کانگریس پھر مسلمانوں کو لبھانے کی کوشش میں

ڈاکٹر وسیم راشد
وگیان بھون کا پُر شکوہ ہال، پُر وقار تقریب، وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ، سونیا گاندھی، وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمٰن خان، جناب ینونگ ایرنگ ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور اور ڈاکٹر للت کے پوارسکریٹری برائے اقلیتی امور، سبھی پھولوں سے خوبصورت سجے اسٹیج پر موجود تھے اورموقع تھا نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے افتتاح کا۔ اس تقریب میں دہلی کے تقریباً سبھی اعلیٰ عہدوں پر فائز مسلمان اور اداروں کے مسلم سربراہ موجود تھے۔ وزیر اعظم کی تقریر ہو چکی تھی، منٹ ٹو منٹ پروگرام تھا۔ وزیر اعظم کسی روبوٹ کی طرح چلتے ہوئے آئے اور انگریزی میں تقریر کر کے چلے گئے۔ سنا تو یہ ہے کہ وزیر اعظم بہت اچھی اردو جانتے ہیں اور ان کا اسکرپٹ بھی اردو میں لکھا رہتا ہے، پھر وزیر اعظم کا انگریزی میں تقریر کرنا بڑا ہی عجیب لگا۔سونیا گاندھی نے ہندی میں تقریر کی۔ مسلمان تو ویسے بھی بڑے مرعوب سے بیٹھے تھے اور مرعوب کیوں نہ ہوتے، آج پہلی بار وزیر اعظم کو براہِ راست اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، ورنہ تو ٹی وی پر ہی دیکھنا ہوتا تھا۔ اس طلسماتی تقریب میں جب چاروں طرف خطرناک قسم کا سنّاٹا چھایا ہوا تھا، ایک شخص کی آواز گونجی ’’کہ وزیراعظم صاحب ہمیں مزید اسکیمیں نہیں چاہئیں اگر 15نکاتی پروگرام کو ہی سرکار لاگو کردے، تو وہی بہت ہے۔‘ ‘ ایسا لگا کہ جیسے سنّاٹے میں کسی نے بم دھماکہ کر دیا ہو۔ لوگ پیچھے مڑکر دیکھنے لگے اور منٹوں سیکنڈوں میں اس شخص کو منہ دباکر چاروں طرف سے باہر دھکیل کر لے جایا جانے لگا۔ میں نے بھی مڑ کر دیکھا کہ آخر یہ جیالا کون ہے؟ جانی پہچانی سی شکل تھی، فوراً پہچان گئی کہ ڈاکٹر فہیم بیگ ہیں۔ کئی پروگراموں میں ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ بس وہ لمحہ تھا اور جیسے تاریخ رقم ہوگئی۔ میڈیا نے فوراً کیمرے تان لیے اور فہیم بیگ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ مسلمانوں کے بڑے بڑے عہدیداران، لیڈران اور مسلمانوں کی بہتری کا دعویٰ کرنے والے اور مسلمانوں کے نام پر لاکھوں کروڑوں ہڑپ کرنے والے فہیم بیگ کو برا بھلا کہنے لگے کہ اس تقریب میں یہ موقع صحیح نہیں تھا۔ پر مجھے اندر ہی اندر بے حد خوشی ہورہی تھی ، یہ سوچ کر کہ آخر یہ کام کوئی جیالا ہی کر سکتا ہے۔ بُش کو جوتا مارنے والازیدی بھی ایسا ہی بہادر نوجوان تھا۔ ایک لمحہ کے ہزارویں حصہ میں مجھے فہیم بیگ اور منتظرالزیدی ایک ہی لگے۔ آخر اس قوم کو بے وقوف بنانے کا عمل جو الیکشن کے قریب آتے آتے شروع ہوگیا ہے، اس کا احتجاج کہیں سے تو شروع ہوا، کوئی تو اس نقّار خانے میں طوطی بن کر اپنی آواز بلند کرسکا، جبکہ کہتے ہیں کہ اس نقّار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے، مگر فہیم بیگ نے اسی نقّار خانے میں اپنی آواز سب کو سنائی۔
یو پی اے حکومت نے ان دس سالوں میں مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کتنا بڑا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچر کمیٹی کی 76میں سے 73سفارشات کو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ ہم نے اپنے اخبار میں اس جھوٹ کا پردہ فاش کیا ہے کہ ابھی تک 45سفارشات کو نافذ ہی نہیں کیا گیا ہے۔ نہ مسلمانوں کے لیے اسکول بنائے گئے، نہ ہی ان کو نوکریوں میں ریزرویشن دیا گیا، نہ مسلمانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے پیشہ وارانہ ٹریننگ دی گئی، نہ ہوسٹل بنے، نہ اردو بولنے والے حلقوں میں اردو میڈیم اسکول کھلے، نہ ہی مسلمانوں کے لیے جو اسکالر شپ کا پیسہ مختص ہوا تھا، اس کا صحیح استعمال ہوا۔ کون سننے والا ہے اس قوم کی۔ ہمارے لیڈر بک جاتے ہیں، کبھی کانگریس کے دروازے پر نظر آتے ہیں،کبھی بی جے پی کے اسٹیج پر نماز پڑھ کر اپنی حمایت اور وفاداری کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں، مگر غریب مسلمان کی کوئی نہیں سنتا۔ غضب خدا کا کوئی شخص 150خط وزیر اعظم کو لکھے اور اس کے بعد P.M.O. سے کسی ایک خط کا بھی جواب نہ ملے، تو پھر عام آدمی کہاں جائے؟ کیا ان کے درپر جائے گا جو خاموشی سے سر جھکا کر دل میں گالیاں اور منہ پر واہ واہ کرتے ہیں ایسے فریبی اور ڈھونگی خود غرض مسلمانوں سے کوئی غریب مسلمان کیا آس لگائے گا۔
ہمارے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ نہیں ملتا، ہمارے نوجوانوںکو روزگار نہیں ملتا، ہماری بہبود کے لیے جو پیسہ دیا جاتا ہے، وہ سب بیچ میں کھالیا جاتا ہے۔ نہ رنگا ناتھ مشرا کمیشن لاگو ہوا، نہ مسلمانوں کو ریزرویشن ملا، نہ ہی سچر کمیٹی کا نفاذ صحیح طرح سے عمل میں آیا۔ ایسے میں اب مسلمان کیا کریں، وہ تو شکر کیجئے کہ مسلمان سڑک پرنہیں اترے۔ پر وہ اپنے غصے کا اظہار اگر کسی پروگرام میں کرتے ہیں، تو ان کا منہ دبادینا غیر آئینی عمل ہے۔
اس وقت کانگریس کی جانب سے نئے نئے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔ اب خیال آیا ہے مسلمانوں کے لیے نیشنل وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن بنانے کا، جبکہ صرف 3 مہینے باقی ہیں الیکشن میں۔ مسلمانوں کی زمینوں پر بڑے بڑے مالز بنادیے گئے، ان کی زمینوں پر بڑے بڑے ہوٹل کھڑے کر دیے گئے، کوڑیوں کے بھاؤ ان کی زمینیں خریدی گئیں۔ اس وقف ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام یوں تو قابل ستائش ہے، مگر اس وقت کیوں؟ کشن گنج بہار میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کا قیام اس وقت کیوں؟ اس شاخ کے کھلنے سے ریاست اور ضلع کے عوام اورخاص کر مسلمانوں کو کتنا فائدہ پہنچے گا، اس کے بارے میں تو کوئی نہیں بتا سکتا، مگر اس شاخ کے کھلنے سے ووٹ بینک کی سیاست کو ضرور فائدہ ہوگا۔
12سلینڈر کا فیصلہ بھی ایک عام سوچ والے غریب انسان کے لیے نہیں کیا گیا، بلکہ وہ بھی ووٹ حاصل کرنے کا حربہ ہے۔ غریب کو آپ 2 وقت کی روٹی اور تن ڈھکنے کو کپڑا دیدو، تو وہ رات دن آپ کے گن گائے گا، لیکن وہ اس سیاست کو نہیں سمجھ پائے گا، جس میں آپ کو 2روٹی ڈال کر خرید لیا جاتا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو لے کر نئے نئے اشتہارات بنائے جارہے ہیں۔ حسیبہ امین نام کی ایک 18-19سال کی مسلم لڑکی کانگریس کے اشتہار میں اچھی لگتی ہے اور جب وہ یہ کہتی ہے کہ ’کٹّر سوچ نہیں یووا جوش‘تو اور بھی اچھی لگتی ہے، مگر اس سے پہلے تو مسلم لڑکیوں یا مسلم نوجوانوں کو لے کر کوئی اشتہار ٹی وی یا اخبار میں نہیں دیکھا۔ اب کیوں؟ یہ اتنے سوال ایک ساتھ اکٹھے ہوگئے ہیں کہ ان کا جواب یقیناً وقت ہی دے گا، مگر جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جارہے ہیں، کانگریس مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اب مسلمانوں کو سوچنا ہے کہ ان کو کیا کرنا ہے؟ نہ ان کے پاس کوئی پختہ لیڈر ہے، نہ ان کے پاس کوئی بہتر قائد ہے، نہ ان کے علماء ان کو راستہ دکھانے کے لیے ہیں، مگر ایک تبدیلی ضرور آئی ہے کہ اب مسلمان تھوڑے سے پڑھ لکھ گئے ہیں اورسیاست کے داؤں پیچ سمجھنے لگے ہیں۔ ایسے میں وہ خود ہی فیصلہ کریں گے کہ ان کو کس پارٹی کے ساتھ جانا ہے یا کسی انفرادی شخص کو ووٹ دینا ہے، مگر ایک بات ضرور ہے کہ 2006 میں اقلیتوں کی بہبود کے لیے جو وزیر اعظم کا 15نکاتی پروگرام شروع کیا گیا تھا، اس میں نہ ہی مسلمانوں کو حصہ داری ملی ہے، نہ ہی مسلمانوں کے لیے بہتر تعلیمی سہولیات مل پائی ہیں۔ مدرسوں میں اعلیٰ معیاری تعلیم بھی اس 15نکاتی پروگرام کا حصہ تھا، جو نہیں ہو پایا۔ ابھی بھی ہندوستان کے بڑے بڑے مدرسوں میں وہی فرسودہ طریقوں سے تعلیم دی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو نہ تو اسکالر شپ کے بارے میں کوئی معلوما ت فراہم کرائی جاتی ہیں، نہ ہی ان کو اس کا علم ہوپاتا ہے۔
اس وقت مسلمانوں کو لبھانے کے لیے کیسے کیسے طریقے اپنائے جارہے ہیں کہ دکھ ہوتا ہے، یہ سوچ کر کہ ہمیشہ ہمیں صرف ووٹ بینک ہی سمجھا گیا اور اب تو یہ جملہ ہی بے حد فرسودہ لگ رہا ہے مجھے، کیونکہ ایک اَن پڑھ مسلمان بھی سمجھ گیا ہے کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کا شکار ہے، مگر ان سب میں فہیم بیگ جیسا کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینک کر ایک انتشار سا پھیلا دیتا ہے۔ یہ جمود توڑنا ہی ہوگا، کیونکہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے، تب پھر بغاوت ہوتی ہے اور پھر یہ بغاوت تخت و تاج اچھال دیتی ہے۔ بڑے بڑوں کے پیروں سے زمین کھینچ لیتی ہے۔ اب بھی مسلمانوں کے لیے وہی وقت ہے ۔ اب اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیں سب کو ہی احتجاج بلند کرنا ہوگا۔ہم اپنے قلم سے یہ احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ فہیم نے اپنی آواز بلند کر کے کیا اور آپ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر کے یہ احتجاج درج کرائیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *