی اس کے نام پر بیٹھی رہتی ہے۔ جشودہ بین مودی کے نام پر آج تک بیٹھی ہیں اور مودی ملک کے بادشاہ بننے جا رہے ہیں۔ ایسے میں حقیقت تو یہی ہے کہ جو پتی دھرم نہ نبھا سکا وہ دیش دھرم کیا نبھائے گا۔0 1400روپے کی پنشن سے اپنی زندگی چلانے والی ایک پرائمری اسکول ٹیچر کا پتی کروڑوں روپیہ الیکشن میں لٹا رہا ہے۔ ایسے میں دائوں پر تو بے چاری عورت ہی لگی نا؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *