بدحال مسلمان: نئی اقتصادی پالیسی کے خلاف آواز کیوں نہیں؟

Share Article

اے یو آصف
p-5کسی بھی ملک و ملت کی ریڑھ کی ہڈی اس کی معیشت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے ملک و ملت کی بھی ریڑھ کی ہڈی یقینا اس کی معیشت ہے۔ 1991 میں پی وی نرسمہا راؤ کی سربراہی والی کانگریس کی اقلیتی حکومت کے زمانے میں اس وقت کے وزیر خزانہ اور فی الوقت وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ذریعے بازار پر مبنی نئی اقتصادی پالیسی کا ہندوستان میں نفاذ شروع ہوا۔ 1996 میں کانگریس کی اقلیتی حکومت تو رخصت ہوگئی اور پھر پہلے ایچ ڈی دیوے گوڑا اور بعد میں اندر کمار گجرال کی یونائٹیڈ فرنٹ حکومت میں بھی یہ پالیسی چلتی رہی۔ حتی کہ 1998 سے لے کر 2004 تک اٹل بہاری واجپئی کی سربراہی میں بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت بھی اسی پالیسی پر کاربند رہی۔ 2004 سے 2014 تک اس پالیسی کے خالق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت میں تو اس پالیسی کو تقویت ملنی ہی تھی اور خوب ملی بھی۔
سوال یہ ہے کہ بازار پر مبنی اس اقتصادی پالیسی کا گزشتہ 23 برسوں میں ملک پر بحیثیت مجموعی اثر کیا پڑا اور کیا کمزور طبقات بشمول مسلمان بھی اس سے متاثر ہوئے؟ سچ تو یہ ہے کہ ان 23 برسوں میں ملک کی معیشت بحیثیت مجموعی چرمرائی ہے اور خراب ہوئی ہے۔ امیر امیر تر ہوا ہے اور غریب غریب تر، نیز پس ماندہ پس ماندگی کا مزید شکار ہوا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ ملک کے 13.4 فیصد مسلمان انہی کمزور طبقات کے جز ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ تقسیم وطن کے بعد مسلمان کی یہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہے، تو بازار پر مبنی اسی نئی اقتصادی پالیسی کے سبب۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف روایتی صنعتوں والی یہ کمیونٹی ان صنعتوں کے گلوبلائزیشن کی مار سے کمزور اور بیمار پڑتے ہی خود مزید کمزور اور بیمار پڑنے لگی۔ مگر اصل سوال تو یہ ہے کہ اس تلخ حقیقت کے باوجود مسلم کمیونٹی نے اس اقتصادی پالیسی کی پر زور مخالفت کیوں نہیں کی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا کمیونٹی کے رہنماؤں کے پاس کوئی واضح جواب نہیں ہے۔
اب آئیے، ذرا دیکھتے ہیں کہ یہ روایتی صنعتیں کیا تھیں اور کہاں تھیں؟ یہ روایتی صنعتیں دراصل ہنر پر مبنی تھیں، جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی چلی آ رہی تھیں۔ یہ ملک کے مختلف گوشوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی جی نے 20 ویں صدی کے شروع میں سودیشی تحریک کا جو بگل بجایا تھا، اس زمرے میں ملک کی یہ روایتی صنعتیں بھی آتی تھیں۔ بابائے قوم ہندوستان کو روایتی صنعتوں والا ملک کہا کرتے تھے۔ ان کا صاف طور پر کہنا تھا کہ یہ صنعتیں اس ملک کی ناز ہیں۔ یہ ملک کی معیشت کو ایک طرف جہاں مضبوط کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف یہ خود انحصاری کو بڑھاتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے چرخہ کو اپنے روٹین کا جز بنایا اور اس پر مبنی تحریک بھی چلائی۔ ہندوستان کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو مئوناتھ بھنجن کو ہینڈ لوم و دیگر صنعتوں کے سبب ،ہندوستان کا مانچیسٹر‘ کہا کرتے تھے۔ ان روایتی صنعتوں میں بھدوئی، مرزا پور و دیگر منسلک علاقے کی قالین اور دری، مئو ناتھ بھنجن کی ہینڈ لوم ساڑی کے ساتھ ساتھ چوٹ کے درد کو دور کرنے کے لیے ’قدرتی تیل‘ اور ’نورانی تیل‘، مراد آباد کے برتن، بنارسی ساڑی، فیروز آباد کی چوڑی، علی گڑھ کے تالے، آگرہ اور کانپور کے جوتے، سورت میں ہیرے کو تراشنے اور بیل گام میں گرینائٹ اور کانپور و چنئی کی لیدر ٹینریز قابل ذکر ہیں۔

ہندوستان کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو مئوناتھ بھنجن کو ہینڈ لوم و دیگر صنعتوں کے سبب ’ہندوستان کا مانچیسٹر‘ کہا کرتے تھے۔ ان روایتی صنعتوں میں بھدوئی، مرزا پور و دیگر منسلک علاقے کی قالین اور دری، مئو ناتھ بھنجن کی ہینڈ لوم ساڑی کے ساتھ ساتھ چوٹ کے درد کو دور کرنے کے لیے ’قدرتی تیل‘ اور ’نورانی تیل‘، مراد آبادی برتن، بنارسی ساڑی، فیروز آباد کی چوڑی، علی گڑھ کے تالے، آگرہ اور کانپور کے جوتے، سورت میں ہیرے کو تراشنے کا آرٹ اور بیل گام میں گرینائٹ اور کانپور و چنئی کی لیدر ٹینریز قابل ذکر ہیں۔

راقم الحروف اس نئی اقتصادی پالیسی کے نفاذ کے ابتدائی دور 1995 میں مشرقی اتر پردیش کے بنارس، مئوناتھ بھنجن اور بھدوئی، مرزاپور اور کوپا گنج گیا تھا، تو اس نے وہاں مختلف صنعتوں کی نیٹ ورکنگ دیکھی تھی، جو کہ نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب نئی اقتصادی پالیسی کے اثرات ان صنعتوں پر پڑنے شروع ہو چکے تھے اور ان میں سخت بے چینی پائی جا رہی تھی۔ مثال کے طور پر بھدوئی، مرزاپور اور کوپا گنج میں قالین کی صنعت، جو کہ زیادہ تر مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھی، پر پہلے سوامی اگنی ویش اور ان کے شاگرد کیلاش ستیارتھی اور پھر بعد میں سوامی جی کے الگ ہو جانے پر کیلاش ستیارتھی نے الزام لگانا شروع کیا کہ ان قالین اور دری کے بننے میں بچوں کو ملوث کیا جاتا ہے، لہٰذا اس میں ’بچوں کا خون‘ شامل ہے۔ کہنے کو تو یہ بچہ مزدوری کے خلاف اور ’بچپن بچاؤ‘ کے نام پر تحریک تھی، مگر اس کا اصل نشانہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایتی صنعت تھی، جو کہ بچپن ہی سے سیکھی جا سکتی تھی۔ راقم الحروف نے دہلی اور نوئیڈا میں کئی فلیٹوں میں کیلاش ستیارتھی کے ذریعے چلائی جا رہی مہم اور کیمپوں کا وہاں جا کر معائنہ کیا تھا، جہاں متعدد بچوں کو بھدوئی، مرزا پور اور کوپا گنج سے لا کر اور بندی بنا کر رکھا گیا تھا۔ ان بچوں نے راقم الحروف کو پوشیدگی سے ڈرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں ان کی مرضی کے خلاف یہاں پکڑ کر لایا گیا تھا اور زبردستی ہراساں کرنے کے بیانات اخبار والوں کو دلوائے جا رہے تھے۔ اُس وقت تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ جرمنی، جو کہ دیگر غیر ممالک کے ساتھ مشین سے قالین بناتا تھا، کو ہندوستان میں ہاتھ کی بُنی ہوئی خوبصورت، پُر کشش اور مقبول عام قالینوں سے بازار میں مقابلہ ہوتا تھا اور مارکیٹنگ میں دشواری ہوتی تھی، جس کے سبب سوامی اگنی ویش اور کیلاش ستیارتھی کو بچہ مزدوری کے بہانے تحریک کے لیے اُکسایا گیا، مگر جب یہ سازش سوامی جی پر عیاں ہو گئی، تو انہوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ تب کیلاش ستیارتھی نے اس صنعت کے خلاف خود اکیلے مورچہ سنبھال لیا اور جرمنی کا وضع کردہ ’ایگ مارک‘ قالینوں پر لگوانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ ایگ مارک دراصل ایک سرٹیفکیٹ تھا کہ اس قالین کے بننے میں بچے ملوث نہیں ہیں۔ اس طرح بچوں کو قالین کی بنائی سے الگ کرتے ہی ہاتھ کی بُنی ہوئی قالین کی صنعت بری طرح متاثر ہونے لگی اور اب اُن میں سے بیشتر ٹھپ پڑ چکی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ پوری سازش اس لیے کی گئی تھی کہ ہندوستانی قالین بُننا کم ہوتا جائے اور بین الاقوامی بازار میں اس کی سپلائی بھی کم ہو جائے اور پھر جرمنی و دیگر ممالک کی مشین کی بنی ہوئی قالینیں ہی بیچی جا سکیں۔ اس نمائندہ نے بنارس میں بنارسی ساڑیوں کی صنعت میں بھی یہی سازش محسوس کی۔ عجب بات تو یہ ہے کہ بنارسی ساڑیاں آج بھی وہاں بنتی ہیں، مگر وہ صرف نام کی بنارسی ساڑیاں ہوتی ہیں۔ ان میں وہ فنی کاریگری اب عنقاء ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان ساڑیوں میں پہلے جیسی کشش نہیں پائی جاتی ہے اور ان کا مارکیٹ ڈاؤن ہو گیا ہے، جس کے سبب فارین ایکسچینج کے اندرون ملک آنے میں بھی بھاری کمی ہوئی ہے۔
مذکورہ بالا دری، ہینڈ لوم، قدرتی و نورانی تیل، مرادآبادی برتن، چوڑیاں، تالے، جوتے اور لیدر ٹینریز سب کی سب قالین کی صنعت کی مانند بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ جہاں بچپن میں سیکھی جانے والی یہ صنعتیں بہت کم ہونے لگی ہیں، وہیں ان کی مینوفیکچرنگ کم ہوئی ہے اور اس کا اثر سیدھے مارکیٹنگ پر پڑا ہے۔ دراصل، یہ سب ثمرات ہیں 1991 میں شروع کی گئی نئی اقتصادی پالیسی کے، جن کے سبب ان صنعتوں کی اشیاء اب باہر کے ممالک سے اندرونِ ملک آنے اور یہاں چھانے لگیں۔ اس طرح ہندوستان میں بیشتر مسلمانوں کے ہاتھوں میں پنپ رہی یہ صنعتیں دم توڑتی گئیں اور ان سب کا سیدھا اثر عام مسلمانوں پر پڑا اور پھر آزادی کے بعد گاندھی جی کا خود انحصاری کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ اتنا ہی نہیں، گاندھی جی کی انہی صنعتوں سے بنی اور استعمال شدہ اشیاء کے ساتھ برطانیہ میں نیلامی کے وقت جو دُرگتی ہوئی، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ سہرا تو جاتا ہے معروف صنعت کار و سماجی مصلح کمل مرارکا کے سر، جو کہ اِن اشیاء میں سے کچھ کو خرید کر وطن واپس لائے (ملاحظہ کریں ’گاندھی جی کو کس نے مارا؟‘، چوتھی دنیا، 7-13 مئی، 2012 اور ’ایک بار پھر کانگریس نے گاندھی کو مارا‘، چوتھی دنیا، 1-7 جولائی، 2013)۔
یہ بات حیرت کی ہے کہ مسلم معیشت کی کمر توڑنے والی نئی اقتصادی پالیسی کے خلاف مسلمانوں میں بحیثیت مجموعی گزشتہ 23 برسوں میں کوئی احتجاج، مخالفت اور ناراضگی نہیں دکھائی پڑتی ہے۔ مسلم تنظیمیں، ادارے و شخصیات ایسی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ جیسے انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ’چوتھی دنیا‘ نے جب چند مسلم ماہرین اقتصادیات و دانشوران اور تنظیموں کے ذمہ داران سے دریافت کیا، تو ایسا لگا کہ انہیں اس کی نزاکت و اہمیت کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے یا پھر وہ تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں اور مدافعت کا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ ماہر اقتصادیات اور تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم اُلٹا روایتی صنعتوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں ماڈرنائزیشن کا خوف ہے۔ اس لیے وہ انہیں ماڈر نائزنہیں کرکے موجودہ دور کے تقاضوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ سرکاری اسکیموں کے نافذ نہ ہو پانے کو بھی ذمہ دار مانتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور بیوروکریٹس کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، جب کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں ان روایتی صنعتوں میں ماڈرنائزیشن نہ لانے کے ساتھ ساتھ نئی اقتصادی پالیسی کو بھی پورے طور پر تو نہیں، کچھ کچھ ذمہ دار مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعت کاروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، جو کہ ملک کے اندر کے بجائے باہر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ضرورت ہے کہ سوشلسٹ و سرمایہ دارانہ، دونوں اقتصادی نظاموں کی خوبیوں کو لے کر مشترکہ اقتصادی پالیسی بنائی جائے۔ انہیں توقع ہے کہ آئندہ حکومت اس پر توجہ دے گی۔
مسلم قیادتوں سے ہٹ کر آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن یونیورسٹی کی خاک چھان کر اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ابو ذر کمال الدین صاف طور پر نئی اقتصادی پالیسی کو پورے طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دلائل کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ نئی اقتصادی پالیسی کا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور سسٹم کی ناکامی کے تمام نقصانات کا انہیں آج سامنا ہے۔ اس کے لیے یہ مسلم قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی معاشی امور میں توجہ نہیں دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نئی اقتصادی پالیسی کو ملک میں برقرار رکھنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ کانگریس اسے لے کر آئی اور دیگر پارٹیوں نے اسے یہاں پنپنے میں تعاون دیا۔ انہیں خوف ہے کہ اگر نریندر مودی برسر اقتدار ہوتے ہیں، تو زیادہ جارحانہ انداز میں یہ نئی اقتصادی پالیسی اختیار کی جائے گی، جس میں بڑے صنعتی گھرانوں کو ہر طرح کی چھوٹ دی جائے گی اور عام آدمی کو لالی پاپ پر اکتفا کرنا ہوگا۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ مسلمانوں نے موجودہ صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی کوئی تیاری نہیں کی ہے، تو ان کی حالت کے معاشی طور پر زیادہ بدتر ہونے کے اندیشے زیادہ ہیں۔
اپنی بات کی وضاحت میں ڈاکٹر ابوذر کمال الدین کہتے ہیں کہ روایتی صنعت کے نئی اقتصادی پالیسی سے بہت زیادہ متاثر ہونے میں متعدد فیکٹرس ذمہ دار ہیں۔ ایک فیکٹر تو یہ ہے کہ ان صنعتوں میں ماڈرنائزیشن کی گنجائش نہیں ہے۔ دوسرا فیکٹر یہ ہے کہ فنڈنگ کے کوئی معتبر ذرائع دستیاب نہیں ہیں۔ تیسرا فیکٹر، ان کے پاس کچے مال (Raw Material) بھی مناسب مقدار میں موجود نہیں ہیں، Standardization یعنی معیار کا کوئی پیمانہ بھی نہیں پایا جاتا ہے اور پیداوار کی لاگت زیادہ اور مارکیٹ تک پہنچ محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یکایک ان کا مقابلہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ہوا، تو یہ منھ کے بل گر گئے اور تمام روایتی مارکیٹ ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اس کے سبب انہوں نے اپنی پیداوار کم کر دی یا بند کر دی اور پھر سامان بنانے والوں سے یہ لوگ بازار میں ایجنٹ بن گئے۔ اس سے ان کی آمدنی اور عزت و وقار دونوں گھٹے اور روایتی صنعتوں کے تمام مراکز میں ان کے کاروبار ٹھپ ہو گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ اقتصادی ترقی کے تین مراحل ہیں – کاشت کاری، صنعت کاری اور سروس سیکٹر۔ ان کے مطابق، ملک میں نئی اقتصادی پالیسی آئی تو کاشت کاری سے معیشت سیدھے سروِس سیکٹر میں آ گئی اور درمیان میں جو صنعتی ترقی ہونی چاہیے تھی، وہ نہیں ہوئی۔ اب جو تھوڑی بہت سرگرمیاں ہیں، تو وہ بینکنگ صنعت، انشورنس، ہیلتھ سیکٹر، ٹرانسپورٹیشن، ٹورزم اور ریئل اسٹیٹ ہیں، جنہیں Non-Sustainable Economic Development کے خانے میں رکھا جاتا ہے، جس میں ریئل گروتھ نہیں ہوگا، یعنی فزیکل اصطلاح میں مال (Goods) اور سروسز کی پیداوار نہیں ہوگی۔ ان کے خیال میں، یہی وجہ ہے کہ جب باہر کے ملکوں میں شو ڈاؤن ہوا، تو یہاں چونکہ بنیاد ہی نہیں تھی، تو معیشت اوندھے منھ گر گئی اور جی ڈی پی میں بھی گروتھ کم ہو گیا، جس کے سبب معیشت میں بحران پیدا ہوگیا۔ اس کے نتیجہ میں امیری جس تیزی سے بڑھی، اتنی تیزی سے غریبی کم نہیں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Percolation تھیوری ناکام ہوگئی اور امیری اور غریبی کے درمیان کی کھائی اور زیادہ بڑھ گئی اور غیر قابو افراطِ زر کے سبب قیمتوں میں جو بے تحاشہ اضافہ ہوا، اس کے نتیجہ میں عام لوگوں کو اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں دقت آنے لگی ہے اور بدعنوانی کے سبب سوشل سیکورٹی اسکیم کا غریبوں کو فائدہ ٹھیک سے نہیں مل رہا ہے اور وہ دونوں طرف سے پسے جا رہے ہیں۔
ان کا واضح طور پر کہنا ہے کہ مسلمانوں کو معاشی امور میں جو عدم واقفیت ہے، ان کے نقصانات سے بچنے، انہیں ایجوکیٹ کرنے اور ان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جدو جہد کرنے کا مسلم قیادت کو نہ شعور ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کی کوئی ضرورت محسوس کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *