ملک میں خانہ جنگی لے کر آئیں گے مودی

نیرج سنگھ 

اس وقت ملک میں یہ موضوع زیر بحث بنا ہوا ہے کہ اگر نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنتے ہیں، تو ملک کے اندر کیسے حالات ہوں گے؟ کچھ دنوں پہلے انٹرنل سیکورٹی پر وزرائے اعلیٰ کی ایک میٹنگ میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ انٹرنل سیکورٹی پر ایک وہائٹ پیپر لانا ضروری ہے۔ صرف وہائٹ پیپر لفظ سے یہ سمجھ پانا کہ ملک کی انٹرنل سیکورٹی کے بارے میں مودی کی کیا سوچ ہے، تھوڑا مشکل ہے۔ لیکن نریندر مودی کی جو شبیہ ہے، اسے اگر بنیاد بناکر دیکھا جائے، تو انٹرنل سیکورٹی کو لے کر ان کے نظریات پر سوالیہ نشان کھڑے کرنا بے حد آسان ہے۔ ظاہر ہے، اس کے پیچھے کی وجہ 2002 کے گجرات فسادات اور نریندر مودی کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہے۔ ہیومن سائنس کے تصورات پر دھیان دیں، تو کسی آدمی کے ماضی سے ہمیشہ ہی اس کے مستقبل کی تعریف نہیں پیش کی جاسکتی۔ اس لیے مودی کی انٹرنل سیکورٹی پر کیا پالیسی ہے یا کیا ہوگی، اسے سمجھنے کے لیے مودی کے ماضی اور مودی کے حال کو الگ الگ کرنے کی ضرورت ہے۔

p-5bانٹرنل سیکورٹی کی بات کریں، تو سب سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات کی طرف دھیان جاتا ہے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی عالمی سطح پر بڑی بحث میں 2002 کے گجرات فسادات کے بعد آئے۔ ایک بڑا فرقہ وارانہ فساد اور تب یہ مانا گیا کہ ان کی تعلیم و تربیت اس اسکول میں ہوئی ہے، جہاں کے نصاب میں ہندوتوا بنیادی موضوع ہے اور گجرات ہندوتوا کی تجربہ گاہ۔ بہت پیچھے نہ جاکر 80 کی دہائی سے ہی دیکھیں، تو گجرات میں ہندوتوا کو مضبوط بنانے کے لیے 1983 میں ’گنگا جل ایکاتمتا یاترا‘ اور 1990 میں لال کرشن اڈوانی کی ’ایودھیا رتھ یاترا‘ سومناتھ سے شروع ہوئی۔ یہی وہ دور تھا، جب مسلمانوں کو لے کر کامن سول کوڈ، قرآن پر روک لگانے کی بات، ان کے ذریعے ترنگا لہرانے کی چرچا، وندے ماترم گانے، حج کے لیے دی گئی سبسڈی، پاکستان کی وفاداری، ہندوستان کے ساتھ غداری، مدرسوں کی پڑھائی جیسے تمام مدعے بطور شگوفہ پھیل رہے تھے۔ لیکن تب تک یہ الزام نہیں لگا تھا کہ ریاست کی انتظامیہ اس میں کہیں شامل ہے۔ تب یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ یہ ہندوتوا کو قائم کرنے کا سلسلہ ہے اور تب یہ سب کچھ ایک تنظیم، ایک پارٹی اور ایک سوچ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا تھا۔ گجرات کے فسادات میں پہلی بار یہ الزام لگا کہ یہ سرکار کے ذریعے اسپانسرڈ ہے، حالانکہ ان فسادات کے بعد زیادہ تر جانچ کمیٹیوں اور پھر حال ہی میں ایس آئی ٹی نے نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی، لیکن ملک کے لوگوں سے پوچھا جائے، تو ابھی بھی ایک بڑا طبقہ گجرات فسادات کے دھبوں کا تاج مودی کے سر ہی سجاتا ہے۔ اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مودی اپنے خیالات اور اپنی چال ڈھال سے کہیں نہ کہیں اپنے اس احساس کو ظاہر بھی کر دیتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر سمجھیں، تو آج بھی ریاست کے احمد آباد اور سورت کے کچھ حصوں میں آپ کو ایسے سائن بورڈ ٹنگے مل سکتے ہیں، جن پر لکھا ہوگا کہ ’ہندو راشٹر میں آپ کا سواگت ہے‘۔
گجرات فسادات کو واقع ہوئے 11 برس گزر چکے ہیں۔ ان فسادات کے بعد گجرات میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ مودی نے کئی بار خود بھی پبلک پلیٹ فارموں سے ہندو مسلم ہم آہنگی جتانے کی کوشش کی، لیکن ہم آہنگی کی ان کوششوں کو بنیاد مان کر ہی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مودی نے اپنے ہندوتوا کے ایجنڈے کو کنارے رکھ دیا ہے۔ جب نریندر مودی قومی سیاست میں بی جے پی کے سپہ سالار کے طور پر ابھر رہے تھے اور ملک میں یہ ماحول بننے لگا تھا کہ نریندر مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار تقریباً طے ہیں، تب ’چوتھی دنیا‘ نے ایک اسٹوری کی تھی، جس کا عنوان تھا ’فسادات ہونے ہی والے ہیں‘، جس میں ہم نے لکھا تھا کہ نریندر مودی چاہے ترقی کی باتیں کریں یا پھر مستقبل کے ہندوستان کا کوئی حسین خواب دکھائیں، لیکن ان کے سامنے آتے ہی الیکشن کا پولرائزیشن ہونا طے ہے۔ یہ بات بی جے پی اور سنگھ پریوار کے حکمت سازوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ اس کے باوجود، بی جے پی نے اپنے سب سے بڑے لیڈر کے روپ میں مودی کو سامنے رکھ کر یہ صاف کر دیا کہ وہ 2014 میں ہندو – مسلم ووٹوں پولرائزیشن چاہتی ہے۔ دراصل، بی جے پی کو یہی لگتا ہے کہ جتنا زیادہ پولرائزیشن ہوگا، اسے اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس لیے اس حکمت عملی کے تحت ہی مودی کے ہاتھوں الیکشن کی کمان سونپ دی گئی ہے۔ ایسی حکمت عملی پر الیکشن لڑنے کا مطلب یہی ہے کہ ملک میں بھائی چارہ ختم ہو جائے، فساد ہو جائیں یا پھر لوگوں کی جانیں چلی جائیں، لیکن الیکشن جیتنے کے لیے پولرائزیشن کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ مودی اب تک ترقی کی باتیں کرتے آئے ہیں اور اس حکمت عملی کی تصدیق انہوں نے پٹھان کوٹ میں کر ہی دی۔ مودی نے انتخابی مہم کی شروعات پٹھان کوٹ سے کی۔ یہاں انہوں نے کامن سول کوڈ نافذ کرنے اور دفعہ 370 کو ختم کرنے کی بات کرکے یہ واضح کر دیا کہ ’سدبھاؤنا مشن‘ صرف مسلمانوں کو بہلانے کے لیے ہے، جب کہ ان کا اصلی ایجنڈا کچھ اور ہی ہے۔
’چوتھی دنیا‘ کا یہ اندازہ سو فیصدی صحیح ثابت ہوا۔ اکیلے اتر پردیش کی ہی بات کریں، تو گزشتہ ڈیڑھ سال کے اندر ریاست میں چھوٹے موٹے تقریباً 102 فسادات ہوئے، جو زیادہ تر فرقہ وارانہ فسادات تھے۔ ان فسادات میں ریاستی حکومت کا کیا رول تھا، یہاں بحث کا موضوع یہ نہیں ہے، لیکن اس بات کی چرچا ضروری تھی کہ اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔ اور اس کی تصدیق گاہے بگاہے پارٹی خود ہی کرتی رہی، جس کی تازہ مثال مظفر نگر کا فساد رہا، جب نریندر مودی نے مظفر نگر فسادات کے ملزم بی جے پی کے ایم ایل اے سنگیت سوم، سریش رانا اور پارٹی کے لیڈر سنجیو بالیان کو آگرہ کی ’وجے شنکھناد ریلی‘ میں اعزاز سے نوازا۔ ظاہر ہے کہ برج علاقہ کے آٹھوں اضلاع متھرا، آگرہ، فتح پور سیکری، علی گڑھ، ہاتھ رس، ایٹہ، فیروز آباد، مین پوری میں جاٹ اور شتریہ ووٹر فیصلہ کن رول میں ہیں۔ ایسے میں سنگیت سوم، سریش رانا اور سنجیو بالیان کو اعزاز دے کر بی جے پی ان ووٹروں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مقصد صاف ہے، پولرائزیشن اور اس کا سب سے سٹیک ہتھیار ہے ہندوتوا کو بڑھاوا۔ حالانکہ نریندر مودی اپنی اس شبیہ سے نکلنے کی پرزور کوشش کر رہے ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ریلیوں میں مسلم سماج کے مرد ٹوپی اور عورتیں برقعہ پہن کر آئیں، تاکہ لوگوں میں یہ پیغام جائے کہ مودی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حامی ہیں۔ لیکن مودی نے جب گجرات میں سدبھاؤنا مہم چلائی تھی، تو الگ الگ مذہب کے نمائندوں میں سے کسی نے مودی کو روایتی پگڑی، صافہ یا شال پیش کی، لیکن ایک مزار کے ٹرسٹی جب اپنی جیب سے ایک گول ٹوپی نکال کر مودی کو پہنانے کے لیے آگے بڑھے، تو مودی نے ٹرسٹی کو ٹوپی پہنانے سے روک دیا۔
انٹرنل سیکورٹی کی سطح پر دوسرا بڑا مسئلہ ہے نکسل واد۔ انٹرنل سیکورٹی کو لے کر حال ہی میں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں نریندر مودی نے نکسل واد کے مسئلہ پر کہا تھا کہ یہ تروپتی سے لے کر پشو پتی تک پھیلتا جا رہا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت کو دو طرفہ حکمت عملی بنانی ہوگی۔ لیکن گجرات میں ایس سی ؍ ایس ٹی کو لے کر نریندر مودی کی جو پالیسیاں ہیں، وہ دو طرفہ نہیں، بلکہ پوری طرح سے ایک طرفہ ہیں۔ یہاں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کی آبادی 7 فیصد ہے، جب کہ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی آبادی 15 فیصد ہے، لیکن سیاسی و سماجی اقتدار میں پٹیل – برہمن – مہاجنوں کے اقتدار کے سامنے یہ طبقہ کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے اور نہ ہی انہیں آگے بڑھانے کے لیے کوئی خاص کوشش ہو رہی ہے۔ ملک بھر میں درج فہرست ذاتوں کی بیداری کی جو کوششیں ہوئیں، وہ گجرات تک کبھی نہیں پہنچیں۔
جنوبی گجرات کے اوکائی باندھ سے اجاڑے گئے لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ یہاں کے آدیواسی سورت پہنچے، تو یہاں کی جھونپڑ پٹی والے کہلائے۔ پہلے کی سرکاریں بے زمینوں کو قدرتی وسائل دیتی تھیں، گھر اور سہکاری منڈلوں کے لیے زمینیں دیتی تھیں، لیکن مودی کے راج میں ان اسکیموں پر تالا لگ گیا ہے۔ مودی کے راج میں سب بند ہے۔ جھارکھنڈ اور دیگر مشرقی ریاستوں کی طرح یہاں ابھی تک آدیواسیوں کو اپنی پہچان کا ریاستی موقع نہیں ملا ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں میں سر پر گندگی ڈھونے کا رواج آج تک برقرار ہے۔ یہ وہی مسائل ہیں، جن کو لے کر نکسلی لڑ رہے ہیں اور انہی مطالبات کو اپنے حقوق میں شامل کر رہے ہیں۔ حال کے چھتیس گڑھ اسمبلی الیکشن میں مودی فیکٹر کے نہ چلنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی کہ وہاں بڑے پیمانے پر نکسل متاثرہ علاقوں میں ’نوٹا‘ کا استعمال ہوا۔ پانچوں ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ ’نوٹا‘ کا استعمال چھتیس گڑھ میں ہی ہوا اور دنتے واڑہ اور بستر جیسے نکسلی علاقوں میں تو سب سے زیادہ۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نکسل واد کے خاتمہ کو لے کر مودی کے اب تک جتنے بیان آئے ہیں، اس میں ان کا وژن صاف ہے۔
چھتیس گڑھ میں جب کانگریسی عملے پر بڑا حملہ ہوا تھا، تو مودی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ نکسل واد جیسے غیر انسانی تشدد کی ذہنیت کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانے کا وقت کافی پہلے ہی ہو چکا ہے۔ نکسل واد کے خاتمہ پر کیا پالیسی اپنائی جائے، یہ بحث کا موضوع ہے۔ زیرو ٹالرینس اگر راستہ ہے، تو سلوا جڈوم جیسے آپریشنوں کا کیا نتیجہ نکلا، یہ ہم نے دیکھا ہے۔ حقوق انسانی اس کی حمایت نہیں کرسکتا۔ بات چیت کے راستے کا نتیجہ بھی کبھی مثبت دکھائی نہیں دیا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ صرف اور صرف زیرو ٹالرینس ملک کو ایک بڑے خطرے کی جانب لے جا سکتا ہے اور اس سے بھی بڑا خطرہ ہے کہ مودی فوج کے توسط سے اس کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔ بڑے آپریشنوں میں اس بات کا زیادہ امکان رہتا ہے کہ اس میں عام شہری بھی مارے جائیں گے، بے قصور مارے جائیں گے، اس سے صورتِ حال اور بگڑ سکتی ہے۔
نکسل واد کی ہی طرز پر ملک کے سامنے ایک اور بڑا اندرونی خطرہ ہے علاحدگی پسندی۔ علاحدگی پسندی کو لے کر مودی کی سوچ وہی ہے، جو جن سنگھ کی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے آج سے 50 سال قبل ہی دفعہ 370 کو آئین سے ختم کرکے وادیٔ کشمیر میں آبادی کے توازن کو قائم کرکے علاحدگی پسندوں کو جواب دیتے ہوئے ہندوستان پرست طاقتوں کو مضبوط کرنے کا طریقہ بتایا تھا۔ مودی نے حال ہی میں اسی مسئلہ کو دوبارہ اٹھایا۔ مودی نے جموں کی اپنی ایک ریلی میں کہا کہ دفعہ 370 پر صحیح بحث نہیں ہو رہی ہے۔ ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔ دفعہ 370 کی ضرورت ہے یا نہیں، اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ دراصل، مودی سپریٹ میں نہیں، سپر اسٹیٹ ہوڈ میں یقین کرتے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ اتنا آسان ہے نہیں، جتنا مودی سمجھ رہے ہیں۔ خود مختار کون نہیں رہنا چاہتا۔ ریاستیں چاہتی ہیں کہ وہ اور زیادہ خود مختار بنیں، مرکز کا دخل کم ہو۔ میونسپل کارپوریشنز اور مضبوطی چاہتی ہیں، پنچایتیں اور زیادہ طاقتور بننا چاہتی ہیں۔ یہ انسان کی اپنی فطرت ہے، اس لیے اس مسئلہ کو اتنی لاپروائی سے دیکھنا کہیں سے بھی جائز نہیں ہے۔ دوسرے، کشمیر کا ہندوستان میں الحاق ہی اس بنیاد پر ہوا تھا کہ دفعہ 370 کے تحت جب تک کشمیر کے عوام چاہیں گے، وہاں پر دفعہ 370 نافذ رہے گی۔ اگر کشمیر کے عوام چاہیں گے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ریاست میں دفعہ 370 نافذ رہے، تو کوئی زبردستی اسے نافذ نہیں کر سکتا۔ یہ بات صحیح ہے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن تبھی، جب اس کی پہل اور اس کی فرمائش جموں و کشمیر کے عوام کریں گے۔ اس لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے، کشمیر کے عوام شاید ہی یہ چاہیں گے کہ ان کی خود مختاری چھینی جائے۔ ایسے میں مودی کی یہ سوچ ملک کی انٹرنل سیکورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
جب ملائم سنگھ یادو وزیر دفاع تھے، تو ایک بار سرحد پر جوانوں کو خطاب کرنے گئے۔ تقریر کے دوران پاکستان کی طرف سے گولی باری کی آواز سن کر اس وقت کے وزیر دفاع نے پوچھا کہ یہ کیا؟ تو جوانوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے گولی باری ہو رہی ہے۔ ملائم سنگھ نے جواب دیا کہ جب پاکستان گولی باری کر رہا ہے، تو آپ لوگ میری تقریر کیوں سن رہے ہیں؟ جائیے جواب دیجئے۔ ملک میں ایک طبقہ نے اسے ایک وزیر دفاع کے دلیرانہ بیان کے طور پر دیکھا، لیکن یہ بیان مدلل ہے بھی کہ نہیں، اس پر شک ہے۔ یہی چال مودی بھی چل رہے ہیں۔ وہ ان سبھی بیانوں پر جوشیلے بیان دے رہے ہیں، جو ملک میں ایک مسئلہ کے طور پر جانا جا رہا ہے، لیکن مودی یہ بھول رہے ہیں کہ ان کے یہ بیان اور ان کی سوچ ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *