حکومت ہند کی مجاہدین آزادی کے وارثوں کے لئے بے حسی افسوسناک

ابھیشیک رنجن سنگھ

پہلی عالمی جنگ میں برطانیہ حکومت کی طرف سے لڑنے والے اپنے وفادار سپاہیوں کو انگریز تین نسلوں تک کے لیے جنگی انعامات سے نواز گئے۔ دوسری طرف، آزاد ہندوستان کو اپنے مجاہدین آزادی اور ان کے وارثین کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس مسئلے پر مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے لکھے گئے خطوط بھی ریاستی سرکاروں کے لیے بے معنی ہیں۔ آخر کیا ہے یہ پورا معاملہ، پڑھیے’ چوتھی دنیا‘ کی اس خاص رپورٹ میں…

حکومت ہند نے مجاہدین آزدی اور ان کے ورثاء کی فلاح و بہبود کے لیے 1988میں ایک خط سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو لکھا تھا۔ اس خط میں مجاہدین آزادی کے ورثاء کے لیے سرکاری ملازمت اور سرکاری تربیتی اداروں میںریزرویشن اورصحت کی سہولیات مفت مہیا کرانے کی بات کہی گئی تھی، لیکن وزارت داخلہ کے اس خط کا جواب کسی ریاستی سرکار نے نہیں دیا۔ پھر آٹھ سال بعد 1996میں وزارت داخلہ کی اچانک نیند ٹوٹی اور اس نے ایک اور خط ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو لکھا، جس مین مجاہدین آزادی کے وارثوں کے لیے پہلے کی طرح سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن اورصحت سے متعلق سہولیات سمیت کئی مانگیں کی گئی تھیں، لیکن وزارت داخلہ کے اس خط کا جواب بھی کسی ریاستی سرکار نے نہیں دیا۔
دھرم ویر پالیوال سونی پت (ہریانہ) کے رہنے والے ہیں اور ملک کے مجاہدین آزادی اور ان کے وارثوں کو انصاف دلانے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ دھرم ویر پالیوال نے ’چوتھی دنیا‘ سے خاص بات چیت کے دوران بتایا کہ حکومت ہند مجاہد ین آزادی اور ان کے وارثوں کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایک سچائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1947میں تقسیم ہند کے ساتھ پنجاب کی تقدیر بھی تقسیم ہو گئی۔ ان کے مطابق، پنجاب سے الگ ہو کر جب ہریانہ بنا، توانٹگریٹیڈ پنجاب کے درجنوں مجاہدین آزادی کے نام ہریانہ سرکار نے اپنی فہرست میں شامل نہیں کیے۔ نتیجتاً ان کے وارثوں کو پینشن اور دیگر سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے باپ دادا نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جوانی جیلوں میں قربان کر دی۔ تحریک آزادی کے دوران جب وہ انگریزوں سے مقابلہ کر رہے تھے، اس وقت ان کے کنبے کی خبر لینے والا کوئی نہیں تھا۔ ایسے زیادہ تر مجاہدین آزادی اور انقلابیوں کے بچے تعلیم اور دیگر کئی بنیادی سہولتوں سے محروم رہ گئے۔
دھرم ویر پالیوال کے مطابق سالوں سے اپنی مانگوں کو پورا نہ کیے جانے سے ناراض مجاہدین آزادی اور ان کے وارثوں نے آل انڈیا فریڈم فائٹر سکسیسر کمبائنڈ آرگنائزیشن ’ کُل ہند مجاہدین آزادی اور مشترکہ ورثاء تنظیم ‘ کی قیادت میں جنتر منتر پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔ لہٰذا 10جنوری 2014کو تنظیم کی جانب سے جنتر منتر پر ایک روزہ علامتی دھرنا دیا گیا۔ اسی دن تنظیم کی جانب سے پرائم منسٹر آفس اور وزارت داخلہ کو بھی ایک میمورنڈم سونپا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے 26 جنوری 2014(یوم جمہوریت) کے موقع پر سبھی سرکاری تقاریب کی مخالفت کی۔ دھرم ویر پالیوال کے مطابق دہلی، ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، اتر پردیش، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کرناٹک، بہار، جھارکھنڈ اور راجستھان وغیرہ ریاستوں کے قریب 1500مجاہدین آزادی نے اس بابت پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ دس دن کے اندر اگر انھیںانصاف نہیں ملا، تو وہ 26جنوری کی سرکاری تقاریب کا بائیکاٹ کریں گے۔
واضح ہو کہ مجاہدین آزادی اور ان کے ورثاء کے مفاد کے نام پر تشکیل کی گئی ’آل انڈیا مجاہدین آزادی اورمشترکہ ورثاء تنظیم ‘ کے صدر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا ہیں، جبکہ ستیانند یاجی اس کے جنرل سکریٹری ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ اس تنظیم نے آج تک مجاہدین آزادی کے وارثوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اپنی اسی بے اعتنائی سے دلبرداشتہ ہو کر ملک کے مجاہدین آزادی اور ان کے وارثوں نے 9 اکتوبر 2012 کو آل انڈیا فریڈم فائٹر سکسیسر کمبائنڈ آرگنائزیشن’کُل ہند مجاہدین آزادی اورمشترکہ ورثاء تنظیم ‘ بنائی۔ 22جنوری 2013کو اسے رجسٹرڈ کرایا گیا۔ 9اکتوبر کو ہی ’آل انڈیا مجاہدین آزادی اورمشترکہ ورثاء تنظیم ‘ کے سرپرست سنیل شاستری کی قیادت میں ایک وفد نے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے ملاقات کی اور انھیں مجاہدین آزادی اور ان کے وارثوں کی مختلف مانگوں کے بارے میں ایک میمورنڈم سونپا۔ قابل ذکر ہے کہ 18 دسمبر 2007 کو ’ایمنینٹ فریڈم فائٹر کمیٹی‘ نے وزارت داخلہ کو مشورہ دیا تھا کہ مجاہدین آزادی کی موت کے بعد ان کے بے روزگاروارثین کو بھی پینشن دی جائے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمتوں میں انھیں ریزرویشن کی سہولت، پیٹرل پمپ اور گیس ایجنسی کا کوٹہ بھی دینے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن حکومت ہند نے ان سفارشات پر کوئی غور نہیں کیا۔
آل انڈیا فریڈم فائٹر اینٹ سکسیسر کمبائنڈ آرگنائزیشن ’کُل ہند مجاہدین آزادی اورمشترکہ ورثاء تنظیم ‘ نے ’ایمنینٹ فریڈم فائٹرکمیٹی‘ کی میٹنگ بلانے کے لیے وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سے کئی بار درخواست کی، لیکن تنظیم کی ہر درخواست کو یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ محترم وزیر کے پاس وقت نہیں ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے پاس مجاہدین آزادی او ر ان کے وارثین کے مسائل کو سننے کے لیے وقت نہیں ہے،تو پھر ’ایمنینٹ فریڈم فائٹر کمیٹی کی تشکیل کا جواز کیا ہے؟ اگر وزارت داخلہ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، تو اس کے نام پر ہر سال لاکھوں روپے کیوں خرچ کیے جارہے ہیں؟

خطوط، تاریخ اور ٹوٹی امیدیں
دس اکتوبر 2012کو آل انڈیا فریڈم فائٹر اینڈ سکسیسر کمبائنڈ آرگنائزیشن ’کُل ہند مجاہدین آزادی اورمشترکہ ورثاء تنظیم ‘ کے جنرل سکریٹری دھرم ویر پالیوال اور صدر گورنگ سندر مترا وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سے ملے اور انھیں دوبارہ ایک میمورنڈم سونپا، جس میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو 1988اور 1996میں مجاہدین آزادی کے ورثاء کی بہبود کے لیے خطوط بھیجے گئے، اس کے باوجود ریاستی سرکاروں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس طرف توجہ دلانے کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے 18اکتوبر 2012کو ایک بار پھر سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو خطوط بھیجے گئے، جن میں 1988اور 1996کے خطوط کا حوالہ دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے اپنے اس خط کا جواب دینے کی ہدایت بھی دی، لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ریاستی سرکاروں نے وزارت داخلہ کو کوئی جواب نہیں دیا، جس کے سبب آل انڈیا فریڈم فائٹر اینڈ سکسیسر کمبائنڈ آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری دھرم ویر پالیوال نے 3 دسمبر 2012کو وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سے ملاقات کی اور ان سے ریاستوں کی لاپرواہی کے بارے میں بات چیت کی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ کی طرف سے سبھی ریاستوں کو ایک ریمائنڈر نوٹ بھیجا گیا، لیکن اس کے بعد بھی کسی ریاستی سرکار نے اس کا جواب نہیں دیا۔ 28جنوری 2013 کو دھرم ویر پالیوال نے ایک بار پھر وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سے بات چیت کی۔ اسی دن وزارت داخلہ کی جانب سے سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ریمائنڈر بھیجا گیا، لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ریاستی سرکاروں نے اس معاملے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔

انگریزوں سے سیکھیں فوجی احترام کاجذبہ
مجاہدین آزادی اور ان کے ورثاء کے لیے عزت و احترام اور سہولیات کا تذکرہ ہونے پر یہاں برطانیہ حکومت کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ انگریزوں نے پہلی عالمی جنگ (1914)کے اپنے سپاہیوں کی وفاداری سے خوش ہو کر ان کی اگلی تین نسلوں کے لیے جنگی انعام کا اعلان کیا تھا۔ حکومت ہند آج بھی پہلی عالمی جنگ میں شامل فوجیوں کے ورثاء کو پینشن دے رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، انگریز سرکار نے جاتے جاتے اپنے کئی وفادار فوجیوں کو بڑی بڑی جاگیروں کا مالک بھی بنایا تھا، جس کا فائدہ آج بھی ان کے وارثین کو مل رہا ہے۔ افسوس کہ حکومت ہند اپنے مجاہدین آزادی کی ایک اگلی نسل کو بھی پینشن اور دیگر سہولیات دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔سرکار کی اس بے حسی سے ملک کے تمام مجاہدین آزادی مایوس ہیں۔

کیا ہے ایمنینٹ فریڈم فائٹر کمیٹی؟
حکومت ہند نے مجاہدین آزادی اور ان کے ورثاء کی بہبود کے لیے ایمنینٹ فریڈم فائٹر کمیٹی تشکیل کی ہے۔ وقتاً فوقتاً ہونے والی اس کی میٹنگوں میں مجاہدین آزادی اور ان کے ورثاء کے مسائل پر بات چیت ہوتی ہے، جس کی سفارش وزارت داخلہ کو بھیجی جاتی ہے۔ حالانکہ پچھلے دو سالوں سے ایمنینٹ فریڈم فائٹر کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہوئی ہے، جبکہ سال میں دو بار اس کی میٹنگ کرانے کا ضابطہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایمنینٹ فریڈم فائٹر کمیٹی کی آخری میٹنگ جون 2012میں دہرہ دون میں ہوئی تھی، جس کی صدارت مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جتندر سنگھ نے کی تھی۔ اس میٹنگ میں وزارت داخلہ نے مجاہدین آزادی یا ان کے وارثین کے لیے پینشن اور دیگر سہولیات کے عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری طے کرنے کے لیے کئی قدم اٹھائے ۔ میٹنگ کے دوران مجاہدین آزادی کی پینشن اور دیگر فلاحی اقدامات سے متعلق کئی مدعوں پر بات چیت ہوئی۔ ریاستی سطح پر مشہورمجاہدین آزادی کی کمیٹی تشکیل کرنا، مجاہدین آزادی کو درنتو، غریب رتھ اور میٹرو ٹرین میں کامپلی منٹری پاس دینا، کنبے کی پینشن میں ورثاء کے طور پر بیوہ، طلاق شدہ بیٹیوں کو شامل کرنا ، جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ تین سے زیادہ نہ ہو، اصل پینشن میں مہنگائی بھتہ کے ایک حصہ کو ملانا وغیرہ باتیں شامل تھیں۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *