ممتا کو ملا انا ہزارے کا ساتھ

سنتوش بھارتیہ
Mastانا ہزارے نے ممتا بنرجی کی حمایت کر دی۔ نہ صرف حمایت کی، بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ممتا بنرجی کے لیے پرچار کریں گے اور چاہیں گے کہ ملک کی اگلی وزیر اعظم ممتا بنرجی بنیں۔ انا ہزارے ساری زندگی سیاست سے دور رہے۔ انہوں نے کبھی کسی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کی، کبھی سیاسی پارٹیوں کے اسٹیج پر نہیں گئے اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کو اپنے پاس پھٹکنے دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر انا ہزارے نے 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں ممتا بنرجی کی حمایت کیوں کی؟ اور یہ سوال ان سب لوگوں کے من میں ہے، جو انا ہزارے کو صرف دیکھتے ہیں، نہ ان کی باتیں سنتے ہیں اور نہ ان کی باتوں میں چھپی معنویت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ انا ہزارے نے تین مہینے پہلے تک یہ کہا کہ وہ حلیف اور پارٹی کو آئین کے مطابق نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سیاسی پارٹی‘ لفظ ہندوستان کے آئین میں نہیں ہے اور نہ پارٹی پر مبنی نظام کا ذکر۔ ہندوستان کے آئین میں ’عوامی جمہوریہ‘ لفظ ہے۔ تب یہ سیاسی پارٹیاں آخر آئیں کہاں سے؟
تب آخر ایسا کیا ہوا کہ اچانک انا ہزارے نے 8 اور 9 فروری کو دہلی میں اشارہ دیا کہ وہ ممتا بنرجی کو ملک میں سب سے زیادہ ایماندار، سب سے زیادہ عوام کے تئیں ڈیڈیکیٹیڈ اور سب سے زیادہ محنتی شخصیت مانتے ہیں۔ وہ جب دہلی سے لوٹ کر 10 فروری کی صبح پونہ پہنچے، تو انڈیا ٹی وی کو دیے ایک خاص انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں ممتا بنرجی کو ملک کی وزیر اعظم کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں اور جتنا ممکن ہوگا، میں اس کے لیے کوشش کروں گا۔ اس کے باوجود لوگوں کو یقین نہیں ہوا اور سب سے بڑی چیز کہ آخر یہ ناممکن بات ہوئی کیسے؟ کیسے انا ہزارے نے اپنے غیر سیاسی عزم کو ترک کرتے ہوئے اپنے بڑے عہد کو توڑ دیا اور انہوں نے ترنمول کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا؟
پچھلے سال 30 جنوری کو انا ہزارے نے پٹنہ کے گاندھی میدان میں ایک بڑی ریلی کی۔ تقریباً پونے دو لاکھ لوگ وہاں آئے تھے۔ وہاں انا ہزارے نے کہا کہ میرا مقصد جن لوک پال لانا ہے، رائٹ ٹو رِجیکٹ، رائٹ ٹو ریکال لانا ہے، لیکن سب سے بڑی چیز میں نظام میں تبدیلی چاہتا ہوں اور نظام میں تبدیلی کا مطلب ملک کی پالیسیوں میں مکمل تبدیلی سے تھا۔ ملک میں بازار پر مبنی اقتصادی پالیسی انا کے لیے زہر کی طرح ہے۔ انا کا ماننا ہے کہ ملک میں جب تک گاؤں مضبوط نہیں ہوں گے، گاؤں پر مبنی صنعتیں نہیں کھڑی ہوں گی، تب تک ملک میں بے روزگاری سے لڑا ہی نہیں جا سکتا۔ نہ بدعنوانی سے لڑا جا سکتا ہے اور نہ مہنگائی سے لڑا جا سکتا ہے۔ انا نے اپنی اس سمجھ کا پٹنہ کے گاندھی میدان میں تفصیل سے ذکر کیا۔ اس کے بعد انا نے 30 مارچ سے اپنی ملک گیر یاترا کی شروعات کی۔ انا امرتسر گئے، جلیاں والا باغ گئے، جسے وہ ’شہید بھومی‘ کہتے ہیں، اس کی مٹی اپنی پیشانی سے لگائی، شہیدوں کی یادگار پر اپنا سر جھکایا اور ملک گیر یاترا پر نکل گئے۔
انا پنجاب، ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں گھومے۔ تقریباً 28 ہزار کلومیٹر انہوں نے یاترا کی۔ ساڑھے سات سو سے زیادہ ریلیوں سے انہوں نے خطاب کیا۔ ہر ریلی میں انہوں نے ملک کو بدلنے کا اپنا عزم دوہرایا اور کہا، میں ان سیاسی پارٹیوں کی جگہ پر ملک کے با کردار، توانائی سے بھرے ہوئے اور ایماندار لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا حامی ہوں۔ انا جن لوک پال کے لیے بھی لوگوں کو جگاتے رہے۔ دراصل، ان کی یہ یاترا جہاں ایک طرف لوگوں کو جگانے کی مضبوط مہم تھی، وہیں دوسری طرف انا کے لیے بھی سمجھ کے پیمانے پر خود کو اور اس سے زیادہ ملک کو سمجھنے کا ذریعہ بھی تھی۔ انا نے اس پوری یاترا میں لوگوں کا دکھ درد، تکلیف، سرکاروں اور سیاسی پارٹیوں کا رویہ دیکھا۔ وہیں انا نے دیکھا کہ جن لوگوں کو انہوں نے 2011 کے رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال کرکے کھڑے ہونے کے لیے آمادہ کیا تھا، انھیں میں سے کچھ لوگ ان کی مخالفت جگہ جگہ کر رہے ہیں، کیوں کہ تب تک اروِند کجریوال اپنی سیاسی پارٹی بنا چکے تھے یا بنانے کا اعلان کر چکے تھے اور لوگ چاہتے تھے کہ انا ہزارے کچھ بھی نیا نہ کریں، بلکہ وہ اروِند کجریوال کی نئی بننے والی سیاسی پارٹی کی حمایت کریں۔
انا کے لیے ایک اعتماد ٹوٹنے جیسے حالت تھی، لیکن انہوں نے بغیر تحمل کھوئے ہر جگہ لوگوں کو سمجھایا کہ کیوں وہ سیاسی پارٹیوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے یہ بھی لوگوں کو سمجھایا کہ اسمبلیاں ملک کی پالیسیاں نہیں بدلتیں، ملک کی پالیسیاں لوک سبھا سے بدلتی ہیں اور یہیں ان کی باتوں سے یہ پتہ چلا کہ انہوں نے اروِند کجریوال کو اسمبلی کا الیکشن لڑنے سے منع کیا، لیکن اروِند نے ان کی بات نہیں مانی اور وہ یہ مان کر کہ وہ دہلی سے جیت جائیں گے اور دہلی کو ایک مثالی ریاست بنائیں گے، جس کا ملک میں فائدہ ہوگا اور پورا ملک ان کے اس تجربہ کو اپنانے کے لیے تیار ہو جائے گا، اسمبلی کا الیکشن لڑ گئے۔ انا صرف ایک الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور وہ لوک سبھا کا الیکشن ہوتا۔ ایسا اُس یاترا میں انا کی مختلف تقریروں سے مطلب جھلکنے لگا۔ انا نے بنارس کی میٹنگ میں یہ اعلان کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن بھوک ہڑتال کریں گے، اگر پارلیمنٹ نے جن لوک پال بل نہیں بنایا تو۔
اس سارے منتھن میں انا نے ایک جگہ یہ بھی کہا کہ وہ تیسری طاقت کی کھوج میں ہیں، جو بازار پر مبنی اقتصادیات کے خلاف کھڑی ہو اور گاؤوں کو مضبوط قانونی مرکز کے روپ میں فروغ دے۔ گاؤں پر مبنی صنعت لگائے، کوئی بھی بے روزگار گاؤں، بلاک یا ضلع سے باہر نہ جا سکے، فصل کی پوری قیمت کسانوں کو ملے، کسان کی کوئی زمین نہ چھنے اور جل (پانی)، جنگل، زمین پر گرام سبھا کا اختیار ہو۔ انا نے اپنی اس سوچ کو اپنی تقریروں میں کہنا شروع کیا اور تب آیا مئی کا مہینہ۔ انا نے تھوڑے دنوں کے لیے اپنی یاترا روکی، کیوں کہ ان کی آنکھ کا آپریشن ہونا تھا اور جب انا یاترا کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کے لیے دہلی آئے، تب تک ان کے دماغ میں نقشہ بننے لگا۔ انا نے دہلی آ کر سیاسی پارٹیوں کو خط لکھا۔ انا نے سیاسی پارٹیوں کو خط لکھ کر کہا کہ اب تک جو ہوا، سو ہوا، اب سبھی لوگ ملک کے لیے ایک ساتھ بیٹھئے اور اب گاؤں اور غریب کے لیے مل کر ترقی کا منصوبہ بنائیے۔ اس کے لیے انا نے شروعاتی 17 نکات پیش کیے۔ یہ 17 نکات ملک کے بدلے ہوئے راستے کے میل کے پتھر تھے، نئی تاریخ بنانے کے نشان تھے، لیکن کسی سیاسی پارٹی نے ان نکات کا جواب نہیں دیا۔ انا لگاتار یہ سوچ رہے تھے کہ کیا سیاسی پارٹیاں اتنی بے حس ہیں کہ انہیں عوام کا کوئی خیال نہیں؟ اس خط میں انا نے بہت اپنائیت کے ساتھ لکھا تھا کہ اگر آپ ان مدعوں کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کریں گے، تو لوگوں میں 60 سال سے چلی آ رہی بد نظمی، بدعنوانی، بے روزگاری اور مہنگائی سے چھٹکارہ پانے کا حوصلہ پیدا ہوگا، کیوں کہ انا سارے راستے دیکھ رہے تھے کہ لوگوں میں غصہ اس قدر بڑھا ہے کہ وہ اب سرکاروں کو اپنی تکلیف کی وجہ ماننے لگے ہیں۔ انا نے کئی میٹنگوں میں کہا کہ نکسل واد اس لیے نہیں پنپا ہے کہ لوگوں کو نکسل وادی بننے کا شوق ہے، بلکہ نکسل واد اس لیے پنپا ہے، کیوں کہ سسٹم نے اپنا کام نہیں کیا، لوگوں کو ان کے حصے کی ترقی نہیں دی، لوگوں کی ان کی تھالی سے روٹی چھینی، پانی چھینا، جنگل چھینا، زمینی چھینی اور اس بات کو انا نے کہیں چھپایا نہیں۔
اچانک انا ہزارے کے پاس ممتا بنرجی کا ایک پیغام آیا کہ وہ ان کے اس خط کو لے کر بہت ہی زیادہ پرجوش ہیں اور پیغام لانے والے نے انا سے یہ کہا کہ ممتا بنرجی نے بنگال میں ان میں سے کئی چیزوں کو نافذ کیا ہے اور جاننا چاہتی ہیں کہ اگر وہ اس خط کی حمایت کریں، تو کیا انا اس حمایت کو قبول کریں گے۔ اچانک انا کو لگا کہ اس نظام کو بدلنے کا ایک سرا ان کے پاس ہے۔ دراصل، انا نظام کو بدلنے کے دو طریقوں کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ ایک طرف وہ عوام کو کھڑا کرنا چاہتے تھے، دوسری طرف وہ سیاسی پارٹیوں میں سے ایسے لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جو نظام کو بدلنے کے لیے ایمانداری سے کوشش کریں۔ جیسے ہی ممتا بنرجی کا پیغام ملا، انا نے بغیر کوئی جواب دیے اس پر غور کرنا شروع کیا اور اپنے ایک دو ساتھیوں سے بہت دوری کا گھیرا بنا کر یہ جاننا چاہا کہ اگر اس نظام میں کچھ لوگوں کو بھیجا جائے، پارلیمنٹ میں عوامی امیدواروں کو بھیجا جائے، تو کیا لوگ اس سے پر جوش ہوں گے؟ انا بالکل ایک لیڈر کی طرح کام کرتے ہیں۔ انا لوگوں کی رائے پر فیصلہ نہیں کرتے، بلکہ انا کے دل میں عام لوگوں کو لے کر جو جواب آتے ہیں، ان پر وہ فیصلے لیتے ہیں۔ اس میں بہت سارے لوگ انا سے دور چلے جاتے ہیں، کیوں کہ انا کے پاس زیادہ تر ایسے لوگ اب تک آئے، جنہوں نے اپنا ایجنڈا انا کے ذریعے پورا کرانا چاہا۔ ان میں بہت سارے لوگ سیاسی پارٹیوں سے پیار کرنے والے تھے۔ انا کو اُس طرف موڑنا چاہتے تھے۔ انا سب کی بات سنتے تھے اور کسی کو بھی منع نہیں کرتے تھے، لیکن فیصلہ اپنے دل سے لیتے تھے۔
انا کے غورو فکر کا سلسلہ ان کے اندر ہی اندر شاید چل رہا تھا، اسی لیے جنوری کے وسط میں ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کی طرف سے اپنے جنرل سکریٹری کو حکم دیا کہ وہ فوراً انا کے خط کا جواب دیں اور ان سے کہیں کہ ان کی سوچ کے حساب سے 2009 اور 2011 میں کچھ قدم اٹھائے گئے ہیں اور وہ ملک کے پیمانے پر انا کے اقتصادی پروگرام کو نہ صرف قبول کرتی ہیں، بلکہ وہ انا سے یہ امید کرتی ہیں کہ انا ان پروگراموں کو نافذ کرنے میں ان کی رہنمائی بھی کریں گے۔ یہ خط انا کے پاس پہنچا۔ انا نے خاموشی سے اس خط کو اپنے پاس رکھ لیا اور انہوں نے اس خط کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ ممتا بنرجی چاہتی تھیں کہ 30 جنوری کو کولکاتا کے بریگیڈ میدان میں ہونے والی ان کی ریلی میں انا آئیں اور اپنے خیالات رکھیں۔ وہ ترنمول کی حمایت نہ کریں، لیکن عوام کی تکلیفوں کو لے کر ان کے اندر جو غصہ ہے یا ان کے اندر جو اسے بدلنے کا نقشہ ہے، اسے لوگوں کو بتائیں۔ لیکن انا ہزارے نے اسے قبول نہیں کیا اور وہ 30 جنوری، 2014 کو کولکاتا کی ریلی میں نہیں گئے۔
کولکاتا کی ریلی تاریخی ریلی تھی۔ تقریباً 20 لاکھ لوگ اس ریلی میں تھے۔ آس پاس کی سڑکیں بھری ہوئی تھیں۔ پورا کولکاتا جیسے تھم سا گیا تھا۔ غریب لوگ، اپنے خرچے سے آئے لوگ، نعرے لگاتے لوگ بڑی تعداد میں آئے اور انہوں نے ممتا بنرجی کی حمایت کی۔ اسی ریلی میں ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ فساد والی پارٹی نہیں چاہیے اور شاہی خاندان نہیں چاہیے۔ ان کا اشارہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی طرف تھا۔ ممتا بنرجی کے اس اعلان نے پورے ملک میں ان کے خلاف چلائے جا رہے اس پرچار کو بھی غلط ثابت کر دیا کہ ان کا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کوئی رشتہ ہو سکتا ہے۔ دراصل، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی ممتا بنرجی کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے بی جے پی کا نام لے رہی تھی اور بدھا دیو بھٹا چاریہ نے ایک میٹنگ میں کہا کہ ممتا بنرجی اور نریندر مودی کے درمیان ساز باز ہے۔ دراصل، آج کسی کو بھی بدنام کرنا ہو، تو نریندر مودی کا نام اس کے ساتھ جوڑنا فیشن بن گیا ہے۔ کولکاتا سمیت پورے مغربی بنگال میں اپنی کم ہوتی عوامی حمایت کو لے کر سی پی ایم بہت پریشان ہے۔ اس نے ممتا بنرجی کے اوپر جب الزامات لگائے اور ممتا بنرجی نے ان کا جواب دیا، تو منظرنامہ پوری طرح صاف ہوگیا۔
انا ہزارے اس پوری صورتِ حال کے اوپر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہیں بہت امید تھی کہ نتیش کمار اور نوین پٹنائک جیسے لوگ ان کے خط کا جواب ضرور دیں گے۔ انا نتیش کمار کے تئیں اپنا لگاؤ کبھی چھپاتے نہیں تھے۔ ان کا نتیش کمار سے پہلے سے ہی تعارف تھا اور ہندی بولنے والا ہونے کے سبب وہ نتیش کمار کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ لیکن جب نتیش کمار نے انا ہزارے کے خط کا جواب نہیں دیا، تب انا کو لگا کہ یہ سیاست اچھے اچھے لوگوں کو بھٹکا دیتی ہے۔

تب انہوں نے ممتا بنرجی کے خط کے اوپر غور و فکر شروع کرد یا۔ انہیں لگا کہ یہ ممتا بنرجی ہو سکتی ہیں، جو ملک کے لوگوں کی بھلائی کریں۔ حالانکہ انا اب تک ممتا بنرجی سے ملے نہیں تھے، لیکن انہوں نے ممتا بنرجی کے بارے میں جانکاری لی، بنگال کی حکومت کے بارے میں جانکاری لی، لوگوں کے پیار کو لے کر جانکاری لی اور پنچایتی انتخابات میں جس طرح ممتا بنرجی جیتیں، اس کے بارے میں جانکاری لی، تو ان کے من میں شاید کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا اور انہوں نے خود کو ممتا بنرجی کے حق میں کھڑا ہونے کا من بنا لیا۔
انا کے من میں یہ چل رہا تھا کہ ایک طرف آزاد امیدوار کھڑے ہوں، لیکن دوسری طرف اگر ممتا بنرجی عوام کو حلف نامہ دیتی ہیں کہ وہ ان 17 نکاتی پروگراموں کو ملک میں نافذ کریں گی، تو ممتا بنرجی کی حمایت کرنی چاہیے، کیوں کہ اور کوئی ان 17 نکاتی پروگراموں پر عمل کرنا تو دور، اس کے اوپر بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری طرف جتنے بھی لوگ انا ہزارے سے مل رہے تھے یا ان کی تقریر سن رہے تھے، ردِ عمل کے طور پر وہ انا سے پوچھتے تھے کہ انا، ہم آپ کی بات مانتے ہیں، لیکن آپ ہمیں یہ تو بتائیں کہ ہم ووٹ کسے دیں؟ انا اس پر خاموش رہ جاتے تھے، کیوں کہ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، کوئی تنظیم نہیں تھی، جس کے بارے میں وہ کہتے کہ لوگ لوک سبھا کو بدلنے کے لیے اِس یا اُس پارٹی کو ووٹ دیں۔ ممتا بنرجی کے بارے میں انا نے پورے ڈیڑھ مہینے تک غور کیا اور تب انہوں نے 8 فروری کو دہلی میں پہلی بار گاندھی وادیوں کی میٹنگ میں حصہ لیا۔ گاندھی پیس فاؤنڈیشن میں 8 فروری کی شام یہ میٹنگ رکھی گئی تھی اور میٹنگ دراصل، گاندھی وادیوں کی کم، گاندھی وادیوں کے ذریعے انا کو عام آدمی پارٹی کے حق میں کھڑا کرنے کی ایک بہت ہوشیار کوشش تھی۔ وہاں سارے لوگوں نے تقریر کی اور سب کی تقریروں کا ایک ہی مطلب تھا کہ ملک میں عام آدمی پارٹی کی سب کو حمایت کرنی چاہیے۔ اس میں ایسے گاندھی وادی بھی تھے، جو پچھلے تین چار مہینے سے اپنے اپنے شہروں میں میٹنگ کرکے عام آدمی پارٹی کا امیدوار بن کر لوک سبھا میں جانا چاہتے تھے اور ایسے لوگ بھی تھے، جو اپنے خاندان کے لوگوں کو لوک سبھا میں بھیجنے کے لیے اروِند کجریوال کی حمایت کر رہے تھے۔
انا نے خاموش ہو کر سب کی باتیں سنیں، لیکن کچھ نہیں بولے۔ لیکن، جب سب نے زور ڈالا، تو انا نے کہا کہ میں آپ لوگوں کی سوچ سے متفق نہیں ہوں۔ گاندھی وادیوں کی میٹنگ میں سانپ سونگھ گیا اور وہاں انا ہزارے نے کہا کہ میں نے ملک کے لیے ایک اقتصادی پروگرام بنایا ہے اور اس اقتصادی پروگرام کا جواب ممتا بنرجی نے دیا ہے اور مجھے ممتا بنرجی ٹھیک لگتی ہیں۔ انہوں نے ممتا بنرجی کی تعریف میں جو تقریر کی، اس سے وہاں بیٹھے لوگ اتنے زیادہ چونک گئے کہ انا جب گئے، تو اس کے بعد ان میں سے کوئی انا سے ملنے بھی نہیں گیا۔ دراصل، وہ انا کو گاندھی کے نام پر عام آدمی پارٹی کے حق میں کھڑا کرنے کی مایوس کن افراد کی ایک ناکام کوشش تھی۔ انا انڈین ایکسپریس کے ایک پروگرام میں گئے اور وہاں انہوں نے صاف کہا کہ دہلی کی حکومت ان کی امیدوں کے مطابق ٹھیک نہیں چل رہی ہے اور انہیں ناٹک میں بہت زیادہ یقین نہیں ہے۔ وہاں انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی ہیں، جو کوئی ناٹک نہیں کرتیں اور پچھلے تیس چالیس سالوں سے سادگی کی زندگی جی رہے ہیں۔ گاندھی پیس فاؤنڈیشن اور انڈین ایکسپریس میں دی گئی انا کی تقریر نے اروِند کجریوال کو چونکا دیا۔
اروِند کجریوال اکیلے انا کے پاس مہاراشٹر سدن گئے اور وہاں پر انہوں نے انا سے کہا کہ انا، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، لوگوں نے آپ کو بہکا دیا ہے۔ انا ان کی بات سنتے رہے۔ صرف دو لوگ اس میٹنگ میں تھے، ایک خود انا ہزارے اور دوسرے اروِند کجریوال۔ اروِند 20 منٹ بعد چلے گئے۔ اروِند کجریوال پھر اگلے دن انا سے ملنے آئے اور اس بار ان کے ساتھ ان کی ٹیم کے سارے دانشور ممبران تھے۔ بند کمرے میں اروِند کجریوال کی ٹیم اور انا ہزارے کے درمیان بات چیت ہوئی۔ وہاں سے نکل کر اروِند کجریوال اور ان کے ساتھیوں نے یہ اشارہ دیا کہ اب انا خود ان کے حق میں بیان دیں گے اور انہیں حمایت دیں گے۔ انا نے دہلی میں کچھ نہیں کہا، لیکن دہلی سے نکل کر وہ پونہ گئے اور پونہ میں انہوں نے اروِند کجریوال کے حق میں صرف اتنا کہا کہ جیسا اروِند کجریوال نے انہیں بتایا ہے، اگر ویسا ہی لوک پال بل وہ لا رہے ہیں، تو اچھا ہے۔ وہاں انہوں نے ممتا بنرجی کے حق میں انٹرویو دیا، جس کا ذکر میں شروع میں کر چکا ہوں۔
11 تاریخ کو انا نے تمام صورتِ حال کا نئے سرے سے جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر اروِند کجریوال ان کی اقتصادی پالیسیوں کی تحریری حمایت کرتے ہیں اور عوام کے نام ایک حلف نامہ دیتے ہیں، تو وہ اروِند کجریوال کو ایک اور موقع دیں گے۔ حالانکہ، اروِند کجریوال کے ساتھیوں اور ان کی سوشل میڈیا کے اوپر حملہ کرنے والی ٹیم نے انا کو جن القاب سے نوازا ہے، انہیں دیکھ کر انا کو اروِند کجریوال کا یہی فرق ہے۔ انا ہزارے کا ماننا ہے کہ ملک کے لیے کڑوا گھونٹ پینا یا بے عزتی برداشت کر جانا بہتر ہے۔ آج بھی ان کے من میں اروِند کجریوال کو لے کر امید کی کرن ہے، لیکن اروِند اور ان کے ساتھیوں کے من میں انا کو لے کر کیا جذبہ ہے یا کیا حکمت عملی ہے، اس بارے میں یقینی طور سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ 11 تاریخ کو ہی انا کے پاس یہ خبر آئی کہ 13 تاریخ کو ممتا بنرجی اپنے دو ممبرانِ پارلیمنٹ ان کے پاس بھیجنا چاہتی ہیں۔ 13 فروری کو انا کے پاس ترنمول کانگریس کے واحد جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن کے ڈی سنگھ رالے گن سدھی پہنچے۔ انہوں نے انا کا ممتا جی کے ذریعے دی گئی شال سے استقبال کیا اور انا سے سیاسی صورتِ حال پر بات چیت شروع کی۔
اسی درمیان ممتا بنرجی کا فون انا کے لیے آیا اور انہوں نے انا سے 18 تاریخ کو دہلی میں ملنے کے لیے درخواست کی۔ انا نے اس درخواست کو قبول کر لیا۔ مکل رائے نے بنگال کے بارے میں، ممتا بنرجی کی زندگی کے بارے میں جتنی زیادہ جانکاری ہو سکتی تھی، وہ انا کو دی۔ انا نے ان سے کہا کہ میں 18 تاریخ کو دہلی میں ممتا بنرجی سے ملوں گا اور 19 تاریخ کو پریس کانفرنس بھی کروں گا۔ باہر نکل کر انا نے انتظار کر رہے میڈیا سے کہا کہ میں ممتا بنرجی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے لائق مانتا ہوں اور میں انہیں وزیر اعظم بنانے کے لیے کیمپین کروں گا۔ اتنا ہی نہیں، میں ترنمول کے حق میں پرچار کروں گا اور لوگوں سے ووٹ دینے کے لیے کہوں گا۔ یہ انا کا اپنا فیصلہ تھا۔ انا نے یہ فیصلہ ہندوستانی کی تمام سیاسی پارٹیوں کے کردار کو دیکھ کر لیا تھا۔ انہیں صرف ممتا بنرجی میں وہ آگ دکھائی دی، جو ہندوستان کی اقتصادی پالیسی کو بدلنے کے لیے توانائی پیدا کر سکتی ہے۔ انہیں ممتا بنرجی میں لال بہادر شاستری جیسی سادگی نظر آئی، جو ملک میں امریکہ کے خلاف پی ایل 480 گیہوں کے واقعہ جیسا جوش بھر سکتی ہے۔ انا نے بغیر کسی جھجک کے کہا کہ میں اس الیکشن میں ممتا بنرجی کے حق میں پرچار کروں گا اور انہیں وزیر اعظم بھی بناؤں گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اروِند کجریوال کے پاس ابھی بھی وقت ہے، اگر وہ چاہیں، تو ساتھ آ سکتے ہیں، ورنہ میں صرف اور صرف ممتا بنرجی کے لیے ملک کے لوگوں سے الیکشن میں جیت دلانے کی اپیل کروں گا۔
یہ سارا واقعہ کم از کم ایک بات بتاتا ہے کہ انا ہزارے کے من میں اس ملک کو بدلنے کی خواہش انہیں اخیر میں ایک ایسے سیاست داں کے پاس لے کر آئی، جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ ہمارے ملک کے لوگ ویسے بھی دہلی اور آس پاس کی ریاستوں کے علاوہ، کہیں کے بارے میں نہیں جانتے، کسی کے بارے میں نہیں جانتے۔ جیسے ہی انا کو ممتا بنرجی کی زندگی، ان کے اصولوں اور ان کے ذریعے اٹھائے گئے قدموں کے بارے میں پتہ چلا، انہوں نے فیصلہ لینے میں ایک لمحہ کی دیری نہیں کی۔ ممتا بنرجی کی حمایت انا کے ذریعے ہونا، اس ملک میں کئی سیاسی پارٹیوں کے لیے پریشانی پیدا کر سکتا ہے اور سیاسی پارٹیاں اسے لے کر بہت فکر مند بھی ہیں، لیکن عوام اس چیز کو لے کر خوش ہیں۔ ممتا بنرجی نے انا ہزارے سے کہا ہے کہ بنگال کے باہر آپ جنہیں کہیں گے، انہیں وہ ٹکٹ دیں گی۔ جنہیں انا امیدوار بنانا چاہیں، انہیں ممتا بنرجی انا کا امیدوار مان کر ترنمول کی زمین دے دیں گی۔ انا ہزارے آزاد امیدوار بھی کھڑے کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ جو ممتا بنرجی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنا چاہیں، ان کا تو وہ پرچار کریں گے ہی۔ حالانکہ انا کے من میں ایک شک ہے کہ آزاد امیدوار اپنے انتخابی نشان کے بارے میں لوگوں کو اتنی جلدی کیسے بتا پائیں گے۔ لیکن، انا اس الیکشن میں لوک سبھا کو بدلنے کے سبھی ممکنہ طریقوں کو اپنا نا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ، انا اس مسئلے میں بالکل صاف ہیں کہ امیدوار کو ایک حلف نامہ دینا ہوگا، لوگوں کے لیے کام کرنے کا حلف لینا ہوگا، استعفیٰ دینے کا حلف نامہ میں ذکر کرنا ہوگا، اگر وہ کام نہیں کر پایا اور 17 مدعوں کے لیے اسے پارلیمنٹ میں لڑنا ہوگا۔
لوگ یہ یقین کر رہے ہیں کہ اگلی وزیر اعظم کے روپ میں ممتا بنرجی سب کے لیے قابل قبول نام ہو سکتا ہے۔ تقسیم کی لائن صاف دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت وہ ساری پارٹیاں ہیں، جو نیو لبرل اقتصادی نظام کی حمایت کر رہی ہیں اور جو کسان، گاؤں، جل، جنگل، زمین کے خلاف کھڑی ہیں اور انہیں ہڑپنا چاہتی ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں، جو موجودہ اقتصادی نظام کے خلاف ہیں، نیا اقتصادی نظام لانا چاہتے ہیں، جہاں کسان، مزدور، غریب، گاؤں کی زمین کوئی چھین نہ سکے، گرام سبھا کی مقننہ کو طاقت ملے۔ جو پارلیمنٹ کو ملک میں اختیارات حاصل ہیں، گاؤں میں گرام سبھا کو وہی اختیارات ملنے چاہئیں۔ ایسی طاقتوں کے درمیان اس بار جو لڑائی ہوگی، اس میں فیصلہ عوام کریں گے۔ ممتا بنرجی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہے عوام کو اقتصادی مدعوں کی جانکاری دینا اور انا ہزارے کی ہدایتوں کو جی جان سے نہ صرف ماننا، بلکہ انہیں نافذ کرنے کا یقین عوام کو دلانا۔ جہاں ایک طرف چنوتی ہے، وہیں دوسری طرف یہ بے انتہا امکان بھی ہے۔ لیکن سب سے بڑی حیرانی ایک اور ہے، جو ہمیشہ حیرانی ہی رہے گی۔ آخر اتنا بڑا سیاسی فیصلہ ہوا کیسے! کس نے محرک کا کام کیا، کس نے سوالوں کو موقع بنایا اور کس نے مودی اور راہل گاندھی کے سامنے ایک نئی چنوتی پیدا کی؟ یہ راز اس لیے ہمیشہ راز رہے گا، کیوں کہ نہ انا ہزارے اسے بتائیں گے اور نہ ہی ممتا بنرجی اسے بتائیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *