مودی کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی

منموہن سنگھ پچھلے 10 سال سے ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں اور ان 10 سالوں میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے۔ منموہن سنگھ ایک کمزور وزیر اعظم ہیں، جو نہ تو ملک کے اندرونی مسائل کا حل ڈھونڈ پا ئے اور نہ ہی خارجہ پالیسی کے تحت ہندوستان کی عظمت کو عالمی نقشے پر قائم کر سکے۔ منموہن سنگھ کے دورِ حکومت میں دنیا کے سپر پاور امریکہ، انگلینڈ، روس اور چین سے ہندوستان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا، لیکن پڑوسی ملک چین، سری لنکا، بنگلہ دیش، میانمار، مالدیپ اور نیپال سے رشتے بگاڑ گئے۔

p-8بی جے پی کی حکومت کے بعد وہ دن کبھی نہیں آیا، جب ہم امریکہ کے ساتھ سر اٹھاکر کھڑے رہے۔ جب بی جے پی کے لیڈر جسونت سنگھ وزیر خارجہ تھے، تو وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کافی حد تک پٹری پر لائے۔ اس کے پیچھے پارٹی کی کسی بھی ملک کے سامنے نہ جھکنے کی سخت خارجہ پالیسی تھی۔ گزشتہ دنوں 2002 کے گجرات فساد معاملے میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف دائر اپیل خارج ہو گئی۔ اس کے باوجود ان کے لیے امریکی ویزا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تو پہلا سوال یہی ہے کہ اگر مودی وزیر اعظم بنتے ہیں، تو امریکہ کے تئیں ان کی پالیسی سخت ہوگی؟ دوسرا سوال ہے کہ جس اعتماد کے ساتھ یو پی اے سرکار نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل میں تیز رفتاری دکھائی تھی، اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے مضبوط نیوکلیئر بل لانا پڑا۔ آج یہی بل نیوکلیئر ری ایکٹروں کو قائم کرنے میں روڑا ثابت ہو رہا ہے۔ بی جے پی کے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار مودی کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ نیوکلیئر ری ایکٹروں کو قائم کرکے انرجی سیکٹر کو مضبوط بنا پائیں گے، تاکہ ہندوستان کو بجلی کی سپلائی بھرپور طریقے سے ہو سکے، وہ بھی تب جب ہندوستان میں نئے نیوکلیئر پاور پلانٹس کو قائم کرنے کی مخالفت ہو رہی ہے؟
ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ اگر اسے سیکورٹی کونسل میں مستقل رکنیت مل جاتی ہے، تو وہ دنیا کے طاقتور ملکوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ اب مودی کے سامنے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ وہ سیکورٹی کونسل میں ہندوستان کے لیے جگہ پانے کے لیے امریکہ کی حمایت کیسے حاصل کریں گے؟ اس کے علاوہ آئی ایم ایف میں اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکہ پر کس طرح سے دباؤ بنائیں گے؟ امریکہ صدر اوبامہ ہمیشہ سے ہندوستان کو ایک چنوتی کے روپ میں دیکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی بار امریکی شہریوں کی نوکری ہندوستانیوں کے ذریعے چھنے جانے کا شک ظاہر کیا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے اوبامہ نے آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو اپنے یہاں ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے اور ہندوستانی سوفٹ ویئر پروفیشنلز کے ویزا ضابطوں کو سخت بنا دیا ہے، جس کی ٹی سی ایس، وِپرو اور انفوسس جیسی اہم ہندوستانی سوفٹ ویئر کمپنیاں مخالفت کرتی رہی ہیں۔ مودی آخر کیا قدم اٹھائیں گے، جس سے ہندوستانی کمپنیاں امریکہ جانے کے بجائے اپنے یہاں کے لوگوں کو روزگار دیں یا یوروپی ممالک کی طرف رخ کریں، تاکہ ان کمپنیوں کا امریکہ پر انحصار بھی کم ہو جائے؟ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا آرمس سپلائر ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے لیے بھی سب سے بڑا آرمس سپلائر ہے۔ مودی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی اس بات کی ہوگی کہ وہ کس طرح سے ہندوستان کو ہتھیاروں کے معاملے میں خود مختار بناتے ہوئے امریکی تعاون سے چین اور پاکستان جیسے ملکوں کے بالمقابل خود کو فوجی طاقت کے روپ میں قائم کر سکے، تاکہ ہندوستان کسی بھی قسم کی چنوتی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ دنیا ایک بار پھر دو قطبی ہونے کی سمت میں گامزن ہے۔ چین دوسرے قطب کے روپ میں ابھر رہا ہے۔ ایسے میں جب ناوابستہ تحریک جیسے گروہوں کی افادیت ختم ہو چکی ہے، تب ہندوستان مودی سے کیا امید کرے گا؟
اسرائیل ہمیشہ سے ہی ہندوستان کا معاون رہا ہے۔ یہ امریکہ کا بھی معاون رہا ہے۔ فوجی آلات کے معاملوں میں بھی یہ ہمیشہ ہندوستان کا تعاون کرتا رہا ہے۔ یہ الزام ہمیشہ سے لگتے رہے ہیں کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ہندوستان میں بی جے پی کی ہندوتوا وادی سرکار بنانا چاہتی ہے، تاکہ مسلم ممالک کے خلاف کارروائی کرنے کے دوران وہ ہندوستان کی حمایت حاصل کر سکے۔ 26/11 حملے کے بعد جانچ میں اسرائیل نے ہندوستان کا بہت ساتھ دیا۔ مودی وزیر اعظم بننے پر ہند – اسرائیل تعلقات میں کتنی مضبوطی لائیں گے، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
روس اور ہندوستان کے درمیان تلخی کی وجہ بنا ایڈمرل گورش کوف آخر کار ہندوستان کو مل گیا، جس کی قیمت میں کئی بار اضافہ کیا گیا۔ روس ہمیشہ سے ہی ہندوستان کا ہر سطح پر تعاون کرتا رہا ہے۔ سیکورٹی کونسل میں بھی وہ ہندوستان کی دعویداری کی حمایت کرتا ہے۔ ہندوستان آج بھی اپنے فوجی اسلحے روس سے ہی خریدتا ہے۔ وہ روس کے ساتھ مل کر پانچویں نسل کے جنگی طیارے بھی بنا رہا ہے۔ نیوکلیئر پاور کے مسئلے پر وہ ہندوستان کا بہت پرانا ساتھی ہے۔ ایسے میں جب کوڈن کولم میں روس کے ذریعے تعمیر کیے جانے والے نیوکلیئر ری ایکٹروں کی پارلیمنٹ میں مخالفت نہ کرنا یہی دکھاتا ہے کہ مودی وزیر اعظم بننے کے بعد بھی روس ہندوستان کا اٹوٹ معاون بنا رہے گا۔
اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت میں جوہری تجربہ کو دیکھتے ہوئے دنیا کے زیادہ تر ملکوں نے ہندوستان پر اقتصادی پابندی لگا دی تھی، لیکن فرانس ایک اچھے دوست کے روپ میں ہندوستان کے ساتھ ان دنوں کھڑا رہا اور ہندوستان کے جوہری تجربہ کو صحیح ٹھہرایا۔ کیا مودی فرانس کے ساتھ تعلقات کو نئی شکل دیں گے اور واجپئی کی وراثت کو آگے لے جائیں گے؟ وہ بھی تب، جب فرانس میں اس وقت سماجوادی سرکار اقتدار میں ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں جاپان میں کئی وزیر اعظم بنے، لیکن سبھی کے دورِ حکومت میں جاپان اور ہندوستان کے درمیان رشتے میٹھے ہی رہے۔ ہندوستان جاپان کی سرکاری ترقیاتی مدد (او ڈی اے) پانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ 2013 کے مارچ مہینہ میں جاپان نے ہندوستان کو 2.32 ارب ڈالر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے دیے تھے۔ حال ہی میں ہندوستانی دورے پر آئے جاپان کے راجا اکھی ہیتو اور رانی مچیکو کے استقبال کے لیے ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ پہنچے تھے۔ اس سے جاپان اور ہندوستان کے رشتوں کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہندوستان میں دہلی میٹرو کی طرز پر ملک کے کئی اہم شہروں میں میٹرو کی شروعات ہونی ہے، جس میں جاپان تعاون کر رہا ہے۔ بلیٹ ٹرینوں کی بھی ہندوستان میں شروعات ہونی ہے، جس میں جاپان ہندوستان کا تعاون کرے گا۔ چونکہ مودی ہمیشہ ہی اپنی تقریروں میں ترقی کے مدعے پر زور دیتے رہے ہیں، اس لیے ان کے لیے جاپان کا تعاون پانا اور اسے بنائے رکھنا ایک چنوتی ہوگی، کیوں کہ بغیر بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر کے کوئی بھی سرمایہ کار ہندوستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ نہیں لگائے گا۔ اس لحاظ سے ہندوستان کے لیے جاپان کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان کی مشرق نواز پالیسی کی تشکیل جاپان اور اس کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ مودی اس پالیسی کو ایک الگ سطح پر لے جانے کے لیے مجبور ہوں گے۔
پاکستان ایک بار پھر سے جمہوریت کے راستے پر ہے اور ملک میں بی جے پی کی سرکار بننے کا امکان تب جتایا جا رہا ہے، جب پاکستان میں وزیر اعظم نواز شریف ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی نے وزیر اعظم رہتے ہوئے امن کی آشا میں لاہور تک بس یاترا کی تھی، لیکن ہی دنوں بعد کرگل میں پاکستانی فوج کی دراندازی کے سبب ہمیں منھ کی کھانی پڑی تھی۔ ایسے میں کیا مودی وزیر اعظم کے روپ میں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے؟ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو ان کے سر پر کانٹوں کا تاج سجنے جا رہا ہے۔ مودی کبھی پاکستان کو ترقی کی صلاح دیتے ہیں، وہیں وہ اپنی تقریروں میں پاکستان کے مسئلے پر جس طرح سے جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، اس سے مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان رشتے تلخ ہونے کا امکان قوی ہو جاتا ہے اور ایسے میں اگر جنگ کے اندیشے جنم لینے لگیں، تو مودی کے ترقیاتی ماڈل کو زمین بوس ہونے میں ذرا بھی وقت نہیں لگے گا۔ ایسے میں یہ مودی کی ہار ہوگی یا ہندوستان کی جیت؟ گجرات الیکشن کے دوران مودی سر کریک تنازع کو ایشو بناکر کانگریس اور سونیا گاندھی کی کھنچائی کرتے رہے اور حال ہی میں جموں میں ایک ریلی کے دوران انہوں نے آئین کی دفعہ 370 پر دوبارہ غور کرنے کی بات کہی تھی۔
چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اقتصادیات بن کر ابھرا ہے۔ ہندوستان ابھی بھی ایک ترقی پذیر اقتصادیات کے روپ میں جدو جہد کر رہا ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت 20 بلین ڈالر سے زیادہ کی ہے، جس میں درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہے۔ مودی اگر وزیر اعظم بنتے ہیں، تو ان کے لیے سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہوگی کہ وہ چین سے درآمد کی گئی اشیاء کی مقدار کم کریں اور برآمدات کو فروغ دیں۔ اس کے لیے انہیں تکنیک کی درآمدات کرنی ہوگی، جس سے ہندوستان میں فیکٹریوں کی تعمیر ہو اور لوگوں کو کام ملے۔ دوسرا مسئلہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کو لے کر ہے۔ اروناچل پر اکثر چین اپنے حق کی بات کرتا ہے۔ توانگ کو لے کر بھی چین دعویٰ پیش کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ چین فوجی آئے دن ہندوستان سرحد میں دراندازی کرکے ہندوستانی علاقوں کو اپنا بتاتے ہیں۔ چین نے ہندوستان کے ایک بہت بڑے حصے پر قبضہ کیا ہے۔ تبت کا معاملہ ہے، سو الگ۔ مودی کے سامنے ان سبھی مسائل سے نمٹنے کی چنوتی ہوگی۔
نیپال میں جمہوریت قائم ہو چکی ہے۔ اب وہ آئین سازی کی طرف گامزن ہے۔ نکسل واد ہندوستان کا ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کو کافی حد تک نیپالی ماؤ وادیوں سے حمایت ملتی رہی ہے۔ مودی کس طرح سے اس مسئلہ کو دور کریں گے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ ہندوستان ہمیشہ سے ایک مستحکم جمہوریت کے قیام کا حامی رہا ہے۔ لیکن کیا مودی ہندوستان میں ماؤ واد کے جڑ سے خاتمہ کے لیے نیپال کے اندرونی معاملوں میں مداخلت کریں گے؟ کیا یہ نیپال کی خود مختاری کے خلاف نہیں ہوگا؟ اگر مودی وزیر اعظم بنتے ہیں، تو انہیں ان سوالوں سے روبرو ہونا پڑے گا۔
بنگلہ دیش ایک بار پھر 1971 کے راستے پر لوٹ آیا ہے، جہاں پر ہر طرف خون خرابہ اور عدم استحکام کا ماحول ہے۔ بنگلہ دیش میں انتخابات ہونے والے ہیں اور موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک کو مستحکم بنانے اور پرامن ماحول میں الیکشن کرانے کے لیے پابند عہد ہیں۔ جب جب بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء کی سرکار رہی، وہاں دہشت گردی کو بڑھاوا ملتا رہا، جس کا اثر ہندوستان پر بھی پڑا۔ دوسری طرف جب وہاں شیخ حسینہ کی سرکار رہی، تو انتہا پسندی اور حزب المجاہدین جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر روک لگ گئی۔ مودی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی یہ ہوگی کہ وہ نئی سرکار کے ساتھ کس طرح سے تال میل بیٹھائیں گے؟ ہندوستان ایسے بھی پڑوسیوں کے بیچ رِنگ آف فائر میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر پڑوسی ملک مضبوط اور مستحکم نہیں ہوں گے، تو ہندوستان دنیا کی ایک بڑی طاقت کے روپ میں خود کو قائم نہیں کرسکتا۔
سری لنکا میں ایل ٹی ٹی ای کے خاتمہ کے لیے سرکار پر بڑے پیمانے پر تملوں کے قتل عام کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سری لنکائی تملوں کے ہندوستان کے تمل ناڈو کے تملوں کے ساتھ خاندانی رشتے رہے ہیں۔ ہندوستان ہمیشہ سے سری لنکا میں تملوں کے حقوق کی پیروی کرتا رہا ہے، لیکن حال ہی میں ملکی سربراہوں کے اجلاس میں جنوبی ہند، خاص کر تمل ناڈو کی تنظیموں کی مخالفت کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم کا وہاں نہ جانا یہ بتاتا ہے کہ ہندوستان کی علاقائی سیاست خارجہ پالیسی کو متاثر کر رہی ہے۔ مودی کی وزیر اعظم کے روپ میں تمل ناڈو کی موجودہ وزیر اعلیٰ جے للتا حمایت کرتی رہی ہیں۔ اگر بی جے پی کو واضح اکثریت نہیں ملتی ہے، تو ایسی حالت میں اے آئی ڈی ایم کی حمایت کی ضرورت مودی کو ہوگی اور ایسے میں اگلے پانچ سالوں تک تمل ایشو ہندوستان و سری لنکا تعلقات کو متاثر کرتا رہے گا۔ ایسے میں مودی کیا راستہ نکالتے ہیں، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *