آخر پاکستانی لیڈران کا ملک سے باہر ہی علاج کیوں؟

p-8bکسی زمانے میں پرویز مشرف کا نعرہ ہوا کرتا تھا ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘ ۔لیکن اب حالات بدل چکے ہیں تو ان کے نعرے بھی بدل گئے۔ اب ان کانعرہ ہے ’’ سب سے پہلے اپنی جان‘‘۔ پرویز مشرف بیماری کے نام پر ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔اس طرح وہ اپنے خلاف غداری کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ وہ کب تک عدالت میں حاضر ہونے سے محفوظ رہتے ہیں یا وہ اپنی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن اتنا طے ہے کہ وہ غداری کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش ہونے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ہیں کیونکہ اس کی سزا انتہائی سخت یعنی سزائے موت یا عمر قید ہوسکتی ہے اور عقلمندی اسی میںہے کہ سب سے پہلے اپنی جان کی فکر کی جائے اس لئے ہر ممکن کی جارہی ہے کہ کسی طرح سے پاکستان کے قانونی شکنجے سے اپنی جان بچائی جائے اور اس کے لئے وہ بیرونی دوست ملکوں سے لے کر اپنی بیماری تک کا سہارا لے رہے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ انہیں علاج کے لیے پاکستان سے باہر جانے پر فی الوقت روک دیا گیا ہے۔
کچھ ہفتہ قبل سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل پاکستان آئے تھے۔ ان کے دورہ کے موقع ’چوتھی دنیا‘ نے اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ ان کا یہ دورہ پرویز مشرف کو نظربندی سے باہر نکالنے کی کوشش کے طور پر ہوسکتا ہے۔حالانکہ وزیر مذکور نے اس طرح کی کسی بھی کوشش سے انکار کیا تھا مگراب جو باتیں سامنے آرہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی وزیر کے دورے کے پیچھے کہیں نہ کہیں یہ مقصد چھپا ہوا تھا کہ وہ پرویز مشرف کو نواز شریف کی پکڑ سے باہر نکالنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ ابھی حال ہی میں پرویز مشرف نے جس طرح سے علاج کرانے کے لئے پاکستان سے باہر جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اب وہ پاکستانی عدالتوں کا سامنا کرنے سے کترارہے ہیں اور کسی دوست ملک میں سیاسی پناہ لینے کی کوشش میں ہیں۔
پاکستانی لیڈروں کی یہ پرانی روایت رہی ہے کہ جب بھی ان پر قانونی شکنجہ کسنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو علاج کے لئے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور اس وقت تک لوٹ کر نہیں آتے ہیں جب تک کہ حالات موافق نہ ہوجائیں۔ سابق صدر آصف زرداری 2011 میں دل کا علاج کرانے کے لئے دبئی گئے تھے اور تب یہ بات کہی گئی تھی کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے ہیں لیکن حالات ان کے حق میں ہوئے لہٰذا وہ واپس آگئے۔ اسی طرح آنجہانی بے نظیر بھٹو جنرل ضیاء کے دور میں کان کی تکلیف کے علاج کے لئے لندن روانہ ہوگئی تھیں اور پھر نواز شریف بھی دل کا علاج کرانے کے لئے لندن سیٹی میں داخل ہوئے تھے اور اب پرویز مشرف اپنا علاج کرانے کے لئے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ہوسکتا ہے وہ علاج کے مقصد سے ہی جارہے ہوں مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب پاکستان کے ڈاکٹر انہیں مناسب علاج فراہم کررہے ہیں اور ان کی حالت کو بھی بہتر بتا رہے ہیں تو پھر اچانک انہوں نے پاکستان میںاپنا چیک اپ کرانے سے منع کیوں کردیا۔پرویز مشرف نے اپنے ملک میں اینجیو گرافی کروانے سے انکار کردیا ہے اور علاج کیلئے بیرون ملک روانگی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ بقول اْن کے ملک میں قلب کے علاج اور معاون نظام، معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اگرچہ یہ رپورٹ سربہ مہر لفافہ میں پیش کی گئی تھی لیکن مختلف نیوز چینلز میں اس کا انکشاف ہوگیا۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخرپاکستان کے لیڈروں کے ہارٹ کی بیماریوں کا علاج پاکستان سے باہر ہی کیوں ہوتا ہے ۔بہر کیف اپنے پیشرو کی طرح اب پرویز مشرف کو بھی پاکستان کے معالجے پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ ملک سے باہر جاکر اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں۔حالانکہ انہیں پاکستان میں بھرپور سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
ان کے اس بیان کے بعدپاکستان کے دانشوروں میں یہ بات گردش کرنے لگی ہے کہ پرویز مشرف اور سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے بیچ کچھ نہ کچھ ایسی بات ضرور ہوئی تھی جس کو انجام دینے کے لئے مشرف ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔اس طرح کی باتوں کو تقویت ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب نواز شریف جیل میں بند تھے اور قوی امکان تھا کہ انہیں پھانسی یا سزائے عمر کی سزا ہوسکتی ہے تو ایسے وقت میں سعودی عرب نے مشرف سے بات چیت کرکے نواز شریف کو آزاد کرالیا تھا اور اب نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں تو پرویز مشرف کو آزاد کراکر ان کا احسان چکانا چاہتے ہیں۔
اس خیال کو سچ ہونے کے امکانات اس لئے بھی قوی نظر آرہے ہیں کہ سعود الفیصل کے پاکستان سے واپس جانے کے کچھ دنوں ہی’’ لاس انجلس ٹائمس‘‘ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ پرویز مشرف علاج کے لئے ملک سے باہر جاسکتے ہیں۔اخبار نے مزید لکھا تھا کہ اگر چہ پرویز مشرف نظر بندی کی زندگی سے چھٹکارا چاہتے ہیں مگر انہیں ملک سے باہر بھیجنے میں نواز شریف کے لئے بھی عافیت ہے۔اخبار نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا کہ اْن کی موجودگی شریف حکومت کے لئے سیاسی دردِ سر بنی ہوئی ہے، اور جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سرکردہ سابقہ فوجی افسر کو عدالت کے کٹہرے میں بھیجنے کی کوشش کرکے حکومت نے ملک کے طاقت ور فوج میں تناؤ پیدا کر دیا ہے، جو کسی سول عدالت میں اپنے سابق سربراہ کی کسی قسم کی سْبکی کا متحمل نہیں ہو سکتی۔دراصل مشرف پر مقدمہ چلائے جانے کا فوج کا ایک حصہ مخالف ہے جبکہ دوسرا حصہ قانون کی بالادستی کی حمایت میں ہے اور یہ حصہ چاہتا ہے کہ مقدمہ چلنا چاہئے ۔فوج کا دو نظریوں میں بٹنا ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اس لئے گمان غالب ہے کہ نواز شریف بھی یہی چاہتے ہوں کہ پرویز مشرف ملک سے باہر چلے جائیں تاکہ ان پر مقدمہ چلانے کی نوبت نہ آئے اور فوج دو حصوں میں بٹنے سے بچ جائے۔اب اگر مشرف علاج کے نام پر ملک سے باہر جاتے ہیں تو یہ پاکستانی لیڈروں کے پرانی روایت کے مطابق ہی ہوگا اور مشرف بھی کچھ دنوں تک یوروپ میں علاج کے لئے رکنے کے بعد اپنی بیگم کے پاس دبئی میں مقیم ہوجائیں اور پھر اس وقت تک پاکستان واپس نہ آئیں جب تک کہ حالات ان کے موافق نہ ہوجائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *