کون کر رہا ہے مودی کی جے جے

سنتوش بھارتیہ 
Mastآیئے ہم بھی نریندر مودی کی جے جے کار کریں، کیوں کہ پورے ملک میں نریندر مودی کی ریلیاں ہو رہی ہیں، بھیڑ آ رہی ہے اور یہ مانا جا رہا ہے کہ نریندر مودی ہی اگلے وزیر اعظم بنیں گے۔ نریندر مودی کی تاج پوشی میں اس وقت سب سے زیادہ اگر کوئی ان کی شبیہ چمکا رہا ہے، تو وہ ہندوستان کا میڈیا ہے۔ جب ہم میڈیا کہتے ہیں، تو اس میں ٹیلی ویژن نیوز چینل پہلے ہوتے ہیں اور پرنٹ کے کچھ اخبار بعد میں آتے ہیں۔ یہ نریندر مودی کی ہوشیاری تھی کہ انہوں نے تین سال پہلے سے خود کو ملک میں وزیر اعظم کے طور پر قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ گجرات کے سارے تہوار، چاہے کچھ کے رن کا تہوار ہو یا پھر بین الاقوامی سطح کی پتنگ بازی ہو، یہ سب ملک کے لوگوں میں نریندر مودی کا نام قائم کرنے کے منصوبوں کے حصے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے ماسٹر اسٹروک امیتابھ بچن کو لے کر کھیلا۔ انہوں نے انہیں گجرات ٹورزم اور گجرات کی ثقافت کا برانڈ امبیسڈر بنایا۔ امیتابھ بچن کو حقیقت میں کتنی فیس دی گئی، پتہ نہیں، لیکن امیتابھ بچن کے چہرے نے اچانک نریندر مودی کو ملک کے سب سے مقبول شخص کے روپ میں قائم کر دیا اور ملک کے لوگوں کو یہ سوچنے کے لیے مجبور کر دیا کہ جو شخص امیتابھ بچن کو گجرات میں لے کر آ سکتا ہے، وہ شخص ملک میں کیا نہیں کر سکتا۔
نریندر مودی جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سر سنگھ چالک (سربراہ) موہن بھاگوت سے ملے، تو انہوں نے موہن بھاگوت سے صرف ایک بات کہی کہ اگر آپ مجھے کھلا ہاتھ دیں، تو میں ملک کا وزیر اعظم بن کر دکھا سکتا ہوں۔ موہن بھاگوت نے ساری شخصیتوں کے بارے میں سوچا اور آخرکار وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سب سے اچھا چہرہ نریندر مودی کا ہی ہے۔ نریندر مودی نے اس کے پہلے سنگھ کو اس کے دائرے میں گھیر دیا تھا۔ اس سے موہن بھاگوت سنگھ کی منتشر ہوتی شان کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ نریندر مودی کے ذریعے وہ لال کرشن اڈوانی، جسونت سنگھ، یشونت سنہا یا 70 سال سے اوپر کے سارے لوگوں کو ایک سبق سکھانا چاہتے تھے۔ دراصل، لال کرشن اڈوانی سنگھ اور بی جے پی میں سب سے سینئر ہیں۔ اس لیے سنگھ کا کوئی بھی آدمی اڈوانی جی کے پاس جاکر زیادہ بات نہیں کر پاتا تھا۔ اڈوانی جی بھی سنگھ کے لوگوں کو اس لیے ترجیح نہیں دیتے تھے، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ یہ سارے لوگ ان کے سامنے سنگھ میں آئے ہیں اور انہیں سیاست کی اندرونی ایکویشن کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔ اس لیے جب نریندر مودی نے موہن بھاگوت کے سامنے اپنی خواہش رکھی کہ انہیں کھلی چھوٹ دی جائے یا کھلا ہاتھ دیا جائے، تو موہن بھاگوت نے اس کا فیصلہ کر لیا، جس کے پہلے شکار ممبئی اجلاس میں سنجے جوشی ہوئے۔ سنجے جوشی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایسے لوگوں میں رہے ہیں، جن کے اوپر کارکنوں کا بے انتہا اعتماد رہا ہے۔ سنجے جوشی ایک مبینہ سی ڈی کی وجہ سے بی جے پی سے ہٹائے گئے۔ بعد میں وہ سی ڈی فرضی ثابت ہوئی اور لگا کہ سنجے جوشی پھر سے سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں اعلیٰ مقام پر پہنچیں گے، لیکن موہن بھاگوت اور نریندر مودی کے سمجھوتے نے پہلی قربانی سنجے جوشی کی لی۔

نریندر مودی جب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سر سنگھ چالک (سربراہ) موہن بھاگوت سے ملے، تو انہوں نے موہن بھاگوت سے صرف ایک بات کہی کہ اگر آپ مجھے کھلا ہاتھ دیں، تو میں ملک کا وزیر اعظم بن کر دکھا سکتا ہوں۔ موہن بھاگوت نے ساری شخصیتوں کے بارے میں سوچا اور آخرکار وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سب سے اچھا چہرہ نریندر مودی کا ہی ہے۔ نریندر مودی نے اس کے پہلے سنگھ کو اس کے دائرے میں گھیر دیا تھا۔ اس سے موہن بھاگوت سنگھ کی منتشر ہوتی شان کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ نریندر مودی کے ذریعے وہ لال کرشن اڈوانی، جسونت سنگھ، یشونت سنہا یا 70 سال سے اوپر کے سارے لوگوں کو ایک سبق سکھانا چاہتے تھے۔ دراصل، لال کرشن اڈوانی سنگھ اور بی جے پی میں سب سے سینئر ہیں۔ اس لیے سنگھ کا کوئی بھی آدمی اڈوانی جی کے پاس جاکر زیادہ بات نہیں کر پاتا تھا۔

اس کے بعد تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیم میں جو بھی تبدیلی ہوئی، وہ سبھی نریندر مودی کی خواہش کے مطابق ہوئی۔ نتن گڈکری نریندر مودی کے دوسرے شکار بنے۔ دراصل، راجناتھ سنگھ کا صدر بننا بھی نریندر مودی کی خواہش کا نتیجہ رہا ہے۔ نریندر مودی نے امت شاہ کو اتر پردیش کا چارج دیا اور انہیں اپنے سب سے بھروسے مند آدمی کی شکل میں گجرات سے نکال کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی سیاست میں لے آئے۔ امت شاہ کو اتر پردیش کا چارج نریند مودی نے اس لیے دیا، کیوں کہ انہیں لگا کہ اتر پردیش کا کوئی بھی لیڈر انہیں دھوکہ دے سکتا ہے۔ وہ اپنے سب سے بھروسے مند آدمی کو اتر پردیش میں اس لیے لائے، کیوں کہ وہ وہاں پر ایسے امیدواروں کو تلاش کرنا چاہتے تھے، جن کی پہلی فرماں برداری مودی کے تئیں ہو، سنگھ یا بی جے پی کے تئیں نہ ہو۔
اس کے بعد نریندر مودی نے ملک میں ریلیوں کی دھوم مچا دی۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہتے ہیں کہ جس زاویہ سے تصویریں کھینچی گئیں، وہ بتاتا ہے کہ پٹنہ کا گاندھی میدان پورا بھرا ہوا تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی تصویریں موجود ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ میدان آدھے سے تھوڑا سا ہی زیادہ بھرا تھا، پورا نہیں بھرا تھا۔ نریندر مودی ایک ماہر تنظیم کار ہیں اور انہوں نے مہارت کے ساتھ خود کو ہندوستان کا مستقبل کا وزیر اعظم ہونے کا اعلان کروا لیا۔ نریندر مودی ہر ریلی کو شاندار طریقے سے کرنے کے عادی رہے ہیں۔ ریاستوں میں ہونے والی ریلیوں میں کتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے، لوگ کہاں سے آ رہے ہیں، کیسے آ رہے ہیں، کن کے ذریعے لائے جا رہے ہیں، یہ سارے سوال بیک اسٹیج میں چلے گئے۔ نریندر مودی نے اور ان کے سپہ سالاروں نے ماحول ایسا بنا دیا ہے کہ جو بھیڑ ہے، وہ الٹی میٹ ہے اور یہ بھیڑ نریندر مودی کو ہی وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے۔ ملک میں ابھی بھی ایسا ماحول ہے کہ اگر کوئی وزیر اعظم آج ہوا کے ذریعے سے چنا جائے، تو کوئی ٹکتا ہی نہیں ہے۔ نریندر مودی ہندوستان کے وزیر اعظم آج ہی بن گئے دکھائی دیتے ہیں، اگر ہم بی جے پی کے پرچار تنتر کا چشمہ اپنی آنکھوں پر لگا لیں۔
اسی درمیان دہلی کے الیکشن آ گئے۔ دہلی کے الیکشن میں مودی نے کافی طاقت لگائی اور پارٹی نے ان کی میٹنگیں ان جگہوں پر کرائیں، جہاں پر انہیں لگتا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کمزور ہے۔ نریندر مودی نے راجستھان میں بھی ریلیاں کیں اور چھتیس گڑھ میں بھی، یہاں تک کہ وہ مدھیہ پردیش بھی گئے۔ ان انتخابات کے نتیجے آئے اور نتیجے آنے کے بعد سب سے پہلے اگر کسی کی آنکھ کھلی، تو اس کا نام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، جسے ہم آر ایس ایس یا سنگھ کے نام سے زیادہ جانتے ہیں، کے لوگوں میں آپ میں چرچائیں شروع ہوئیں، غور و فکر کا سلسلہ شروع ہوا اور تجزیہ کے بعد سنگھ نے یہ مانا کہ ملک میں مودی کی لہر یا مودی ویو نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس یقین کو چھپایا نہیں، بلکہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ سینئر لیڈروں کو بلاکر خلاصہ کیا کہ انہیں لگتا ہے کہ نریندر مودی شاید اکیلے ملک میں وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے سیٹیں لانے میں بہت کارگر ثابت نہیں ہو پائیں گے اور سنگھ نے اس کے پیچھے جو تجزیہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کے کچھ لیڈروں سامنے رکھا، اس کا لب لباب یہ تھا کہ چھتیس گڑھ میں اتنی ریلیوں کے بعد بھی دو تہائی اکثریت نہیں آئی، بلکہ عام اکثریت کے لیے بھی بی جے پی کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔ مدھیہ پردیش کے بارے میں سنگھ کا یہ ماننا ہے کہ وہاں پر کانگریس کی آپسی لڑائی کی وجہ سے وہ کبھی لڑائی میں آ ہی نہیں پائی۔ وہاں کی جیت شیو راج سنگھ چوہان کے چہرے کی اور ان کے کام کی جیت ہے۔ سنگھ نے اس حقیقت کو بھی دھیان میں رکھا کہ کانگریس پارٹی نہ صرف آپس میں لڑ رہی تھی، بلکہ کانگریس پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار دن میں ریلیوں میں رہتے تھے اور رات میں وہ دہلی سونے کے لیے چلے آتے تھے۔ اس بات کا پرچار سنگھ نے اپنے کارکنوں کے ذریعے مدھیہ پردیش میں کرایا۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کے جھگڑوں کا حال اتنا بہتر تھا کہ ایک جگہ تو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار جیوتی را دتیہ سندھیا نے پریس کانفرنس میں اکیلے جانے کی خواہش کو پوری کرنے میں دگ وجے سنگھ کو دروازے سے باہر کھڑا کر دیا۔ وہ دروازہ کھٹکھٹاتے رہے، لیکن سندھیا نے دروازہ اندر سے نہیں کھلوایا۔ راجستھان میں سنگھ کا ماننا ہے کہ وہاں کی ہار اشوک گہلوت کی بیوقوفیوں کی ہار ہے اور وسندھرا کی جیت بھی اشوک گہلوت کی بیوقوفیوں کی وجہ سے ہوئی جیت ہے، ورنہ آج تک راجستھان میں اتنی بڑی اکثریت کسی کی آئی ہی نہیں۔ کانگریس اپنی زندگی کے بدتر اسکور کے اوپر پہنچ گئی۔ دہلی میں سب سے زیادہ سنگھ کو اس فیصلے پر پہنچنے میں مدد کی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی میں 31 سیٹوں پر آ کر رک گئی۔ سنگھ کا ماننا ہے کہ اگر یہ مودی کا کرشمہ ہوتا یا ان کی لہر ہوتی، تو بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کر تی، یہاں وہ عام اکثریت بھی حاصل نہیں کر پائی۔ یہاں تک کہ اس نے جتنے آزاد امیدوار کھڑے کیے، انہوں نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ووٹ کاٹے، کانگریس کے نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دوسرے نمبر پر آئی عام آدمی پارٹی کے اندر اس کے سات سے آٹھ ممبر اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں۔
سنگھ نے فوراً ہی نریندر مودی کے ساتھ اڈوانی جی کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا، کیوں کہ موہن بھاگوت کا یہ بیان صرف آداب نہیں ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اڈوانی جی کو بھارتیہ جنتا پارٹی سے دور نہیں جانا چاہیے۔ موہن بھاگوت چاہتے تو یہ بیان اکیلے کمرے میں بیٹھ کر اپنے چار دوستوں کے ساتھ دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے پبلک پلیٹ فارم چنا اور انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگوں کو اشارہ دیا کہ اگر نریندر مودی 272 سیٹیںنہیں لا پاتے ہیں، تو اڈوانی جی کو وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے۔

جہاں سنگھ پہلے 75 سال سے زیادہ کے لوگوں کو ٹکٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھا، جس میں اس نے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، جسونت سنگھ کو یہ صاف پیغام پہنچا دیا تھا کہ اس بار انہیں ٹکٹ نہیں ملنے والا۔ یشونت سنہا اور شتروگھن سنہا بھی اسی کڑی کے لیڈر شمار کیے گئے۔ لیکن اچانک سنگھ نے اپنا فیصلہ بدلا اور جسونت سنگھ راجستھان سے اور اڈوانی گجرات سے الیکشن لڑیں گے، اس طرح کی خبریں لیک کر دیں۔ سنگھ کا یہ بھی اندازہ ہے کہ مودی 80 سے 100 سیٹیں لانے میں کامیاب ہوں گے، جو گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش سے آ سکتی ہیں۔ باقی سیٹیں کہاں سے آئیں گی، اس پر سنگھ گہرائی سے غور و فکر کر رہا ہے۔ اسی لیے سنگھ نے مستقبل کے ساتھیوں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ لیکن اس بار سنگھ کو شک ہے کہ بی جے پی کا سب سے بھروسے مند رہا ساتھی جنتا دل یونائٹیڈ اس بار ان کا ساتھ نہیں دے گا۔ اصولوں کی بنیاد پر شرد یادو اور نتیش کمار نے یہ فیصلہ لیا کہ وہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف نہیں مڑیں گے، بلکہ وہ ملک میں ایک نئی سیاست کا مرکز بنیں گے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی ہر جگہ بات چیت میں کہتے ہیں کہ کانگریس اور بی جے پی کی طرف جانے والا کوئی بھی راستہ اب جے ڈی یو کے سامنے نہیں ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ دہلی میں کیسے غیر بی جے پی اور غیر کانگریس سرکار بنے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے ایک بڑا مسئلہ عام آدمی پارٹی کا دہلی میں ابھرنا بھی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اب کسی بھی طرح اروِند کجریوال کو ناکام ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔ اسے یہ لگتا ہے کہ تیسرا مورچہ تو نہیں بن پائے گا، لیکن شاید اروِند کجریوال مستقبل میں، یعنی چار مہینے کے بعد ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں، بی جے پی مخالف طاقتوں کا مرکز بن سکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی ڈر ستا رہا ہے کہ اگر اروِند کجریوال نے دہلی میں بجلی، پانی اور غیر قانونی کالونیوں کو ریگولر کرنے کے فیصلے پر عمل کر لیا، تو پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سامنے پورے ملک میں مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔
سنگھ اس بات سے بھی فکرمند ہے کہ جہاں ایک طرف 272 سیٹیں نہ آنے کی حالت میں نریندر مودی وزیر اعظم نہیں بنیں گے، وہیں اگر 200 سیٹیں بھی بی جے پی لے آتی ہے، تب بھی بی جے پی کا وزیر اعظم بننے کی راہ میں نتیش کمار اور ممتا بنرجی کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ دو وزرائے اعلیٰ ایسے ہیں، جن کے ملنے کی امید مستقبل میں دکھائی دے رہی ہے اور یہ دونوں مل کر ملک میں غیر کانگریس اور غیر بی جے پی سرکار بننے کے امکان کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ دونوں ہی شخص ایسے ہیں، جو وزیر اعظم کے عہدہ کے لیے نہیں لڑیں گے اور اگر وقت آیا، تو وہ کسی تیسرے کو بھی وزیر اعظم بنا سکتے ہیں۔ دراصل، ان دونوں وزرائے اعلیٰ کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس دونوں کی اقتصادی پالیسیاں ایک ہیں اور دونوں ہی ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور بدعنوانی کو بڑھاوا دینے میں ایک دوسرے سے پیچھے نہیں ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں ترقی نہیں چاہتیں، بلکہ ملک کی اقتصادیات کو کھوکھلا کرنا چاہتی ہیں۔ دونوں ہی وزرائے اعلیٰ نے گاؤں پر مبنی اقتصادی پالیسی کی وکالت کرنی شروع کر دی ہے۔ گاؤں کو مضبوط کرنا، رائٹ ٹو ریکال، رائٹ ٹو رجیکٹ، زراعت پر مبنی صنعتوں کا جال، نئے سرے سے انفراسٹرکچر کی پلاننگ وغیرہ ایسے موضوعات ہیں، جن پر دونوں ہی وزرائے اعلیٰ ایک رائے رکھتے ہیں۔ اور سنگھ کی سب سے بڑی فکرمندی انا ہزارے ہیں۔ اگر کہیں انا ہزارے نے اس نئی لہر کی حمایت کردی، تو پھر بی جے پی کے ہاتھ سے اقتدار پھسل جائے گا۔ بی جے پی کو یا سنگھ کو کانگریس کی فکر ہی نہیں ہے، کیوں کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کانگریس نے راجستھان اور مدھیہ پردیش کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ ان کی فکر مندی صرف ممتا بنرجی اور نتیش کمار ہیں۔ ان کی سب سے بڑی فکر مندی انا ہزارے ہیں۔ اس لیے اس وقت سنگھ نے اپنے سارے ذرائع کو انا ہزارے کے پیچھے لگا دیا ہے، تاکہ وہ انہیں یہ سمجھائیں کہ بی جے پی اگر اقتدار میں آتی ہے، تو وہ انا ہزارے کی بہت ساری مانگوں کو پورا کر دے گی۔ بی جے پی گرام سبھا کو مضبوط کرنے کی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ گاؤں پر مبنی اقتصادی پالیسی بنانے کی بات نہیں کرتی۔
جنوری مہینہ اور فروری کا پہلا حصہ ملک میں نئے سیاسی گل کھلا سکتا ہے، جس کی جڑ میں نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بے انتہا جوش کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دیکھتے ہیں سنگھ کا یہ اندازہ اور سنگھ کا یہ ڈر مستقبل میں کتنا سچ ثابت ہوتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *