مسلمانوں کو صرف دھوکہ ملا ہے

ڈاکٹر منیش کمار
Mastکانگریس پارٹی نے مسلمانوں پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ پردے کے پیچھے اور پردے کے آگے کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف مسلم لیڈروں سے بات چیت ہو رہی ہے، تو دوسری طرف ٹی وی میں پرچار اور خود سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کانفرنس کرکے مسلمانوں کو لبھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ’چوتھی دنیا‘ لگاتار مسلمانوں کے مسائل اور حقیقت پر مبنی رپورٹیں شائع کرتا رہا ہے اور ہم بڑی ذمہ داری کے ساتھ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یو پی اے سرکار مسلمانوں کو لے کر جتنی بھی باتیں کر رہی ہے، وہ سراسر جھوٹی ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے والی ہیں۔ اتر پردیش اسمبلی الیکشن کے دوران ’چوتھی دنیا‘ نے کانگریس کے سب سے بڑے جھوٹ کا پردہ فاش کیا تھا۔ ہم نے ثابت کیا تھا کہ کس طرح الیکشن سے پہلے سلمان خورشید نے سرکاری نوکری میں ریزرویشن کی بات کہہ کر مسلمانوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق کیا۔ کانگریس پارٹی کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ ریزرویشن کا معاملہ کہاں دب گیا؟ اب کانگریس پارٹی ریزرویشن پر کیوں نہیں کچھ بولتی یا پھر جن ریاستوں میں کانگریس کی سرکاریں ہیں، وہاں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟ دراصل، کانگریس پارٹی مسلمانوں کو دھوکہ دے کر ووٹ پانے کی فراق میں ہے، اس لیے ایک کے بعد ایک جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ چاہے وہ سونیا گاندھی ہوں یا منموہن سنگھ یا پھر یو پی اے کا کوئی وزیر یا لیڈر ، سب جھوٹ بول رہے ہیں۔
منموہن سنگھ نے 2006 میں کہا تھا کہ سرکاری وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے۔ جب انہوں نے یہ کہا تھا، تو لگا کہ مسلمانوں کے مسائل ختم ہونے والے ہیں۔ اب الیکشن ہونے والے ہیں۔ منموہن سنگھ کی وداعی طے ہو چکی ہے۔ آج یہی کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے ملک کے کسی بھی وزیر اعظم کے ذریعے دیے گئے بیانوں میں سے یہ بیان سب سے بڑا فریب ثابت ہوا۔ ووٹ نہ جانے انسان سے کیا کیا کرا لیتا ہے۔ منموہن سنگھ نے مسلمانوں کے حالات سمجھنے کے لیے سچر کمیٹی کی تشکیل کی تھی، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ مسلمانوں کی حالت کیا ہے اور مسائل کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ نے کانگریس کو آئینہ دکھایا۔ سچ سامنے آ گیا۔ رپورٹ نے بتایا کہ کانگریس کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت دلتوں جیسی ہے۔ رپورٹ آئی اور چلی گئی۔ اب سچر کمیٹی کی رپورٹ کا استعمال صرف ریسرچ میں ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے مدعے وہیں کے وہیں پڑے ہیں۔ وہی بھوک، وہی ناخواندگی، وہی بے روزگاری، وہی فسادات اور وہی لاچاری۔
لیکن کانگریس کی فطرت دیکھئے۔ الیکشن آتے ہی ہلچل ہونے لگتی ہے۔ کانگریس نے اور کمیٹی بنائی۔ اس کا نام تھا رنگناتھ مشرا کمیشن۔ مسلم اقلیتی سماج کو لے کر اس کی رپورٹ میں بھی اسی بدحالی کو بتایا گیا اور اس سے باہر نکلنے کی دوا لکھی گئی، لیکن مرکزی حکومت نے تو اپنی فطرت کے مطابق اسے پارلیمنٹ میں پیش ہی نہیں کیا۔ دو تین سالوں تک یہ رپورٹ سڑتی رہی، لیکن ’چوتھی دنیا‘ نے پوری رپورٹ کو جب شائع کیا، تو حکومت کو اس رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو جس طرح سے پارلیمنٹ میں رکھا گیا، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکومت کے قول و فعل میں زبردست تضاد ہے۔ حکومت کی منشا پر سوال اس لیے بھی اٹھ رہے ہیں، کیوں کہ اس نے رنگناتھ کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ کوئی اے ٹی آر (ایکشن ٹیکن رپورٹ) نہیں رکھی۔ ملک کے عوام کو اب تک یہ پتہ نہیں چل پایا کہ حکومت اس رپورٹ کا کیا کرنا چاہتی ہے اور کانگریس پارٹی کا رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر رویہ کیا ہے؟ شاید سیاست میں حدود کی خلاف ورزی کوئی جرم نہیں ہوتا، جھوٹ بولنے کو گناہ نہیں مانا جاتا، اس لیے الیکشن سے ٹھیک پہلے یوپی اے سرکار کے سینئر لیڈر اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے لیے ووٹ کے بازار میں کود پڑے۔
دہلی کے وِگیان بھون میں ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کی خوب تشہیر کی گئی۔ پورے ملک میں اسے ٹی وی چینلوں کے ذریعے لائیو دکھایا گیا۔ یہاں پہلے سونیا گاندھی کی تقریر ہوئی۔ انہوں نے مسلمانوں کو بہلانے کے لیے کئی جھوٹ بولے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ اقلیتوں کی مختلف اسکیموں کی وجہ سے ان کی ترقی میں دس گنا تیزی آئی ہے۔ عجیب مذاق ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ کسی اخبار کو چھاپنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ویسے سچر کمیٹی بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں جیسی ہے اور سونیا گاندھی دس گنا ترقی کا خواب دکھا رہی ہیں۔ سونیا گاندھی نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ اسکالرشپ کی اسکیموں کا فائدہ مسلمانوں کو ہو رہا ہے اور مسلمانوں میں بے روزگاری دور ہو رہی ہے۔ جب تقریر میں جھوٹ ہی بولنا تھا، تو انہوں نے کم از کم یہ بھی بتا دیا ہوتا کہ گزشتہ 10 سالوں میں کتنے مسلم طلبہ کو اسکالرشپ ملی اور کتنے لوگوں کو سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے نوکری ملی۔ سچائی یہ ہے کہ یو پی اے سرکار وقت وقت پر، اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے مد نظر صرف اعلانات کرتی رہی، جس کا مقصد مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا نہیں، بلکہ ان کو جھانسہ دے کر ووٹ لینا تھا۔ 2006 میں بھی اقلیتوں کی فلاح کے لیے وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن یو پی اے سرکار اقلیتوں کی بدحالی کو دور کرنے میں ناکام رہی۔
اس کے باوجود سونیا گاندھی نے یو پی اے سرکار کی تعریف کی اور کہا کہ وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام کا واحد مقصد اقلیتوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ اسکیموں کا فائدہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے، لیکن کن کن اسکیموں کا فائدہ لوگوں تک پہنچا ہے، یہ بتانا بھول گئیں۔ سونیا نے کہا کہ ’نئی روشنی اسکیم‘ کے تحت بہت کام ہوا ہے، جس میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی فلاح کے لیے کئی قدم اٹھائے گئے۔ سونیا گاندھی کو شاید حقیقت کا پتہ نہیں ہے کہ 2009 میں تشکیل کردہ ’نئی روشنی‘ اسکیم، جو 2012 تک ٹھنڈے بستے میں پڑی رہی اور جب ڈیڑھ سال پہلے شروع ہوئی، تو پیسے کی بندر بانٹ اکثریتی تنظیموں کے درمیان کردی گئی۔ عورتوں کے لیے ’نئی روشنی‘ اسکیم کے تحت 11 ریاستوں میں جن 25 تنظیموں کو رقم دی گئی، اس میں اقلیتوں کے ذریعے چلائی جا رہی تنظیموں کو درکنار کر دیا گیا۔ مسلم تنظیموں کو پیسے دینے سے یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ مسلم تنظیمیں ضروری پیمانے پر پوری نہیں اتر پائیں۔ سونیا گاندھی کو تو کم از کم یہ ضرور معلوم ہوگا کہ سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے کس وجہ سے نیشنل ایڈوائزری کمیٹی سے استعفیٰ دیا۔ ہرش مندر اس بات سے ناراض تھے کہ اسکیموں کو سیدھے مسلمانوں سے نہ جوڑ کر اقلیتوں سے کیوں جوڑ دیا گیا؟ دس سال تک یو پی اے سرکار اور وزیر اعظم صاحب اقلیتوں کی اسکیموں کی بات تو کرتے رہے، لیکن آج حالات یہ ہیں کہ یو پی اے سرکار ایک بھی اسکیم کے کامیاب ہونے کا دعویٰ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔
اس میٹنگ میں سونیا گاندھی کے بعد منموہن سنگھ نے تقریر کی۔ انہوں نے وقف بورڈ کے بارے میں بات کی اور بتایا کہ وقف املاک کے بطور تحفہ، رہن (Mortgage) اور ایکسچینج پر روک لگا دی گئی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ آج بھی وقف املاک سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے قبضے میں کیوں ہیں؟ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ وقف املاک کا اگر ڈھنگ سے صرف مینجمنٹ ہو جائے، تو ملک کے مسلمانوں کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ اس پر کوئی کام تو ہوا نہیں، لیکن منموہن سنگھ دعویٰ کرتے ہیں کہ سچر کمیٹی کی زیادہ تر سفارشات پر عمل کیا جا چکا ہے۔ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان کا دعویٰ ہے کہ ان کی وزارت نے سچر کمیٹی کی 76 سفارشات میں سے 73 کو نافذ کر دیا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ نے جب تحقیق کی، تو پتہ چلا کہ 76 میں سے 45 سفارشات کو یو پی اے سرکار نے ابھی تک نافذ ہی نہیں کیا ہے۔ یو پی اے سرکار کے وزیر لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں۔
سرکار نے اپنے گیارہویں پنج سالہ منصوبہ (2007-2012) میں وزارتِ اقلیتی امور کو 7 ہزار کروڑ روپے جاری کیے تھے۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان روپیوں میں سے 6,824 کروڑ روپے خرچ کر دیے ہیں، جب کہ سچائی یہ ہے کہ وزارتِ اقلیتی امور نے ریاستوں کو جو رقم جاری کی تھی، ان میں سے زیادہ تر رقم خرچ ہی نہیں کی گئی۔ حال ہی میں جاری سوشل ڈیولپمنٹ رپورٹ 2012 کے مطابق، 2007-12 کے دوران ریاستی حکومتوں نے اقلیتوں سے متعلق مرکز کی طرف سے جاری کی گئی رقم میں سے آدھی رقم بھی خرچ نہیں کی۔ 12 ریاستوں نے اقلیتوں سے متعلق 50 فیصد سے بھی کم خرچ کیا، جن میں بہار، اتر پردیش، مہاراشٹر اور آسام جیسی ریاستیں سرفہرست ہیں۔ کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں، جہاں پر اس رقم میں سے صرف 20 فیصد رقم ہی خرچ کی گئی۔ سچائی یہ ہے کہ وزارتِ اقلیتی امور نے سال 2008-09 میں مرکزی حکومت کو 33.63 کروڑ، 2009-10 میں 31.50 کروڑ اور 2010-11 میں 587 کروڑ روپے اس لیے واپس لوٹا دیے، کیوں کہ ان پیسوں کو خرچ ہی نہیں کیا جاسکا۔ وزارتِ اقلیتی امور کی نااہلیت کو دیکھتے ہوئے منسٹری آف سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے سخت اعتراض جتایا تھا۔
مسلمانوں کی کثیر آبادی والے 90 ضلعوں میں ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ کے تحت مختلف اسکیموں پر خرچ کرنے کے لیے مرکز کی طرف سے وزارتِ اقلیتی امور کو جو 462.26 کروڑ روپے دیے گئے تھے، وہ بھی مرکز کو لوٹا دیے گئے۔

اسی طرح پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی 24 کروڑ روپے کی رقم، میٹرک اسکالرشپ کی 33 کروڑ روپے ، میرٹ کم مینس اسکالرشپ کی 26 کروڑ اور وقف بورڈ کے کمپیوٹرائزیشن کی 9.3 کروڑ روپے کی رقم کو وزارتِ اقلیتی امور خرچ کرنے میں ناکام رہی اور نتیجتاً اس پوری رقم کو اسے مرکز کو واپس کرنا پڑا۔ ایسی حالت میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کے سبھی دعوے کھوکھلے ہی ثابت ہو رہے ہیں۔ سچر کمیٹی نے سب سے زیادہ زور مسلمانوں کی تعلیم اور پچھڑے پن کو دور کرنے پر دیا تھا، لیکن 7 سال بعد بھی مسلم سماج کی تعلیم کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کے لیے الگ سے کسی قسم کے ریزرویشن کا انتظام بھی اب تک نہیں کیا جاسکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں مسلم سماج ترقی کی دوڑ سے باہر ہو چکا ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ تعلیم اور تعلیم کی سطح ایک بڑی وجہ ہے۔ مسلم نوجوان موجودہ مقابلہ جاتی دنیا میں پچھڑ رہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں تعصب کا بھی معاملہ ہے۔ سرکاری شعبوں میں بھی جہاں انٹرویو کا معاملہ ہوتا ہے، وہاں بھی وہ بھید بھاؤ کے شکار ہوتے ہیں۔ میڈیا اور سیاست نے ایسا ماحول بنا دیا ہے، جس سے مسلمان مین اسٹریم سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکار کو ان باتوں کی فکر نہیں ہے۔ مسلمانوں سے جڑے کسی بھی اعداد و شمار پر آپ نظر ڈالیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالت دلتوں سے بھی زیادہ خراب ہے۔ مسلمانوں کی بستیوں میں اسکول نہیں ہے، اسپتال نہیں ہے، روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ تعلیم کو لے کر سرکاری اعداد و شمار بھرم میں ڈالنے والے ہیں۔ اپنا نام لکھنے اور پڑھنے والوں کو ہم تعلیم یافتہ مان لیتے ہیں۔ گاؤں میں رہنے والے مسلمان مدرسے میں پڑھتے ہیں۔ وہ تعلیم یافتہ لوگوں کی گنتی میں تو آ جاتے ہیں، لیکن ان کی پڑھائی کا فائدہ انہیں نوکری یا روزگار دلانے میں نہیں ملتا۔ غریبی کی وجہ سے مسلم بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ سماج کے ہر شعبہ میں ملک کے مسلمان پچھڑ رہے ہیں اور انہیں مدد نہیں مل رہی ہے یا یوں کہیں کہ انہیں مدد نہیں دی جا رہی ہے، ساتھ ہی اقتصادی پالیسیاں ایسی اپنائی گئی ہیں، جس سے مسلمانوں کی حالت گزشتہ 10 سالوں سے بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
سرکار کی نیو لبرل اقتصادی پالیسی غریبوں کو اور غریب بنا رہی ہے۔ گاؤں میں جینا مشکل ہو رہا ہے۔ مسلمان غریب ہیں، اس لیے موجودہ اقتصادی پالیسی کا سب سے برا اثر مسلمانوں پر ہی پڑ رہا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چھوٹے اور اوسط درجے کے کاشت کار مسلمانوں کو جینے کے لیے اپنی بچی ہوئی زمین بیچنی پڑ رہی ہے۔ وہ دھیرے دھیرے کسان سے مزدور بنتے جا رہے ہیں۔ اب ملک میں 60 فیصد سے زیادہ دیہی مسلمانوں کے پاس زمین نہیں ہے۔ حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ ہر سال ایک فیصد زمین مسلمانوں کے ہاتھوں سے کھسک رہی ہے۔ مسلمانوں کو دوہری مار جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ایک طرف گاؤں سے زمین جا رہی ہے، تو دوسری طرف سرکار کی نیولبرل اقتصادی پالیسیوں کا برا اثر مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔ کامگار اور اپنے ہنر کے ذریعے پیسہ اور نام کمانے والے کاروبار دھیرے دھیرے بند ہونے لگے ہیں۔ روایتی تجارت پر تالا لگ چکا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں ہے۔ مسلمان اس بازار پر مبنی اقتصادی نظام سے بالکل باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہروں میں جو روزگار بھی ملتے ہیں، وہ سب سے نچلے قسم کے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے پہلے مین اسٹریم سے باہر ہوتا گیا اور اب پچھلے 10 سالوں میں بدلے ہوئے سماجی و اقتصادی منظرنامے میں وہ خود کو بے سہارا محسوس کر رہا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کانگریس پارٹی اس پر افسوس کرنے اور معافی مانگنے کے بجائے خود اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔ خود کو سرٹیفکٹ دے رہی ہے۔
ایک طرف مسلم سماج کا بنیادی مسئلہ ہے اور دوسری طرف تیزی سے بدلتا ہوا سماجی و اقتصادی منظرنامہ ہے۔ مسلمانوں کے سامنے خطرناک چنوتی ہے۔ خطرناک اس لیے، کیوں کہ ہم تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں تھوڑی سی چوک یا دیری پورے مسلم سماج کو سب سے نچلی سطح پر لے جائے گا۔ دلت ترقی کی راہ پر آ چکے ہیں۔ کئی درج فہرست ذاتیں کافی آگے نکل چکی ہیں۔ کئی پچھڑی ذاتیں اونچی ذاتوں کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہیں۔ اقلیتوں میں بھی جین، سکھ، عیسائی، پارسی وغیرہ پہلے سے ہی کافی آگے ہیں۔ صرف مسلمان پچھڑ رہے ہیں۔ ایسی کیا بات ہے کہ مسلم سماج ہی اکیلا بچ گیا ہے، جو ناخواندگی، بے روزگاری، بیماری اور ماضی کی طرف جا رہا ہے۔ اسے مسلم سماج کو ہی روکنا پڑے گا۔ ان الگ الگ نظریات کے نام پر دکان چلانے والی سیاسی پارٹیوں سے کوئی امید نہیں کرنی چاہیے۔ الیکشن کے دوران سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مسلم ووٹوں کا سودا کرنے والے سماجی و مذہبی لیڈروں سے بھی امید نہیں کرنی چاہیے۔ الگ الگ سیاسی پارٹیوں میں موجود مسلم لیڈروں سے بھی کوئی امید نہیں ہے۔ پرانی نسل سے بھی کوئی امید نہیں ہے، کیوں کہ ان کے دماغ میں بھی کئی قسم کی خام خیالی موجود ہے۔ موجودہ مسائل سے نمٹنے اور مستقبل کا نقشہ تیار کرنے کے لیے نئی نسل، یعنی نوجوان ہی آگے آئیں گے اور مسلم سماج کو اس دلدل سے نکالیں گے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *