جمہوریت کو بچانے کی ضرورت

کمل مرارکا
اس لوک سبھا کا آخری سیشن ختم ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی یو پی اے 1اور 2کے بھی آخری سیشن کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انتخاب کون جیتتا ہے، یہ ایک کھلا سوال ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کے لئے دس سالوں کا وقت کافی ہے۔ پیچھے مڑ کر گزشتہ دس سالوں کو دیکھیں۔ میں حکومت کو اقتصادی محاذ پر پچھڑنے کے لئے زیادہ ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہتا، جیسا کہ کئی لوگ کرتے ہیں۔ امریکہ بحران میں ہے، متوقع طور پر ہندوستان کم بحران میں ہے۔وزیر خزانہ پر الزام عائد کرنے کے معنی کیا ہیں؟ انھوں نے وہ نہیں کیا ، جو کرنا چاہئے تھا۔ انھوں نے جو کیا، وہ ہمیں کہیں نہیں لے جاتا۔ اقتصادیات کا سنجیدہ طالب علم بھی حکومت کی چھوٹی خامیوں کے بارے میں بتا سکتا ہے، لیکن کوئی بڑی خامی نہیں ہو سکتی۔ افراط زر کنٹرول میں نہیں ہے اور وہ لوگوں کے درمیان غصے کی ایک وجہ ہے۔ افراط زر پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔ حالانکہ، اصلی مسئلہ دس سالوں کے دوران دیگر تمام محاذ سے جڑا ہے، جو کسی مصیبت سے کم نہیں ہے۔
سب سے پہلے پارلیمانی معیار ، حکومت کے کام کاج ، اس کے معیار اور عمل کو دیکھیں۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یو پی اے 1اور 2کے دوران ان سب کو جس طرح نظر انداز کیا گیا، بے اعتنائی کی گئی، وہ شاید کبھی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔ یو پی اے -1نے جو کیا تھا، اسی کو یو پی اے -2میں دیکھنے کو ملا۔ ایک مخصوص تاریخ کے بعد ایک ٹینڈر جاری کیا گیا، ایک مخصوص تاریخ سے قبل ٹینڈر بند کرا دیا گیا۔ اپنے لوگوں کو ٹھیکے، کان اور اسپیکٹرم دے دئے گئے۔ ایسا جان بوجھ کر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ گزشتہ دس سالوں میں کیاہوا، میں یہ دیکھنے کے بعد حیران ہوں۔یہاں تک کہ نوکرشاہی کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر یہی سب کچھ آگے بھی ہونے جا رہا ہے، تو وہ دن دور نہیں، جب اس ملک میں جمہوریت نہیں بچے گی۔
آخر کیوں فوج پاکستان میں اقتدار پر قابض ہو جاتی ہے؟ وہ دیکھتی ہے کہ سیاستداں صرف اپنی جیب بھر رہے ہیں اور وہ عام لوگوں کے بارے میں متفکر نہیں ہیں۔ یہ لیڈر وہ کام نہیں کر رہے ہیں، جس کے لئے عوام نے انہیں اقتدار کے لئے منتخب کیا تھا۔ وہ عوامی رائے کے بارے میں متفکر نہیں ہیں۔ ایک حد ہوتی ہے۔ حد ایک بار پار ہو جائے تو پھر فوج مداخلت کرتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایسی کوئی تاریخ ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں آئے ، لیکن میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ ان دس سالوں میں اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے مداخلت کرنے کے لئے فوج کو بھڑکانے کی اپنی بیشتر کوشش کی ۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہندوستانی فوج اپنے کام کے لئے وقف ہے اور وہ اس طرف دیکھتی بھی نہیں۔
پارلیمنٹ کے اس سیشن میں تلنگانہ ریاست کو منظوری دی گئی۔ حالانکہ جس طریقہ سے یہ ہوا، بنا ریاستی اسمبلی کی منظوری لئے بغیر بغیر۔ وہ ہندوستان کے وفاقی ڈھانچہ کے خلاف ہے۔ اگر ریاستوں کی تشکیل نو کا فیصلہ لیا جانا تھا، تو اسے ملک گیر سطح پر کیا جانا چاہئے تھا۔ تلنگانہ ایک مضبوط معاملہ ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ تلنگانہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ لیکن یہ جس طریقہ سے کیا گیا، وہ جمہوریت کے کام کاج کے لئے بے حد نقصان دہ تھا۔ کانگریس کے خود کے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دیا۔ یہ ہماری جمہوریت کے چہرے پر ایک داغدار تصویر ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی حکومت نے اس سے پہلے اس طریقہ سے ایسا سب کچھ کیا ہو۔
پارلیمانی کارروائی کو پوری دنیا دیکھ رہی تھی۔ کاغذ چھینے جا رہے تھے۔ اتر پردیش اسمبلی میں جو کچھ، ہوا وہ وہاں پہلے بھی ہوا تھا، لیکن ایسا کبھی لوک سبھا اور راجیہ سبھامیں نہیں دیکھا گیا تھا۔ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے کام کو بند کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھاکی کارروائی پولس نگرانی میں ہو؟ کیا بچا ہے؟ میں شرمندہ ہوں۔ میں راجیہ سبھا کا ممبررہا ہوں۔ میں نے لوک سبھا کی کارروائی کو دیکھا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا تھا کہ کوئی ممبر ایک آدھ غیر پارلیمانی لفظ کا استعمال کر لیتا تھا، اسے بھی ریکارڈ سے ہٹا دیا جاتا تھا۔ بس ، اتنا ہی، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اب ہم کہاں تک آ گئے ہیں! ممبران جنرل سکریٹری کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو پکڑ رہے ہیں۔ اس سب کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ کس کی ذمہ داری اس سب کو ٹھیک کرنے کی ہے؟ ظاہر ہے ، وزیر اعظم کی۔ وہ حکومت کے لیڈر ہیں۔ سونیا گاندھی، جنہیں منموہن سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو بھول گئے، آئندہ انتخابات کی جلدی میں ۔ ایسا کہنے کے لئے معافی چاہتا ہوں ۔ ویسے کوئی جلدی نہیں تھی۔ اتنی جلدی دکھانے کی جگہ تلنگانہ کا مدعا نئی آنے والی حکومت کے لئے چھوڑا جا سکتا تھا۔
انہیں لگا کہ وہ تلنگانہ بنا رہے ہیں، کچھ سیٹیں مل جائیں گی، لیکن اس سے انہیں اقتدار نہیں ملنے جا رہا ہے۔ بی جے پی نے بھی اسی ڈر سے حمایت دی۔ وہ پہلے حمایت کا وعدہ بھی کر چکی تھی، لیکن جس طریقہ سے یہ کام کیا گیا، اس سے صرف غیر سیاسی طاقتوں کو ہی تقویت ملے گی۔ ایسے لوگ، جنہیں ہمیشہ سے جمہوریت اچھی نہیں لگتی رہی ہے،انہیں پھر سے پارلیمانی جمہوریت کے خلاف بولنے کا موقع ملے گا۔ یہی چیز یہ تمام ممبران پارلیمنٹ ایک ساتھ مل کر حاصل کر رہے ہیں۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت ختم ہو جائے؟
دو مہینے بچے ہیں، پارلیمانی انتخابات کو اور اب پارلیمنٹ کا کوئی سیشن بھی نہیں بچا ہے، اس لئے یہ سب سدھارا نہیں جا سکتا ہے، لیکن میںسوچتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتوں، خصوصاً کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے اس الیکشن میں واضح پیغام جانا چاہئے کہ نئی لوک سبھا میں مناسب ضوابط کی تعمیل کی جائے گی۔ چیئر مین سخت ہوگا۔ ایک اور بات، جس کے بارے میں نے سنا ہے کہ کانگریس پارٹی کو صبح سے ہی یہ بات پتہ تھی کہ کالی مرچ کا اسپرے کیا جانا ہے۔ سب کچھ منصوبہ بند تھا۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے اسے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ یہ شرمناک ہے۔ وہ سیاست کرنے کے لائق نہیں ہیں۔ اب ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ نئی پارلیمنٹ ہی ہمیں راہ دکھائے گی اور خوشحالی، ترقی اور جمہوری کام کاج کی طرف ہندوستان کو واپس لے جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *