دہلی کے 123وقف املاک کی ملکیت کا متوقع فیصلہ: جمعیت علماء ہند کے مرکزی دفاتر خطرے میں؟

اے یو آصف 

دہلی میں ایک سو برس سے عام مسلمانوں کو 123 وقف املاک کی ملکیت کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ 1911 میں برطانوی حکومت نے اسے دیگر املاک کے ساتھ قومی راجدھانی بناتے وقت ایکوائر کر لیا تھا۔ اس دوران عدالتوں میں مقدمات کیے جاتے رہے۔ اس تعلق سے پہلے سید مظفر حسین برنی اور پھر میر نصراللہ کی سربراہی میں کمیٹیاں بنیں، جنہوں نے انہیں دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کی سفارش کی۔ پھر مرکزی حکومت نے اوائل 1984 میں اس تعلق سے فیصلہ بھی لے لیا، مگر اندر پرستھ ہندو مہا سبھا نے دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کرکے حکومت کے نوٹی فکیشن پر اسٹے لے لیا۔ پھر 2008 میں اسی ہائی کورٹ نے حکومت کو انہیں دہلی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کو کہا، مگر حکومت ٹال مٹول کرتی رہی۔ اب خبر ہے کہ حکومت اس تعلق سے حتمی فیصلہ کرنے کو سوچ رہی ہے۔ جن مسلم تنظیموں، اشخاص اور سرکاری اداروں کے استعمال میں یہ فی الوقت ہیں، ان میں سخت بے چینی اور پریشانی پائی جا رہی ہے۔ ان سب کا جائزہ لیتی پیش ہے یہ تفصیلی رپورٹ …

Mastابھی حال میں جب سے یہ خبر سامنے آئی کہ شہری ترقی وزارت دہلی میں موجود ایک سو برس پرانے 123 وقف املاک کے مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کے لیے عنقریب ہی فیصلہ کرنے جا رہی ہے، ان کا استعمال کر رہی مسلم و دیگر تنظیموں، اداروں اور شخصیات میں سخت بے چینی شروع ہو گئی ہے، جن میں کچھ معروف مسلم تنظیمیں اور ادارے بھی شامل ہیں۔ کچھ املاک تو حکومت کی تحویل میں ہیں۔ یہ وقف املاک دہلی میں آئی ٹی او چوک، کناٹ پلیس، صدر بازار اور نظام الدین جیسے اہم مقامات پر واقع ہیں۔ ان 123 وقف املاک میں آئی ٹی او پر مسجد عبدالنبی اور اس سے متعلق اراضی بھی ہے، جہاں اس وقت مسلمانوں کی معروف تنظیم جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑوں کے مرکزی دفاتر موجود ہیں۔ اس مسجد سے ملی ہوئی اراضی پر عالیشان عمارتیں بھی چند برسوں قبل تعمیر کی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ سارے کام دہلی پولس کے ہیڈ کوارٹرس کے قریب انجام دیے گئے۔ دریا گنج میں واقع بچوں کا گھر، خسرہ نمبر 89/48-49-50، مکان نمبر 5028-5029، وارڈ نمبر 11، جہاں سرکاری ادارہ دہلی وقف بورڈ کا دفتر قائم ہے، بھی انہی متنازع فیہ املاک میں سے ایک ہے۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن (اِروِن) ہاسپیٹل کے کچھ حصے بھی انہی املاک کے پلاٹ نمبر 9/1 پر موجود ہیں۔ متھرا روڈ پر ہی ساؤتھ اندر پرستھ میں قادیانیوں نے پلاٹ نمبر 68/1 پر اپنا قبرستان بنا رکھا ہے۔ غور طلب ہے کہ قادیانیوں کو مسلم ملت حضرت محمد کو نبی آخر الزماں نہیں ماننے کے سبب خارج از اسلام سمجھتی ہے۔

وقف کونسل آف انڈیا کے سابق سکریٹری ڈاکٹر محمد رضوان الحق نے ’چوتھی دنیا‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ دہلی وقف بورڈ 123 میں سے 118 ایسے املاک کی دیکھ بھال تو کر ہی رہا ہے، جن میں تمام کی نوعیت مذہبی ہے۔ لہٰذا ان کے مطابق، مسئلہ ان تمام املاک کے مالکانہ حق اس بورڈ کو ٹرانسفر کرنے کا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہت دنوں سے چلا آ رہا ہے۔ اس لیے یو پی اے حکومت اس تعلق سے کوئی فیصلہ کرتی ہے، تو یہ اچھی بات ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بقیہ پانچ املاک پر حکومت ہند کا نوٹس لگا ہوا ہے کہ یہ سرکاری املاک ہیں۔
آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ وقف آخر ہے کیا اور شریعت میں اس کی پوزیشن کیا ہے؟ وقف کی حدیث میں تشریح کی گئی ہے کہ اصل کو اس طرح خیرات میں دو کہ وہ نہ بیچی جا سکے، نہ ہی اس کو تحفہ میں دیا جا سکے اور نہ ہی اس میں وراثت کا سلسلہ جاری ہو، بلکہ اس کے فائدے عام لوگوں کو ملا کریں۔ مذکورہ حدیث کے مطابق، پوری دنیا کے مسلمانوں میں وقف کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ فلاحِ عام کا ایک بہترین ذریعہ بنا ہوا ہے۔ جہاں تک ہمارے ملک کا معاملہ ہے، 17 نومبر، 2006 کو حکومت ہند کو سونپی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں 6 لاکھ ایکڑ اراضی پر محیط 4.9 لاکھ رجسٹرڈ وقف املاک موجود ہیں، جن کی قیمت کا اس وقت تخمینہ 6 ہزار کروڑ روپے کیا گیا ہے اور اس سے سالانہ آمدنی کم از کم 163 کروڑ روپے ہے۔ اسی رپورٹ میں صفحہ نمبر 382-93 پر دہلی کی 318 وقف املاک کی فہرست شائع کی گئی ہے اور ان پر تمام قبضوں کو ناجائز و غیر قانونی بتایا گیا ہے۔
ڈاکٹر رضوان الحق اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب برطانوی حکومت نے دہلی کو 1911 میں قومی راجدھانی بنایا، تو اس کے شایان شان عمارتوں کی تعمیر کے لیے اس علاقے کو، جسے ہم نئی دہلی کہتے ہیں، 1911-15 میں ایکوائر کیا۔ ظاہر ہے کہ اس میں بہت سی اراضی مساجد، درگاہوں، قبرستانوں و دیگر اوقاف کی بھی تھیں، جنہیں بغیر الگ کیے ہوئے سرکار کی تحویل میں کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں اس دور میں اس کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی مجلس اوقاف، جس کا جانشین دہلی وقف بورڈ ہے، نے اوقاف کی اراضی کا معاوضہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ملک کے آزاد ہونے کے بعد تک یہ مقدمات مختلف عدالتوں میں لٹکے رہے۔ وقف بورڈ کے قیام کے بعد وقف املاک، خصوصاً ان مذہبی مقامات کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، جو کہ ایکوائر ہونے کے باوجود بورڈ کی دیکھ ریکھ اور نگرانی یا مسلمانوں کے استعمال میں تھیں، تب 1970 کی دہائی میں حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا دی، جس کی رپورٹ سید مظفر حسین برنی کی سربراہی میں تیار ہوئی۔ اسی رپورٹ کو برنی رپورٹ کہا جاتا ہے۔
اس کمیٹی نے ایسی 250 املاک کی شناخت کی جو وقف کی املاک تھیں، ان پر عمل درآمد کے لیے میر نصر اللہ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی قائم کی گئی، جس نے ان 250 املاک میں سے 123 ایسے املاک کا خلاصہ کیا، جنہیں وقف بورڈ کو ٹرانسفر کیا جاسکتا تھا۔ حکومت نے اوائل 1984 میں فیصلہ کیا کہ ان 123 املاک کا مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو واپس کر دیا جائے اور اس سلسلے میں 27 مارچ، 1984 کو ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا، مگر اس وقت دو غلط واقعات ہوئے۔ نوٹی فکیشن شائع ہونے سے دو دنوں قبل یہ بات میڈیا تک پہنچ گئی، جس کی وجہ سے نوٹی فکیشن سے ایک روز قبل اس خبر کو اس طرح شائع کیا گیا کہ حکومت ان املاک کو ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے لیز پر دے رہی ہے۔ پھر دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ نوٹی فکیشن میں ان املاک کو وقف املاک کے طور پر دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کے بجائے ایک روپیہ سالانہ فی ایکڑ کی شرح سے اسی بورڈ کو لیز پر دینے کی بات کہی گئی، جو کہ کھلے طور پر ناجائز تھی اور حکومت کے فیصلہ اور منشا کے برعکس بھی تھی۔ اس وقت محترمہ محسنہ قدوائی مرکزی وزیر برائے ورکس اینڈ ہاؤسنگ تھیں۔ راتوں رات ایک تنظیم اندر پرستھ ہندو مہا سبھا کے نام سے بن گئی، جس نے نوٹی فکیشن جاری ہوتے ہی دہلی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی اور نوٹی فکیشن پر اسٹے لے لیا۔ یہ اسٹے ایک چوتھائی صدی تک برقرار رہا۔ پھر 2008 کے شروع میں دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ججوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وقف املاک اللہ کے نام پر فلاحِ عام کے لیے بنائے جاتے ہیں، لہٰذا حکومت ہند اس طرح کے املاک کی مالک نہیں بن سکتی ہے۔ اس لیے اگر وہ انہیں وقف املاک مانتی ہے، تو اسے انہیں دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر یا حوالے کر دینا چاہیے اور یہ کام پر پیچوئل لیز ہولڈ بیسس پر نہیں ہونا چاہیے۔ ریکارڈ سے یہ بات صاف تھی کہ لیز کی بنیاد پر دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کرتے وقت وقف املاک کا مالکانہ حق قائم رکھنے میں ایک رائے نہیں تھی۔ عدالت کو اس پر حیرت تھی، تبھی تو اس نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے مشورہ لیں اور پھر حکومت کی رائے سے عدالت کو واقف کرائیں۔
وقف کونسل آف انڈیا کے سابق سکریٹری ڈاکٹر رضوان الحق کہتے ہیں کہ اس وقت سنٹرل وقف کونسل کی پیش رفت پر 7 اپریل، 2008 کو اس وقت کے مرکزی وزیر برائے شہری معاملات جے پال ریڈی کے چیمبر میں میٹنگ بلائی گئی، جس میں وہ بھی خود موجود تھے۔ اس دوران وزیر موصوف نے کہا کہ اس ضمن میں ضروری فیصلے گروپ آف منسٹرس کے ذریعے ہی لیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح مرکزی حکومت اس مسئلہ پر ٹال مٹول ہی کرتی رہی، تب دہلی ہائی کورٹ نے 12 جنوری، 2011 کو دہلی کی 123 وقف املاک سے متعلق رِٹ پٹیشن (سی) نمبر 1512/1984 کو خارج کردیا اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں 6 ماہ کے اندر حتمی فیصلہ کرے، لیکن حکومت وقت پر وقت لیتی رہی۔ مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور، جو کہ وقف کے معاملات دیکھتا ہے، اس ایشو پر بالکل خاموش رہی۔ اسی دوران ان املاک پر ناجائز قبضے بھی ہوتے رہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی ان املاک کو دہلی وقف بورڈ کو سونپنے کے حق میں تھیں۔ انہوں نے 26 مارچ، 1976 کو مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو تین نکات پر مبنی ایک مکتوب لکھا تھا، جسے سچر کمیٹی رپورٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے 1984 میں اپنی ہلاکت سے قبل بھی اسی طرح کا اظہارِ خیال کیا تھا۔ لہٰذا اس سلسلے میں اب 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کے ذریعے ان 123 وقف املاک کا مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ لیے جانے کی جو بات سننے کو مل رہی ہے، اس سے مسلم ملت میں خوشی کی لہر پائی جا رہی ہے۔ دہلی میں واقع مسجد فتح پوری کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ یہ بہت اچھی خبر ہے۔ دیر سے ہی سہی، اگر یہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ انصاف پر مبنی ہوگا۔ مگر اس کے برعکس مختلف مسلم تنظیموں و اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری محکمے سخت پریشان ہیں، کیوں کہ اس سے ان کے ذریعے کیے گئے قبضے خطرے میں ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ حکومت کے ذریعے فیصلہ لینے سے 123 املاک، چاہے جس کے استعمال میں ہوں، ان کا مالکانہ حق دہلی وقف بورڈ کو مل جائے گا اور وہ تمام قبضوں کو ختم کرکے مسلم ملت کے مفادات اور ضرورتوں کو توجہ میں رکھتے ہوئے فیصلہ کر سکے گا، مگر سوال یہ ہے کہ جمعیت علماء ہند جیسی معروف تنظیم کے دونوں دھڑوں کے مرکزی دفاتر اور دیگر قبضہ کی گئی وقف املاک کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ ایکایسا سوال ہے، جس کا جواب آنے والا وقت ہی دے پائے گا۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *