راجیہ سبھا کے بہانے لوک سبھا کی تیاری

سروج سنگھ
p-9پچھلے ہفتہ بہار اور جھارکھنڈ کی سیاست میں راجیہ سبھا انتخاب کے بہانے لوک سبھا انتخاب کی تیاریوں کو عملی جامہ پہنانے کی قواعد زور شور سے کی گئی۔ تقریباً ہر پارٹی نے ہی سوشل انجینئرنگ کو بنیاد بنا کر ایسی سیاسی لائن کھینچنے کی کوشش کی، تاکہ آنے والے پارلیمانی انتخاب میں اسے ووٹوں کا فائدہ تو ہو ہی، اس کے ساتھ ہی یہ پیغام بھی جائے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں اگر کسی نے ہائے توبہ مچائی، تو پھر اسے اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے بھی تیار رہناچاہیے۔لالو یادو نے جھارکھنڈ میں صرف پانچ ارکان اسمبلی کے دم پر اپنے چہیتے پریم گپتا کو راجیہ سبھا بھیج کر یہ ثابت کیاکہ ابھی بھی ان میں سیاسی جوڑ توڑ کا دم خم باقی ہے، لیکن لالو پرساد کی اصلی آزمائش بہار میں ہونی ہے، کیونکہ ان کی پارٹی کے کئی بڑے لیڈر اتحاد سے ناراض ہیں۔ ذرائع پربھروسہ کیا جائے ، تو ناراضگی اس حد تک ہے کہ آر جے ڈی کی یکجہتی بھی داؤں پر لگ سکتی ہے۔
بات جے ڈی یو سے ہی شروع کرتے ہیں۔ نتیش کمار نے ہمیشہ کی طرح سب کو چونکاتے ہوئے ، اپنے تین موجودہ ارکان پارلیمنٹ شوانند تیواری، صابر علی اور این کے سنگھ کو باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے کرپوری ٹھاکر کے بیٹے اور سابق وزیر رام ناتھ ٹھاکر، سینئر صحافی ہری ونش اور کہکشاں پروین کو راجیہ سبھا کے لیے اپنی پارٹی کا امیدوار بنادیا۔ شوانند تیواری کو لے کر پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ اس بار ان کا پتہ کٹ سکتا ہے۔ راجگیر کے پارٹی اجلاس میں انھوں نے جو تیور دکھائے تھے، اس کے بعد تو یہ خدشہ کافی حد تک بڑھ گیا تھا، لیکن صابر علی اور این کے سنگھ کا ٹکٹ کیوں کٹا؟ اس سلسلے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ این کے سنگھ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ نتیش کمار، ان سے تین اسباب کے تحت بے حد ناراض تھے۔ پہلا یہ کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کے مشن میں وہ پوری طرح ناکام رہے۔ ایک بار تو انھوں نے نتیش کمار کو یہاں تک بھروسہ دلادیا تھا کہ جیسا آپ چاہتیہیں، ویسا ہی ہوگیا۔جے ڈی یو آفس میں ڈھول تاشے بجنے لگے اور اہم اعلان کے لیے وزیر اعلیٰ، پارٹی کے آفس میں پہنچ گئے، اور جب سچائی کا پتہ چلا، تو انھوں نے خود کو سنبھال لیا، لیکن جتنی کرکری ہونی تھی، وہ تو ہوہی گئی تھی۔ نتیش کمار کی ناراضگی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ جے ڈی یو کا کانگریس کے ساتھ تال میل کرانے میں بھی این کے سنگھ ناکام رہے۔
ذرائع بتاتے ہیںکہ سونیا گاندھی سے ملاقات تو دور، وہ فون کے ذریعے بھی دونوں لیڈروں کی بات نہیں کرا پائے۔ اس کے علاوہ بہار میں سرمایہ کاری کاجو ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا تھا، اسے بھی عملی جامہ پہنانے میں این کے سنگھ فیل ہو گئے۔ گویا این کے سنگھ نے نتیش کمار کے کسی بھی ٹاسک کو پورا نہیں کیا، اس لیے این کے سنگھ کا چیپٹر تو کلوز ہونا ہی تھا۔ جہاں تک صابر علی کا سوال ہے، تو ان دنوں ان کا قد پارٹی میں کافی بڑھ گیا تھا، اس کی وجہ سے پارٹی کے کئی لیڈر نا خوش تھے۔چنانچہ ایسے سبھی لیڈر صابر علی کو سبق سکھانے میں لگ گئے۔ دہلی ودھان سبھا کے نتائج نے ان لیڈروں کو ایک خوبصورت موقع عطا کر دیا۔ شعیب اقبال کو چھوڑ کر سبھی امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی، جو ایک ممبر جیتا ، اس کے پرچار میں نتیش کمار ، صابر علی کے غلط فیڈ بیک کے سببپہنچے ہی نہیں تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جے ڈی یو اپنی واحد جیت کو بھی نتیش کمار کے حق میںکیش نہیں کراپایا۔ اس کے فوراً بعد ایل جے پی سے تال میل کا ٹاسک صابر علی نے خود ہی اپنے ذمہ لے لیا۔ بات کچھ آگے بڑھی، تو خیر خواہیکے طور پر صابر علی نے نتیش کمار کو چراغ پاسوان سے ملاقات کرنے کی صلاح دے ڈالی۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ صابر علی کے اسمشورے سے نتیش کمار بے حد خفا ہوئے اور اسی دن یہ طے ہوگیا کہ راجیہ سبھا کے لیے ان کا ٹکٹ کٹنا طے ہے۔ دیکھا جائے ، تو ان تینوں لیڈروں کے ٹکٹ الگ الگ اسباب سے کاٹے گئے، لیکن نتیش کمار نے ایک اجتماعی پیغام دینے کی کوشش کی کہ پارٹی میں ان کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلے گا اور کوئی کتنا بھی بڑا نام کیوں نہ ہو، پارٹی کوئی قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی۔
جے ڈی یو نے جو تین نام دیے، اس کی معرفت یہ پیغام دینے کی کوششکی گئی کہ پارٹی میں کوئی اپنے آپ کو چھوٹا نہ سمجھے، ضرورت کے حساب سے اورموزوں وقت پر سبھی کو عزت دی جائے گی۔ لوک سبھا الیکشن کے لیے تیار کیے گئے اپنے نہایت پسماندہ اور مسلم کارڈ کا ایک نمونہ نتیش کمار نے رام ناتھ ٹھاکر اور کہکشاں پروین کو امیدوار بناکر پیش کر دیا۔ نتیش کمار سوشل انجینئرنگ کے ماہر کھلاڑی ہیں، اس لیے انھوں نے یہ داؤں کھیلنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔ بتایا جارہا ہے کہ دلت ، مہا دلت،کشواہا اور ویشیوں کو ٹکٹ اور ودھان پریشدکی نامزدگی میں مناسب جگہ دے کر نتیش کمار اپنی سوشل انجینئرنگ کے نیٹورک کو پورا کرنے کی تیاری میں لگ گئے ہیں، تاکہ لوک سبھا کے الیکشن میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ راجکمار سنگھ کے مشن میں فیل ہوجانے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ کسی صاف ستھری شبیہ والے راجپوت کو اپنا امیدوار بنائیں اور ہری ونش جی نے ان کا یہ کام آسان کردیا۔ اس سے پہلے راجکمار سنگھ کو اپنے پالے میں لانے کے لیے نتیش کمار نے کافی کوشش کی، لیکن راجکمار سنگھ ماننے کوتیار ہی نہیں ہوئے۔ آخری ہتھیار کے طور پر ریاست کے وزیر زراعت نریندر سنگھ اور دیہی امور کے وزیر بھیم سنگھ کو راجکمار سنگھ کو منانے دہلی بھیجا گیا، لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ کیونکہ اس سے دو دن پہلے ہی راجکمار سنگھ، نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ سے مل کر سب کچھ طے کر چکے تھے۔
بی جے پی راجکمار سنگھ کو لوک سبھا کے الیکشن میں بڑا ہتھیار بنانے جا رہی ہے۔ یاست میں سڑکوں کا جو جال بچھا ہے، اس کی بنیاد راجکمار سنگھ نے ہی رکھی تھی اور ان کی اس حصولیابی کا بی جے پی پورا فائدہ اٹھاناچاہتی ہے۔ دیکھا جائے، تو نتیش کمار نے راجیہ سبھا کے الیکشن میں پوری کوشش کی کہ کم سے کم نقصان برداشت کر کے عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ پارٹی پوری طرح متحد ہے اور وہ خطرہ اٹھانے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔ نتیش کمار کو امید ہے کہ آئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اس پیغام کا فائدہ پارٹی کو ضرور ملے گا، لیکن لالو پرساد کے لیے ’دھرم سنکٹ ‘ بڑا ہے۔ جھارکھنڈ سرکار گرانے کی وارننگ دے کر بھلے ہی وہ اپنے سب سے عزیز پریم گپتا کو راجیہ سبھا بھیجنے میں کامیاب رہے، لیکن اس کی انھیں بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ کانگریس نے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے اور ودھان پریشد میں نمائندگی کے لیے جھار کھنڈ میں آر جے ڈی کی مدد کی، لیکن اس وعدے کو نبھانے میں لالو پرسادکہیں بہار میں اپنی پارٹی کو ہی بھاری نقصان نہ پہنچادیں۔ کانگریس کا امیدوار جھارکھنڈ میں جیتنے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا، ایسی حالت میں پارٹی کو جھامُمو کو حمایت دینی ہی تھی، لیکن درمیان میں آر جے ڈی کے آجانے سے، کانگریس کو کچھ کھونے میں بھی فائدہ نظر آگیا اور کانگریس نے بلا جھجک آر جے ڈی کی تجویز کو منظور کر لیا۔
اب سوال یہ ہے کہ لالو پرساداپنے اس وعدے کو کیسے نبھائیں گے؟ اگر اتحاد کے سبب عبدالباری صدیقی، سمراٹ چودھری،رگھوناتھ جھا، تسلیم الدین اور للن پاسوان جیسے لیڈر الیکشن نہیںلڑ پائے، تو آر جے ڈی کو متحد رکھ پانا بے حد مشکل ہوجائے گا۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ یہ لیڈر کسی بھی حد کو پار کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ آر جے ڈی کے ایم ایل اے پہلے سے ہی جے ڈی یو اور بی جے پی کے سافٹ ٹارگیٹ رہے ہیں۔ جے ڈی یو کی طرف سے تو انھیں سرکار میں شامل ہونے کی دعوت بھی ملی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی جانکاری میں آئی ہے کہ عبدا لباری صدیقی اور سمراٹ چودھری نے نتیش کمار سے ملاقات بھی کی ہے، حالانکہ سمراٹ چودھری بتاتے ہیںکہ یہ سیاسی ملاقات نہیں تھی، بلکہ ایک کیس کے سلسلے میں نتیش کمار سے ملاقات ہوئی تھی۔ اب سمراٹ چودھری کی صفائی میں کتنا دم ہے، اس کافیصلہ آپ خود کر لیجیے۔ ویسے ماہرین کہتے ہیں کہ عبد الباری صدیقی کو نظر انداز کرنے سے آر جے ڈی کے کئی لیڈر اور کارکن غصے میں ہیں۔ ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر مدھوبنی سیٹ کانگریس کو ہی دینی ہے، تو پھر جھارکھنڈ سے پریم گپتا کے بجائے عبد الباری صدیقی کو بھیجا جاتا، اس سے مسلمانوں میں ایک اچھا پیغام جاتا اوراتحاد قائم کرنے میں بھی سہولت ہوتی، لیکن لالو پرساد نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ انھیں درباری لوگ زیادہ پسند ہیں۔
سمراٹ چودھری کھگڑیا سے لڑنے پر اڑے ہوئے ہیں، تو للن پاسوان سہسرام سے۔ اس لیے لالو پرساد کے لیے یہ مشکل دور ہے۔ تیج پرتاپ کے چھپرہ سیٹ سے اور میسا بھارتی کے پاٹلی پتر سیٹ سے الیکشن لڑنے کے تذکرے سے بھی لالو پرساد کی تنقید زور پکڑ رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اپنی بیٹی اور بیٹے کے لیے تو وہ سیٹ بچالے گئے، لیکن پارٹی کے مضبوط اوروقف لیڈر وں کی انھوں نے پرواہ نہیں کی۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس نے تو راجیہ سبھا الیکشن کے بہانے لوک سبھا الیکشن کی تیاری کر لی، لیکن آر جے ڈی اس میں پچھڑ گیا۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے، تو اس نے بھی سی پی ٹھاکر اور آر کے سنہا کو ٹکٹ دے کر یہ صاف کر دیا کہ اعلیٰ ذات کی حمایت اس کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس کے بعد ذات برادری کا تال میل بٹھانے کے لیے جو تجربے کرنے ہیں، وہ بی جے پی لوک سبھا کا ٹکٹ دینے اور ودھان پریشد کی نامزدگی میں کرے گی۔ ریاست میں بی جے پی کے حق میں جو سازگارماحول بن رہا ہے، اسے رفتار دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سوشل انجینئرنگ کا صحیح نمونہ پیش کیا جائے، کیونکہ باقی کا کام تو نریندر مودی کے نام اور کام کو کرنا ہے، بی جے پی اسی لائن پرہوم ورک کر رہی ہے اور یہی بات غیر بی جے پی جماعتوں کے لیے تشویش کا سبب بن گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *