یقیناً مہنگائی ہی یو پی اے کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے

ڈاکٹر وسیم راشد
یو پی اے کے تقریباً 10 سال پورے ہوگئے ہیں اور کیا کھویا کیا پایا جیسے سوالات بہت پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ اب صرف ایک ہی سوال باقی رہ جاتاہے کہ کانگریس کے پاس اب اپنے بچائو کے لئے کون سا رام بان بچا ہے۔یو پی اے اول اور یو پی اے دوم میں یقینا یوپی اے اول کا وقت بہتر تھا لیکن بعد کے 5 سالوں میں کانگریس نے جیسے بالکل ہی اپنا مقام کھودیا ہے۔
خود وزیر اعظم نے اپنی ہار تسلیم کرلی ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن میںہار کی وجہ صرف اور صرف مہنگائی تھی۔ سونیا گاندھی نے بھی ہار کی وجہ مہنگائی بتائی ہے۔  گزشتہ سال بھی اور اس سال بھی کافی حد تک یہ خبر گرم تھی کہ ہندوستان میں مالی بحران پھر سے آرہا ہے کیونکہ روپے کی قیمت دن بدن گرتی جارہی ہے لیکن یہ سب آ ج کی بات ہے۔یو پی اے کے پورے 10 سال کو دیکھیں تو یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آہستہ آہستہ ملک کو مہنگائی کے خطرناک عفریت کے پنجے میں جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔یو پی اے اول یعنی 2004-05 میں جی ڈی پی کی شرح 0.4 تھی اور اس کا خسارہ 3.9 تھا۔یہ خسارہ لگاتار بڑھتا گیا ۔جس وقت یو پی اے اول کا ٹرم ختم ہوا یعنی 2008-09 میں اس وقت یہ خسارہ 6 فیصد تک تھا اور 6فیصد کی سطح یقینا تشویشناک تھی۔ اس کے بعد یو پی اے دوم کے 2009-10 میں یہ خسارہ 6.5 فیصد تھا اور 2013 میں یعنی اب جبکہ یوپی اے دوم اپنی دوسری باری بھی کھیل کر جارہی ہے تو جی ڈی پی کا خسارہ 8فیصد ہے۔یعنی کسی بھی ملک میں مہنگائی کا سب سے خطرناک دور کہا جاسکتا ہے اور ان دس سالوں میں نہ صرف مہنگائی بڑھی ہے بلکہ بے روزگاری، غریبی، بھکمری، بد عنوانی اور عوام کا استحصال سب ہی بڑھا ہے۔ ہمارا ملک زراعت پر منحصر ہے اور ہونا یہ چاہئے تھا کہ ہمارے ملک میں کسانوں کی حالت بہتر ہونا چاہئے تھی لیکن اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 1995 سے 2013 تک تقریباً 3 لاکھ کے قریب کسان خود کشی کرچکے ہیں اور یہ جب ہے کہ ہمارا ملک دنیا کے بہترین ماہر اقتصادیات کے ہاتھوں میں ہے۔

یو پی اے حکومت کے ان دس سالوں میں جس طرح ملک مہنگائی اور غربت کا شکار ہوا ہے اس سے اب عوام بری طرح تنگ آچکے ہیں ۔رہی سہی کسر گھوٹالوں نے پوری کردی ہے۔بے شمار گھوٹال اربوں کھربوں کے گھوٹالے اور غریبی کی چکی  میں پستے ہوئے عوام یہ سب یو پی اے کی زبردست ناکامی ہے۔2004سے 2013 کے درمیان تقریباً کھانے پینے کی اشیاء پر 15فیصد کا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سارے لیڈروں نے صرف اپنی جیبیں بھری ہیں۔ سبزیوں کی قیمت 2004 سے 2013 کے درمیان 350 فیصد ،پیاز کی قیمت تقریباً521، دالوں کی قیمتوں میں123فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ان دس برسوں میں دودھ کی قیمتوں میں 119 فیصد، چینی میں 106فیصد،نمک 8 فیصد، چاول تقریبا ً137فیصد، گیہوں1.17فیصد، انڈا 125 فیصد،مصالحے 119فیصد مہنگے ہوئے ہیں۔اب سوچئے جہاں مہنگائی کی شرح کئی کئی سو فیصد بڑھی ہو اور آمدنی کی شرح ابھی بھی بہت کم ہو ،ایسی حکومت اگر بعد کے پانچ سال چل گئی ہے تو یہ کوئی  معجزہ ہی ہے ورنہ یو پی اے ہر محاذ پر ناکام ہے۔

یو پی اے نے نہ تو غریب کسانوں کے لئے کچھ کیا نہ ہی ان دس سالوں میں نوجوانوں کے روزگار کی طرف توجہ کی۔ آج ملک کا یہ حال ہے کہ نوجوانوں میں حکومت کے تئیں اور سیاست کے لئے ایک عجیب سی نفرت پیدا ہوگئی ہے ۔ پہلے سیاست میں پڑھے لکھے ملک کی فکر کرنے والے لوگ تھے۔نہرو ، پٹیل ، جوہر ،ابولکلام آزاد، اندراگاندھی ،چندر شیکھر، وی پی سنگھ ،جے پرکاش نارائن یہ سب لوگ نوجوانوں کے لئے آئیڈیل تھے اور نوجوان ان جیسے بننا چاہتے تھے مگر ان دس سالوں میں جیسے سیاست کی تعریف ہی بدل گئی۔ اب کسی ایک بھی لیڈر کا نام ایسا نہیں ہے جسے آج کے نوجوان پسند کرتے ہوں۔ یہ نفرت یہ سیاست سے بے زاری یو پی اے کے دس سالوں میں ہی بڑھی ہے ۔بی جے پی اور مودی کا وجود ہی آج پو پی اے کا مرہون منت ہے۔
سینٹر دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز (CSDS)کے سروے کے مطابق جو CNN,IBN اور ’ہندو‘ کے لئے کیا گیا تھا ۔اس میں 2009کے مقابلے یعنی یو پی اے کی دوسری باری میں کسانوں کی حالت، عورتوں کی حالت، بے روزگاری، مہنگائی بے تحاشہ بڑھی ہے۔ منریگا کا فائدہ بھی صرف 47 فیصد کو ہی مل پایا ہے ۔ وہ بھی پوری طرح نہیں ملا ہے۔ جہاں تک یو پی اے کی کارکردگی کا چارٹ ہم دیکھتے ہیں تو بھی یو پی اے دوم کی کارکردگی 2011 میں49 فیصد تھی جو گھٹ کر 2013 میں38 فیصد رہ گئی ہے۔
2011 میں صرف 14 فیصد لوگ ہی یو پی اے سے مطمئن تھے لیکن 2013 میں یہ گھٹ کر 10 فیصد ہی رہ گئے۔ایسا نہیں ہے کہ یہ بے اطمینانی صرف شہروں یا دیہاتوں میں ہے بلکہ سروے بتاتا ہے کہ مرکز کی حکومت سے کوئی بھی خوش نہیں ہے۔
یہ سب اعدادو شمار جو میں نے دیے، ہو سکتا ہے کہ وہ تعلیم یافتہ اور سمجھ دار افراد کو ہی حیران کرنے والے ہوں لیکن جب ایک  عام آدمی کی پریشانیوں کا احاطہ کیا جائے تو یو پی اے کے یہ آخری پانچ سال بے حد تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔ ان میں مہنگائی کم سے کم 160 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ آٹا، دال ، چاول، دودھ، گوشت، سبزیاں، دوائیاں، اسکول کالج کی فیس غرضیکہ سب کچھ بے تحاشہ مہنگا ہوا ہے۔ اس وقت مہنگائی کا یہ حال ہے کہ متوسط طبقہ تو دور اعلیٰ طبقہ بھی اپنی ضروریات زندگی گزارنے کے لئے پریشان ہے۔ بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ نہ تو رشوت کے بنا اسکولوں میں ایڈمیشن ہوتے ہیں نہ ہی کوئی لائسنس بنتا ہے نہ ہی بنا رشوت کے کوئی نوکری ملتی ہے اور نہ ہی بنا رشوت کے کوئی اعلیٰ ڈگری مل پاتی ہے۔شاید یہ سب وجوہات ہی تھیں جنہوں نے عام آدمی پارٹی کو جنم دیاہے اور اس پارٹی کی شکل میں اور کجریوال کی شکل میں عوام کو کوئی مسیحا نظر آیا ہے اور شاید اسی لئے دہلی اسمبلی کی لگام کجریوال کو سونپ دی گئی ہے۔ یو پی اے کو شاید اب احساس ہوا اس لاوے کا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا۔ وہ اب اسمبلی انتخابات میں پھٹ پڑا ہے۔
شیلا سرکار نے دہلی میں بڑے بڑے فلائی اوورس تو بنائے لیکن اندرونی گلی محلوں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور ان سڑکوں پر بے تحاشہ گڈھے اور ان گڈھوں میں جمع ہوتا ہوا برسات کا پانی یہ سب ان کو نظر نہیں آیا۔ہندوستان کے عوام جہاں مہنگائی سے پریشان ہیں وہیں بد عنوانی اور رشوت خوری سے بھی بد حال ہیں۔ ملک کا وزیراعظم جو ماہر اقتصادیات بھی ہو، اس کے وقت میں روپیہ کی گراوٹ اور عالمی بازار میں ہندوستان کے لئے بند ہوتے دروازے ،یہ سب لمحۂ فکریہ ہے۔
فوڈ سیکورٹی بل یو پی اے کی ایک بڑی کامیابی ہے لیکن فوڈ سیکورٹی بل سے بھی غریبوں کو کوئی راحت ملتی نظر نہیں آرہی ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جو اناج ایک روپے اور دو روپے میں دینے کی بات کہی گئی ہے وہ راشن کارڈ پر ملے گا اور غریب لوگوں کے پاس راشن کارڈ ہی نہیں ہے ،مٹی کا تیل بھی راشن کارڈ پر ملتا ہے وہ بھی زیادہ تر کے پاس نہیں ہے۔گیس سبسڈی دینے کے لئے آدھار کارڈ چاہئے،وہ بھی ہر کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس سے بھی بڑی اور عجیب بات یہ کہ سپریم کورٹ آدھار کارڈ کو ضروری ہی نہیں مانتا ہے۔
یو پی اے حکومت کے ان دس سالوں میں جس طرح ملک مہنگائی اور غربت کا شکار ہوا ہے اس سے اب عوام بری طرح تنگ آچکے ہیں ۔رہی سہی کسر گھوٹالوں نے پوری کردی ہے۔بے شمار گھوٹال اربوں کھربوں کے گھوٹالے اور غریبی کی چکی  میں پستے ہوئے عوام یہ سب یو پی اے کی زبردست ناکامی ہے۔2004سے 2013 کے درمیان تقریباً کھانے پینے کی اشیاء پر 15فیصد کا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سارے لیڈروں نے صرف اپنی جیبیں بھری ہیں۔ سبزیوں کی قیمت 2004 سے 2013 کے درمیان 350 فیصد ،پیاز کی قیمت تقریباً521، دالوں کی قیمتوں میں123فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ان دس برسوں میں دودھ کی قیمتوں میں 119 فیصد، چینی میں 106فیصد،نمک 8 فیصد، چاول تقریبا ً137فیصد، گیہوں1.17فیصد، انڈا 125 فیصد،مصالحے 119فیصد مہنگے ہوئے ہیں۔اب سوچئے جہاں مہنگائی کی شرح کئی کئی سو فیصد بڑھی ہو اور آمدنی کی شرح ابھی بھی بہت کم ہو ،ایسی حکومت اگر بعد کے پانچ سال چل گئی ہے تو یہ کوئی  معجزہ ہی ہے ورنہ یو پی اے ہر محاذ پر ناکام ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *