پارلیمانی جمہوریت کا سب سے شرمناک دن

سنتوش بھارتیہ
تیرہ فروری تاریخ میں دو طرح سے یاد کیا جائے گا۔ 13 فروری کو انا ہزارے نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعلان کیا کہ وہ 16 ویں لوک سبھا کے انتخاب میں ممتا بنرجی کو وزیر اعظم بنائے جانے کی حمایت کریں گے اور ان کی پارٹی ترنمول کانگریس کے حق میں چناؤ پرچار بھی کریں گے۔ لیکن 13 فروری کو ایک خطرناک کالے دن کے روپ میں بھی یاد کیا جائے گا۔ اسی دن لوک سبھا میں مرچوں کا اسپرے چلا، مارپیٹ ہوئی اور چاقو نکالا گیا۔
کیا یہ جمہوریت کے ختم ہونے کی شروعات ہے یا جمہوریت ختم ہونے سے پہلے کی سیڑھی پر ملک پہنچ گیا ہے، ایسا مانا جائے۔ ہمارے ملک میں پارلیمانی جمہوریت کا چہرہ ہندوستان کی لوک سبھا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس لوک سبھا میں جو لوگ جائیں گے، وہ سڑکوں پر گھومنے والے غنڈوں سے زیادہ سمجھدار ہوں گے۔ سڑکوں پر جھپٹ ماری کرنے والے لوگوں سے زیادہ دماغی ہو ںگے اور بات بات پر ایک دوسرے پر چاقو نکال لینے والے غنڈوں سے زیادہ بالیدہ ہوں گے۔ لیکن 13 فروری کو لوک سبھا میں جو ہوا، اس کو دیکھ کر ایسا لگا کہ اس میں اب ایسے لوگ آنے لگے ہیں، جن کے من میں جمہوریت کے تئیں نہ تو کوئی عزت ہے، نہ ہی بات چیت میں کوئی بھروسہ ہے، بلکہ اپنے پرچار کے لیے وہ کسی حد تک جا سکتے ہیں۔
کیا یہ ناکامی سیاسی لیڈروں کے چہرے پر کالا دھبّہ دکھا رہی ہے۔ ساری پارٹیاں اپنے ممبرانِ پارلیمنٹ کو لوک سبھا میں کیسے برتاؤ کرنا چاہیے، اسے نہیں سکھاتیں۔ لوک سبھا کا ملک کی جمہوریت میں کیا مقام ہے، یہ نہیں بتاتیں، بلکہ زیادہ تر پارٹیاں اس بات کو بڑھاوا دیتی ہیں کہ کیسے پارلیمنٹ کا استعمال دلالی کے اڈّے کے روپ میں کیا جائے اور جب کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت زیادہ تر پارٹیوں کے لیڈر پارلیمنٹ کا استعمال اپنے مفاد کو پورا کرنے کے لیے کرنے لگیں گے، تب ایسا ہی ہوگا جیسا 13 فروری کو ہوا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کے اندر دیکھیں، تو انہیں نہ تو ہندوستانی تاریخ کا علم ہے، نہ آزادی کی لڑائی کا علم ہے۔ کون کون سے لوگ پارلیمنٹ کے ممبر ہوئے اور انہوں نے کیا تقریریں کیں، یہ بھی انہیں نہیں معلوم ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں پتہ ہے کہ کتنی تاریخی بحثیں ہندوستان کی پارلیمنٹ میں ہوئی ہیں۔ جب کسی کو اپنی تاریخ کا ہی نہیں پتہ، تو اس کے من میں فخر کا جذبہ کہاں سے ہوگا۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ ہندوستان کی جمہوریت کا قابل افتخار باب ہے، جس میں آچاریہ کرپلانی، ناتھ پائی، بھوپیش گپتا، راج نارائن، چندر شیکھر اور اندرا گاندھی جیسے لوگ عوام سے جڑی بحثوں کے گواہ رہے ہیں اور یہ فہرست کافی لمبی ہے۔ لیکن آج کے ممبرانِ پارلیمنٹ نہ تو پارلیمنٹ میں کیا ہوا، یہ جانتے ہیں، نہ ہی پارلیمنٹ میں کیسے برتاؤ کرنا چاہیے، یہ جانتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لال کرشن اڈوانی، جن کے پاس پارلیمانی زندگی کا لمبا تجربہ ہے، وہ اپنی پارٹی کو پارلیمنٹ میں کیسے برتاؤ کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ میں کس طرح کی بحثیں ہوئیں اور کون کون لوگ رہے، اس کے بارے میں نہیں بتاتے اور نہ کانگریس کے لیڈر، جن کے پاس بغیر جانکاری والا تجربہ ہے، وہ اپنے لوگوں کو یہ بتا پاتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کیسے برتاؤ کرنا چاہیے۔ باقی پارٹیوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں، کیوں کہ وہ پارلیمنٹ کا استعمال ملک کے لیے نہیں، اپنی پارٹی کے لیے کرتی ہیں۔
یہ باتیں تکلیف سے اس لیے لکھنی پڑ رہی ہیں، کیوں کہ ہمیں لگتا ہے کہ کوئی بھی پاگل آدمی اس صورتِ حال کا فائدہ جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے اٹھا سکتا ہے۔ جمہوریت کا استعمال جمہوریت کے تئیں نفرت پیدا کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب وہ دو طرح سے اس ملک کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔ ایک تو وہ ان لوگوں کو دلیل دے رہے ہیں، جن کا بھروسہ ہتھیار کے ذریعے جمہوریت کو ختم کرکے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں ہے اور دوسرا، وہ ایسے لوگوں کے لیے راستہ بنا رہے ہیں، جن کا اعتماد جمہوریت میں نہیں ہے اور جنہیں فاشزم کا راستہ زیادہ صحیح لگتا ہے۔ اس ملک میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں، جو مذہب کا نام لے کر، فرقے کا نام لے کر جمہوریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ ملک ان کے جنون کی بنیاد پر چل سکے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کے کافی اراکین 13 فروری کے واقعہ کے اہم کردار صرف اس لیے بن جاتے ہیں، کیوں کہ ان کا بھی بھروسہ جمہوری نظام میں نہیں ہے۔
ممبرانِ پارلیمنٹ کو مہذب ہونا چاہیے۔ جرائم میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ ملک کے مسائل کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے۔ ملک کے تئیں اعتماد ہونا چاہیے اور پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی اصول کو یاد رکھنا چاہیے کہ بات چیت، بات چیت اور صرف بات چیت ہی مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ پارٹیوں کے لیڈر پتہ نہیں شرمسار ہوں گے بھی یا نہیں، یا سامنے شرم دکھا رہے ہوں گے اور پیچھے اپنی پارٹی کے انتشار پھیلانے والے ممبرانِ پارلیمنٹ کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہوں گے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈر ایک ساتھ بیٹھیں اور 13 فروری کے واقعہ پر مثبت بات چیت کریں۔ جو بھی دوسرے پر الزام لگائے، مان لیں کہ یہ پارلیمانی جمہوریت کو ختم کرنے والا ہے۔ اپنے اندر جھانکیں اور خود اپنی تنقید کریں۔ یہ بند کمرے میں نہ ہو کر پبلک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے، تاکہ ملک کے لوگوں کو سمجھ میں آئے کہ جو بول رہے ہیں، ان کا واقعی میں اس میں بھروسہ ہے۔
13 فروری کا کالا دن ہندوستان کے لوگوں کے من کو توڑ گیا ہے۔ 13 فروری کو پارلیمنٹ میں جو ہوا، ویسا تو گلی محلوں میں بھی نہیں ہوتا۔ گلی محلوں میں جو ہوتا ہے، اس کی مذمت ہوتی ہے اور پولس اس پر کارروائی کرتی ہے۔ لیکن پارلیمنٹ کے اندر جو ہوا، اس پر کہیں کوئی کارروائی نہیں ہوگی، کیوں کہ پارلیمنٹ کے اندر پیش آنے والا واقعہ قانونی تحفظ لیے ہوتا ہے۔ جب پارلیمنٹ میں چاقو لے کر کوئی ایم پی پہنچ جائے، تو یہ ماننا چاہیے کہ کل کوئی ایم پی بم لے کر یا ریوالور لے کر بھی پارلیمنٹ کے اندر پہنچ سکتا ہے اور وہاں ناراض ہوکر گولی بھی چلا سکتا ہے۔ کیا اس کا مطلب ممبرانِ پارلیمنٹ کی تلاشی ہونی چاہیے؟ مجھے لگتا ہے کہ پارلیمنٹ میں ممبرانِ پارلیمنٹ کی تلاشی غیر اعلانیہ طور پر تو شروع ہو ہی جائے گی، کیوں کہ جیسا 13 فروری کو ہوا، اس سے خطرناک آگے بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ ممبرانِ پارلیمنٹ ہی پارلیمنٹ کے دیگر اراکین کو یرغمال بنا سکتے ہیں اور جب پارلیمنٹ میں داخل ہونے پر ممبرانِ پارلیمنٹ کی تلاشی ہوگی، تو یہ یقینی طور پر مان لینا چاہیے کہ اب تک ہوائی اڈّوں پر ممبرانِ پارلیمنٹ کی تلاشی نہیں ہوتی تھی، لیکن اب ان کی تلاشی پولس والے سختی کے ساتھ لیں گے۔ ایک پارلیمنٹ کے رکن ہی بچے تھے، جن کے اوپر لوگوں کو کم و بیش بھروسہ تھا اور لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ لیکن کچھ ممبرانِ پارلیمنٹ نے یہ بتا دیا کہ پارلیمنٹ میں جرم کا مرض کتنی دور تک پہنچ گیا ہے۔ ہم سب، جو پارلیمانی جمہوریت پر بھروسہ کرتے ہیں، ان کے لیے 13 فروری کا واقعہ بہت شرمناک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے تئیں طالب علموں کو جانکاری نہ دینا، انہیں پارلیمانی جمہوریت کے افتخار کے بارے میں نہ بتانا، طالب علموں کو پارلیمانی جمہوریت کے طریقوں میں حصہ نہ لینے دینا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
13 فروری کے بعد 14 فروری کو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا، جو ملک کی تاریخ میں بحث کے روپ میں درج ہو جائے گا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروِند کجریوال نے جن لوک پال بل اسمبلی میں نہ پیش ہو پانے کی صورت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ حقیقت میں اروِند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کا وجود ہی جن لوک پال پر ٹکا ہوا ہے۔ انا کی تحریک سے پیدا ہوئے جن لوک پال کے مدعے کو بنیاد بنا کر اس پارٹی نے اپنے پرچار کے دنوں سے ہی اس موضوع کو اپنی سیاست کے مرکز میں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مرکزی حکومت نے جن لوک پال بل کو پاس کیا، تو پارٹی اپنے ہاتھ سے یہ مدعا کھسکتا دیکھ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت میں اتر آئی تھی۔ تب انا ہزارے نے بھی کہا تھا کہ میں اس لڑائی کو یہاں تک لے آیا ہوں، جو لوگ اسے بہتر بنا سکتے ہیں، انہیں آگے آنا چاہیے۔ اروِند کجریوال چونکہ مرکزی حکومت کے ذریعے پاس کیے جانے والے جن لوک پال کی مخالفت کر رہے تھے، اس لیے ان کے اوپر اپنے ذریعے بنائے گئے اور عوام کے لیے زیادہ مفید جن لوک پال کو پاس کرانے کا دباؤ تھا۔ کچھ دن پہلے انا ہزارے نے کہا تھا کہ اروِند کجریوال جن نئی تبدیلیوں کو اپنے جن لوک پال میں شامل کر رہے ہیں، انہیں میں نے دیکھا نہیں ہے، لیکن جیسا کہ انہوں نے مجھے بتایا ہے، اس بنیاد پر وہ بہتر ہے اور اسے پاس ہونا چاہیے۔
بہرحال، اروِند کجریوال کا جن لوک پال عوام کے لیے مفید ہے یا مرکزی حکومت کا، یہ بحث کا موضوع نہیں ہے، لیکن اروِند کجریوال نے اپنے استعفیٰ کے ذریعے تو یہ ثابت کر ہی دیا ہے کہ ان کی پارٹی بی جے پی اور کانگریس کی آئیڈیالوجی سے الگ ہے۔ ساتھ ہی ملک کی ان دونوں بڑی پارٹیوں کو پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک اس سوال کے ساتھ گھیر لیا ہے کہ ان کے لیے ہر مدعا صرف ووٹ بینک تک محدود ہے، اس کا نتیجہ کیا ہوگا، اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔
اس کے ایک اور پہلو پر بات ہونی چاہیے کہ کیا اروِند کجریوال نے شہادت دی ہے یا ان کا یہ قدم نپا تلا ہے۔ جن لوک پال پر ماہرین قانون کی رائے کی اندیکھی، مرکزی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات کی اندیکھی اور پہلے سے ہی نظر میں رہی تکنیکی مشکلوں کے باوجود اروِند کجریوال نے ان دقتوں کو کبھی عوام سے شیئر نہیں کیا۔ جب بھی ان کے سامنے یہ مشکلیں آئیں، انہوں نے یہی کہا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔ سرکار بنانے کے لیے دہلی کے عوام سے کئی دنوں تک رائے شماری کرنے والے اروِند کجریوال نے سرکار گرانے کے مدعے پر عوام سے کوئی رائے نہیں مانگی۔ ان سب کے باوجود جن لوک پال کے مدعے پر اروِند کجریوال کو اپنی رائے نہ رکھنے دینا اور اس مدعے پر سرکار کا گر جانا یقینی طور پر افسوس ناک ہے۔
سوال کئی سارے ہیں، لیکن ان سبھی سوالوں کی ادھیڑ بن میں آخر ملک کے عوام کو ہی پھنسنا ہے۔ عوام کے سامنے سوال ہے کہ اروِند کجریوال نے استعفیٰ ان کے لیے دیا ہے یا اپنے لیے دیا ہے؟ عوام کے سامنے سوال ہے کہ ممبرانِ پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں مرچ کا اسپرے ان کے لیے کیا ہے یا اپنے لیے کیا ہے؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *