انیس سو چوراسی کی خوفناک یادیں

میگھناد دیسائی
لاکھ کوششوں کے باوجود سال 1984 کی یادیں بار بار ہمیں ڈرانے کے لیے واپس آ جاتی ہیں اور اب انگلینڈ میں بھی اس کی یادوں نے دستک دی ہے۔ گزشتہ ماہ کچھ دستاویز جاری کیے گئے تھے، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ جب جرنیل سنگھ بھنڈراں والا گولڈن ٹیمپل پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تب برطانوی حکومت نے ہندوستان کو فوجی مدد دینے کے لیے پوچھا تھا۔ یہ بات رکن پارلیمنٹ ولیم ہیگ نے ہاؤس آف کامنس میں کہی۔ اسے ہاؤس آف لارڈس میں بھی دوہرایا گیا۔ جس وقت یہ بات کہی گئی، اس وقت انچارج وزیر سعیدہ وارثی تھیں، جو پاکستانی نژاد شہری ہیں۔ جس وقت یہ بیان پڑھا گیا، میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس رپورٹ کو کیبنٹ سکریٹری سر جیریمی ہیوَرڈ کے ذریعے تیار کیا گیا تھا اور اس کے تیار ہونے کے چار ہفتوں کے اندر ہی اسے پیش بھی کر دیا گیا۔ اس بیان کے ساتھ ساتھ اُس خط کی کاپی بھی منسلک تھی، جو برطانوی حکومت نے حکومت ہند کو لکھی تھی۔ اس کے علاوہ اُس خط کی کاپی بھی تھی، جسے اس وقت کی ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے برطانیہ کی اس وقت کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کو لکھا تھا۔ اس میں سے ایک فائل کو روٹین ورک کے تحت 25 برسوں بعد تباہ کر دیا گیا، لیکن اس میں سے کچھ دستاویزوں کی فوٹو کاپی کر لی گئی تھی اور پیش کی گئی دستاویزیں وہی ہیں، جو بچ گئی تھیں۔ تباہ کی گئی فائل میں جو کچھ بھی اہم رہا ہوگا، اس کے بارے میں ہم کبھی بھی جان نہیں پائیں گے۔
اس ایک راز کے علاوہ جو خبر ملی ہے، وہ بھی کافی عجیب ہے، لیکن آدھی ادھوری ہے۔ خبر یہ تھی کہ 1984 میں انڈین انٹیلی جنس کو آرڈی نیٹر (کوئی نام نہیں بتایا گیا) نے ایکسپرٹ ایڈوائس کے لیے مدد مانگی تھی۔ اس بات پر اس وقت کے برطانوی ہائی کمشنر نے کہا تھا کہ یہ ہندوستان اور برطانیہ کے قریبی رشتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اندرا گاندھی نے اس تجویز کو قبول نہ کرنے کے بعد آپریشن کو مشکل بھی محسوس کیا تھا۔ یہ سارے بیانات اسی دستاویز میں سے لیے گئے ہیں، جو ہاؤس آف کامنس کے اراکین کو دیے گئے تھے اور انگلینڈ کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ وزیر اعظم اور خارجہ سکریٹری کے درمیان باہمی صلاح و مشورہ کے بعد ایک ملٹری ایڈوائزر ہندوستان بھیجا بھی گیا تھا۔ اسپیشل ایئر سروِس آفیسر (اس کا بھی نام نہیں بتایا گیا) کو فروری 1984 میں آٹھ دنوں کے لیے ہندوستان بھیجا گیا تھا۔ اس افسر کو اس بات کی پوری جانکاری تھی کہ ہندوستانی افواج کے پاس سخت طریقوں کے علاوہ انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے ضروری سوچ نہیں تھی۔
گولڈن ٹیمپل کی ابتدائی جانچ کرنے کے بعد اس افسر نے پایا کہ فوج کا استعمال سب سے اخیر میں کیا جانا چاہیے، جب ساری بات چیت اور ساری کوششیں ناکام ہو جائیں۔ مسئلہ کے جلد از جلد حل اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم کرنے کے لیے اس بات کی بھی صلاح دی گئی تھی کہ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جائے۔

1984 میں مارگریٹ تھیچر کے پرنسپل پرائیویٹ سکریٹری رہ چکے رابن بٹلر بھی اس دستاویز کو ہاؤس آف کامنس میں رکھے جانے کے وقت موجود تھے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تھیچر سے اس افسر کے دورہ کے بارے میں صلاح و مشورہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا تھا، اس پر تھیچر نے نگاہ بھی رکھی ہوئی تھی۔ اندرا گاندھی نے آپریشن بلیو اسٹار ہوجانے کے بعد تھیچر کو ایک خط لکھا تھا اور اس بات کی جانکاری دی تھی کہ اس دوران کیا کیا واقعہ پیش آیا؟ انہوں نے لکھا تھا کہ انتہا پسندوں کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ان سے نمٹنے کے لیے نیم فوجی دستوں کی تعداد کم تھی، اسی وجہ سے ہم نے وہاں فوج کو بھیجا تھا۔

اس کی اس صلاح کو ہندوستانی حکومت کے ذریعے نہیں مانا گیا۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس افسر کے پاس این ٹیبے آپریشن اور میونخ اولمپک کا تجربہ تھا، جہاں سے لوگوں کو نکالنا ایک نہایت مشکل کام تھا۔ ہندوستان میں جون ماہ تک حالات اور بھی زیادہ خراب ہو گئے اور آپریشن بلیو اسٹار کا فیصلہ لے لیا گیا تھا۔ خارجہ سکریٹری کے بیان کے مطابق، اس برطانوی افسر کے دورہ کے بعد ہندوستانی فوج نے اس آپریشن کی پوری ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی تھی اور آپریشن کا بنیادی نظریہ بھی بدل دیا گیا تھا۔
1984 میں مارگریٹ تھیچر کے پرنسپل پرائیویٹ سکریٹری رہ چکے رابن بٹلر بھی اس دستاویز کو ہاؤس آف کامنس میں رکھے جانے کے وقت موجود تھے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تھیچر سے اس افسر کے دورہ کے بارے میں صلاح و مشورہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا تھا، اس پر تھیچر نے نگاہ بھی رکھی ہوئی تھی۔ اندرا گاندھی نے آپریشن بلیو اسٹار ہوجانے کے بعد تھیچر کو ایک خط لکھا تھا اور اس بات کی جانکاری دی تھی کہ اس دوران کیا کیا واقعہ پیش آیا؟ انہوں نے لکھا تھا کہ انتہا پسندوں کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ ان سے نمٹنے کے لیے نیم فوجی دستوں کی تعداد کم تھی، اسی وجہ سے ہم نے وہاں فوج کو بھیجا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ این آر آئی سکھ برادری برطانوی حکومت سے اس معاملے پر اور جواب مانگتی رہے گی۔ واضح طور پر یہ لگتا ہے کہ اگر اس افسر کی بات مانی گئی ہوتی، تو یہ آپریشن اور چھوٹا ہوتا اور نقصان بھی کم ہوا ہوتا۔ لیکن ہندوستانی حکومت نے اس صلاح کو ماننے سے انکار کر دیا۔ جس نتیجہ پر میں پہنچا، اس کے مطابق تو ایسا ہی ہے کہ اس وقت حکومت کا یہ ماننا تھا کہ یہ ملک کا مسئلہ ہے اور اس سے ہندوستان کو اپنے ہی طریقے سے نمٹنا چاہیے۔ صلاح انہیں دی گئی، لیکن انہوں نے مانی نہیں۔ اندرا گاندھی نے اس بات کا نتیجہ نکال لیا تھا کہ ایک خود مختار ملک اپنے اتحاد و سالمیت پر کوئی بھی سوال برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اپنے فیصلہ کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی۔ جیسا کہ انہوں نے تھیچر کو بھی لکھا تھا کہ تمام قسم کے جرائم میں وہ سب سے خطرناک ہے، جو مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو۔ آج بھی اس سانحہ کی یادیں ملک کو ڈراتی رہتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *