کیا نواز شریف پاکستان میں’ گڈ گورننس ‘ لا پائیں گے

نواز رضا
p-8bپاکستان میں جب سے موجودہ حکومت یعنی میاں نواز شریف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے لیکن سبسڈی ختم کرنے پر عوام نالاں ہیں۔ اسی طرح گیس کی بھی بدستور قلت ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ مہنگائی میں بھی بے پنا اضافہ ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر 98روپے کا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی اور زرمبادلہ کے ذخائر 4ڈالر ارب رہ گئے تو ڈالر کی قیمت 110روپے تک جاپہنچی لیکن آئی ایم ایف کے سامنے کشکول پھیلانے اور حکومتی اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر قدرے بہتر ہوگئے ہیں۔ 2013 حکومتی ترغیبات سے ٹیکسوں کی وصولی میں بھی بہتری آئی ہے لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے وقت جن اقدامات کا اعلان کیا تھا اس پر وہ عملدرآمد نہیں کراسکے۔ جنرل کیانی کی ریٹارئرمنٹ کے بعد جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف اور ننرل راشد محمود کو چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف بنا دی گیا ہے۔ 12دسمبر 2013 کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ریٹائر ہوگئے اور انکی جگہ چیف جسٹس تصدق جیلانی نے لی ہے۔ افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ میں ایک سنہری باب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 2013 کے اواخر تک وزیر اعظم نواز شریف پھونک پھونک کر قدر رکھتے رہے ہیں۔ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے ایشو پر خاصے پریشان تھے، تاہم 2014 میں میاں نواز شریف ایک ’’ طاقتور چیف ایگزیکٹو‘‘ بن کر ابھریں گے۔ وزیر اعظم آسانی سے اہم سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں اہل افراد کی تقرری کر سکیں گے۔ قانون سازی کے میدان میں حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور پچھلے سات ماہ میں مالیاتی بل کے سوا کوئی قانون سازی نہیں ہوئی۔ دونوں ایوانوں میں پالیمنٹیرینز کی حاضری مایوس کن رہی ہے۔ حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ارکان کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کو کئی بار کورم ٹوٹنے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعظم بھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کیلئے پارلیمنٹ میں کوئی کشش نہیں جس پر اپوزیشن نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر وزیراعظم پارلیمنٹ میں نہ آئے تو ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دے گی۔ وزیر اعظم قومی اسمبلی کے سات سیشنز میں صرف تین چار بارہی آئے۔ سینیٹ میں اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کے طرز عمل کیخلاف ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کئے رکھا۔ خدا خدا کر کے اپوزیشن ایوان میں واپس آئی تو اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کو ایک بار پھر ٹارگٹ بنا کر ایوان کا بائیکاٹ کردیا۔ اس لئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کار اچھے نہیں ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتی جو جمہوری نظام کو عدم استحکام کا شکار کردے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی تمام تر اختلافات کے باوجود ’’ نواز شریف قدم بڑھائوہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘ کا نعرہ لگا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز حکومت کس حد تک ’’ گڈ گورننس‘‘ قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے حکومت کے پاس 2014 کا پورا سال موجود ہے۔یہ پورا سال طے کرے گا کہ میاں شریف نے جو خوبصورت اور بڑے بڑے دعوے الیکشن کے دور میں کیا تھا اور پاکستانی عوام کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ گڈ گورننس پاکستان کے اندر لائیںگے ،اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *