یکساں مواقع کمیشن کو پارلیمنٹ میں پاس نہ کرنا مسلمانوں سے ایک اور دھوکہ ہے

ڈاکٹروسیم راشد
چلئے یو پی اے حکومت کی مدت کار آخیر کار ختم ہوگئی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آخری خطاب بھی کرلیا ۔اجلاس بھی ختم ہوگیا اور اس پورے پس منظر میں مسلمان فقط حسین وعدوں میں ہی الجھ کر رہ گیا۔وعدے اور صرف وعدے نہ تو مسلم ریزرویشن بل پاس ہوا نہ ہی فرقہ وارانہ بل اور نہ ہی سچر کمیٹی سفارشات پر پوری طرح عمل در آمد ہوا ،نہ رنگا ناتھ مشرا کمیشن ٹیبل ہوا اور نہ ہی وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام پر پوری طرح سے کام ہوا۔ خود وزیر اعظم نے وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی افتتاحی تقریب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ مسلمانوں کے لئے اپنے پندرہ نکاتی پروگرام کو پوری طرح عمل میں نہیں لا پائے اور رہی سہی کسر اس پروگرام میں ہنگامہ کرنے والے شخص نے پوری کردی۔ایسا نہیں ہے کہ اس حکومت نے اپنے دس سالوں میں کوئی کام نہیں کیا ۔آر ٹی آئی کا قانون نافذ کرنا اس سرکاری کی سب سے بڑی جیت ہے۔ لیکن مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جو کام کیے جانے تھے وہ نہیں ہو پائے ۔ہاں جاتے جاتے یو پی اے کے دور میں یکساں مواقع کمیشن کا قیام ضرور عمل میں آیا اور اس کو مرکزی کابینہ کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔ اس کمیشن کے قیام کی سفارش جسٹس راجندر سچر کمیٹی نے کی تھی تاکہ اقلیتوں کو تعلیمی میدان میں برابر کے مواقع مل سکیں اور نوکریوں اور دوسرے شعبوں میں اگر کوئی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو اس پر روک لگائی جاسکے۔
جون 2013 میں اقلیتی امور کے وزیر جناب کے رحمن خاں نے اپنے ہائی پروفائل وفد کے ساتھ انگلینڈ کا دورہ کیا ۔ان کا مقصد وہاں کے اعلیٰ افسران سے ملنا اور وہاں کی اقلیتوں کے ساتھ امتیازات کو روکنے کے لئے کس طرح کے اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے یہ دیکھنا تھا۔ رحمن خاں کا یہ عمل قابل ستائش تھا ۔کیونکہ نہ صرف انہوں نے انگلینڈ کا ہی دورہ کیا بلکہ کئی ممالک کا دورہ صرف اس یکساں مواقع کمیشن کی تکمیل کے فراق میں کیا۔ انگلینڈ اس لحاظ سے ایک آئڈیل ملک ہے کہ وہاں مختلف رنگ و نسل کے لوگ رہتے ہیں اور سبھی کے لئے ترقی کے یکساں مواقع ہیں۔ وہاں تقریباً 1.8 فیصد پاکستانی ، 1.5 فیصد بنگلہ دیشی اور 0.5 فیصد افریقی کالے لوگ اور تقریباً 1.2 آئرش نسل کے لوگ ہیں۔ رحمن خاں نے کافی ممالک کا دورہ کرکے ایک مسودہ حکومت کے سامنے رکھا اور اس بار پارلیمنٹ کے آخری اجلاس میںیہ مرکزی کابینہ سے منظورہوگیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کمیشن سے فائدہ کیا ہوگا؟اور اس کمیشن کو اس وقت کیوں لایا گیا۔
سوال کاجواب تو صاف ہے کہ جاتے جاتے یو پی اے حکومت مسلمانوں کو پھر سے میٹھی میٹھی گولیاں کھلاتے ہوئے لالی پاپ دے کر جارہی ہے ۔حالانکہ یہ یکساں مواقع کمیشن اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے لئے بہت اہم ہوسکتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ایڈمیشن میں، نوکریوں میں،یونیورسٹیوں اور کالجوں میںہر جگہ امتیاز برتا جاتا ہے۔ یہ کمیشن اگر ایمانداری سے کام کام کرے گا تو اس طرح کے تعصب اور امتیاز کو روکا جا سکے گا اور جس طرح ملک کی صرف 2.5 فیصد اقلیت ہی بیوروکریسی کا حصہ ہے ،یہ تعداد اسی لئے کم ہے کیونکہ سچر کمیٹی نے بتایا کہ اقلیتوں کے ساتھ خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ بے حد تعصب برتا گیا ہے۔ اسی لئے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ علم سے بے بہرہ ہے۔ اس کمیشن کو اگر صحیح طرح لاگو کیا گیا تو رہائش اور ہائوسنگ سوسائٹیوں میں جس طرح مسلمانوں کے ساتھ امیتاز برتا جاتا ہے اس کی شکایات بھی کی جا سکے گی۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کمیشن پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوا۔ صرف مرکزی کابینہ سے پاس ہونے کے بعد لنگڑا لولاقانون مسلمانوں کے کسی کام کا نہیں ہے اور اب تو اس بل کے مرکزی کابینہ سے پاس ہونے کی اہمیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔کیونکہ اسی اجلاس میں یہ پاس ہوجاتا تو قانون بن جاتا، لکھا جاتا اور اسی پر عمل درآمد شروع ہوجاتا ۔ اب کون جانے اگلی حکومت اس بل کو پاس کرے گی یا نہیں ۔ اگر یو پی اے کی حکومت بنتی ہے تو شاید یہ بل قانون بن جائے جس کی امید بے حد کم ہے۔یو پی اے نے اپنے دور اقتدار میں اس قدر مسلمانوںکو دھوکہ دیا ہے اور بے وقوف بنایا ہے اور مسلمانوں کو ہی کیا پورے ملک کو لوٹ کر گھوٹالوں کی نذر کردیا ہے۔ایسے میں کانگریس کا پھر سے برسر اقتدار آنا کوئی معجزہ ہی ہوسکتا ہے۔ اب اگر دوسری کوئی حکومت آتی ہے تو وہ اس بل کو شاید سرد خانے میںڈال دے اور ہمیشہ کے لئے یہ بل فائلوں میں دب کر رہ جائے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ نہ تو یو پی اے حکومت نے پندرہ نکاتی پروگرام پوری طرح لاگو کیے اور ان پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت مدرسوں میںنہ تو جدید تعلیم کو بہتر بنانے کا کام ہوا نہ ہی اردو میڈیم اسکولوں میںاسٹڈی میٹریل حکومت نے مہیا کرایا نہ ہی ان اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرریاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ اقلیتی کمیشن کی اسکالر شپ اسکیموں کا بھی یہی حال ہوا۔ مائنارٹی کمیشن کی جو اہم اسکالر شپ اسکیمیں ،پری میٹرک اسکیم، میٹرک اسکیم اور میرٹ کم منس اسکیموں کا غریب مسلم طالب علموں کو علم ہی نہیں ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علموں کے لئے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ دیا جاتاہے مگر کتنے طلباء اس سے مستفید ہوئے اس کے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ یہ ضرور پتہ ہے کہ ان اسکالر شپ کا مسلم طلباء کو علم ہی نہیں ہے۔
مولانا آزاد ایجوکیشنل فائونڈیشن جو وزارت کا ایک خود مختار ادارہ ہے ۔یہ اقلتیوں خاص طور پر اقلیتوں کی لڑکیوں کی تعلیم کے لئے پوری طرح وقف ہے اور یہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھی مدد کرتا ہے مگر سچ جانئے خود میں نے کئی مسلم طلباء کو اسکالر شپ کے بارے میں بتایا ہے کسی کو بھی ان اسکیموں کے بارے میںعلم نہیں ہے۔
2013-14 سے اقلیتی کمیشن نے یو پی ایس سی اسٹاف سلیکشن کمیشن اور ریاستی پبلک سروس کمیشن کے ابتدائی امتحانات پاس کرنے والے اقلیتی امیدواروں کی مالی امداد شروع کی تھی یعنی اگر کوئی Preliminary امتحان پاس کرتا ہے تو اس کو Main پیپرس اور انٹرویو وغیرہ کی تیاری کے لئے اسکالرشپ دینے کی اسکیم ہے۔ ہم ددعوے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کسی کو ان اسکیموں کا پتہ نہیں ہے اور ابھی تک جبکہ کے رحمن خاں کافی سرگرم ہیں ابھی بھی اقلیتیں اس امداد سے محروم ہیں۔
اقلیتوں کے طلباء کے لئے بیرونی ممالک میںتعلیم حاصل کرنے کی خاطر تعلیمی قرضوں پر سود میں سبسڈی دینے کے لئے ’’پڑھو پردیس‘‘ نامی اسکیم کا کیا کسی نے نام سنا ہے۔ جی ہاں ! ایک ایسی بھی اسکیم ہے جس کے تحت سود پر تمام سبسڈی کے اخراجات مرکزی حکومت برداشت کرتی ہے مگر ابھی تک اسی اسکیم کا فائدہ کتنے لوگوں کو ملا یہ بھی کوئی نہیں جانتا ہے۔
اب جبکہ نئی لوک سبھا کی تیاریوں اور الیکشن میںسبھی پارٹیاں مصروف ہیں۔ اب اقلیتوں کے لئے پھر سے نئے خواب سجانے کے لئے اسٹیج تیار ہورہے ہیں۔اب پھر سے مسلمانوں کو تعلیم ،روزگار اور بہتر زندگی کے خواب دکھانے کی تیاری ہے۔مگر جان لیجئے جس حکومت نے جاتے جاتے آپ کو لنگڑا،لولا کمیشن دے دیا جو کہ پارلیمنٹ سے بھی پاس نہ ہوا، جس حکومت نے مسلم ریزویشن ، فرقہ وارانہ بل، 15 نکاتی پروگرام ہر جگہ مسلمانوں کو دھوکہ دیا، وہ حکومت اب دوبار ہ سونے کی بھی بن کر آگئی تو شاید مسلمانوں کا دل نہ جیت سکے ۔ یکساں مواقع کمیشن کو آخری سیشن میںپاس نہ کرنا مسلمانوں سے ایک اور دھوکہ ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *