جموں و کشمیر: سرحد پر تعمیر ہونے والی دیوار کتنی مضبوط ہوگی ؟

محمد ہارون ریشی
p-2ایک ایسے وقت میں، جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سدھار آنے کے چرچے ہورہے ہیں اور اس ضمن میں کچھ مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں، حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر میں سرحد پر دراندازی روکنے کے لیے ایک دیو قامت دیوار کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ سرحد پر دیوار بندی کے اس مجوزہ منصوبے پر جموں و کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں کے ساتھ ساتھ کئی مین اسٹریم لیڈران نے بھی مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ ریاست میں سرحد پر دیوار کی تعمیر کا مقصد دراندازی کو روکنا تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے کشمیر کی متنازع حیثیت کے متاثر ہوجانے کا خطرہ بھی ہے۔
ہندوستانی دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ سال 2014 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اس خطے میں تشدد کی لہر بھڑک سکتی ہے، کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ افغانستان میں فراغت پانے والے لڑاکو جموں و کشمیر کا رخ کرسکتے ہیں۔ اس خدشے میں کتنی صداقت ہوسکتی ہے یا یہ کہ کیا ایک کنکریٹ دیوار کھڑا کرنے سے ایسے لوگوں کے ارادوں کو پسپا کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں یہاں در اندزی کا خدشہ ہے، ایک بحث طلب موضوع ہے، لیکن حکومت ہندنے جموں و کشمیر کی سرزمین پر دراندازی روکنے کے نام پر جس طرح کی دیوار کھڑا کرنے کا منصوبہ باندھ لیا ہے، وہ بہت ہی بڑا منصوبہ لگ رہا ہے۔

ہندوستانی دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ سال 2014 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اس خطے میں تشدد کی لہر بھڑک سکتی ہے، کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ افغانستان میں فراغت پانے والے لڑاکو جموں و کشمیر کا رخ کرسکتے ہیں۔ اس خدشے میں کتنی صداقت ہوسکتی ہے یا یہ کہ کیا ایک کنکریٹ دیوار کھڑا کرنے سے ایسے لوگوں کے ارادوں کو پسپا کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں یہاں در اندزی کا خدشہ ہے، ایک بحث طلب موضوع ہے، لیکن حکومت ہندنے جموں و کشمیر کی سرزمین پر دراندازی روکنے کے نام پر جس طرح کی دیوار کھڑا کرنے کا منصوبہ باندھ لیا ہے۔

مجوزہ دیوار 118 (جموں میں 72، کھٹوعہ میں 17 اور سانبہ میں 29) دیہات سے ہوکر گزرے گی۔ اس کی لمبائی 197 کلومیٹر، چوڑائی 41 میٹر اور اونچائی 10 میٹر ہوگی۔ دیوار تعمیر ہوجانے کے بعد اُس پار سے اس پر نظر ڈالی جائے گی، تو پہلے تار بندی نظر آئے گی، اس کے بعد ایک کھائی ہوگی اور اس کے بعد کنکریٹ دیوار ہوگی۔ جن علاقوںسے ہوکر یہ دیوار گزرے گی، ان میں زمین کی منتقلی کا کام شروع ہوچکا ہے۔ اس منصوبے کو ریاست کے 24 (متعلقہ) ممبران اسمبلی نے منظوری دے دی ہے۔ جموں و کشمیر میں مزاحمتی حلقے نے حد متارکہ پر مجوزہ دیوار بندی کی مخالفت کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جموں کی سرزمین پر اس طرح کی دیوار بندی سے ریاست کی منتازع حیثیت کو زک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنٹرول لائن کے اُس پار بھی وادی کے مسلم مہاجرین نے مجوزہ دیوار بندی کے خلاف احتجاج کیا ہے، لیکن حکومت ہند کی جانب سے اس ضمن میں جو نقطہ نظر پیش کیا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ دراندازی کو روکنے کے لیے سرحد پر دیوار بندی کے سوا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ 23 سال کے دوران جموں و کشمیرمیں حد متارکہ پر ہندوستان اور پاکستان کے افواج کے درمیان خونیں معرکہ آرائیاں ہوئی ہیں۔ سال 2013 میں کنٹرول لائن پر 200 سے زائد بار دونوں ملکوں کی افواج نے ایک دوسرے پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیے۔ ہر تصادم آرائی کے بعد دونوں ملک ایک دوسرے پر سال 2003 میں کیے گئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ ہر تصادم آرائی کے بعد دونوں ملک ایک دوسرے پر غلط بیانی کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ غرض ریاست میں گزشتہ 23 سال کے دوران حدمتارکہ اکثر و بیشتر متحاربین کی بندوقوں کی گن گرج سے لرزتی رہی ہے۔ دو ماہ قبل ہی وادی کے کیرن سیکٹر میں حیران کن طور پر جنگ سا سماں بندھ گیا تھا۔ فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ سرحد پار سے کم ازکم 40 جنگجو کیرن سیکٹر میں داخل ہوگئے ہیں اور فوج انہیں واپس دھکیلنے کے لیے لڑ رہی ہے، لیکن بعد میں وزارت دفاع نے فوج کے دعوے کو غلط قرار دیا۔ اس ضمن میں ہندوستانی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے واضح کردیا کہ کیرن سیکٹر میں کوئی بھی جنگجو دراندازی کرکے اندر داخل نہیں ہوا تھا۔ پھریہ سب کیا تھا؟ یہ فی الحال صیغہ راز ہی ہے۔
بہرحال، یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ملک پچھلے 23 سال سے عملاً حالت جنگ میں ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کو لہولہان کرنے کے درپے ہیں اور اس بیچ جموں و کشمیر کی آبادی کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ ریاست کا 33 فیصد حصہ پاکستان کے پاس ہے، 45 فیصد ہندوستان کے پاس اور باقی ماندہ چین کے قبضے میں ہے۔ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کا سب سے بڑا اخلاقی جرم یہ ہے کہ انہوں نے اس سرزمین پر ایک خونی لکیر کھینچ کر ریاست کی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کردیاہے اور المیہ یہ ہے کہ خونی رشتوں کو جدا کرکے دونوں ملک جمہوریت کا پر چار کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر دیوار کھڑا کرنے کے منصوبے پر ایک ایسے وقت میں کام ہورہا ہے، جب دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ اگر تعلقات بہتر ہورہے ہیں، تو خدشات کیوں؟ اس سوال کے جواب میں وادی کے ایک سینئر صحافی شاہ عباس کہتے ہیں کہ ’’محض دراندازی روکنے کے لیے اتنی بڑی دیوار کی تعمیر کا منصوبہ عجیب و غریب لگ رہا ہے۔ اس موضوع پر میں نے اسٹوری لکھتے وقت کئی لوگوں سے استفسارات کیے۔ میں نے یہ پایا کہ کشمیری عوام اور ان کے لیڈران کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ سرحد پر تعمیر کی جانے والی یہ دیوار مستقبل میں لائن آف کنٹرول پر بھی تعمیر کی جاسکتی ہے، کیونکہ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات کی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی شروع میں بین الاقوامی سرحد سے ہی شروع کیا گیا تھا اور پھر آگے چل کر اسے لائن آف کنٹرول پر بھی نصب کیا گیا۔ اس لحاظ سے کشمیری عوام کا یہ خدشہ حق بجانب ہے کہ کہیں دیوار کی تعمیر کا مقصد کشمیر کو مکمل طور پر اور ہمیشہ کے لیے دو حصوں میں منقسم کرنے کے منصوبے پر کام تو نہیں ہورہا ہے؟‘‘
تاہم شاہ عباس کو یقین ہے کہ اگر ریاست کشمیر میں سرحد اور لائن آف کنٹرول پر پختہ دیوار تعمیر کی بھی جائے، تو یہ مسئلہ کشمیر کوختم کرنے میں یا بالفاظ دیگر دبانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل گفتگو میں شاہ عباس نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ مجوزہ دیوقامت دیوار بھی ایک وقت دیوار برلن کی طرح کمزور ثابت ہوگی، کیونکہ ایک زمانے میں کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ایک وقت آئے گا، جب دیوار برلن تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔‘‘ شاہ عباس کا استدلال ہے کہ اگر مجوزہ دیوار دراندازی کو روکنے میں کامیاب ہوبھی جاتی ہے، تب بھی یہ اہم سوال ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جو تڑپ ہے اور اس مسئلے کی وجہ سے ان پر اب تک نازل ہونے والی اُفتاد وں کی تپش کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ ریاستی عوام کو مطمئن کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور پر حل کرنا ناگزیر ہے اور کشمیر کے سیاسی حل کے نتیجے میں ہی یہاں دیر پا اور دائمی امن قائم ہوسکتا ہے۔ برعکس صورت میںدوسرے تمام اقدامات غیر مؤثر ثابت ہوں گے۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *