دو ہزار چودہ پارلیمانی انتخابات :مسلم سیاسی پارٹیاں اثردار یا بے اثر؟

ڈاکٹر قمرتبریز

ہندوستان میں مسلمانوں کی دو درجن سے زیادہ سیاسی پارٹیاں ہیں۔ ان میں سے دو تین پارٹیوں کے علاوہ اب تک کسی نے بھی قومی سطح پر اپنا اثردار رنگ نہیں دکھایا ہے۔ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ان مسلم پارٹیوں میں سے زیادہ تر یا تو کانگریس کے یا پھر بی جے پی کے امیدواروں کو جیت دلانے میں مدد کرتی ہیں۔ اس کام کے لیے انہیں خفیہ طور پر پیسے بھی ملتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں نے اپنے لیے کوئی سیاسی پارٹی بنائی ہے، تو کیا اس سے ہماری جمہوریہ کے پہلے ستون، مقننہ یعنی قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کے ساتھ انہیں سیاسی خود مختاری حاصل ہوئی بھی ہے؟

Mastچیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت نے گزشتہ 5 مارچ کو سولہویں لوک سبھا کے لیے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا۔ ووٹ ڈالنے کا سلسلہ 7 اپریل سے شروع ہو کر 12 مئی تک 9 مرحلوں میں چلے گا۔ ملک کی دو بڑی پارٹیوں، کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح کی بڑی بڑی پارٹیوں نے بھی سال 2014 کے شروع ہوتے ہی انتخابی ریلیوں، روڈ شوز اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کی شروعات کردی تھی۔ ایک طرف جہاں بی جے پی کے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار نریندر مودی گجرات سے نکل کر پورے ملک میں اپنی ریلیاں زور شور سے کر رہے ہیں، وہیں کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی بھی اب پوری طرح چناوی موڈ میں آ چکے ہیں۔ اسی طرح تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا کی پارٹی اے آئی ڈی ایم کے اور کروناندھی کی ڈی ایم کے، آندھرا پردیش میں کے چندر شیکھر راؤ کی ٹی آر ایس، مہاراشٹر میں شرد پوار کی این سی پی، یو پی میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی، بہار میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جنتا دل (یونائٹیڈ) اور لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی، مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے ساتھ ساتھ سی پی آئی اور سی پی ایم، اڑیسہ میں وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کی بیجو جنتا دل جیسی بڑی علاقائی پارٹیوں نے اپنی طاقت بھر پوری کوشش کر لی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کے ووٹ کیسے حاصل کیے جائیں۔

مزیدار بات یہ ہے کہ لوک سبھا کی ملک میں تقریباً 150 سیٹیں ایسی ہیں، جہاں پر مسلمان فیصلہ کن حالت میں ہیں اور یہی بات بی جے پی اور کانگریس سمیت سبھی سیاسی پارٹیوں کو پریشان کیے ہوئی ہے۔ اب یہ ساری پارٹیاں جیسے تیسے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کر لینا چاہتی ہیں، تاکہ وہ مرکز میں اگلی حکومت بنانے کے قابل ہو سکیں۔ لیکن ان سب کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں موجود خود مسلمانوں کی اپنی درجنوں سیاسی پارٹیاں کیا کر رہی ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔
ملک بھر میں مسلمانوں کی صرف تین ہی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں، جنہوں نے اب تک لوک سبھا میں اپنا کھاتہ کھلوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان مسلم پارٹیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے – کیرالہ کی انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)، جس کے دو نمائندے، یعنی ای احمد اور ای ٹی محمد بشیر2009 کے الیکشن میں منتخب ہو کر لوک سبھا پہنچے تھے؛ آندھرا پردیش کے حیدرآباد کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)، جس کے صدر اسد الدین اویسی پندرہویں لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ تھے اور آسام کی آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے صدر مولانا بدرالدین اجمل بھی پہلی بار پندرہویں لوک سبھا کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ان تینوں ہی پارٹیوں کے نمائندوں نے مرکز میں یو پی اے سرکار کو اپنی حمایت دی تھی اور ان میں سے صرف اسد الدین اویسی کچھ دنوں کے بعد یو پی اے سے الگ ہو گئے تھے۔ ایک دوسری نہایت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ آسام سے رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی ریاستی اسمبلی میں تو کانگریس کے خلاف اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کر رہی ہے، لیکن مرکز میں یہی پارٹی کانگریس کا ساتھ دے رہی تھی۔ ہم اسی سے سیاسی چالبازیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے، تو مسلم سیاسی پارٹیوں پر لگنے والے یہ الزامات غلط نہیں ہیں کہ وہ زیادہ تر کانگریس یا بی جے پی کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کو یہ ہنر بخوبی آتا ہے کہ ان مسلم سیاسی پارٹیوں کو مینج کیسے کیا جائے۔ اسے ایک اور مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ملک بھر میں مسلمانوں کی صرف تین ہی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں، جنہوں نے اب تک لوک سبھا میں اپنا کھاتہ کھلوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان مسلم پارٹیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے – کیرالہ کی انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)، جس کے دو نمائندے، یعنی ای احمد اور ای ٹی محمد بشیر2009 کے الیکشن میں منتخب ہو کر لوک سبھا پہنچے تھے؛ آندھرا پردیش کے حیدرآباد کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)، جس کے صدر اسد الدین اویسی پندرہویں لوک سبھا میں رکن پارلیمنٹ تھے اور آسام کی آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے صدر مولانا بدرالدین اجمل بھی پہلی بار پندرہویں لوک سبھا کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اپریل 2004 میں ملک میں چودہویں لوک سبھا کے لیے انتخابات ہونے تھے۔ اس کے مد نظر تقریباً 20 فیصد مسلم آبادی والی ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کی غیر معروف 6 سیاسی پارٹیوں نے الیکشن سے ایک سال قبل ہی ایک اتحاد بنایا اور اس کا نام رکھا ’عوامی فرنٹ‘ ۔ عوامی فرنٹ کو قائم کرنے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر علی امیر اور سلیم پیرزادہ (علیگ) نے قائدانہ رول ادا کیا تھا۔ لہٰذا اِس فرنٹ میں خود ان کی پارٹی، انڈین مسلم پولیٹیکل کانفرنس (آئی ایم پی سی) کے علاوہ انڈین نیشنل لیگ (آئی این ایل)، نیشنل لوک تانترک پارٹی (این ایل پی)، آل انڈیا مسلم فورم (اے آئی ایم ایف)، مسلم مجلس (ایم ایم) اور مومن کانفرنس (ایم سی)شامل تھیں۔ ان میں سے انڈین نیشنل لیگ کے اُس وقت کے قومی جنرل سکریٹری محمد سلیمان کو 2004 کے لوک سبھا انتخاب میں اپنی جیت کا پختہ یقین اس لیے تھا، کیو ںکہ 1989 میں یو پی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران وہ آریہ نگر، کانپور سے الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے، لیکن صرف 85 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ عوامی فرنٹ کی دوسری پارٹی تھی نیشنل لوک تانترک پارٹی (این ایل پی)، جس کے صدر مسعود احمد بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ سے اتر پردیش میں ایک بار ایم ایل اے بن چکے تھے، لیکن بعد میں بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے اپنی ایک الگ پارٹی بنا لی تھی۔ تیسری پارٹی تھی آل انڈیا مسلم فورم (اے آئی ایم ایف)، جو لکھنؤ کے ایک زمیندار اور قانون کے پروفیسر ایم کے شیروانی کے ذریعے بنائی گئی پارٹی تھی۔ یہ پارٹی 1994 میں اس وقت مشہور ہوئی، جب اس نے لکھنؤ شہر سے تین بار رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم رہ چکے اٹل بہاری واجپئی اور ہندو فاشزم کے خلاف لکھنؤ کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کیے اور پولس کی لاٹھیاں کھائیں۔ عوامی فرنٹ کی چوتھی پارٹی تھی مسلم مجلس (ایم ایم)، جسے 1968 میں ڈاکٹر اے جے فریدی نے بنایا تھا۔ اس پارٹی کا ماضی کافی شاندار تھا، کیوں کہ مسلم مجلس یو پی میں چودھری چرن سنگھ کے ساتھ اتحاد کرکے ریاستی اسمبلی کی 8 سیٹیں پہلے جیت چکی تھی اور اس کے علاوہ 1977 میں مرکز میں بننے والی جنتا پارٹی حکومت کے دوران اس کے دو ایم پی لوک سبھا پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھےاور الحاج ذوالفقاراللہ مرکزی وزیرمملکت برائے خزانہ بھی بن گئے تھے۔ عوامی فرنٹ میں شامل پانچویں پارٹی تھی مومن کانفرنس (ایم سی)، جو کہ قالین کے تاجروں پر مبنی ایک مسلم سیاسی پارٹی تھی۔
خیر، عوامی فرنٹ کہنے کو تو 6مسلم سیاسی پارٹیوں پر مبنی یو پی میں بنا ایک سیاسی اتحاد تھا، لیکن 2004 انتخابات کے قریب آتے آتے ان سبھی پارٹیوں کے نمائندوں نے کانگریس کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھانی شروع کردیں۔ ہر پارٹی کانگریس کے پاس جاکر یہی ثابت کرنے میں لگی ہوئی تھی کہ مسلمانوں کے درمیان اس کی پکڑ سب سے زیادہ ہے۔ پھر، انجام کیا ہوا؟ مسلمانوں کے درمیان کانگریس پارٹی کے سب سے شناسا چہرے، سلمان خورشید نے 2 فروری، 2004 کو لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر دیا کہ عوامی فرنٹ کی پوری حمایت کانگریس کو حاصل ہے۔ یہی نہیں، سلمان خورشید نے اپنی ہینڈ رائٹنگ میں عوامی فرنٹ کو 2004 کے انتخابات میں یو پی کی اس وقت کی کل 82 سیٹوں میں سے 5 سیٹیں دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن حد اُس وقت ہوگئی، جب کانگریس نے عوامی فرنٹ کو اخیر میں پانچ نہیں، بلکہ صرف ایک سیٹ دی اور جب عوامی فرنٹ میں شامل مومن کانفرنس کے نعیم اللہ نے بجنور سے اپنا پرچہ نامزدگی بھرا، تو اسی دن انہیں یہ جان کر بڑی تکلیف ہوئی کہ خود کانگریس نے بھی بجنور سے اپنا ایک الگ امیدوار کھڑا کر دیا ہے۔
درج بالا مثال سے مسلمانوں کی سیاسی پارٹیوں کی حقیقت اور ان کی اثر انگیزی کا پتہ چلتا ہے۔ بہرحال، ہم بات کر رہے تھے، قومی سطح پر پہچان بنانے والی مسلم سیاسی پارٹیوں کی۔ ان میں سر فہرست ہے کیرالہ کی انڈین یونین مسلم لیگ، جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی منظوری، کیرالہ کی ریاستی پارٹی کے طور پر حاصل ہے۔ مجاہد ملت محمد اسمٰعیل کے ذریعے انڈین یونین مسلم لیگ کا قیام 10 مارچ، 1948 کو چنئی میں عمل میں آیا۔ خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان میں 1952 میں ہونے والے پہلے عام انتخابات سے لے کر آج تک یہ پارٹی لوک سبھا میں نمائندگی کرتی رہی ہے۔ یہی نہیں، 1979 میں کیرالہ کے وزیر اعلیٰ مرحوم سی ایچ محمد کویا کا تعلق بھی انڈین یونین مسلم لیگ سے ہی تھا۔ بعد کے دنوں میں بھی کیرالہ میں برسر اقتدار یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا یہ پارٹی اہم حصہ رہی ہے اور پارٹی کے کئی اہم لیڈروں نے وہاں پر تعلیم، امورِ داخلہ، صنعت، پبلک ورکس، مقامی انتظامیہ، سوشل ویلفیئر، ماہی گیری جیسی اہم مرکزی وزارتوں کو سنبھالا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کیرالہ کے یوڈی ایف ہی نہیں، بلکہ ایل ڈی ایف نے بھی اس کو ساتھ لے کر حکومت بنائی ہے۔ کیرالہ سے باہر، مغربی بنگال میں بھی 70 کی دہائی کی شروعات میں اس پارٹی کے لیڈر وہاں کی وزارتوں کو سنبھال چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو، پڈوچیری، مہاراشٹر، کرناٹک، یو پی اور آسام کی ریاستی اسمبلیوں میں بھی آئی یو ایم ایل کے امیدوار جیت کر پہنچتے رہے ہیں۔ قومی سطح پر یہ 2004 میں مرکزی حکومت پر فائز ہونے والی یو پی اے سرکار کا ایک حصہ بنی، جب پارٹی کے موجودہ صدر اور رکن پارلیمنٹ ای احمد کو یو پی اے – 1 میں (2004-2009) وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ اور پھر یوپی اے – 2 میں (2009-2014) میں وزیر مملکت برائے ریلوے بنایا گیا۔ اس کے علاوہ موجودہ رکن پارلیمنٹ ای ٹی محمد بشیر کا تعلق بھی آئی یو ایم ایل سے ہی ہے۔ کیرالہ میں لوک سبھا کی کل 20 سیٹیں ہیں اور 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں ملا پورم کانسٹی ٹیونسی میں ای احمد کو کل 427940 ووٹ ملے تھے اور انہوں نے اپنے حریف سی پی ایم کے ٹی کے حمسہ کو 115597 ووٹوں سے شکست دی تھی، جب کہ پونانی کانسٹی ٹیونسی میں ای ٹی محمد بشیر کو کل 385801 ووٹ ملے تھے اور انہوں نے اپنے حریف آئی این ڈی کے ڈاکٹر حسین رندتھانی کو 82684 ووٹوں سے ہرایا تھا۔

اس بار کے لوک سبھا انتخابات میں انڈین یونین مسلم لیگ نے تمل ناڈو میں کروناندھی کی پارٹی ڈی ایم کے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جہاں سے اسے ایک سیٹ پر الیکشن لڑنے کی دعوت ڈی ایم کے نے دی ہے۔
قومی سطح پر مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے، آندھرا پردیش کے حیدرآباد کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)۔ اے آئی ایم آئی ایم الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تحت رجسٹرڈ غیر منظور شدہ پارٹی ہے۔ آندھرا پردیش سے لوک سبھا کی کل 42 سیٹیں ہیں۔ اِس وقت اسد الدین اویسی لوک سبھا میں اس پارٹی کے واحد ایم پی ہیں، جنہیں 2009 کے الیکشن میں اپنے انتخابی حلقہ حیدرآباد سے کل 308061 ووٹ ملے تھے اور انہوں نے اپنے مد مقابل ٹی ڈی پی کے زاہد علی خان کو 113865 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ شروع میں اس کا نام مجلس اتحادالمسلمین (ایم آئی ایم) تھا، جسے آزادی سے قبل 1927 میں ریاست حیدرآباد کے نظام، نواب میر عثمان علی خان کے مشورے سے، ریاست حیدرآباد کے قلع دار، نواب محمود نواز خان نے قائم کیا تھا۔ شروع میں یہ ایک ثقافتی اور مذہبی جماعت تھی، لیکن 1938 میں، جب بہادر یار جنگ کو ایم آئی ایم کا صدر منتخب کیا گیا، تو انہوں نے برطانوی دورِ حکومت کے دوران مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کرکے ایم آئی ایم کو بھی ایک سیاسی پارٹی میں تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد، 1947 میں جب ہندوستان نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کی، اس وقت ریاست حیدرآباد کے نواب نے انڈین یونین میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ یہی نہیں، اس وقت ایم آئی ایم کے ڈیڑھ لاکھ رضاکار سپاہیوں نے حیدرآباد کے نظام کی ایما پر انڈین یونین سے باقاعدہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن ہندوستانی فوج کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور آخرکار ریاست حیدرآباد کو بھی انڈین یونین میں شامل ہونا پڑا۔ اس کے بعد 1948 میں ایم آئی ایم پر پابندی عائد کر دی گئی اور رضاکاروں کے لیڈر قاسم رضوی کو 1957 تک حراست میں رکھنے کے بعد، اسی شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ پاکستان چلے جائیں۔ پاکستان جاتے وقت قاسم رضوی نے ایم آئی ایم کی تمام ذمہ داریاں، حیدر آباد کے ایک معروف وکیل عبدالواحد اویسی کے سپرد کردیں، جنہوں نے بعد میں اس پارٹی کی از سرنو تشکیل کرکے اسے نیا نام ’آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین‘ (اے آئی ایم آئی ایم) دیا۔ عبدالواحد اویسی کے بعد ان کے بیٹے سلطان صلاح الدین اویسی نے 1975 میں اے آئی ایم آئی ایم کی کمان سنبھالی اور 1984 میں پہلی بار حیدر آباد لوک سبھا سیٹ سے انتخاب جیت کر پارلیمنٹ پہنچے، جہاں انہوں نے 2004 تک حیدرآباد کی نمائندگی کی۔ صلاح الدین اویسی کے بعد ان کے بڑے بیٹے اسد الدین اویسی 2014 تک لوک سبھا میں اے آئی ایم آئی ایم کے صدر کے طور پر لوک سبھا میں حیدرآباد کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اسد الدین اویسی کی قیادت میں اب اس پارٹی نے اپنے قدم آندھرا پردیش سے باہر نکال کر، مہاراشٹر اور کرناٹک میں بھی جمانے شروع کر دیے ہیں۔ اکتوبر 2012 میں اے آئی ایم آئی ایم نے مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے دوران ناندیڑ – وگھالا شہر کی میونسپل کونسل کی 13 سیٹوں پر جیت درج کی۔ اسی طرح مارچ 2013 میں کرناٹک کے بلدیاتی انتخابات میں بھی اے آئی ایم آئی ایم نے 6 سیٹوں پر اپنی جیت درج کرائی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو اس پارٹی نے آندھرا پردیش اور خاص کر حیدرآباد کے مسلمانوں کے درمیان کافی مقبولیت حاصل کی ہے اور علاقائی سطح پر مسلمانوں کے بہت سے مسائل حل کرائے ہیں۔ یہی نہیں، اسد الدین اویسی پارلیمنٹ میں اپنی بے باک تقریر اور مسلم مسائل کو بے خوف ہوکر اور زوردار آواز میں اٹھانے کے لیے مشہور رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران قومی سطح پر اپنی پہچان بنانے والی مسلمانوں کی ایک تیسری سیاسی پارٹی ہے آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف)، جو پہلے یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کا ہی حصہ تھی، لیکن بعد میں مولانا بدرالدین اجمل کی قیادت میں اس نے 2006 میں اے آئی یو ڈی ایف کے نام سے اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ مولانا بدرالدین اجمل اس پارٹی کی طرف سے لوک سبھا میں واحد نمائندہ ہیں۔ تاہم، آسام کے اندر برسر اقتدار کانگریس پارٹی کے بعد یہ وہاں کی دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے، ریاستی اسمبلی میں جس کے اس وقت کل 18 ایم ایل اے ہیں، جن میں سے دو غیر مسلم بھی ہیں۔ 2009 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران 14 لوک سبھا سیٹوں والی ریاست آسام سے اے آئی یو ڈی ایف نے اپنے 7 امیدواروں کو کھڑا کیا تھا، لیکن بدرالدین اجمل کے علاوہ کوئی بھی امیدوار جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ بدرالدین اجمل کو آسام کے مسلمانوں کی زبردست حمایت حاصل ہے، لیکن بی جے پی یا اس سے وابستہ دیگر ذیلی تنظیمیں بدرالدین اجمل پر یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ ان کے جتنے بھی سپورٹرس ہیں، وہ سب بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر آکر آسام میں بسنے والے مہاجرین ہیں۔ لیکن مقامی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کو حل کرانے اور ان کے لیے زور دار آواز اٹھانے کی وجہ سے آسام کے مسلمانوں میں اے آئی یو ڈی ایف کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ان تینوں پارٹیوں کے علاوہ مسلمانوں کی ہندوستان میں درجن بھر چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیاں ہیں، لیکن دو چار کو چھوڑ کر ان میں سے کسی کا نام تک لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، پیس پارٹی، قومی ایکتا دَل، راشٹریہ علماء کونسل، اتحادِ ملت کونسل، مسلم مجلس، انڈین مسلم لیگ، مسلم مجلس اتر پردیش، آل انڈیا مسلم فورم، آل انڈیا مسلم مجلس، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)، منی تھانیا مکّل کاچی( ایم ایم کے)، پرچم پارٹی آف انڈیا وغیرہ۔ ان پارٹیوں کی زمینی حقیقت کیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔
مذہبی تنظیم، جماعت اسلامی ہند کے ذریعے 18 اپریل، 2011 کو بنائی جانے والی ویلفیئر پارٹی مسلمانوں کی ایک چھوٹی سیاسی پارٹی ہے۔ یہ قدروں پر مبنی سیاست کرنے اور ساتھ ہی ہندوستانی سماج کے ان سبھی طبقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتی ہے، جنہیں آزادی کے بعد سے اب تک نہ تو متناسب سیاسی نمائندگی ملی ہے اور نہ ہی ملکی وسائل میں انہیں خاطر خواہ کوئی حصہ ملا ہے۔
اسی طرح پیس پارٹی آف انڈیا کو گورکھپور کے مشہور سرجن ڈاکٹر محمد ایوب نے فروری 2008 میں قائم کیا تھا۔ 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی نے کل 21 امیدوار میدان میں اتارے تھے، گرچہ ان میں سے کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا، تاہم پیس پارٹی کل ووٹنگ کا 4.5 فیصد حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی اورایک مختصر مدت میں یہ جتا دیا تھا کہ مسلمانوں کے ووٹ پر منحصر کوئی بھی سیاسی پارٹی اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ پیس پارٹی نے 2012 میں یو پی اسمبلی انتخابات کے دوران بھی کل 208 امیدوار میدان میں اتارے تھے اور پارٹی کا ندازہ تھا کہ وہ 18 سے 20 سیٹیں حاصل کرلے گی اور معلق اسمبلی کی صور ت میں حکومت سازی میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی حیثیت میں ہوگی۔ لیکن یہ نہیں ہو سکا اور اسے صرف 4 سیٹوں پر ہی صبر کرنا پڑا۔
اتر پردیش کی ہی ایک اور مسلم سیاسی پارٹی ہے قومی ایکتا دل۔ غازی پور سے تعلق رکھنے والے بدنامِ زمانہ مافیا اور ایم ایل اے مختار انصاری (جو بی جے پی ایم ایل اے کرشنا نند رائے کا قتل کرنے کی وجہ سے آج کل تہاڑ جیل میں بند ہیں) نے 2010 میں بہوجن سماج پارٹی سے الگ ہونے کے بعد قومی ایکتا دَل کے نام سے اپنی ایک الگ پارٹی بنائی تھی۔ مختار کے بڑے بھائی افضال انصاری اِس وقت پارٹی کے صدر ہیں۔ 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں مختار انصاری نے بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر غازی پور سے الیکشن لڑا تھا، لیکن سماجوادی پارٹی کے رادھے موہن سنگھ سے 69260 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ 403 سیٹوں والی یو پی اسمبلی کے لیے ہونے والے 2012 کے انتخابات کے دوران قومی ایکتا دل مولانا سلیمان حسینی ندوی کی قیادت والے ایکتا منچ (اتحاد فرنٹ) کا ایک حصہ تھا۔ اس فرنٹ نے اسمبلی انتخابات میں اپنے کل 43 امیدوار کھڑے کیے تھے، لیکن ان میں سے جیت صرف 2 کو حاصل ہوئی تھی۔ جیتنے والے ان دونوں امیدواروں کا تعلق قومی ایکتا دَل سے تھا، ایک تو خود مختار انصاری تھے، جو مئو سے جیتے تھے، جب کہ ان کے بھائی صبغت اللہ غازی پور کی محمد آباد سیٹ سے جیت کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اب قومی ایکتا دَل کے صدر افضال انصاری کا کہنا ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی ایکتا منچ (اتحاد فرنٹ) کے بینر تلے یو پی میں 10 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی اور خود مختار انصاری گھوسی (مئو) سے اور ان کی بیوی افشاں بنارس سے الیکشن لڑیں گی۔ قابل ذکر ہے کہ اتحاد فرنٹ نے اس بار کے لوک سبھا الیکشن میں یو پی کی سبھی 80 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
راشٹریہ علماء کونسل اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں 4 اکتوبر، 2008 کو مولانا عامر رشادی کی قیادت میں وجود میں آنے والی مسلمانوں کی ایک چھوٹی سیاسی پارٹی ہے، جس کا پورا فوکس بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے متاثرین کو انصاف دلانا ہے۔ اب اس نے اپنی آئڈیالوجی میں تھوڑا ترمیم کرتے ہوئے آئین کی دفعہ 341 سے مذہبی تفریق کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے، جس کے لیے پارٹی گزشتہ کئی ہفتوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل نے لوک سبھا انتخابات میں پہلی بار 2009 میں اتر پردیش کی 5 سیٹوں پر الیکشن لڑا، لیکن ایک بھی سیٹ پر جیت درج نہیں کرا سکی، البتہ اسے مجموعی طور پر 2.25 لاکھ ووٹ ملے، جو کہ کسی بھی نئی پارٹی کے لیے ایک بڑی حصولیابی تھی۔ اسی طرح اتر پردیش کے 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بھی راشٹریہ علماء کونسل نے 401 سیٹوں میں سے 100 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اسے ایک بھی سیٹ پر جیت تو حاصل نہیں ہو سکی، البتہ مجموعی طور پر اسے تقریباً 6 لاکھ ووٹ ملے تھے۔
یو پی کے بریلی سے تعلق رکھنے والے مشہور بریلوی عالم دین مولانا توقیر رضا خاں کی اتحادِ ملت کونسل، اترپردیش کی ایک چھوٹی مسلم پارٹی ہے۔ یہ پارٹی اپنے ایک ایم ایل اے کے ساتھ یو پی کی موجودہ سماجوادی سرکار کو حمایت دے رہی ہے۔ مولانا توقیر رضا خاں حالیہ دنوں میں عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروِند کجریوال سے ایک ملاقات کی وجہ سے سرخیوں میں تھے۔ سیاسی خیمے میں ان کی کوئی خاص پہچان نہیں ہے۔ فی الحال ایک خبر یہ آ رہی ہے کہ یوپی اسمبلی میں ان کی پارٹی کے واحد رکن، شہزیل اسلام کی بیوی، عائشہ اسلام کو سماجوادی پارٹی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بریلی سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا توقیر رضا خاں کو ہینڈ لوم اور ٹیکسٹائل کے لیے ریاستی حکومت کا صلاح کار مقرر کیا گیا تھا، جو کہ اکھلیش حکومت میں ایک وزیر مملکت کا درجہ تھا، لیکن مظفر نگر فساد کے بعد مولانا نے اس عہدہ سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ البتہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنی پارٹی کے کسی امیدوار کو کھڑا کرنے کے بجائے اتحاد ملت کونسل نے سماجوادی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اتر پردیش میں ہی ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 1968 میں ایک نئی سیاسی پارٹی آل انڈیا مسلم مجلس بنائی تھی (اے آئی ایم ایم)۔ اس کے موجودہ صدر خالد صابر ہیں، جنہیں قمر عالمی کاظمی کے بعد 18 اگست، 2002 کو پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ 1977 کے لوک سبھا انتخابات میں اے آئی ایم ایم کے دو امیدوار (جنہوں نے جنتا پارٹی کے نشان پر انتخاب لڑا تھا) جیت کر لوک سبھا پہنچے تھے۔ اس پارٹی کو مقبولیت اس وقت حاصل ہوئی، جب 1992 میں بابری مسجد کی شہادت سے قبل پارٹی کے صدر قمر عالم کاظمی نے اڈوانی کی ’رتھ یاترا‘ کے خلاف ملک گیر سطح پر ’کاروانِ انصاف‘ نکالا تھا۔ 2004 میں مسلم مجلس نے عوامی فرنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس اتحاد سے الگ ہونے کے بعد اس نے سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم کی کوششوں اور دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری کی حمایت سے وجود میں آنے والے اتر پردیش یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو پی یو ڈی ایف) میں شمولیت اختیار کی۔ 2012 کے یو پی اسمبلی الیکشن کے دوران مسلم مجلس دارالعلوم ندوۃ العلماء کے استاد مولانا سلمان حسینی ندوی کی قیادت میں بننے والے اتحاد فرنٹ میں شامل ہوئی، لیکن اسمبلی انتخابات میں اس کے ایک بھی امیدوار کی جیت نہیں ہو سکی۔
آل انڈیا مسلم فورم (اے آئی ایم ایل ایف) الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تحت رجسٹرڈ غیر منظور شدہ پارٹی ہے۔ 1966 میں لکھنؤ، اتر پردیش میں وجود میں آئی مسلمانوں کی یہ ایک بہت ہی چھوٹی سیاسی پارٹی ہے، جس کے صدر ڈاکٹر ایم کے شیروانی ہیں۔ 1999 کے لوک سبھا الیکشن میں اس نے پہلی بار اپنے 4 امیدوار کھڑے کیے تھے، لیکن ان چاروں امیدواروں کو کل ملا کر صرف 10 ہزار 10 ووٹ ہی مل پائے تھے۔ 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی اے آئی ایم ایف نے 6 امیدوار اور 2009 کے عام انتخابات میں ایک درجن سے زیادہ امیدوار کھڑے کیے تھے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی جیت حاصل نہیں ہو سکی۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹی کی نہ تو کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی ووٹر اسے جانتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کے انتخابات میں کودنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے پارٹی کے چیئر مین ڈاکٹر ایم کے شیروانی نے چند سال قبل کسی اخبار کے ایک نمائندہ کو بتایا تھا کہ ’’ہم مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کو ہرانے کے نام پر اپنے ووٹ ضائع نہ کریں۔‘‘ دوسری مسلم پارٹیوں کی طرح ہی اس پارٹی کا بھی ایک ہی ایجنڈا ہے، بی جے پی کو ہرانا، جس کے لیے وہ ملک کی دیگر غیر بی جے پی اور سیکولر پارٹیوں کا ایک محاذ بنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اے آئی ایم ایف بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا نیشنل ازم کی آئڈیالوجی کی سخت مخالف ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کی 4 فیصد سیٹیں مسلم عورتوں کے لیے ریزرو ہونی چاہئیں۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کا قیام 29 جولائی، 2009 کو عمل میں آیا۔ ایس ڈی پی آئی ہندوستان کے تمام محروم اور دبے کچلے طبقوں کو خود مختاری دلانے کی بات کرتی ہے۔ پارٹی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مقننہ اور سرکار کے ذریعے چلائے جانے والے سبھی ایڈمنسٹریٹو اداروں میں تمام سوشل گروپس کو ان کی آبادی کے حساب سے نمائندگی ملنی چاہیے۔ یہ پارٹی کالی کٹ (کیرالہ) میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے بطن سے وجود میں آئی۔ ہندوستان کی کل 16 ریاستوں میں ایس ڈی پی آئی نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ یہ ریاستیں ہیں کیرالہ، تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش، گوا، مہاراشٹر، پڈوچیری، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، بہار، دہلی، راجستھان، ہریانہ اور منی پور۔ ان سبھی ریاستوں میں ایس ڈی پی آئی کے امیدواروں نے ضلع سطح کی مقامی کمیٹیوں میں اپنی جیت درج کی ہے، مثال کے طور پر کرناٹک کے گزشتہ بی بی ایم پی (بروہٹ بنگلورو مہا نگر پالیکے) انتخابات میں اس کے 68 امیدوار، کیرالہ کے 2010 کے لوکل باڈیز الیکشن میں 14 امیدوار اور 2011 میں تمل ناڈو کے بلدیاتی انتخابات میں اس کے کل 62 امیدوار جیتے تھے۔ وہیں دوسری طرف ایس ڈی پی آئی کو اب تک 16 ریاستوں کی کسی بھی اسمبلی میں یا لوک سبھا میں اپنی نمائندگی کرنے کا موقع حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ البتہ اس بار کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی نے ملک کی مختلف ریاستوں سے کل 42 امیدواروں کو کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: تمل ناڈو (5 سیٹ)، کرناٹک (4 سیٹ)، کیرالہ (20 سیٹ)، مغربی بنگال (5 سیٹ)، آندھرا پردیش، بہار اور اتر پردیش میں سے ہر ایک میں 2-2 سیٹوں پر اور مدھیہ پردیش اور دہلی میں 1-1 سیٹ پر۔اس بار کے الیکشن میں اس نے ’بھوک مری سے آزاد ہندوستان، خوف سے آزاد ہندوستان‘ کا نعرہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایس ڈی پی آئی نے پندرہویں لوک سبھا کے دوران فرقہ وارارانہ فساد مخالف بل 2011 کے پاس نہ ہونے پر کانگریس سمیت سبھی سیکولر پارٹیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کا یہ بھی الزام ہے کہ سرکاری نوکریوں میں ابھی تک ایس سی ؍ ایس ٹی کو 18 فیصد ریزرویشن نہیں مل سکا ہے، بلکہ اس کوٹہ کے تحت صرف 7 فیصد سیٹوں پر ہی تقرری ہو پائی ہے، لہٰذا وہ سبھی برسر اقتدار پارٹیوں سے ایس سی ؍ ایس ٹی کو ان کا پورا حق دینے کی مانگ کرتی رہی ہے۔ اسی طرح ایس ڈی پی آئی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی پردھان کمیٹی کی رپورٹ کو مہاراشٹر اسمبلی میں پیش کیا جائے، تاکہ عوام کو اس کی حقیقت کا علم ہو سکے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے مظفر نگر کے فساد متاثرین کا اسپیشل ووٹر شناختی کارڈ بنوانے اور غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی) کو آن لائن ووٹنگ کی سہولت فراہم کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
منی تھانیا مکّل کاچی (ایم ایم کے) تمل ناڈو میں مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی ہے، جس نے ریاست کے 2011 کے اسمبلی انتخابات میں جے للتا کی پارٹی اے آئی ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کرکے 3 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا، جس میں سے اسے 2 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اس کے موجودہ صدر اسلم باشا ہیں۔ اس کے علاوہ 2011 میں ہی تمل ناڈو میں مختلف پنچاتیوں اور میونسپل کارپوریشن کے لیے ہونے والے انتخابات میں ایم ایم کے نے 600 عہدوں کے لیے اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے، جن میں سے اسے 25 فیصد جیت حاصل ہوئی اور اس کے کل 145 امیدوار جیتے۔ اس بار 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اس پارٹی نے تمل ناڈو میں ڈی ایم کے ساتھ اتحاد کیا ہے، جس کی وجہ سے ڈی ایم کے نے 39 لوک سبھا سیٹوں والی ریاست تمل ناڈو میں اسے ایک سیٹ پر اپنے امیدوار کو کھڑا کرنے کی دعوت دی ہے۔
آل انڈیا مائناریٹیز فرنٹ (اے آئی ایم ایف) الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تحت رجسٹرڈ غیر منظور شدہ پارٹی ہے۔ یہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی پارٹی ہے، جس کے صدر ایس ایم آصف ہیں۔ پارٹی کا واحد ایجنڈا ہے ایودھیا مسئلہ کا بات چیت کے ذریعے حل نکالنا۔ 1998 کے دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران اے آئی ایم ایف نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ 1999 کے لوک سبھا الیکشن میں اے آئی ایم ایف نے اپنے 2 امیدوار کھڑے کیے تھے، لکھنؤ سے آفاق پروین کو اور نئی دہلی سے سنجیوئے سچدیو کو۔ آفاق پروین کو الیکشن میں کل 628 ووٹ ملے تھے، جب کہ سنجوئے سچدیو کو صرف 177 ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں اے آئی ایم ایف نے صرف ایک امیدوار، عامر حیدر خان کو یو پی کے بلرام پور سے کھڑا کیا تھا، جنہیں کل ووٹ ملے تھے 4874۔ اس کے علاوہ اے آئی ایم ایف جموں و کشمیر کے 1996 کے اسمبلی انتخابات میں بھی اپنے دو امیدوار کھڑے کر چکی ہے، جنہیں مجموعی طور پر کل 1699 ووٹ ہی مل پائے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *