عام آدمی پارٹی عوامی توقعات کو پورا کرے گی، ایسی امید کرنا ہی بے معنی: اکھلیندر پرتاپ سنگھ

p-10ملکی جمہوریت میں عوام کی شراکت بڑھ رہی ہے، جن لوگوں نے عوام کو ورغلانے کا کام کیا، ان کا کردار اب شک و شبہات کے دائرے میں ہے۔عوام انہیں کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے باوجود کئی مسئلوں پر سیاسی جماعتیں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی غیر متوقع جیت کو کئی سیاسی پارٹیاں اور سماجی کارکن بدلائو کی سیاست بتا رہے ہیں، لیکن این جی او اور کارپوریٹ گھرانوں کو لوک پال قانون سے باہر رکھے جانے پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ان بنیادی سوالوں کا جواب ملک کی حکومت سے مانگنے کے لئے اور عام آدمی کو گمراہ کرنے والی طاقتوں کو بے نقاب کرنے کے لئے آل انڈیا پیپلز فرنٹ کے قومی کنوینر اکھلیندر پرتاپ سنگھ 7سے 16فروری تک جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھ رہے ہیں۔ لہٰذا، ان کے کیا مطالبات اور ان کا ایجنڈہ کیا ہے، یہ جاننے کے لئے انھوں نے ’چوتھی دنیا‘ کے نامہ نگار نیرج سنگھ سے تفصیلی گفتگو کی۔ پیش ہیں بات چیت کے اہم اقتباسات:

آپ کے مطالبات کیا ہیں اور ان مطالبات کے ذریعہ آپ کو کیا بدلائو نظر آ رہا ہے؟
دیکھئے ، ملک ایک بار پھر بدلائو کے حق میں ہے، لیکن کئی ایسے سوال ہیں، جن پر ہمیں اور لڑائیاں لڑنی ہیں۔ مثلاً،لوک پال قانون پاس ہو گیا ہے، لیکن کارپوریٹ گھرانوں کو لوک پال کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ کارپوریٹ گھرانوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو لوک پال قانون کے دائرے سے باہر رکھنا سمجھ سے باہر ہے۔ عام آدمی پارٹی سمیت وہ تمام لوگ، جو لوک پال کو ایک مرکزی مدعا بنا کر سیاست کر رہے ہیں، ان سے یہ جاننا چاہتاہوں کہ آخر اس بنیادی سوال پر انھوں نے خاموشی اختیار کیوں کر رکھی ہے؟ پارلیمنٹ میں خصوصاً راجیہ سبھا میں، جہاں صرف 19لوگوں نے کارپوریٹ گھرانوں کو لوک پال کے دائرے میں لانے کے لئے ووٹ دیا تھا۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ لوک پال کو ہی بنیاد بنا کر سیاست میں آئے تھے، و ہ اس معاملہ میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہے ہیں؟
سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کی یہ کوشش تھی کہ روزگار کا حق بنیادی حق بنے۔ اسے وہ پالیسی ڈائریکٹر عناصر سے نکال کر بنیادی حقوق کے زمرے میں لانا چاہتے تھے۔ میرے خیال سے کئی نئی اقتصادی پالیسیوں نے سماج کے جن تین زمروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، ان میں ایک زمرہ نوجوانوں کا ہے۔ منموہن سرکار کے موجودہ ترقیاتی ماڈل میں روزگار کو فروغ دینے کے امکانات صفر ہیں۔ اس بابت مخلوط حکومت خواہ جو بھی اعداد و شمار جاری رکے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں روزگار کا فقدان ہے۔ موجودہ معیشت میں روزگار کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ آخر یہ منموہن سرکار روزگار فراہم کرنے والی معیشت کی طرف توجہ کیوں نہیں دے رہی ہے؟ حکومت کو چاہئے کہ وہ روزگار فراہم کرنے والی معیشت کی تعمیر کرے ، کیونکہ جیسے ہی آپ روزگار سے جڑے سوالوں کو حل کریں گے، ویسے ہی زراعت کا بحران، چھوٹی صنعتوں کو درپیش چیلنج اور مینو فیکچرنگ انڈسٹری میں آنے والی گراوٹ کا بحران حل ہو جائے گا۔ اس لئے روزگار کو ہم نے اہم مدعا بنایا ہے۔
تیسرا سوال ہے نیشن بلڈنگ کا، کیونکہ ہمارے ملک میں جگہ جگہ گودھرا جیسے سانحہ ہو رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے لوگ پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہیں۔ اس لئے اقلیتوں کے تحفظ کا سوال ایک اہم سوال ہے۔ حکومت کو اس سمت میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ انسداد فرقہ وارانہ بل کو بھی اسی سیشن میں پاس کرانا چاہئے۔ عدالتنے جن لوگوں کو بے قصور قرار دیا ہے، ان کی بازآبادکاری کا بھی بندوبست ہونا چاہئے۔
ہمارا چوتھا سوال یہ ہے کہ کانٹریکٹ پر تعینات ملازمین کو مستقبل کرنے کا، جسے عام آدمی پارٹی نے بھی اٹھایا تھا۔ حالانکہ بدقسمتی سے وہ اس وعدے سے مکر رہی ہے۔ جو لوگ ٹھیکے (کانٹریکٹ) پر کام کر رہے ہیں، انہیں مستقل کیا جانا چاہئے۔ ٹھیکے پر کام کرنے والے مزدوروں کو اتنی آمدنی بھی نہیں ہے کہ وہ ٹھیک طرح سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ مہنگائی کا رونا رو کر حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں سکتی۔ لوگ زیادہ کھا رہے ہیں، اس لئے مہنگائی بڑھ رہی ہے، اس طرح کا بیان غریبوں کے ساتھ مذاق ہے۔ دراصل، سٹے بازی کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ حقوق انسانی کی گارنٹی بھی ایک اہم سوال ہے۔ چاہے شمال مشرق ہو یا کشمیر ہو یا پھر ملک کا کوئی بھی حصہ، ہر جگہ پر حقوق انسانی کا احترام ہونا چاہئے۔
آپ کے جوبھی مطالبات ہیں، ان کا ذکر عام آدمی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی کیا تھا، لیکن آپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وعدوں سے مکر رہی ہے۔ آخر آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے؟
عام آدمی پارٹی کو لے کر مجھے کبھی کوئی بھرم نہیں تھا، کیونکہ یہخاص طور پر این جی اوفارمیشن کی سیاست ہے، جس کا اہم مقصد ہی عوام کو سیاست سے دور رکھنا ہے۔ عام آدمی پارٹی کارپوریٹس کے مفاد کو ایک الگ طریقہ سے پیش کر رہی ہے۔دوسری سیاسی پارٹیوں سے بے شک ہمارے اختلافات ہیں، لیکن عام آدمی پارٹی توڈی پالیٹیسائز ماس کی نمائندگی کر تی ہے۔ عوامی تحریکوں میں عام آدمی پارٹی کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کی ایجنسی ہے، جن میں غیر ملکی طاقتوں، مثلاً، فورڈ فائونڈیشن کے مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا، وہ اپنے انتخابی منشور میں کیا کہتے ہیں، یہ معنی نہیں رکھتا۔
کیا یہ مان لینا چاہئے کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار غیر ملکی طاقتوں کے ذریعہ ہمارے اوپر تھوپی ہوئی حکومت ہے؟
مخلوط حکومت کی اقتصادی پالیسیاں، بی جے پی کے تئیں عدم اعتماد اور کمیونسٹ پارٹیوں کی کمزور ہوتی زمین کی وجہ سے موجودہ سیاست میں ایک خلاء پیدا ہوا ہے۔ اسی صورتحال کا فائدہ عام آدمی پارٹی کو دہلی اسمبلی انتخاب میں ہوا۔ عوامی ایشوز کی بات اٹھا کر عام آدمی پارٹی نے اپنی سیاست شروع کی۔تمام سیاسی جماعتیں عوام کو نظر انداز کر رہی ہیں، یہ جذبہ لوگوں کے ذہن میں تھا اور اسی بنیاد پر دہلی کے عوام نے انہیں ایک موقع دیا۔ حالانکہ، اب کجریوال حکومت کا اصلی روپ سامنے آنے لگا ہے۔ کئی جمہوری طاقتیں، جو عام آدمی پارٹی کو لے کر مغالطے میں تھیں، ان کی غلط فہمی بھی دھیرے دھیرے دور ہو رہی ہے۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس حکومت کا منشا غلط نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ ان کا طریقہ غلط ہو؟
دیکھئے آپ کا منشا کیا ہے، یہ سیاست میں اہم سوال نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ آپ کر کیا رہے ہیں؟ کھڑکی ایکسٹنشن معاملہ میں ’’آپ ‘‘ حکومت کا رویہ اور اس کا سیاسی سلوک مہذب سماج کے لئے داغ ہے۔ کچھ لوگ دلیل دے رہے ہیں کہ عام آدمی پارٹی انارکی پسند ہے، لیکن فاشسٹ نہیں ، جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ فاشزم کا جنم انارکی کے بطن سے ہی ہوتا ہے۔ہٹلر کے سیاسی عروج میں لمپین پرولیتیریت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے سرفہرست لیڈر اور ا س کے کارکن ہمارے رابطہ میں رہے ہیں۔ میں ان کی ذہنیت سے واقف ہوں۔ یہ پارٹی عوامی توقعات کو پورا کرے گی، ایسی امید کرنا ہی بے معنی ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ اس دور جدید میں جو این جی او کھڑے ہوئے، انھوں نے سب سے زیادہ حملہ آئیڈیالوجی پر کیا اور ایک بے حس آئیڈیالوجی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ مجھے حیرانی نہیں ہوتی جب اروند کجریوال یہ کہتے ہیں کہ کیا روٹی، کپڑا اور مکان سے جڑے سوالوں کو کوئی آئیڈیالوجی حل کر سکتی ہے۔ میرے خیال سے دنیا کا کوئی شخص بنا کسی آئیڈیا لوجی کے نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی آئیڈیالوجی عوام کے بنیادی سوالوں کو حل نہیں کر سکتی ، تو وہ کون سا سیاسی فلسفہ ہے، جو روٹی کپڑا اور مکان کے سوال کو حل کر سکتا ہے۔ عدم سیاست کی یہ آئیڈیالوجی ملک کے لیے مہلک ہے، جو لوگ فاشسٹ طاقتوں سے نمٹنے میں ان کا کردار دیکھ رہے ہیں، دراصل وہ غفلت کا شکار ہیں، کیونکہ اس سے تاناشاہی طاقتوں کو مزید تقویت ملے گی۔
عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ مفاد عامہ کی پالیسی کی رہبر ہے، وہیں آپ کا آل انڈیا پیپلز فرنٹ بھی مفاد عامہ کی بات کرتا ہے۔ آپ دونوں کی مفاد عامہ پر مبنی پالیسیوں میں کیا فرق ہے؟
ہماری سیاست کے محور میں کسان ہیں اور ان کے محور میں پیپلز نیشن معیشت ہے، جو لگاتارنیو لبرل معیشت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے آئین میں واضح طور پر کہا ہے کہ ہم کسی بھی غیر ملکی تعاون کے حمایتی نہیں ہیں۔اس لئے ہمارا اور ان کا کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی اسی زمرے میں کھڑی نظر آتی ہے، جس میں کانگریس، بی جے پی ، سماجوادی پارٹی، بی ایس پی نظر آتی ہے۔ ہم لوگ عام آدمی پارٹی مخالف مہم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس معاملہ میں میں اپنا موقف واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ اروند کجریوال سے میری تقریباً چار مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ ایسے ایشوز ہیں، جن پر کام کرنا بے حد ضروری ہے۔ایس پی شکلا حکومت ہند میں سکریٹری برائے مالیات تھے ، ان کی صدارت میں ہم نے نیشنل کیمپن کمیٹی تشکیل کی۔ میں اس کمیٹی کا نیشنل کیمپینر ہوں۔ ہم لوگوں نے اس سلسلہ میں اروند کو ایک خط بھی لکھا، جس میں اس کا ذکر بھی ہے۔ حالانکہ ،ہمارے خط کا ان لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زراعت کے مسئلے اور تحویل اراضی کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر بعد میں بات کریں گے۔
نریندر مودی کے ’’آئیڈیا آف انڈیا ‘‘ سے آپ کس حد تک اتفاق رکھتے ہیں؟
اس ملک میں نریندر مودی اور آر ایس ایس دونوں کی آئیڈیالوجی پہلے ہی خارج ہو چکی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، تو سال 1947میں جب پاکستان بن رہا تھا، اس وقت بھی ہندوستان ’’ہندو راشٹر‘‘ بن گیا ہوتا۔ ہندوتو کی اسی آئیڈیالوجی کو مودی اور آر ایس ایس الگ الگ طریقہ سے پیش کرتے ہیں۔ جی ڈی پی بڑھنا اور سڑکیں چوڑی ہونا ہی ترقی کی علامت نہیں ہیں۔ دراصل، یہ ترقی ورلڈ بینک کا ماڈل ہے۔ اس مبینہ ترقی میں عام آدمی کہاں ہے؟ نریندر مودی بھی میڈیا کی پیداوار ہیں۔ مودی ایک طرف 56انچ سینے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف آئی آئی ٹی کی بھی بات کرتے ہیں۔ ایسے میں آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ نریندر مودی کی سیاست جاگیردارانہ معاشرے کی بنیاد پر اور ان کی معیشت سٹّے بازی پر مبنی ہے۔
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ کے مطالبات مان لینے کے بعد تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟
دیکھئے جو موجودہ پالیسیاں ہیں، مثلاً ’منریگا‘ کی بات کریں، تو اس اسکیم کے نام پر 40ہزار کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ بھلا 40ہزار کروڑ روپے میں100دن کا روزگار یقینی ہو پائے گا، کچھ وقت پہلے حقوق جنگلات قانون بنا۔ صرف اتر پردیش میں97ہزار لوگوں نے دیہی کمیٹیوں کو اس حق کے لئے درخواست دے رکھی تھی۔ اسے اتر پردیش حکومت نے خارج کر دیا۔ ہم نے ہائی کورٹ میں اس سلسلہ میں عرضی دائر کی تھی۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت کے اس حکم کو خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ نئے سرے سے حقوق جنگلات کمیٹیوں کی تشکیل کی جائے۔ میرا ماننا ہے کہ اس ملک میں قانون بنتے وقت ہی اسے ناکارہ بنانے کی سازشیں شروع ہونے لگتی ہیں۔ ہمارے ملک میں جن سیاسی جماعتوں نے حکومت کی، وہ کافی شاطر رہی ہیں۔ ملک میں قانون کی پاسداری بے حد ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ سیاسی ڈھانچہ میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *