تیرہ اور چودہ فروری ہندوستان کی تاریخ کے 2سیاہ دن

وسیم راشد
کیسا عجیب زمانہ آ گیا ہے جب ہر دن کو کسی نہ کسی جذبے کے نام کر دیا گیا ہے۔ 13ضروری ’ہگ ڈے‘ تھا اور شاید اس سے پہلے ’روز ڈے‘ تھا مگر ہندوستان کی تاریخ میں یہ ’ہگ ڈے‘ ایسی شرمناک داستان چھوڑ گیا ، جس نے جمہوریت کے وقار کی دھجیاں اڑا دیں اور 14فروری جو ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانا جاتا تھا اور جسے محبت کا دن کہا جاتا ہے، وہ دن دلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال کی بدولت محبت کے بجائے نفرت کی کہانی دکھا گیا اور ودھان سبھا کو ایک کشتی کا اکھاڑہ بنا گیا۔
کہانی کی شروعات کہاں سے ہو یقینا پارلیمنٹ سے ہی کرتے ہیں ، جہاں تلنگانہ حامیوں اور مخالفین کے درمیان ایسی مارپیٹ ہوئی کہ مائک توڑ ڈالے گئے، کمپیوٹر چکنا چور کر دئے گئے اور مرچوں کا اسپرے کیا گیا اور اسی طرح کئی اراکین پارلیمنٹ کی طبیعت خراب ہو گئی اور اس پورے ہنگامہ کے دوران ہی لوک سبھا میں تلنگانہ بل پیش کر دیا گیا۔ اس پورے حادثے پر کیا کہا جائے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اب تو بچہ بچہ پارلیمنٹ کا تماشہ بناتا ہے ، مذاق میں پارلیمنٹ میں جوتا چپلیں چلنے کی لوگ کہانیاں بناتے ہیں اور اس طرح ہندوستان کی سب سے پر وقار بلند پُر شکوہ عمارت مذاق کا حصہ بن گئی ہے۔ اس پورے واقعہ نے اور کچھ نہ کیا ہو مگر مسلمانوں کے دل میں ایک سوال ضرور پیدا ہو گیا کہ وہ بل جس کی اتنی مخالفت کی جا رہی ہے اس کو تو ایوان میں پیش کرنے کو یو پی اے حکومت نے اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیا ہے ۔ مگر جس بل کی مسلمان بار بار مانگ کر رہے ہیں انسداد فرقہ وارانہ بل۔ اس بل کو مانسون سیشن میں پیش ہونا تھا مگر نہ وہ اس میں پیش ہو سکا اور نہ ہی سرمائی اجلاس میں پیش ہوا۔ یہ تو ایک درد تھا جو ہمیں بار بار جھنجھوڑ رہا ہے اور احساس دلا رہا ہے کہ مسلمانوں کو صرف دھوکہ ہی ملا ہے کانگریس سے۔ جس طرح ایک طویل عرصے سے تلنگانہ کے لوگ الگ الگ صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح مسلمان بھی ایک عرصہ سے اس بل کی مانگ کر رہے ہیں، مگر ان کا مطالبہ ہمیشہ ہی نظر انداز کیا جاتا رہا۔ وہ ایک الگ کہانی ضرور ہے مگر اہم ہے۔اس وقت ہم جو بات کرنا چاہتے ہیں وہ 13 اور 14 فروری کے پارلیمنٹ کے ایوان اور دہلی اسمبلی کی بات کرنا چاہتے ہیں۔
دہلی اسمبلی میں کجریوال نے بھی 14فروری کو جو ہائی وولٹیج ڈرامہ کھیلا ۔ وہ نہایت شرمناک ہے۔ کجریوال کو معلوم تھا کہ جن لوک پال بل غیر آئینی ہے، جب لیفٹیننٹ گورنر نے یہ واضح کر دیا تھا کہ بل پہلے مرکزی حکومت سے پاس ہونا ہے اور ایل جی نے اسپیکر کو خط لکھ کر یہ واضح کر دیا تھا بل کو ٹیبل نہیں کیا جانا چاہئے اور کجریوال کو ایوان کے کسٹوڈین کی حیثیت سے اس پورے عمل کو جاننا چاہئے، مگر ایک زبردست ہنگامہ اور شور کے بیچ پہلے منیش سسودیا نے کیا کہ بل پیش ہو گیا مگر بعد میں پتہ چلا کہ بل کی حمایت میں صرف 27ایم ایل اے ہیں اور 42اس کی مخالفت میں ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ کجریوال خود چاہتے تھے کہ وہ استعفیٰ دے کر لوک سبھا کی تیاریوں میں لگ جائیں۔ کجریوال کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کوئی بھی حکومت آئین کی حدود سے باہر نہیں جا سکتی۔ وہ جانتے تھے کہ غیر آئینی کام ہو نہیں پائے گا اور وہ اس طرح اس ہڈی کو اگل کر آگے بڑھ جائیں گے ، ان کے سامنے بڑا الیکشن ہے بڑی کرسی ہے، ایسے میں وہ چیف منسٹر کی کرسی سے جلد سے جلد ہٹنا چاہتے تھے۔ دہلی اسمبلی کی کارروائی سے متعلق 1993کے قوانین کے مطابق ریاستی اسمبلی میں کوئی بل اس وقت تک پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کو مرکزی حکومت کی منظوری حاصل نہ ہو ۔دہلی حکومت اگر کوئی قانون پاس کرانا چاہتی ہے تو پہلے وہ مسودہ کو لیفٹیننٹ گورنر کے پاس بھیجے گی اور لیفٹیننٹ گورنر اس مسودہ کو مرکزی وزارت داخلہ کے پاس بھیجیں گے ، اس کے بعد وہ دہلی اسمبلی میں پیش کیا جا سکے گا۔ایسے میں جن لوگوں نے کجریوال کو بے پناہ تعاون دیا، سپورٹ کی، وہ بھی خلاف ہو گئے ہیں اور انہیں بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا مقصد نظام میں بہتری کرنا نہیں ہے یا وہ دلی کے عوام کو درپیش مزید مسائل سے کوئی غرض نہیں رکھتے بلکہ انہیں صرف یہ جتانا ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جن لوک پال کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا نعرہ کہ سوراج اور اقتدار عوام کے ہاتھ میں دینے کے لئے ہزار وزارت اعلیٰ کی کرسی قربان کر سکتا ہوں، یہ صرف ایک سیاسی شعبدہ بازی ہے تاکہ وہ لوک سبھا انتخابات میں کھل کر یہ دائوں کھیل سکیں اور عوام کو بتا سکیں کہ ان کو کانگریس اور بی جے پی نے کام نہیں کرنے دیا۔ مگر یہ سبھی جانتے ہیں کہ بڑے مقصد کے لئے چھوٹے چھوٹے مقاصد کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
کجریوال نے بھی وہی ترپ کا پتہ کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ انا ہزارے نے بھی کجریوال کے استعفیٰ پر کوئی خاص بیان نہیں دیا ہے مگر یہ ضرور کہا ہے کہ اس بل پر بحث نہ ہونا بدقسمتی ہے۔ ایک بات اور سمجھ میں نہیں آتی کہ اروند کجریوال کو استعفیٰ دینے کی اتنی جلدی کیا تھی اروند اس بل کو پہلے مرکزی حکومت کو بھیج سکتے تھے ، اس کو پاس کرنے کے لئے مرکز پر دبائو بنا سکتے تھے اور اگر مرکزی حکومت سے پاس نہ ہوتا تو استعفیٰ دے سکتے تھے۔ ایسا تماشہ سا بنا دیا ہے جمہوریت کو۔ جو آئین ہے ، جو قانون ہے وہ اگر کسی فیصلہ کی اجازت نہیں دیتا۔ اس پر زبردستی فیصلہ کرانا اور نہ ہونے کی صورت میں استعفیٰ دے دینا ، یہ ہٹ دھرمی ہے مگر اس میں بھی کجریوال کی یقینا چال ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ لوک سبھا الیکشن سر پر ہے دہلی کو بے یارو و مددگار چھوڑ دینا یہ ریاست میں انارکی پیدا ہونے کی صورت ہے۔ کجریوال اگر عوام کے ساتھ ایماندار ہیں تو انہیں دلی کے عوام سے ہمدردی رکھتے ہوئے قانونی اور آئینی صورت حال کے تحت ہی قدم اٹھانا چاہئے تھا۔
ابھی تو کجریوال نے جو وعدے دہلی کے عوام سے کیے تھے وہی پورے نہیں کیے۔اساتذہ دھرنے پر بیٹھے تھے۔ان کے لئے کمیٹی بنائی گئی تھی۔ دہلی ہوم گارڈ کے تقریباً4200 جوانوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔استعفیٰ والے دن وہ سبھی پورے دن فائل پر دستخط کرانے کے لئے بیٹھے رہے مگر شام کو مایوس ہوکر کجریوال کے گھر پر مظاہرہ کرنے گئے اور ان کا بھی یہی کہنا تھاکہ لوک پال بل بعد میں بھی پاس ہوسکتا تھا مگر 4200 نوجوانوں کے گھروں میں روزی روٹی کی گارنٹی کون لے گا؟
انا ہزارے نے بد عنوانی کی تحریک شروع کی جس کے نتیجے میں کجریوال کا جنم ہوا اور ایسا لگ رہا تھا کہ اب یہ ملک انقلاب کی جانب بڑھ رہا ہے اور شاید اس انقلاب سے عوام کو بد عنوانی سے راحت مل جائے گی۔ پانی اور سستی بجلی ملے گی،گیس کے دام کم ہوجائیں گے۔مگر کجریوال کی ہٹ دھرمی نے ایک بار پھر دلی کے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *