مسلم نوجوانوں کی گرفتاری: اب سڑک پر اترنے کا وقت ہے

ڈاکٹر وسیم راشد
دم گھُٹ رہا ہے اس الیکشن کے ہنگاموں، نفرت انگیز بیانوں، الزام تراشی، گھٹیا جملے، رکیک فقرے اور شر انگیز سرگرمیوں سے۔ اور ان سب کے درمیان جن مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، ان پر بھی سبھی مسلم تنظیمیں، ادارے، لیڈران، بڑے بڑے بیانات دے رہے ہیں۔ اردو اخبارات کے پورے پورے صفحات ان بے گناہ مسلم نوجوانوں سے ہمدردی کرنے پر سیاہ کیے جارہے ہیں، مگر ان بد بختوں کی قسمت کی سیاہی کو دھونے کے لیے سڑکوں پر دھرناکوئی نہیں دیتا۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ان مسلم بے گناہ نوجوانوں کے لیے بیان دینا آسان ہے، خود میں بھی تو ایئر کنڈیشنڈ کیبن میں بیٹھ کر ہی یہ اداریہ لکھ رہی ہوں، لیکن مجھ میں اتنا حوصلہ ہے کہ میں سڑک پر بھی ان بے گناہ معصوم نوجوانوں کے لیے نکل سکتی ہوں۔ مجھے دکھ ہو رہا ہے، شدت غم سے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے۔ ابھی اوکھلا سے 2نوجوانوں کوحراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک عمرہ کرنے جا رہا تھا اور دوسرا اس سے ملنے آیا تھا۔ ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ان پر کس طرح نظر رکھی جارہی ہے اور ان کی خوشیوں کو نظر لگنے والی ہے۔ اور پھر ان کو گرفتار کیا گیا۔ بھلا ہو ان چند رہنماؤں کا، عمیق جامعی صاحب کا، جنھوں نے بھاگ دوڑ کر کے ان کو شام تک رہا کرا دیا۔ اگر اس دن علاقے کا مزاج گرم دیکھ کر پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوتے، تو نہ جانے یہ کتنے بم دھماکوں کے مجرم بن جاتے اور کتنے ہی ہتھیاروں کو رکھنے کا الزام ان پر ہوتا۔
حالانکہ ان میں سے ایک نوجوان عبد الواحد بڑا ہی پُر اعتماد اور با حوصلہ نظر آرہا تھا، اس کے بیان نے مجھے بڑا ہیبے چین کیا۔ جب اس نے کہا کہ اس کو اپنے اوپر پورا بھروسہ تھا، کیونکہ وہ کبھی بھی کسی تخریبی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا۔ مجھے اس لڑکے کی معصومیت پربہت ہی ترس آیا اور اس کی نا سمجھی پر رونا بھی آیا کہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ جتنے بھی مسلم نوجوان پکڑے گئے ہیں، وہ اسی طرح پُر اعتماد تھے،بے گناہ تھے، ان کو بھی خود پر بھروسہ تھا، مگر پولیس نے ان پر ایسے ایسے ظلم توڑے کہ ملزم نہ ہوتے ہوئے بھی انھوں نے ٹوٹ کر اپنا وہ جرم قبول کر لیا، جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ کچھ معصوم جان سے گزر گئے، خالد مجاہد کا قصہ ابھی زیادہ پرانا نہیں ہے۔ اسی طرح اترا کھنڈ کے رشی کیش میں سیوا نند آشرم میں کام کرنے والا 26سال کا ناصر بے گناہ ثابت تو ہوا، مگر اپنی جوانی کے 6سال کھونے کے بعد۔ اس نوجوان کی داستان سن کر میرا دل لرز گیا، جب اس کہا کہ پانچ سال تک اس نے سورج طلوع ہوتے نہیں دیکھا اور ایسے ایسے تھرڈ ڈگری ٹارچر کیے گئے کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ہماری پولیس نے تو مسلم نوجوانوں پر ظلم و ستم کرنے میں گوانتا ناموبے کی جیل کو بھی مات کر دیا ہے۔ کون لوٹائے گا اس نوجوان کے ماہ و سال؟

میری مسلم نوجوانوں سے بڑی عاجزانہ درخواست ہے کہ جب بھی گھر سے نکلیں، اپنے شناختی کارڈ کو ساتھ رکھیں اور دیر رات گئے گھر نہ لوٹیں، کسی بھی مشکوک جگہ نہ جائیں، گاڑی ہو یا موٹر سائیکل، کاغذات پورے رکھیں۔ علاقے کے بااثر لوگوں سے رابطہ رکھیں۔ اگر خدانخواستہ کبھی پکڑے جائیں، تو فوراً اپنے علاقے کے با اثر ذمہ داران کو مطلع کریں۔ والدین کو چاہیے کہ فوراً کسی وکیل سے رابطہ کریں، علاقے کے لوگوں اکٹھا کریں اور پولیس کو بنا اسٹامپ پیپر پر پنچ نامہ بنائے بغیر کسی بھی نوجوان کو نہ لے جانے دیں۔

اسی طرح کانپور کے ایک معزز ادبی خاندان کے چشم و چراغ سیّد واصف حیدر کو بھی 2001میں کچھ خفیہ پولیس افسران اٹھاکر لے گئے اور ان کو حزب المجاہدین جیسی تنظیموں سے جوڑ کر فرضی مقدمات میں پھنسادیا اور 2009میں عدالت نے ان کو بری کیا۔ سیّد واصف حیدر ایک امریکن کمپنی میں ایریا منیجر تھے، مگر اب وہ بے تحاشہ مالی دشواریوں کا شکار ہیں۔ حیرت اور افسوس کا مقام تو یہی ہے کہ جن نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور پھر ان کی جوانی کے قیمتی سال برباد کرنے کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا، ان کو نہ تو دوبارہ نوکریاں ملیں، نہ ہی حکومت نے ان کی بازآباد کاری کا کوئی کام کیا۔ اور اس سے بھی زیادہ کچھ مسلم تنظیموں کو چھوڑ کر کسی نے بھی ان نوجوانوں سے رابطہ نہیں کیا۔ ہم سب ان کے گنہگار ہیں، جو اپنی تحریروں کو مشہور کرنے کے لیے اور مسلمانوں میں مقبول ہونے کے لیے ان مظلوموں کو اپنا پروجیکٹ بنا کر لکھتے ہیں، لیکن ہم میں سے کوئی بھی بھوک ہڑتال نہیں کرتا، سڑک پر دھرنا دے کر نہیں بیٹھتا۔ ایک بار صرف ایک بار اگر سارے صحافی چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان یا کسی بھی مذہب کے (ویسے بھی صحافی کا مذہب اس کا قلم ہوتا ہے)، سب مل کر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف سڑک پر اتر آئیں اور ان پولیس والوں کو معطل کرنے اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کریں اور سبھی مسلم تنظیموں کو بھی ساتھ ملا لیں، تو بھی کچھ مسئلہ کا حل نکل سکے گا۔ کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں یہ تحفہ دیا ہے مسلمانوں کو۔ جتنی ناانصافیاں ، جتنی مسلم نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی ہے، سب کانگریس کے وقت میں ہوئی ہے۔ 10سالوں میں کانگریس نے مسلمانوں کو یہ احساس کرادیا کہ تم دوسرے درجہ کے شہری ہو اور تم غدارِ وطن ہو، تمہارے نوجوانوں کو ہم اسی طرح برباد کر دیں گے، تمہاری نسلوں کو اسی طرح ختم کریں گے۔ یہ تحفہ دیا ہے کانگریس نے مسلمانوں کی وفاداری کا۔
حیرت کی بات ہے کہ ایک تو حکومت کی طرف سے ان نوجوانوں کو وکیل مہیا نہیں کرایا جاتا اور جو چند گنے چنے مسلم ایڈوکیٹ ان بے گناہوں کا مقدمہ لڑتے ہیں، ان کو بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ محمود پراچہ اور شاہور خان دونوں ہی مسلم نوجوانون کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور دونوں کو ہی مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ شاہور خاں کی تو پوری فیملی تک کو ختم کرنے کی دھمکی دی جاچکی ہے۔اس ملک میں ناتھو رام گوڈسے کو وکیل مل جاتا ہے، آسا رام کو وکیل مل جاتا ہے، سبرت رائے کو وکیل مل جاتا ہے، ترون تیج پال کو وکیل مل جاتا ہے، مگر وکیل نہیںملتاتو مسلم نوجوانوں کو نہیں ملتا۔
اس وقت جبکہ الیکشن سر پر آگیا ہے، اب یہ پکڑ دھکڑ زیادہ بڑھ گئی ہے۔ در اصل یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے، تاکہ مسلم نوجوانوں کا کریئر، ان کے مستقبل کو ختم کر کے اس قوم کو اس قابل کر دیا جائے کہ یہ کسی بھی سسٹم میں خود کو نہ تو برابر کر سکے، نہ ہی اپنے حقوق کی مانگ کر سکے۔
میری مسلم نوجوانوں سے بڑی عاجزانہ درخواست ہے کہ جب بھی گھر سے نکلیں، اپنے شناختی کارڈ کو ساتھ رکھیں اور دیر رات گئے گھر نہ لوٹیں، کسی بھی مشکوک جگہ نہ جائیں، گاڑی ہو یا موٹر سائیکل، کاغذات پورے رکھیں۔ علاقے کے بااثر لوگوں سے رابطہ رکھیں۔ اگر خدانخواستہ کبھی پکڑے جائیں، تو فوراً اپنے علاقے کے با اثر ذمہ داران کو مطلع کریں۔ والدین کو چاہیے کہ فوراً کسی وکیل سے رابطہ کریں، علاقے کے لوگوں اکٹھا کریں اور پولیس کو بنا اسٹامپ پیپر پر پنچ نامہ بنائے بغیر کسی بھی نوجوان کو نہ لے جانے دیں۔
اس وقت مسلمانوں کا اعتماد کسی بھی پارٹی پر سے ختم ہو چکا ہے اور کانگریس پر سے تو بالکل ہی اعتماد ختم ہے۔ اس وقت بس اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے ووٹ کا بہت ہی سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور سبھی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ متحد ہو کر، ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر احتجاج بلند کریں، خاموشی سے کچھ نہیں ہوگا۔ تنظیموں اور بڑے بڑے اداروں کو چاہیے کہ جس طرح محمد عامر کو 14سال بعد رہائی ملی اور باہر آکر وہ غربت کی زندگی جی رہا تھا، اس کو سہارا دیا تو شبنم ہاشمی نے۔ اسی طرح دوسرے نوجوانوں کی باز آبادکاری کا بھی سب مل کر کام کریں، تاکہ ان کے کچھ تو زخم کم ہوں۔ اس وقت جمعیت علماء ہند اور جماعت اسلامی کافی مدد کر رہی ہیں، بس سب مل کرمتحد ہو کر اگر آواز اٹھائیں گے، تو یقیناً پولیس کے حوصلے پست ہوں گے۔ ایسے میں نواز دیو بندی کا ایک قطعہ یاد آتا ہے، جس کے آخری دو مصرعے بار بار ہمیں جھنجھوڑ دیتے ہیں۔
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھامیرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چُپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے
جانے کیوں ڈر لگتا ہے، دل دہلتا ہے، زبان کانپتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ خدا نہ کرے اگلا بچہ کہیں ہمارا ہی نہ ہو۔ اللہ محفوظ رکھے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

One thought on “مسلم نوجوانوں کی گرفتاری: اب سڑک پر اترنے کا وقت ہے

  • April 9, 2014 at 3:36 pm
    Permalink

    I am a Pakistani . Main ap k dukhon main barabar ka shareek huon . Insha ALLAH mere ALLAH ne chaha to in hindo’an ka jald hi khatma ho ga or ye b yaad rahay k ye kaam hmare hathon se ho ga . ALLAH sab musalmano ko apne hifz-o-aman main rakhay. Ameen

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *