ایسے ہی مناتے رہئے یوم خواتین، کبھی کچھ نہیں بدلے گا

ڈاکٹر وسیم راشد
بین الاقوامی خواتین کا دن، یعنیInternational Women’s Day۔ یہ عنوان ہی مجھے بے حد تکلیف دیتا ہے۔ خواتین کا دن منانے سے کیا خواتین کے تئیں سماج کے رویہ اور اس کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے؟ کیا خواتین کا دن منانے سے خواتین کی حالت میں کوئی سدھار ہوا ہے، یا ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کٹّی پارٹی کرنے والی خواتین اگر ملک میں یومِ خواتین مناتی ہیں، تو اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ عورتوں کی حالت سدھر رہی ہے یا پھر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بڑے سے سجے ہوئے ہال میں اکٹھّا ہو کر قیمتی سلک کی ساڑیوں اور ادھ ننگے بلاؤز والی خواتین سے یومِ خواتین کا مقصد پورا ہو جاتا ہے؟
یومِ خواتین بالکل ایسے ہی ہے، جیسے ویلنٹائن ڈے یا مدرز ڈے یا چلڈرنز ڈے اور یہ سبھی دن صرف اور صرف اعلیٰ سوسائٹی اور بھرے پیٹ لوگ ہی مناتے ہیں۔ ایک غریب روزی روٹی کمانے والے مردو عورت یا بچے کو ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح خواتین کا دن بھی ہے۔ خواتین کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے اور اس میں بھی مسلم خواین کی حالت تو اور بھی زیادہ خراب ہے۔ وہ ملک، جہاں کی سب سے بڑی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی رہیں، جہاں کی پندرہویں لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کی لیڈر سشما سوراج رہیں، جس کی اسپیکر میرا کمار تھیں، جس کی صدر پرتبھا پاٹل رہیں، 15 سال تک دہلی کی چیف منسٹر شیلا دکشت رہیں، جہاں مایا، ممتا، جیہ للتا جیسی خواتین اقتدار میں رہیں، اسی ملک میں خواتین کی حالت نہایت خراب ہے۔
پندرہویں لوک سبھا میں یوں تو اس بار خواتین کی سب سے زیادہ ، یعنی 10 فیصد نمائندگی رہی، لیکن ان پانچ سالوں کے اعداد و شمار کو دیکھیں، تو خواتین کے ساتھ سب سے زیادہ زیادتیاں ہوئیں۔ نربھیا کیس ہوا اور لگاتار ملک میں عصمت دری کے واقعات ہوئے۔ گزشتہ 15 سالوں کا جائزہ لیں، تو جہیز سے ہونی والی اموات میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2001 سے 2012 کے درمیان تقریباً 91202 اموات صرف جہیز کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
یہ تو وہ معاملے ہیں، جو منظر عام پر آ چکے ہیں، مگر کتنی ہی ایسی خواتین ہیں، جن کو گھریلو تشدد کی وجہ سے کیس درج نہیں کرانے دیا جاتا۔ یو پی میں ہر سال 2000 سے بھی زیادہ لڑکیاں جہیز کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہیں۔ بہار میں 1000 سے زیادہ، مدھیہ پردیش میں تقریباً 600 سے 800 اور دہلی میں ہر سال تقریباً 1582 کے قریب خواتین صرف جہیز کی وجہ سے ماری جاتی ہیں۔ مسلم خواتین کے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہیں۔ جہیز کی لعنت مسلمانوں میں بھی خوب جڑ پکڑ چکی ہے۔
جہاں تک عصمت دری کی بات ہے، تو دہلی جیسے شہر میں ہر منٹ میں ایک عورت عصمت دری کا شکار ہوتی ہے۔ اسی طرح فساد میں سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ گجرات کے فساد کی وہ بھیانک داستان کیا کوئی بھول سکتا ہے، جس میں حاملہ عورت کے پیٹ سے بچے کو نکال کر نیزے پر لٹکا دیا گیا اور پھر زندہ جلا دیا گیا۔ کیا اس عورت کی تصویر مظفر نگر کی یاد ہے جس میں ماں کے سینے سے لگا ہوا بچہ انسان نما درندوں کے تشدد کی کہانی بیان کر رہا ہے۔ ابھی بھی مظفر نگر میں سب سے زیادہ خواتین پر مظالم ہوئے اور ان کی عصمت دری کی گئی۔
بند کمروں میں بیٹھ کر یومِ خواتین منانے کی پلاننگ کرنا اور پھر چمچماتی کاروں سے سجے سجائے ہال میں جاکر خواتین کے لیے بڑی بڑی باتیں کرنے سے خواتین کی حالت میں سدھار نہیں ہو سکتا۔ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن کی بات کہی جا رہی ہے، مگر اس بار بھی یہ ریزرویشن بل پاس نہیں ہوا، اس کی وجہ یہی ہے کہ کچھ لیڈران کا کہنا تھا کہ اس سے صرف اعلیٰ طبقے کی خواتین کو ہی فائدہ ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ریزرویشن در ریزویشن ملتا ہے، تو ہی اس کا فائدہ ہے۔ مسلم خواتین کی حالت اگر سدھر سکتی ہے، تو کوٹہ میں کوٹہ ملے، تو ہی سدھر سکتی ہے، کیوں کہ مسلم خواتین ابھی بھی پس ماندگی کی بے حد شکار ہیں۔ شہروں کی حالت سے اگر گاؤں کا مقابلہ کریں، تو گاؤں دیہاتوں میں خواتین کو غلاموں سے بھی بدتر حالت میں رکھا جاتا ہے۔ اگر کوٹہ در کوٹہ ملے اور مسلم خواتین کا کوٹہ مخصوص ہو، تو ہی بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔
اس بار پندرہویں لوک سبھا میں صرف 3 مسلم خواتین منتخب ہوکر آئی تھیں۔ چھٹی اور آٹھویں لوک سبھا میں بھی تین مسلم خواتین ہی تھیں، جب کہ پہلی، چوتھی، پانچویں، نویں، دسویں اور بارہویں لوک سبھا میں ایک بھی مسلم خاتون نہیں تھیں۔
ممتا بنرجی نے خواتین ریزرویشن میں ہمیشہ مسلم خواتین کے ریزرویشن کی بات کی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اس طرح عام گھروں کی خواتین بھی پارلیمنٹ میں پہنچ سکتی تھیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ ابھی بھی یہ بل لٹکا ہوا ہے۔ مسلم خواتین کے لیے بہت سے بہت ’خواتین کا مشاعرہ‘ منعقد کیا جاتا ہے یا پھر کوئی اسلامی مجلس منعقد کرکے خوش ہو جاتے ہیں کہ خواتین کا حق ادا ہو گیا۔
مجھے بڑی ہی حیرت ہوتی ہے میڈیا کے رول پر، جب چینلز خواتین کے دن پر بڑے بڑے پروگرام دکھاتے ہیں۔ کئی دن پہلے سے اشتہارات آنے لگتے ہیں اور پھر یومِ خواتین کو ایسے دکھاتے ہیں، جیسے سب سے زیادہ ترقی ہندوستان میں ہی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ برابری اور مساوات اور روزگار ہندوستان کی خواتین کو ہی ملا ہے اور پھر پورے دن چینلز پر خوبصورت ساڑیاں پہنے ہماری لیڈرس جن میں برندا کرات، رینوکا چودھری، آشا شرما، اسمرتی ایرانی، کرن بیدی، ممتا شرما، میناکشی لیکھی جیسی اعلیٰ گھروں کی خواتین ایسے بحث و مباحثہ کرتی نظر آتی ہیں، جیسے انہوں نے ہی ہندوستان کی خواتین کی حالت سدھارنے میں اہم رول ادا کیا ہو یا پھر اب واقعی خواتین کی حالت بہتر ہو گئی ہے۔ کوئی بھی چینل مزدور، بھکارن اور غریب کسان عورت کی حالت زار نہیں دکھاتا، تاکہ اصل ہندوستان کی تصویر سامنے آ سکے، جس میں خواتین کی صحیح حالت زار کا پتہ چل سکے۔ یہی نہیں، ابھی بھی ڈھکے چھپے رحم مادر میں لڑکیوں کو مارنے کا عمل جاری ہے۔ ابھی بھی ہندوستان میں کتنے ہی پرائیویٹ ہاسپیٹل اور کلینک چل رہے ہیں، جہاں دختر کشی کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے 1994 میں پیدائش سے پہلے جنین جاننے پر روک تو لگا دی اور قانون بھی بنا دیا، مگر اس قانون پر کتنا عمل ہوا، اس قانون کے تحت کتنے ڈاکٹروں کو پکڑا گیا، اس کے تحت کتنے کلینک اور ہاسپیٹل کا میڈیکل لائسنس ضبط ہوا؟ ان سب کے جواب کسی کے پاس نہیں ہیں۔
حیدرآباد میں ایشیا پیسی فک کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس میں اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر دختر کشی کا رجحان ختم نہیں ہوا، تو آنے والے 50 سالوں میں تقریباً 30 سے 40 ملین مرد ایسے ہوں گے، جنہیں شادی کے لیے لڑکیاں نہیں ملیں گی۔
ابھی بھی مردم شماری کی رپورٹ ہے کہ ملک میں خواتین کی تعداد کم ہے۔ اگر خواتین ہی نہیں رہیں گی، تو افزائش نسل کیسے پروان چڑھے گی، اسی لیے خواتین کا دن منانا ہے، تو پورے ملک میں اس دن کو ایسے ڈاکٹروں کو سزا دے کر منانا چاہیے، جو یہ گھناؤنے کام کر رہے ہیں۔
پورے ہفتہ خواتین کے اعزاز میں لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ مختلف تنظیمیں، ادارے اور این جی اوز چن چن کر ایسی خواتین کو ایوارڈ دیتی ہیں، جو بدلے میں ان کو بڑے بڑے ٹینڈرز اور اداروں میں نمائندگی دلا سکیں۔
ایک سوال آپ سب کے لیے ہے کہ کیا 7 گھنٹے کا پروگرام کرنے، ایک دن منانے یا ایک ہفتہ منانے سے خواتین کی حالت میں کوئی سدھار ہو سکتا ہے؟ ہم فیل ہو گئے اپنی خواتین کو صحیح مقام عطا کرنے میں، ہم فیل ہو گئے اپنی خواتین کی عزت و احترام کرنے میں، ہم فیل ہو گئے اپنی نوجوان نسل کو خواتین کا احترام کیسے کیا جائے، یہ سکھانے میں، جبھی تو آج 6 مہینہ سے لے کر 60 سال تک کی عورت محفوظ نہیں ہے۔
ایسے ہی مناتے رہیے یومِ خواتین، کبھی کچھ نہیں بدلے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *