تیسرےمحاذ کی اشد ضرورت ہے

کمل مرارکا 
ملک میں سیاسی واقعات مختلف شکلوں میں پیش آ رہے ہیں۔ دہلی میں ایک نئی پارٹی کی حکومت بنی ہے، تین ریاستوں میں بی جے پی نے واضح جیت حاصل کی ہے اور کانگریس کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب تک جو بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے، وہ یہ کہ آخر کانگریس پارٹی کے ذہن میں چل کیا رہا ہے؟ ایسی پارٹی، جو الیکشن ہار گئی ہو، جسے 70 سیٹوں والی اسمبلی میں صرف 8 سیٹیں ہی ملی ہوں، اسے کسی دوسری پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے غیر مشروط حمایت دینے کی بات کسی بھی طرح سمجھ میں نہیں آ رہی ہے اور وہ بھی اس وقت، جب کسی نے اس سے حمایت مانگی ہی نہیں۔ ظاہر ہے، وہ اپنی حمایت عام آدمی پارٹی کو اس لیے دینا چاہتے ہیں، تاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جائے، لیکن یہ ایک بچکانہ حرکت ہے اور اسے عقلمندی پر مبنی فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ وہی عام آدمی پارٹی ہے، جو لگاتار کانگریس کی 15 سالہ حکومت کے خلاف زوردار آواز اٹھاتی رہی ہے۔ لوگ چاہے جو بھی سوچ رہے ہوں، لیکن انتخابی نتائج نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کانگریس کو چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دوران ہار کا منھ بی جے پی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی خراب امیج کی وجہ سے دیکھنا پڑا۔ جہاں کہیں لوگوں کو کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آیا، وہاں انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا، لیکن جب انہیں موقع ملا، تو انہوں نے کسی تیسرے کو ووٹ دیا۔ اب کانگریس پارٹی حالا ت کو قابو میں کرنے کے بجائے بی جے پی پر حملہ بول رہی ہے، گویا کہ بی جے پی ان کی سب سے بڑی دشمن ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا دشمن خود ان کے اندر موجود ہے۔ وہ جب تک اپنی شبیہ کو درست نہیں کر لیتے، جب تک وہ گھوٹالے باز کے طور پر اپنی بدنامی سے باہر نہیں نکل آتے، وہ لوگوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتے، تب تک وہ الیکشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کانگریس ایک بہت بڑی پارٹی ہے۔ ہندوستان کے ہر حصے میں اس کی موجودگی ہے۔ اس کے پاس مضبوط قیادت ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ فیصلے لے رہے ہیں، وہ بالغ سیاست داں نہیں ہیں، جن پر کانگریس کو پہلے ناز ہوا کرتا تھا۔
عوام کے ذہن میں ایک غلط فہمی یہ بھی پیدا ہو گئی ہے کہ نریندر مودی کافی مقبول ہیں۔ کسی کو اس سے انکار نہیں ہے۔ نریندر مودی نے انتخابی مہم میں کافی مدد کی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن جنوبی اور مشرق ہندوستان کی ریاستوں کا کیا، جہاں پر بی جے پی کا وجود تک نہیں ہے؟ راتوں رات بی جے پی کو اقتدار تک پہنچا دینا ممکن نہیں ہے۔ تیسری طاقتیں ہوں گی، جنوبی اور مشرقی ہندوستان کی تمام ریاستوں میں علاقائی لیڈر ہوں گے، جنہیں وہاں کی سیٹوں پر کامیابی ملے گی۔
کانگریس کو اپنی شبیہ درست کرنی ہوگی اور بی جے پی مخالف ہونے کا لیبل ہٹا کر خود اپنے لیے کام کرنا ہوگا۔ اسے لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ کانگریس کا اصول کیا ہے، اگر وہ انتخابات میں جیت حاصل کرتے ہیں یا ایک مخلوط حکومت بناتے ہیں، تو وہ کیا کریں گے، لوگوں کے مفاد کے لیے ان کی پالیسیاں کیا ہوں گی۔ اگر مبصرین اس کا تجزیہ کریں، تو وہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ کانگریس کی پالیسیوں اور بی جے پی کی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر ہم ان دونوں ہی پارٹیوں کی اقتصادی پالیسیوں کی بات کریں، تو یہ پالیسیاں امیر لوگوں اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ وہ اصلاح کی بات کرتے ہیں، لبرلائزیشن کی بات کرتے ہیں، وہ کارپوریٹ سیکٹر کو فائدہ پہنچانے کی بات کرتے ہیں۔ دونوں ہی پارٹیوں کا نظریہ ایک جیسا ہے، پھر ان دونوں میں فرق کیسا؟ ایک نے گھوٹالے پر گھوٹالے کیے ہیں، دوسرے کو پچھلے دس برسوں سے اقتدار کا انتظار ہے، کیوں کہ وہ اقتدار سے باہر ہیں، اس لیے اینٹی اِن کمبینسی کا ہونا فطری ہے۔ ایسے میں بی جے پی کو فائدہ ملتا نظر آ رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی ایک نیا تجربہ ہے، جسے ہم سب نے قریب سے دیکھا ہے۔ کم از کم پانچ یا چھ وزرائ، جن کا تقرر کیا جائے گا، اگر وہ بدعنوان نہیں ہیں، تو یہ نوکر شاہی کے لیے ایک پیغام ہوگا۔ نوکر شاہی کے غرور میں کمی آئے گی۔ آج، وہ یہ جانتے ہیں کہ بڑے لوگ زیادہ بدعنوانی کرتے ہیں، نوکرشاہوں کو ناجائزہ طریقے سے زیادہ پیسہ کمانے کا موقع اس لیے مل جاتا ہے، کیوں کہ انہیں چیک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ملک کی پالیسی کو عام آدمی پارٹی کی سب سے بڑی دین یہ ہو سکتی ہے کہ وہ نوکرشاہوں کے دلوں میں ایک خوف پیدا کر دے۔ نوکرشاہوں کو تنخواہیں اس لیے ملتی ہیں، تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں، وہ ہر خدمت کے لیے پیسہ نہیں مانگ سکتے۔ وہ ہر کام کرنے کے لیے الگ سے پیسہ مانگتے ہیں، اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
یہ اچھی بات ہے کہ عام آدمی پارٹی بجلی اور پانی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کر رہی ہے، اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں، تو یہ بہت ہی اچھی بات ہوگی۔ وہ بدعنوانی کو بھی کم کر سکتے ہیں، لیکن بدعنوانی کا خاتمہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگر وہ اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کو کم کر دیتے ہیں، تو یہ ملک کی سیاست کے لیے ایک نیا ٹرننگ پوائنٹ ہوگا۔
ہمیں نہیں معلوم کہ انا ہزارے کیا سوچ رہے ہیں، لیکن لوک سبھا انتخابات آنے تک اگر وہ چند لوگوں کو اپنی دعائیں دیتے ہیں، تو چاہے وہ کسی بھی پارٹی یا اتحاد کے ہوں، چند اچھے لوگ بھی انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی کر سکتے ہیں اور اس طرح قوم کی تعمیر میں اپنا رول ادا کر سکتے ہیں۔ اس پورے ماحول میں، تیسرے محاذ کی تشکیل کی اشد ضرورت ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ تیسرے محاذ کے لیڈروں کو ایک نیا متبادل پیش کرنے کی کوئی جلد بازی نہیں ہے۔ ہر کوئی انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے اور اس کے بعد کسی محاذ کی تشکیل کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یہ اچھا ٹرینڈ نہیں ہے۔ غیر کانگریسی اور غیر بھاجپائی لیڈروں کو ایک ساتھ آنا چاہیے اور ایک ایسا مضبوط محاذ قائم کرنا چاہیے، جو ملک پر حکومت کر سکے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں ہمیں کیا کچھ دکھائی دیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *