عزیز برنی سے کیوں ناراض ہیں مسلمان؟

اردو کے مشہور صحافی عزیز برنی سے مسلمان آج کل بہت ناراض چل رہے ہیں۔ ناراضگی اس لیے ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کے لیے اب باقاعدہ سیاسی پارٹیوں کی دلالی کا کام شروع کر دیا ہے۔ ذاتی زندگی میں وہ اپنے مذہب پر عمل بھلے ہی نہ کرتے ہوں، لیکن کسی عظیم مذہبی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کا حق انہیں کسی بھی طرح نہیں ہے۔ وہ ملک کے وزیر اعظم بھی بننا چاہتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے یو پی میں 20 پارٹیوں پر مشتمل اور مہاراشٹر میں 17 پارٹیوں پر مشتمل غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی محاذ ’فورس وَن‘ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ آخر وہ مسلمانوں کے خلاف ہی سازش کرنے میں کیوں لگے ہوئے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں اس رپورٹ میں ……

ڈاکٹر قمر تبریز
10-6ہندوستان کے مسلمان جذباتی ضرور ہیں، لیکن بیوقوف نہیں ہیں۔ انتخابات کے دوران ووٹ ڈالنے کے لیے وہ جس قسم کی حکمت عملی تیار کرتے ہیں، اس سے تمام سیاسی پارٹیاں نہ صرف حیران ہیں، بلکہ پریشان بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 10-15 سالوں سے ہر سیاسی پارٹی الیکشن کے دوران مسلمانوں پر سب سے زیادہ ڈورے ڈالتی رہی ہے۔ کانگریس جیسی کچھ سیاسی پارٹیاں انہیں بعض دفعہ بیوقوف بنانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کے لیے یہ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے درمیان سے ہی کچھ لوگوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر کانگریس کے اندر ہی سلمان خورشید یا کے رحمن خان جیسے کچھ ایسے نام ہیں، جنہوں نے مسلمانوں کو بیوقوف بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لیکن پارٹی کے باہر بھی چند ایسے نام آپ کو ضرور مل جائیں گے، جو ہر وقت یا تو ان سیاسی پارٹیوں کی قصیدہ گوئی میں لگے رہتے ہیں یا پھر مسلمانوں کے اندر ڈر اور خوف پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں، تاکہ مجبور ہو کر مسلمان انہی پارٹیوں کو ووٹ دیں، جنہوں نے ان کا ہمدرد ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔
انہی ناموں میں سے ایک مشہور نام ہے عزیز برنی کا، جن کی شبیہ ہندوؤں میں ٹھیک ویسی ہی بن چکی ہے، جیسی کہ مسلمانوں میں پروین توگڑیا کی۔ یہ دونوں ہی ایک دوسری قوم کے خلاف زہر اگلنے کا کام کرتے ہیں اور دونوں کی ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ اس ملک کے ہندو اور مسلمان کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں، متحد نہ ہو سکیں، تاکہ ان دونوں کی دکان چلتی رہے۔ عزیز برنی یوں تو دعویٰ کرتے ہیں اِس دور کا مولانا ابوالکلام آزاد یا مولانا محمد علی جوہر جیسا صحافی ہونے کا، لیکن اگر ان کی صحافت اور ان کی ذاتی زندگی پر قریب سے نظر ڈالیں، تو ہمیں بہت بڑا تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر نے اپنے زمانے میں انگریز حکومت کے خلاف اتنا لکھا کہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے تو ڈالا ہی گیا، ساتھ ہی یہ دونوں ہی عظیم صحافی اپنی زندگیوں میں زبردست مالی تنگی کا بھی شکار ہوئے۔ لیکن عزیز برنی کی دولت روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے، پھر بھی مزید دولت کی لالچ ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو چاہتے تھے کہ آزاد ہندوستان میں میڈیا سرکار کے خلاف اپوزیشن کا کام کرے، لیکن کچھ لوگ ٹی وی یا اخبار صرف اور صرف سرکار کی دلالی کرنے کے لیے نکالتے ہیں۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ آپ کسی بھی چینل یا اخبار کو دیکھ کر بڑی آسانی سے یہ بتا سکتے ہیں کہ کون سا ٹی وی چینل یا اخبار کس پارٹی کا ہے۔
اس وقت ملک میں 2014 کے عام انتخابات کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ چونکہ ہر سیاسی پارٹی کی نظر مسلم ووٹوں پر ہے، اس لیے 2009 کے الیکشن کی ہی طرح اس بار کے الیکشن میں بھی عزیز برنی جیسے لوگ مسلمانوں کو صرف دہشت گردی جیسے موضوع تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات اور دہشت گردی کے علاوہ ہزاروں ایسے مسائل ہیں، جن سے ہندوستانی مسلمان پریشان ہیں۔ مثال کے طور پر ناخواندگی، بے روزگاری، پس ماندگی، غریبی، سرکاری نوکریوں اور جمہوری اداروں میں ان کی حد درجہ کم نمائندگی وغیرہ۔ لیکن عزیز برنی کو ان سب کی فکر نہیں ہے، انہیں صرف اور صرف دہشت گردی کی فکر ہے۔ حالانکہ اگر غور کیا جائے، تو مسلمانوں کے درج بالا مسائل کو حل کرنے سے دہشت گردی کا معاملہ اپنے آپ ہی حل ہو جائے گا۔
مسلم دانشوروں کا یہ ماننا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کبھی انصاف نہیں ہوا۔ سب سے پہلے ملک کے دو ٹکڑے کیے گئے اور پھر اس کا الزام مسلمانوں پر ہی تھوپ دیا گیا۔ اس کے بعد ہندوستان کے اندر جو مسلمان رہ گئے، انہیں شروع سے ڈرا دھمکا کر رکھا گیا، انہیں آگے بڑھنے اور دوسری قوموں کے ساتھ ترقی کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کے لیے یہاں کی مختلف سرکاریں، خاص کر کانگریس زیادہ ذمہ دار ہے، جس نے اس ملک پر سب سے زیادہ دنوں تک حکومت کی ہے۔ لیکن گزشتہ 10-15 سالوں سے دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آ گیا ہے اور بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری کے پیچھے بھی ان سیاسی پارٹیوں کی یہی سازش کارفرما ہے کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر اور پھر انہیں بیوقوف بناکر ان کا ووٹ حاصل کیا جائے۔ عزیز برنی بھی مسلم مخالف ان سیاسی پارٹیوں کے ہی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس قیادت کی کمی ہے، لیکن ملک میں جیسے ہی ایسا کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے، جس سے مسلمانوں کی بھی امیدیں بندھتی ہیں کہ وہ ان کے بھی مسائل حل کرائے گا، عزیز برنی فوراً ہی اسے آر ایس ایس کا ایجنٹ کہہ دیتے ہیں۔ ظاہر ہے، اس کے لیے انہیں کانگریس اور بی جے پی دونوں سے ہی پیسے ملتے ہوں گے، کیوں کہ وہ مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کا کام پوری تندہی سے کر رہے ہیں۔ عزیز برنی کا صرف ایک ہی مقصد ہے، پیسے کمانا اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن، اسرائیل کے ایجنٹ بھی بن سکتے ہیں اور ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن آر ایس ایس سے بھی ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اسرائیل کی طرف سے بھی دعوت نامے موصول ہوتے رہے ہیں اور آر ایس ایس کی جانب سے بھی۔ یہ کوئی پہلا انکشاف نہیں ہے، بلکہ اردو کے بعض اخبارات ماضی میں اس کی تفصیل فراہم کرتے رہے ہیں۔ لیکن بجائے اپنی غلطیوں پر نظر ڈالنے کے، عزیز برنی صاحب اپنے مخالفین کو ہی آر ایس ایس کا ایجنٹ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ انہیں مسلم مخالف ان تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں سے کتنے پیسے ملتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا ہو، تو آپ نوئیڈا (یوپی) میں واقع ان کے عالیشان مکان اور ان کی گاڑیوں کو دیکھ سکتے ہیں، ان کے ہوائی سفر پر خرچ ہونے والے پیسوں کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی انہیں پیسے نہیں دیتی، تو وہ اسے آنکھیں دکھانے لگتے ہیں۔ اسی لیے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار، اردو زبان کے فروغ سے متعلق کاموں کے لیے انہیں اپنا مشیر خاص بھی بنا لیتی ہے اور ان کی ایک بیٹی کو ایس سی؍ ایس ٹی کمیشن میں او بی سی کوآر ڈی نیٹر بھی بنا دیتی ہے۔ امر سنگھ سے دوستی کرکے انہوں نے ملائم سنگھ کو پیسوں کے لیے کتنا پریشان کیا، اس کی تفصیل آپ کو سماجوادی سرکار کے مکھیا خود بتا سکتے ہیں۔
عزیز برنی کی تحریروں کو پڑھ کر ہندوستان کا مسلمان انہیں اپنا سب سے بڑا ہمدرد سمجھتا ہے، لیکن جو بھی مسلمان ان سے ایک بار ملاقات کر لیتا ہے، وہ زندگی بھر ان سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ عزیز الہند میں کام کرنے والے ملازمین سے مل کر آپ ان کی آپ بیتی سن سکتے ہیں اور پھر اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ رہنے والے مسلمانوں پر کتنا ظلم کرتے ہیں۔کتنوں نے تو تنگ آکر ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور کتنے ایسے ہیں، جو کوئی اور راستہ نہ دیکھ ان کے ظلم و ستم کو برداشت کرنے پر اب بھی مجبور ہیں۔ قارئین میں ان کے اخبار کا کتنا اثر ہے، اس کا اندازہ ابھی حال ہی میں دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان سے لگایا جا سکتا ہے، جس کا عنوان ہے ’عزیز الہند کا مکروہ چہرہ بے نقاب۔‘اس بیان کو ہم من و عن قارئین کے لیے شائع کر رہے ہیں:
’’ملت اسلامیہ کے غیور نوجوانوں اور مستقبل کے سپہ سالاروں! گو کہ ہمارا کام اس جامعہ میں آکر پڑھنا اور اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے، نیز اپنے عظیم اکابر اور اساتذہ کے نقش قدم پر چل کر ملت اسلامیہ کا جانباز سپاہی بننا ہے، لیکن اگر کوئی ہمارے اُن اکابر اور اساتذہ کو ملک اور قوم کے درمیان بدنام کرنے کی کوشش کرے گا، تو ہم اس کی جڑیں اکھاڑ دینے کا مکمل عزم رکھتے ہیں۔ ہم آپ کی توجہ ایک نو زائیدہ اخبار بنام ’’عزیز الہند‘‘ کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں، جس کے نام نہاد اور سستی شہرت کے طلب گار ایڈیٹر نے ایک بار پھر اپنے 19 فروری، 2014 کے شمارے میں ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی، استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند و صدر جمعیۃ علماء ہند کی تصویر ملائم سنگھ کے ساتھ اس پس منظر میں شائع کی، جسے دیکھ کر ایسا لگا کہ مظفر نگر فساد کے مجرمین میں حضرت کا نام نمایاں ہے۔ حالانکہ حضرت نے مظفر نگر فسادات متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے جو بے پناہ کوششیں کی ہیں، وہ کسی پر مخفی نہیں اور متاثرین کی باز آبادکاری کا جو کام حکومت اور مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈران کو کرنا تھا، اسے استاذ محترم نے انجام دیا، نیز حضرت نے متاثرین کی امداد کے لیے جہاں ایک طرف جمعیۃ کا سارا زور صرف کر دیا، وہیں یو پی حکومت سے تقریباً ایک ارب روپے مظلومین کو بھی دلائے۔ لیکن ان تمام خدمات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ایڈیٹر نے سہارنپور میں منعقد ہونے والے جلسے میں حضرت کی شرکت کو سب سے بڑا جرم قرار دیا، حالانکہ سہارنپور کا جلسہ حضرت ’شیخ الہند‘ کی طرف منسوب کالج کے افتتاح کے لیے تھا، کوئی سیاسی جلسہ نہیں تھا۔ جلسے میں اصل شرکت ہماری تھی، اس لیے کہ ’شیخ الہند‘ ہمارے اکابرین میں سے تھے، کسی سیاسی پارٹی کے لیڈر نہیں، اس میں شرکت کرنا ہمارا حق تھا۔
ہم اس ایڈیٹر سے پوچھتے ہیں کہ وہ حکومت، جو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی مجرم ہے، جس نے گجرات فساد کے مظلومین کو انصاف نہیں دلایا اور اس کی حکومت میں آزادی کے بعد سے اب تک ہزاروں مسلم مخالف فسادات ہوئے، تم نے اس کے وزیر اعظم کے ساتھ امریکہ کا سفر کیوں کیا؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ یہ کام تمہاری صحافت سے تعلق رکھتا ہے اور تم ایک صحافی ہونے کی حیثیت سے گئے تھے، تو ہم بھی کہتے ہیں کہ حضرت کی سہارنپور جلسے میں شرکت کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کے لیے نہیں تھی، بلکہ حضرت شیخ الہندؒ کے اعزاز میں تھی۔
شیخ الہند کے وارثوں! اصل میں اس اخبار کے ایڈیٹر نے اپنی تنظیم بنائی ہے اور چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اپنے دامِ فریب میں لایا جا سکے۔ لہٰذا، اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے قائد اور ان کے واسطے سے بزرگوں کی تنظیم ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کی شبیہ کو قوم کے سامنے خراب کیا جائے اور صرف حضرت ہی کی نہیں، بلکہ داڑھی، ٹوپی، کرتے والے کی شبیہ کو داغدار کیا جائے، تاکہ قوم کے سامنے یہ پیغام جائے کہ یہ علماء تمہارے قائد نہیں، بلکہ تمہارے قائد تمہیں صحیح راستہ دکھانے والے ہم جیسے داڑھی منڈے ہیں۔
ذرا سوچو! جن کا ظاہر شریعت کے موافق نہیں، جو اپنے عمل سے احکام شریعت کے مخالف ہیں، وہ مسلمانوں کے قائد و رہبر کیسے بن سکتے ہیں؟ بھائیوں! اس کے غلط ارادوں کو کامیاب بنانے کے لیے ہم ہی لوگ آلۂ کار بن رہے ہیں، ہم ہی اس کے مہنگے اخبار کو خرید کر ، اس کو چندہ دے کر اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور چونکہ وہ ہم سے متعلق خبریں بھی صفحہ اوّل پر شائع کرتا ہے، اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ہمارا خیرخواہ اور قوم کا ترجمان ہے، حالانکہ وہ ہماری ہی چھری لے کر ہمیں ذبح کرنے میں لگا ہے۔لہٰذا، یہ ہماری غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم ہرگز ہرگز اس کے آلۂ کار نہ بنیں، جس کی سب سے بہتر شکل اس کے اخبار کا بائیکاٹ کرکے، اس کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔ آپ حضرات ہمارے اس پیغام کو عملی جامہ پہنا کر ملی حمیت کا ثبوت دیں۔‘‘
اس طرح دیکھا جائے، تو عزیز برنی نے جہاں ایک طرف اپنے اخبار کے ذریعے مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی ادارہ، دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کو ناراض کیا ہے، وہیں یو پی میں 20 پارٹیوں اور مہاراشٹر میں 17 پارٹیوں کے محاذ ’فورس وَن‘ میں شامل ہو کر اِس بار کے لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ کو بانٹنے کی ایک سازش بھی کی ہے۔ عزیز الہند این جی او کے ذریعے وہ معصوم مسلمانوں کو بیوقوف بناکر ان سے چندہ بھی حاصل کر رہے ہیں اور انہیں لوک سبھا کا ٹکٹ دینے اور انتخاب لڑنے کی لالچ بھی دے رہے ہیں۔ خود تو وہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں، لیکن اگر کوئی دوسرا وزیر اعظم بننے کی کوشش کرے، تو عزیز برنی اسے آر ایس ایس کا ایجنٹ کہنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان کے قول و عمل میں آئے اس تضاد کو اب ہندوستانی مسلمان پوری طرح سمجھ چکے ہیں، اس لیے اب وہ عزیز برنی یا ان جیسے سیاسی پارٹیوں کے دلالوں کے دامِ فریب میں آنے والے نہیں ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *