الیکشن2014 :اس بے حساب چندے کا حساب کو ن لے گا

ڈاکٹر وسیم راشد
الیکشن کے دوران اداریہ لکھنا بے حد مشکل کام ہے کیونکہ ایک غیر جانبدار مدیر سے یہ امید لگائی جاتی ہے کہ وہ سچی اور ایماندارانہ بات کہے۔ جیسے کسی بھی چینل کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کس پارٹی کا چینل ہے اور اس نے کس سے پیسہ کھایا ہے، اسی طرح اخبار کے بارے میں بھی عوام فوراً اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ کس پارٹی کا اخبار ہے۔ کتنا ہی آپ یقین دلاتے رہیں جو فیصلہ قاری کر لیتے ہیں،ا سے بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ ہمارے اخبار نے ہمیشہ ہی کانگریس، بی جے پی ،سماجوادی پارٹی، آپ پارٹی تقریباً سبھی پارٹیوں کی مخالفت کی ہے۔ جہاں ہم نے کانگریس کے گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا، وہیں بی جے پی کی فرقہ پرستی کو بھی کھل کر بے نقاب کیا ہے۔ اسی طرح ملائم سنگھ کا مکھوٹا جو مسلمانوں کو بہکانے کے لئے لگایا ہوا تھا ، وہ مکھوٹا بھی ہم نے اتار پھینکا۔ آپ پارٹی کا موقف کیا ہے ؟ کیسے کجریوال عوام کو جذباتی مدعوں میں الجھا کر اپنا اُلو سیدھا کر رہے ہیں، اسے بھی عوام کے سامنے کھل کر پیش کیا۔ ایک غیر اردو گھرانے کا اخبار اردو کی جو خدمت کر سکتا ہے وہ کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے اور ایمانداری سے کی گئی ہے۔ آج پھر ہماری خواہش ہے کہ ایک ایسے مسئلہ کو سامنے لایا جائے ، جو بے حد اہم ہے اور وہ ہے الیکشن میں انتخابی چندے کا مسئلہ۔ پارٹیوں کو الیکشن کمیشن کی ہدایت ہے کہ وہ چندے کے معاملے میں شفافیت برتیں اور یہ شفافیت لانے کی کوشش گزشتہ 15سالوں سے کی جا رہی ہے، مگر سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن کی ہدایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لگاتار مختلف ذرائعوں سے چندہ وصول کر رہی ہیں اور اس کا حساب کتاب بھی نہیں رکھا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسمبلی انتخابات اور لوک سبھا انتخابات دونوں میں ہی امیر امیدواروں کو ٹکٹ مل جاتا ہے۔ اب 70لاکھ روپیہ یا ایک کروڑ روپیہ کوئی نوکری پیشہ کہاں سے لے کر آئے گا یا پھر نوکری کو دائوں پر لگا کر کجریوال کی طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سیاست میں داخلہ لیا جائے مگر کجریوال کو تو انا کا سہارا مل گیا اور اس طرح وہ مشہور ہو گئے ۔ غریب عوام تو روزی روٹی کے چکر میں الجھے ہوئے ہیں، وہ کہاں سے الیکشن لڑنے کا پیسہ لائیں گے۔
الیکشن کمیشن نے 15جولائی 1998میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے حساب کتاب کا بیورہ مانگا تھا اور شفافیت لانے کی بات کی تھی مگر کسی بھی پارٹی نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن کو سختی سے اس کا احساب مانگنا چاہئے تھا ، جو نہیں ہو پایا کیونکہ امیدوار کو پیسے کا حساب دینا پڑتا ہے ،پارٹی کو نہیں۔ اسی لئے امیدوار اپنے خرچ کا آدھے سے زیادہ حصہ پارٹی کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔
اب دیکھنا یہ کہ پارٹیوں کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے اور عوام نواز اقتصادی پالیسی کیوں نہیں وجود میں آ پاتی اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان ہو یا پھر کوئی بھی جمہوری ملک چندہ ہمیشہ نامعلوم ذرائع سے آتا ہے۔ 2004-05سے 2011-12تک کے الیکشن کا جائزہ لیں تو سیاسی پارٹیوں کو تقریباً 4.895کروڑ کا چندہ ملا ، اس میں سے تقریباً 3.674کروڑ روپے کے ذرائع کا علم نہیں ہے اور اس میں سبھی سیاسی پارٹیاں شامل ہیں جو الیکشن کمیشن کو اپنے چندوں کا حساب کتاب نہیں دے پائی ہیں۔
یہ انتخابی چندے دراصل ان لوگوں سے آتے ہیں، جو Pro-Anarchistہیں جو Pro-Fascistہیں اور جو Pro-Marketہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابی چندوں سے جیتے ہوئے لوگ عوام کے لئے کام نہیں کر پاتے اور یہی ایک وجہ ہے کہ کوئی بھی Pro-Minorityپالیسی یا Pro-Muslimپالیسی نہیں بن پاتی۔
16ویں لوک سبھا کے لئے اس بات سب سے زیدہ تعداد میں ووٹرز ہیں اور اس بار کا الیکشن بہت بڑا جمہوری ایونٹ مانا جا رہا ہے ، جس میں تقریباً 81ملین لوگ ووٹ ڈالیں گے۔
اپنے مینی فیسٹوں میں ہر پارٹی مسلمانوں کے لئے خصوصی مراعات ، پیکجز اور سہولیات کا وعدہ کرتی ہے مگر وہ یہ وعدہ کیوں پورے نہیں کرتی کیونکہ پارٹی کو چندہ بھیجنے والی ہیں ۔ انارکسٹ اور فاشسٹ طاقتیں ہیں اور یہ چندہ دینے والے وہ ممالک اور لوگ ہیں جو ذہنی طور پر پرو مسلم یا Pro-Peopleنہیں ہو پاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک پریس کانفرنس میں چوتھی دنیا کے چیف ایڈیٹر محترم سنتوش بھارتی نے یہ توقع اور امید ظاہر کی کہ اس بار انتخابات میں شاید Pro-People Economic Policyوجود میں آ سکے کیونکہ ان کے مطابق کسی بھی سیاسی پارٹی کا ایجنڈہ صرف اور صرف Pro-People Economic Policyہی ہونا چاہئے۔
آزادی سے قبل گاندھی جی کی بھی یہی خواہش تھی کہ ملک کی معیشت لوگوں کے پاس ہو نی چاہئے اور وہ ہو بھی سکتی تھی ۔جب گھریلو روایتی صنعتوں کو برقرار رکھا جا سکے اگر گاندھی جی کی پالیسی پر عمل کیا جاتا تو گھر یلو صنعتیں زیادہ تر مسلمانوں کے پاس تھیں ۔ گھریلو ہنر مسلمانوں کے پاس تھا ۔ دستکاری مسلمانوں کا ہنر تھا اور یہ سب اگر برقرار رہتا تو آج یقینا مسلمان مضبوط ہو تے اور معیشت پر ان کا قبضہ ہوتا۔
ہندوستان میں یوں تو چند بڑے صنعتی گھرانوں نے سیاسی پارٹیوں کو چندہ دینے کے لئے ٹرسٹ بنانئے ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سے کاروباری گروپ ہیں، جو الیکشن کے لئے چندہ دیتے ہیں، مگر ان کا حساب کتاب نہیں ہوتا۔
2014الیکشن کے لئے بھی الیکشن کمیشن نے ہر امیدوار کو سختی سے یہ حکم دیا ہے کہ اپنا اکائونٹ بینک میں کھول کر الیکشن میں خرچ ہوئے ، پیسے کا پورا حساب کتاب رکھا جائے، اس کے علاوہ 70لاکھ کی رقم تک امیدوار خرچ کر سکتا ہے۔70لاکھ روپیظاہر ہے کوئی نوکری پیشہ ایماندار شخص تو نہیں خرچ کر سکتا ۔ ایسے میں سیاسی پارٹیاں امیدواروں کو ہائی جیک کر سکتی ہیں ، جو مشہور بھی ہوں اور روپے بھی خرچ کر سکیں، اس کے علاوہ جو چندہ نامعلوم ذرائع سے آتا ہے، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ ایک اور بڑی اہم بات ہے وہ یہ کہ 20ہزار سے کم چندے کا چونکہ حساب کتاب نہیں رکھا جاتا اس لئے سیاسی پارٹیاں چالاکی سے چھوٹے چھوٹے اخراجات میں اس کو بانٹ دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن سبھی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے، کوئی بھی باہوش شخص کسی بھی ریلی میں کتنا پیسہ خرچ ہوا، اس کا حساب آسانی سے لگا سکتا ہے، جہاںدو لاکھ کی کر سیاں 2لاکھ کا میوزک سسٹم اور پانچ لاکھ میں بھیڑ کو اکھٹا کیا جائے وہاں آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنا پیسہ ایک ریلی پر خرچ ہوا اور پھر بڑے بڑے لیڈروں کا ہوائی جہاز کا سفر اور ساتھ میں ان کے چیلے چپاٹوں کا بھی سفر تو کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ الیکشن کتنا مہنگا پڑتا ہوگا۔
یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2014کا پارلیمانی انتخاب ہندوستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا انتخاب ہوگا اور تقریباً 30ہزار کروڑ روپے اس پر خرچ ہوں گے ۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں غریبی، بے روزگاری ،فاقہ کشی ، بیماری سے عوام بدحال ہیں، وہاں 30ہزار کروڑ روپے کی رقم خرچ ہونا نہ صرف ملک کی اقتصادیات پر اثر انداز ہوگی بلکہ یقینا امیر وغریب سب ہی اس کی زد میں آئیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *