ہندوستانی مسلمان اپنی زمین کھو رہے ہیں

ڈاکٹر قمر تبریز

ہندوستانی مسلمان غریب ہے، بے روزگار ہے، ناخواندہ ہے اور سب سے خطرناک صورتِ حال یہ پیدا ہوتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے ان کی زمینیں بھی تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اپنی بہن، بیٹیوں کی شادی کرنے کے لیے مسلمان ہر سال اپنی زمین کا کوئی نہ کوئی حصہ بیچتا جا رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے ذریعے اپنی زمین بیچنے کی یہی حالت رہی، تو آنے والے 20-25 برسوں میں کسی بھی مسلمان کے پاس اپنی زمین نہیں بچے گی اور جب زمین ہی نہیں بچے گی، تو وہ خود کو اس ملک کا شہری کیسے ثابت کرے گا؟ آئیے اس رپورٹ میں دیکھتے ہیں کہ بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے مسلمانوں کی صورتِ حال کیا ہے……

p-5خود کو کسی بھی ملک کا شہری ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس اپنا مکان ہو، کھیتی باڑی کے لیے زمین ہو، راشن کارڈ ہو۔ لیکن اگر آپ کے پاس اپنی زمین ہی نہیں ہوگی، تو آپ خود کو کسی ملک کا شہری کیسے ثابت کریں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس پر ہندوستانی مسلمانوں کے کسی بھی نام نہاد لیڈر کی نظر نہیں پڑ رہی ہے۔ مسلمان شادی بیاہ کے لیے اپنی زمینیں تیزی سے فروخت کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، تو ایک وقت ایسا آئے گا، جب ان کے پاس ایک گز زمین بھی نہیں بچے گی۔ یہ واقعی میں ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمان کیسے اپنی زمینیں فروخت کر رہے ہیں …
بہار کے مسلمانوں کی حالت
بہار میں مسلمانوں کی کل تعداد ریاست کی کل آبادی کا 16.9 فیصد ہے، جب کہ پورے ملک کے مسلمانوں کی آبادی میں سے 9.9 فیصد مسلمان بہار میں رہتے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق، بہار کے ان مسلمانوں میں 80-90 فیصد مسلمان ایسے ہیں، جنہوں نے ہندو نچلی ذات سے اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام مذہب قبول کیا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی سماجی سطح پر ان کی حیثیت نچلی ذات کی ہی ہے اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی 28 ذاتیں ایسی ہیں، جنہیں مرکز کی او بی سی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ابدال، بھٹیارا، چک، چوری ہارا، دفلانگے، دفالی، دھنیا، فقیر، گاڑی ہار، دھوبی، نائی یا سلامی، قسار، درزی یا ادریسی، جولاہا یا مومن، قصائی، لال بیگی یا بھنگی یا مہتر، مداری، مریا سین، میر شکار، مکرو، نل بند، نٹ، پمریا، رنگریز، راعین یا کنجڑا، سعی اور ٹھکرائی۔ ایشین ڈیولپمنٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (اے ڈی آر آئی، پٹنہ) کی رپورٹ کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی 43 ذاتیں بستی ہیں۔ ان ذاتوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے اور عام طور پر یہ لوگ چھوٹی موٹی مزدوری کرتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہار کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر مسلمانوں کے پاس اپنی زمینیں نہیں ہیں اور اگر کسی مسلمان کے پاس زمین ہے بھی، تو وہ بہت چھوٹی ہے۔ بہار کے دیہی علاقوں کے صرف 35.9 فیصد مسلمانوں کے پاس کھیتی کے لیے اپنی زمین ہے، جب کہ اس کے مقابلے دوسرے فرقہ کے لوگوں کے پاس 58 فیصد زمینیں ہیں۔ اس کے علاوہ بہار کے دیہی علاقوں میں جن مسلمانوں کے پاس 2 ایکڑ سے زیادہ زمینیں ہیں، ان کی تعداد صرف 8.2 فیصد ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے یہ مسلمان دوسرے کے کھیتوں پر مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ اس سے ان کی مالی حیثیت کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق، بہار کے دیہی علاقوں کے مسلم مزدوروں میں سے 28.4 فیصد ایسے ہیں، جن کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے اور 19.9 فیصد بہاری مسلم حد سے زیادہ غریب ہیں۔ بہار میں دیہی علاقوں کے 49.5 فیصد اور شہری علاقوں کے 44.8 فیصد مسلمان خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اسی طرح بہار میں دیہی علاقوں کے 41.5 فیصد اور شہری علاقوں کے 24.9 فیصد مسلم گھرانے قرض کے بوجھ سے لدے ہوئے ہیں۔ سرکاری اندیکھی کا یہ عالم ہے کہ مائناریٹی فائنانس کارپوریشن اسکیم، جسے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے شروع کیا گیا تھا، بہار میں عملی طور پر اس کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے، البتہ انٹیگریٹیڈ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام (آئی آر ڈی پی) دیہی بہار کے صرف 5.3 فیصد مسلم گھروں تک ہی پہنچ پائی ہے۔
اگر سچر کمیٹی کی تحقیقات پر غور کریں، تو بہار میں 2006 میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیڑی بنانے والے افراد کی تعداد 2 لاکھ تھی، جن میں سے 70 فیصد مسلمان تھے۔ حالانکہ بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہار میں بیڑی بنانے والوں کی صحیح تعداد 7 لاکھ کے آس پاس ہے۔
بھاگلپور کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں، تو 1980 کی دہائی میں یہاں پر تقریباً 20 ہزار پاور لومس اور 40 ہزار ہینڈ لومس تھے، جن میں سے زیادہ تر پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ بعد کے دنوں میں ایسا ہوا کہ بہار سرکار نے بھاگلپور کے بنکروں کو بغیر کسی رکاوٹ کے چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا، لیکن وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ دوسری طرف بجلی کمپنیوں نے اعلان کر دیا کہ بجلی تبھی ملے گی، جب بنکر اس کی قیمت ادا کریں گے۔ ظاہر ہے کہ غریب مسلم بنکروں کے پاس بجلی کی قیمت ادا کرنے کے لیے پیسہ نہیں تھا، لہٰذا انہوں نے اپنے لومس بیچنے شروع کر دیے۔ اسی طرح سرکار نے ان بنکروں کو دھاگے فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا، جسے وہ پورا نہیں کر سکی۔ آخرکار ان بنکروں کو وہاں کی ہندو مارواڑی (بنیا) برادری سے دھاگے خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان مارواڑیوں نے ایک شرط یہ رکھ دی کہ مسلم بنکروں کو وہ دھاگے تبھی دیں گے، جب وہ تیار مال ان مارواڑیوں کے ہاتھوں ہی فروخت کریں گے اور وہ بھی ان ہی کے ذریعے طے کی گئی قیمت پر۔ اس طرح دھیرے دھیرے بھاگلپور کی یہ پوری صنعت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ہندو مارواڑی برادری کے ہاتھوں میں چلی گئی۔اس کے علاوہ 1989 کے بھاگلپور فسادات نے بھی یہاں کے مسلمانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا اور وہ ملک کے دوسرے حصوں میں جاکر مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے۔
مدھیہ پردیش
بندیل کھنڈ، مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع کا ایک گاؤں ہے راحت گڑھ۔ یہاں پر مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے۔ یہاں کے زیادہ تر مسلمان بیڑی بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان میں سے کسی کے بھی پاس اپنی زمین نہیں ہے۔ اس گاؤں میں کل 15 وارڈ ہیں، جن میں سے 5 وارڈوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ المیہ یہ ہے کہ گاؤں کے دیگر وارڈوں کے مقابلے مسلم وارڈوں میں نہ تو اچھی سڑک ہے، نہ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے، نہ بجلی ہے اور نہ ہی صفائی کا کوئی معقول انتظام ہے۔ چونکہ پینے کے صاف پانی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے، اس لیے یہاں کے مسلمان کنویں کا گندا پانی نکال کر اسے پینے پر مجبور ہیں۔ ان مسلمانوں کے زیادہ تر گھر کچے ہیں اور مٹی سے بنی ہوئی جھونپڑیاں ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر مسلمان ٹیوبر کلوسس اور سانس سے متعلق دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اس گاؤں کے 90 فیصد مسلمان قریشی برادری کے ہیں، جب کہ باقی پٹھان ہیں۔ چونکہ اس گاؤں کے مسلمانوں میں تعلیم کی کمی ہے، اس لیے یہاں کے کسی بھی مسلمان کو اب تک کوئی سرکاری نوکری نہیں مل سکی ہے۔ زیادہ تر مسلمان، چاہے وہ بڑے ہوں یا بچے، 6 گھنٹے روزانہ کام کرنے کے بعد اجرت کے طور پر 15-20 روپے کما لیتے ہیں، جس سے ان کی پوری فیملی کا پیٹ بھی نہیں بھر پاتا۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے ودیشہ ضلع کا ایک گاؤں ہے سیہورا، جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس گاؤں میں بے روزگاری کی شرح تشویش ناک صورت حال اختیار کر چکی ہے۔ گاؤں کے زیادہ تر مسلمان جھاڑو بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں، لیکن ایک جھاڑو بنانے کے بدلے انہیں صرف ایک روپیہ ملتا ہے اور ہر دن وہ اوسطاً صرف 15 روپے ہی کما پاتے ہیں، جب کہ بچولیے ان جھاڑوؤں کو شہروں میں آٹھ گنی زیادہ قیمت پر بیچتے ہیں۔ اس گاؤں میں ایک بھی سرکاری اسپتال نہیں ہے، جب کہ یہاں کے زیادہ تر مسلمان استھما، ٹیوبر کلوسس اور اس جیسی دیگر سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔اس گاؤں کے 90 فیصد سے زیادہ مسلمانوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے۔ گاؤں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں انہیں سال کے صرف تین یا چار مہینے ہی مزدوری کرنے کا موقع ملتا ہے، باقی 8-9 مہینے اپنی روزی روٹی کا انتظام کرنے کے لیے انہیں ریاست کے باہر جاکر مزدوری کا کام ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ گاؤں کی پنچایت میں 20 اراکین ہیں، جن میں سے 13 مسلمان ہیں، لیکن پنچایت نے گاؤں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے کوئی بڑا قدم ابھی تک نہیں اٹھایا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کی شکایت ہے کہ یہاں کی خاتون سرپنچ بھوپال میں رہتی ہے اور منتخب ہونے کے بعد اس نے گاؤں کا رخ ابھی تک نہیں کیا ہے۔ غریب مسلم خاندانوں کا ابھی تک بی پی ایل کارڈ تک نہیں بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ سرکاری امداد لینے سے بھی محروم ہیں۔
تقریباً ایسا ہی کچھ حال مدھیہ پردیش کے رائے سین ضلع کے گوہر گنج گاؤں کا بھی ہے، جہاں پر مسلمانوں کی آبادی 40 فیصد ہے۔ گاؤں کی پنچایت کے 20 ممبران میں سے 11 مسلمان ہیں، پھر بھی مسلمان پچھڑے پن اور محرومی کا شکار ہیں۔ یہ گاؤں ریاست کی راجدھانی بھوپال سے زیادہ دور نہیں ہے، لیکن اس گاؤں میں اب بھی بنیادی سہولیات کی بے حد کمی ہے۔ گاؤں میں ایک سرکاری اسپتال تو ہے، لیکن اس اسپتال میں نہ تو کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی نرس۔ پورے گاؤں میں ابھی تک بجلی بھی نہیں پہنچی ہے۔ پینے کے پانی کا بھی اس گاؤں میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ گاؤں کی عورتوں کو پینے کا پانی لانے کے لیے روزانہ دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ گاؤں میں سرکاری اسکول ہے، جس میں حالیہ برسوں میں لڑکیوں نے بھی داخلہ لینا شروع کیا ہے، لیکن چونکہ لڑکیوں کے لیے الگ سے کوئی ہائی اسکول نہیں ہے، اس لیے دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ مسلم لڑکیوں کے والدین بھی آٹھویں کلاس کے بعد اپنی بچیوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔ مسلم لڑکے بھی آگے کی تعلیم اس لیے جاری نہیں رکھ پاتے، کیوں کہ ان کے گھروں میں غربت بہت زیادہ ہے اور کم عمر میں ہی ان کے اوپر اپنا گھر چلانے کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔ یہاں کے 90 فیصد مسلمانوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے، اسی لیے وہ ہندو بھائیوں کے کھیتوں پر کام کرکے یا پھر ان کے ٹیمپو چلا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ یہاں کے بعض مسلمانوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ پڑوس کے قصبہ میں ہندو صنعت کار سیاسی اسباب کی بناپر مسلمانوں کو اپنے یہاں نوکری نہیں دیتے ہیں۔
راجستھان
راجستھان کے الور، بھرت پور، ٹونک، جیسلمیر، باڑمیر اور جودھپور ضلعوں میں مسلمانوں کی نمایاں آبادی رہتی ہے۔ ریاست کے باقی ضلعوں میں مسلمان بکھری ہوئی اقلیتوں کے طور پر آباد ہیں۔ راجستھان کے ہر 10 میں سے ایک آدمی مسلمان ہے۔ یہاں پر مسلمانوں کی تعداد 9 فیصد ہے، لیکن سرکاری شعبوں میں ان کی نمائندگی شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔ پولس محکمہ پر ہی نظر ڈالیں، تو راجستھان میں انڈین پولس سروِس کے 112 عہدوں میں سے صرف 2 عہدوں (1.26%) پر مسلم فائز ہیں، راجستھان پبلک سروِس کے 489 افسران میں سے صرف 17 افسر (2.88%) مسلم ہیں، 778 پولس انسپکٹرس میں سے صرف 40 مسلمان ہیں (4.42%)، 2815 سب انسپکٹرس میں سے صرف 126 مسلم ہیں (3.71%)، 3188 اسسٹنٹ سب انسپکٹرس میں سے صرف 199 مسلم ہیں (5.06%)، 8363 ہیڈ کانسٹیبل میں سے صرف 417 مسلم ہیں (4.68%)، 47531 کانسٹیبل میں سے صرف 1880 مسلم کانسٹیبل (3.55%) ہیں، یعنی پولس سروِس کے 63276 عہدوں میں سے صرف 2681 پر ہی مسلمان فائز ہیں۔سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی حد درجہ کم نمائندگی کی وجہ وہاں کے مسلمان سرکاری محکموں اور ایجنسیوں کے ذریعے اپنے ساتھ ہونے والے تعصب کو بتاتے ہیں۔
راجستھان کے کوٹہ قصبہ کے وارڈ نمبر 58 کی چٹ پورہ بستی کی آبادی تقریباً 12 ہزار ہے۔ اس بستی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ سرکاری اندیکھی کا یہ حال ہے کہ یہاں پر صرف ایک سرکاری اسکول ہے، جو کہ صرف پرائمری لیول تک ہے۔ اسکول کی حالت بے حد خستہ ہے، نہ تو وافر تعداد میں ٹیچر ہیں اور نہ ہی بچوں کے لیے کتابوں کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی بیٹھنے کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی صفائی کا کوئی معقول انتظام۔ یہ اسکول ملبے کے ڈھیر پر بنا ہوا ہے۔ جو سرکاری ٹیچر ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ بچے اس اسکول میں داخلہ لیں۔ مڈل اور سیکنڈری اسکول بستی سے کافی دور واقع ہیں، اس لیے مسلمان اپنی لڑکیوں کو آگے کی پڑھائی کے لیے وہاں بھیجنا پسند نہیں کرتے۔ اس بستی کا ایک بھی مسلمان سرکاری ملازم نہیں ہے۔ یہیں نہیں، یہاں کی میونسپلٹی میں بھی مسلمانوں کی طرف سے ایک بھی نمائندہ نہیں ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کو نہ تو ریاستی سرکار اور نہ ہی مرکزی سرکار کی طرف سے چلائی جا رہی اقلیتوں کی فلاحی اسکیموں کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔وہ نہیں جانتے کہ بیوہ پنشن، بڑھاپا پنشن، ورک فار فوڈ پروگرام، بی پی ایل کارڈ وغیرہ کس بلا کا نام ہے۔ دوسری طرف مرکزی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے سچر کمیٹی کی تمام سفارشات کو نافذ کر دیا ہے۔ راجستھان میں ابھی چند ماہ قبل تک تو کانگریس کی ہی حکومت تھی، پھر مرکز کی کانگریس قیادت والی سرکار کو راجستھان میں سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے میں کیا چیز رکاوٹ بن رہی تھی؟
اسی طرح کیتھون قصبہ کے شاہ پورہ چنڈیلیا میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے، لیکن یہاں پر نہ تو کوئی پرائیویٹ اسکول ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری اسکول۔ یہاں کے کسی بھی گھر میں بیت الخلا نہیں ہے۔ یہاں کے لوگوں کو سرکار کی طرف سے چلائی جارہی کسی بھی اسکیم کا پتہ نہیں ہے۔ یہاں کے عمر دراز لوگوں کو پنشن پانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں اور اس کے لیے بھی انہیں سرکاری افسروں کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ شاہ پورہ چنڈیلیا کے کسی بھی فرد کو آج تک او بی سی ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا ہے۔ وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام کا بھی یہاں کی اقلیتوں کو کوئی فائدہ نہیں ملا ہے۔ یہاں پر ایک سرکاری اسپتال تو ہے، لیکن زیادہ تر وقت ڈاکٹر موجود ہی نہیں ہوتے۔ یہی نہیں، اسپتال سے غریب مریضوں کو دوا بھی نہیں مل پاتی۔ اپنے مکان کے علاوہ راجستھان کی ان دونوں بستیوں کے زیادہ تر مسلمانوں کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *